شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11071
11071 - حدثنا أبو الحسين بن بشران إملاءا في مسجد الرصافة أنا أبو سهل أحمد بن عبد الله بن زياد القطان ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون أنا سفيان الثوري عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة و إذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة و ليحد أحدكم شفرته و ليرح ذبيحته فقال رجل في المجلس ثنا علي بن عاصم عن خالد فسمعها يزيد فقال حدثناه سفيان عن خالد و إن خالدا لحي أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان الثوري
ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین بن بشران نے بطور املاء کے مسجد رصافہ میں ان کو ابو سہیل احمد بن عبداللہ بن زیاد قطان سے اس نے ابوالاشعث سے اس نے شداد بن اوس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے ہرشئی پر احسان کرنے اور اچھائی کرنے کو فرض کیا ہے لازمی قرار دیا ہے چنانچہ جب قتل کرنے لگو تو بھی بہتر طریقہ سے قتل کر دیا بھلائی کے ساتھ کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ کرو) اور جب ذبح کرنے لگو تو احسن طریقے پر ذبح کرو چاہئے کہ ایک تمہارا اپنی چھری کو تیز کر لیا کرے اور چاہئے کہ وہ اپنی ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا ہمیں حدیث بیان کی علی بن عاصم نے ان کو خالد نے اس نے اس کو سنا یزید سے اس نے کہا کہ ہمیں اس کی حدیث بیان کی سفیان نے خالد سے اور بے شک خالد بھی اس وقت زندہ تھے۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سفیان ثوری سے۔
شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ← أبو الحسين بن بشران إملاءا في مسجد الرصافة
Hadith 11071
