Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11071

11071 - حدثنا أبو الحسين بن بشران إملاءا في مسجد الرصافة أنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القطان ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون أنا سفيان الثوري عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة و إذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة و ليحد أحدكم شفرته و ليرح ذبيحته فقال رجل في المجلس ثنا علي بن عاصم عن خالد فسمعها يزيد فقال حدثناه سفيان عن خالد و إن خالدا لحي أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان الثوري

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین بن بشران نے بطور املاء کے مسجد رصافہ میں ان کو ابو سہیل احمد بن عبداللہ بن زیاد قطان سے اس نے ابوالاشعث سے اس نے شداد بن اوس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے ہرشئی پر احسان کرنے اور اچھائی کرنے کو فرض کیا ہے لازمی قرار دیا ہے چنانچہ جب قتل کرنے لگو تو بھی بہتر طریقہ سے قتل کر دیا بھلائی کے ساتھ کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ کرو) اور جب ذبح کرنے لگو تو احسن طریقے پر ذبح کرو چاہئے کہ ایک تمہارا اپنی چھری کو تیز کر لیا کرے اور چاہئے کہ وہ اپنی ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا ہمیں حدیث بیان کی علی بن عاصم نے ان کو خالد نے اس نے اس کو سنا یزید سے اس نے کہا کہ ہمیں اس کی حدیث بیان کی سفیان نے خالد سے اور بے شک خالد بھی اس وقت زندہ تھے۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سفیان ثوری سے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ← أبو الحسين بن بشران إملاءا في مسجد الرصافة

Hadith 11071

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11072

11072 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو الحسين بن ماتي ثنا أحمد بن حازم أنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن منصور عن خالد الحذاء عن قلاية عن أبي أسماء عن أبي الأشعث الصغاني عن شداد بن أوس قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره كذا قال إسرائيل و خالفه جرير و رواه عن منصور نحو رواية الثوري و غيره عن خالد

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین بن ماتی نے اس نے احمد بن حازم سے اس نے عبید اللہ بن موسیٰ سے اس نے اسرائیل سے اس نے منصور سے اس نے خالد حذاء سے اس نے ابو قلابہ سے اس نے ابو اسماء سے اس نے ابو الاشعث صنعانی سے اس نے شداد بن اوس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح کہا ہے اسرائیل نے اور مخالفت کی ہے اس کی جریر نے اور اس کو روایت کیا ہے منصور سے مثل روایت ثوری کے اور اس کے علاوہ دیگر نے خالد سے روایت کی ہے۔

خَالِدٌ، ← منصور نحو رواية الثوري و غيره ← إسرائيل و خالفه جرير و رواه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره كذا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أبي الأشعث الصغاني ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← قلاية ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أبو الحسين بن ماتي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 11072

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11073

11073 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة قال : يكره أو ينهى أن تحد شفرتك و هي تنظر إليك إذا أراد أن يذبح

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو ابوالقاسم طبرانی نے ان کو علی بن عبد العزیز نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے صالح مولی ٰتو امہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ مکروہ ہے یا ممنوع ہے کہ آپ اپنی چھری کو ایسی جگہ تیز کریں جب کہ جانور تیری طرف دیکھ رہا ہو جب آپ اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کر چکے ہوں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Hadith 11073

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11074

11074 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن جعفر الطالقاني ثنا عقيل عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بحد الشفار و أن يواري عن البهائم و إذا ذبح أحدكم فليجهز

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن جعفر طالقانی نے ان کو عقیل ابن شہاب سے اس نے سالم بن عبداللہ سے اس نے اپنے والد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تھا چھری کو تیز کرنے کا اور جانور سے اس کو چھپانے کا اور حکم فرمایا تھا کہ جب ایک تمہارا ذبح کرنا چاہیے تو ذبح کرنے کا سامان تیار کرے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← محمد بن جعفر الطالقاني ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 11074

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11075

11075 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة و ابن عيينة و حديث ابن عيينة أتم عن عمرو بن دينار عن صهيب مولى ابن عامر عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قتل عصفورا بغير حقه سأله الله يوم القيامة عنه قيل : و ما حقه قال : يذبحه فيأكله و لا يقطع رأسه فيرمي به

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے اور ابن عیینہ نے اور حدیث ابن عینیہ زیادہ مکمل ہے جو کہ مروی ہے عمرو بن دینار سے اس نے صہیب مولیٰ ابن عامر سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: جو شخص ناحق کسی چڑیا کو مار دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔ پوچھا گیا کہ اس کا حق کیا ہے۔ فرمایا اس کا حق یہ ہے کہ اس کو ذبح کرے پھر اس کو کھا جائے یوں ہی اس کا سرکاٹ کر نہ پھینک دے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← صُهَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شعبة و ابن عيينة و حديث ابن عيينة أتم ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 11075

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11076

11076 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا أبو يعلى ثنا عبد الله بن عون الحراز ثنا أبو عبيدة يعني الحداد ثنا خلف بن مهران أبو الربيع العدوي و كان ثقة مرضيا ثنا عامر الأحول عن صالح بن دينار عن عمرو بن الشريد قال : سمعت الشريد يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قتل عصفورا عبثا عج إلى الله عز و جل يوم القيامة منه قال : يا رب إن هذا قتلني عبثا لم يقتلني لمنفعة تابعه أحمد بن حنبل عن أبي عبيدة و هو عبد الواحد بن واصل

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابو یعلی ٰنے ان کو عبد اللہ بن عون حراز نے ان کو ابو عبیدہ یعنی حداد نے ان کو خلف بن مہران نے ابور بیع عدوی سے اور وہ ثقہ اور پسندیدہ راوی تھے ان کو حدیث بیان کی عامر احول نے صالح بن دینار سے اس نے عمرو بن شرید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناشرید سے وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے جس شخص نے بے کار میں کسی چڑیا کو قتل کر دیا۔ قیامت کے دن وہ اس سے بدلہ لے گی اللہ کے نزدیک یا استغاثہ دائر کرے گی۔ کہ یا رب اس نے ناحق مجھے قتل کیا تھا اور مجھے کسی فائدے کے لئے نہیں مارا تھا۔ احمد بن حنبل نے اس کی متابع روایت بیان کی ہے، ابو عبیدہ سے اور وہ عبدالواحد بن واصل ہے۔

الشَّرِيدَ، ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← خلف بن مهران أبو الربيع العدوي و كان ثقة مرضيا ← أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ ← عبد الله بن عون الحراز ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 11076

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11077

11077 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا إبراهيم بن سليمان ثنا الأويس ثنا إبراهيم بن سعد قا : : جئت صالح بن كيسان في منزله فوجدته يكسر لهرة له يطعمها ثم يفت لحمامات له أو لحمام له يطعمه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان نے ان کو اولیس نے ان کو ابراہیم بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں صالح بن کیسان کے پاس اس کے گھر پر آیا میں نے اس کو دیکھا کہ وہ اپنی بلی کے لئے روٹی کے ٹکڑے توڑ رہے تھے اس کے بعد توڑ رہے تھے اپنے کبوتروں کے لئے جو انہوں نے رکھے ہوئے تھے ان کو کھلا رہے تھے۔

الأويس ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11077

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11078

11078 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا مسعر عن سعيد بن شيبان قال : ثم لقيت سعدا فحدثنا قال : أخبرني من رأى عدي بن حاتم يفت الخبز للنمل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمر و بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو مسعر نے ان کو سعید بن شیبان نے وہ کہتے ہیں کہ پھر میں ملا سعد سے اس نے ہمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے اس نے جس نے عدی بن حاتم کو دیکھا تھا وہ چونٹیوں کے لئے روٹی توڑ رہے تھے۔

من رأى عدي بن حاتم يفت الخبز للنمل ← ثم لقيت سعدا فحدثنا ← سعيد بن شيبان ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 11078

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11079

11079 - و رواه غيره عن سعيد بن شيبان عن أبي سودة السمبسي عن عدي : و زاد فيه إنهن جارات و لهن حق

اور اس کو روایت کیا ہے اس کے سوا نے سعید بن شیبان نے اس نے ابو سودہ سمبسی سے اس نے عدی سے اس نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے بے شک یہ چیز پڑوس میں رہنے والیاں ہیں ان کا حق ہے۔

عدي و زاد فيه إنهن جارات و لهن حق ← أبي سودة السمبسي ← سعيد بن شيبان ← و رواه غيره

Hadith 11079

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11080

11080 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عون بن سلام عن أبي مرثد عن الحكم بن عيينة عن ميمون بن أبي شبيب عن علي قال : أصبت جارية من السبي معها ابن لها فأردت أن أبيعها و أمسك ابنها فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعهما جميعا أو أمسكهما جميعا

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے بن ابو عرزہ نے ان کو عون بن سلام نے ان کو ابو مرثد نے حکم بن عیینہ سے اس نے میمون بن ابو شبیب سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے قیدیوں میں سے ایک باندی ملی جس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا میں نے اس کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے بیٹے کو روکنے کا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ایسانہ کرو یا تو دونوں کو اکھٹے فروخت کر دو یا دونوں کو رکھ لو۔

عَلِيٍّ، ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُيَيْنَةَ، ← أبي مرثد ← عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Hadith 11080

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11081

11081 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا خالد بن حميد عن العلاء بن كثير عن أبي أيوب الأنصاري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من فرق بين الولد و أمه فرق الله بينه و بين أحبته يوم القيامة 11081 - مكرر ـ أخبرنا أبو القاسم بن حبيب المفسر من أصله نا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور إملاء نا أبو شعيب الحراني نا النفيلي نا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن أبان بن صالح عن نقادة الأسلمي أسد خزيمة قال : قلت : يا رسول الله إن عندي ناقة أهديها لك قال : لا تجعلها والها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو خالد بن حمید نے علاء بن کثیر سے اس نے ابوایوب انصاری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے جو شخص جدائی کرے گا درمیان ماں کے اور اس کے بیٹے کے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے درمیان اور اس کے پیاروں کے درمیان جدائی کرے گا۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابوالقاسم بن حبیب مفسر نے اپنی اصل میں سے اس نے ابوسعید عمرو بن محمد بن منصور سے بطور املاء کے ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو نفیلی نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کومحمد بن اسحٰق نے ان کو ابان بن صالح نے نقادہ اسلمی بن خزیمہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے پاس ایک اونٹنی ہے میں اس کو آپ کے لئے ھدیہ کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کر۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، ← خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11081

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11082

11082 - أخبرنا الحاكم أبو عبد الله أنا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخلدي أنا إبراهيم بن نصر المنصوري حدثني إبراهيم بن بشار الصوفي الخراساني قال : سمعت إبراهيم بن أدهم يقول : بلغه أنه كان في بني إسرائيل رجل ذبح عجلا بين يدي أمه فأيبس الله يده فبينا هو ذات يوم جالس إذا بفرخ قد سقط من وكره و هو يتبصبص إلى أبويه و أبواه يتبصبصان إليه فأخذه ورده إلى وكره رحمة له فC برحمته لهما و رد عليه يده بما صنع

ہمیں خبر دی حاکم ابو عبد اللہ نے ان کو ابو محمد جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے ان کو ابراہیم بن نصر منصوری نے ان کو ابراہیم بن بشار صوفی خراسانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نا ابراہیم بن ادھم سے وہ کہتے ان کو جب پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اس نے بچھڑے کو اس کی ماں کے سامنے ذبح کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ شل کر دیا تھا ( وہ سوکھ گیا تھا ) ایک دن وہ بیٹھا ہوا تھا اچانک کسی پرندے کا بچہ اپنے آشیانے کے نیچے گر گیا اور وہ اپنے ماں باپ کی طرف اچک رہا تھا اور اس کے ماں باپ اس کی طرف پریشان ہورہے تھے اس نے اس بچے کو اٹھا کر واپس اس کے آشیانے میں رکھ دیا تھا اس پر شفقت کرتے ہوئے ۔ اس کے رحم کرنے کی وجہ سے اللہ نے اس پر رحم کر دیا اور اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کا ہاتھ واپس درست کر دیا تھا۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← إبراهيم بن بشار الصوفي الخراساني ← إبراهيم بن نصر المنصوري ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ محمد بن نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 11082

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood