Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9084

9085 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي قال : نا أبو قلابة قال : نا أبو عامر قال : نا زهير بن محمد قال : و نا أبو قلابة نا حسن بن حفص نا هشام بن سعد كلاهما عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الجلوس على الطرقات و إن كنتم لا بد فاعلين فاهدوا السبيل و أعينوا المظلوم و ردوا السلام و الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر أخرجه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن محمد عن أبي عامر عن زهير كما

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوقلابہ نے ان کو ابو عجاز نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی زہیر بن محمد نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو حسن بن حفص نے ان کو ہشام بن سعید نے دونوں نے زید بن اسلم سے ان کو عطا بن یسار نے ان کو ابوسعید نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بچاؤ تم لوگ اپنے آپ کو راستوں پر بیٹھنے سے اور اگر تم لوگ لازمی طور پر بیٹھنا چاہتے ہوتو راستے کی رہنمائی کیا کر واور مظلوم کی مددکیا کرواور سلام کا جواب دیا کرو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرو ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں نقل کیا ہے عبداللہ بن محمد نے ابو عامر سے اس نے زہیر سے جیسے ذیل میں ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هشام بن سعد كلاهما ← حسن بن حفص ← أَبُو قِلَابَةَ ← و، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9084

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9085

9086 - أخبرنا محمد بن محمش الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى نا موسى بن مسعود نا زهير عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الجلوس بالطرقات قالوا : يا رسول الله ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه قالوا : و ما حق الطريق ؟ قال : غض البصر وكف الأذى و رد السلام و الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر

ہمیں خبر دی محمد بن محمش فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحیی ٰنے ان کو موسیٰ بن مسعود نے ان کوز ہیر نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابو سعید خدری نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم لوگ اپنے آپ کو راستوں پر بیٹھنے سے ۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم لوگوں کے لئے مجالس میں بیٹھنے سے تو چارہ نہیں ہے ہم ان میں بیٹھ کر باہم باتیں کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت تم لوگ انکار کر رہے ہور کنے سے اور مجالس میں لازمی بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا کہ نگاہیں نیچی رکھنا اور تکلیف نہ دینا اور سلام کا جواب دینا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا (اچھے کاموں کی تلقین کرنا اور برے کاموں سے روکنا ) ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرٍ ← مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← محمد بن محمش الفقيه

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9085

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9086

9087 - و أخبرنا أبو عبد الله أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن بن مهدي نا زهير بن محمد : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و أخرجه مسلم عن محمد بن رافع عن ابن أبي فديك عن هشام بن سعد كما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے اور ان کوعبد الرحمٰن بن مہدی نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو اس نے ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کی مثل ۔ سوائے اس کے کہ اس نے یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورمسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے ابن ابی فدیک سے اس نے ہشام بن سعد سے جیسے مندرجہ ذیل روایت ہے۔

زهير بن محمد فذكره بإسناده مثله غير أنه ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9086

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9087

9088 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه نا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي نا أبو همام الدلال نا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجلسوا بالطريق قال : قلنا يا رسول الله : ما لنا بد من مجالسنا نتحدث فيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أبيتم إلا المجالس فاعطوا الطريق حقه قلنا و ما حق الطريق يا رسول الله ؟ قال : غض البصر و كف الأذى و رد السلام و الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر

ہمیں خبر دی ابوعبدالله احمد حافظ نے اور ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰقاضی نے ان کو ابو ہمام دلال نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطا بن سیار نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستے پر نہ بیٹھا کرو۔ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے لئے تو مجالس کے سوا چارہ نہیں ہے ۔ ہم ان میں تبادلہ خیال کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جب مجالس میں لازمی بیٹھنا ہی چاہتے ہوتو پھر تم را ستے کو اس کا حق دیا کرو ۔ ہم لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا نگاہ نیچی رکھنا ۔ گذرنے والوں سے تکلیف کو روکنا یعنی تکلیف نہ دینا۔ سلام کا جواب دینا۔ اچھے کام کرنے کے لئے کہنا برے کاموں سے روکنا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9087

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9088

9089 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المقري ابن الحمامي أنا إسماعيل بن علي الخطمي نا إبراهيم بن إسحاق الحرب قال : ثنا عفان بن مسلم نا عبد الواحد بن زياد عن عثمان بن حكيم عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال : أبو طلحة : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما لكم و للمجالس بالصعدات ؟ قلنا : نتحدث قال : أعطوا المجالس حقها قلنا : و ما حقها قال : رد السلام

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد مقری نے ان کو ابن الحمامی نے ان کو اسماعیل بن علی خطمی نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق حرب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی عفان بن مسلم نے ان کو عبد الواحد بن زیاد نے ان کو عثمان بن حکیم نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے وہ کہتے ہیں کہا ابوطلحہ نے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہو تمہیں کہ اونچی جگہ اور دشوار گذار راستوں پر بیٹھتے ہو؟ ہم نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہیں ۔فرمایا کہ مجالس کا حق بھی ادا کیا کرو۔ ہم نے کہا کہ ان کا حق کیا ہے؟ فرمایا کہ سلام کا جواب دینا۔

رد السلام ← أعطوا المجالس حقها قلنا و ما حقها ← ما لكم و للمجالس بالصعدات قلنا نتحدث ← أبو طلحة كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إبراهيم بن إسحاق الحرب ← إسماعيل بن علي الخطمي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِىِّ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9088

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9089

9090 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے زہری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9089

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9090

9091 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن يحيى نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن ابن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خمس تجب للمسلم على أخيه : رد السلام و تشميت العاطس و عيادة المريض و اتبع الجنازة و إجابة الدعوات رواه مسلم في الصحيح عن عبد بن حميد عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کومحمد بن یحییٰ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو ابن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیز یں مسلمان پر اس کے بھائی کے لئے ضروری ہیں ۔ سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، بیمار پرسی کرنا ، جنازے کے ساتھ چلنا ، دعوت اور بلاوے پر جانا ۔اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن حمید سے اس نے عبدالرزاق سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9090

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9091

9092 - و قال محمد بن يحيى أنا عبد الرزق : حين أسنده قد كان معمر يرسل هذا الحديث كثيرا

محمد بن یحییٰ نے کہا ان کو بر وی عبدالرزاق نے جب اس کو انہوں نے مسند بیان کیا اور معمر اس حدیث کو کثرت کے ساتھ مرسل بیان کرتے تھے ۔

عبد الرزق حين أسنده قد كان معمر يرسل هذا الحديث كثيرا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9091

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9092

9093 - أخبرنا بهذا الكلام أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد الفقيه ثنا عبد الله بن محمد ثنا محمد بن يحيى : فذكره 9093 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن إبراهيم بن مرزوق نا وهب يعني ابن جرير نا شعبة و حماد يعني ابن زيد عن يزيد الرشك عن معاذة عن هشام بن عامر : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لمسلم أن يهجر فوق ثلاث فإنهما نا كبان عن الحق ما داما على صرامهما و إن أولهما فيئا يكون سبقه إلى الفيء كفارة له و إن سلم عليه فلم يرد عليه و لم يقبل سلامه ردت عليه الملائكة فإن ماتا على صرامهما لم يدخلا الجنة جميعا أبدا

ہمیں اس کلام کے ساتھ خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ہے ابوالولید فقیہ نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو محمد بن یحییٰ نے پھر مذکور ہ حدیث کو اس نے ذکر کیا ہے۔ مکرر ہے ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہیب ابن جریر نے ان کو شعبہ نے اور حماد بن زید نے یزید رشک سے اس نے معاذہ سے اس نے ہشام بن عامر سے کہ اس نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین راتوں سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے۔ بے شک وہ دونوں حق سے اعراض کرنے والے ہوں گے جب کہ وہ انقطاع تعلق پر قائم رہیں گے۔ بے شک ان دونوں میں سے زیادہ بہتر صلح کے لئے وہ ہوگا جو دونوں میں سے اس کام کے لئے سبقت کرے گا اور یہی عمل اس کے لئے کفارہ ہوگا اور اگر ایک دوسرے پر سلام کرے اور دوسرا جواب نہ دے اس کا سلام قبول نہیں ہوگا اور فرشتے اس کو سلام کا جواب دیں گے ۔ اگر دونوں تعلقات کے انقطاع کی حالت میں مر گئے تو دونوں جنت میں نہیں جائیں گے ہمیشہ کے لئے ۔

كبان ← لا يحل لمسلم أن يهجر فوق ثلاث فإنهما ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شعبة و حماد يعني ابن زيد ← وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ← أبو العباس محمد بن إبراهيم بن مرزوق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← محمد بن يحيى فذكره مكرر ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← بِهَذَا الْكَلَامِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9092

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9093

9094 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاض قال : نا إبراهيم بن الحسين قال : نا آدم ابن أبي إياس قال : نا المبارك بن فضالة عن الحسن في : قوله عز و جل : { فحيوا بأحسن منها } قال : يقول : إذا سلم عليك أخوك المسلم فقال : السلام عليك فقل له السلام عليك و رحمة الله أو رددها تقول : إن لم يقل له السلام عليك و رحمة الله فرد عليه كما قال : السلام عليكم كما سلم و لا تقل و عليك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابی یاس نے ان کو مبارک بن فضالہ نے حسن سے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ فحبوا باحسن منھا ۔ کہ سلام کا جواب اس سے بہتر طریقے پر دو ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے جب تم پر تمہارا بھائی مسلمان سلام کرے اور یوں کہے السلام علیکم تو تم اس کو یوں کہو السلام علیک ورحمۃ اللہ یا کم از کم اسی لفظ کو دہرادو ۔ یعنی اگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ نہیں کہہ سکتے تو وہی الفاظ کہہ دو جو اس نے کہے ہیں ۔ السلام علیکم ۔ جیسے اس نے سلام کیا اور صرف یوں نہ کہو کہ وعلیک۔

الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← آدَمُ ابْنُ أَبِي إِيَاسٍ. ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبد الرحمن بن الحسن القاض ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9093

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9094

9095 - أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني قال : نا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي نا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير نا مالك عن أبي جعفر العبادي أنه قال : كنت أجلس إلى جنب عبد الله بن عمر و كان إذا سلم عليه إنسان رد عبد الله كمل يسلم عليه يقول : السلام عليكم فيقول : عبد الله السلام عليكم

ہمیں خبر دی ابواحمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک بن ابو جعفر عبادی نے ۔ بے شک انہوں نے کہا میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا اور ابن عمرایسے تھے کہ جب ان پر کوئی سلام کرتا تھاتو وہ اس کو اس طرح جواب دیتے تھے جیسے اس نے سلام کیا ہوتا تھا۔ کہتے تھے السلام علیکم تو عبداللہ یہ کہتے السلام علیکم۔

أبي جعفر العبادي ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9094

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9095

9096 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني سعيد بن أبي أيوب عن زهرة بن معبد عن عروة بن الزبير : أن رجلا سلم عليه فقال : السلام عليكم و رحمة الله و بركاته فقال عروة : ما ترك لنا فضلا إن السلام انتهى إلى و بركاته

ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی سعید بن ابی ایوب نے زہری بن معبد سے اس نے عروہ بن زبیر سے کہ ایک آدمی نے اس پر سلام کیا اور یوں کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ تو عروہ نے کہا کہ اس نے تو ہمارے لئے کوئی فضیات ہی نہیں چھوڑی بے شک سلام پورا ہو جا تا ہے برکا تہ تک ۔

السلام عليكم و و بركاته ← عروة بن الزبير أن رجلا سلم عليه ← زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9095

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood