Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11059

11059 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عياش السكري ثنا محمد بن سليمان المصيصي لوين ثنا عبد المؤمن السدوسي عن أخشن السدوسي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة منكم إلا رحيم قالوا : يا رسول الله كلنا رحيم قال : ليس رحمة أحدكم نفسه و أهل بيته حتى يرحم الناس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عیاش سکری نے ان کو محمد بن سلیمان مصیصی لوین نے ان کو عبد المؤمن سدوسی نے ان کو اخشن سدوسی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں جنت میں صرف رحیم اور مہربان ہی جائے گا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہر ہر آدمی ہم میں سے رحیم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کی شفقت اور رحمت وہ مراد نہیں جو اپنے نفس پر ہوا اپنے گھر والوں پر ہو بلکہ لوگوں پر شفقت کرتا ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أخشن السدوسي ← عبد المؤمن السدوسي ← محمد بن سليمان المصيصي لوين ← عياش السكري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 11059

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11060

11060 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان الكاتب أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن الفضل بن جابر ثنا عبد الجبار بن عاصم ثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن سنان بن سعد عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و الذي نفسي بيده لا يضع الله رحمته إلا على رحيم قال قلنا : يا رسول الله فكلنا رحيم قال : ليس الذي يرحم نفسه خاصة و لكن الذي يرحم الناس عامة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان کا تب نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو عبدالجبار بن عاصم نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو محمد بن اسحاق نے یزید بن ابو حبیب نے سنان بن سعید انہوں نے انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نہیں رکھتے مگر اس شخص پر جو مہربان ہو۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ہر ایک ہم میں سے رحیم ہے آپ نے فرمایا کہ رحیم وہ نہیں ہوتا جو صرف اپنے نفس پر رحم کھائے خاص طور پر بلکہ وہ ہوتا ہے جو عمومی طور پر سب لوگوں پر رحم کھائے ۔

قُلْنَا ← و الذي نفسي بيده لا يضع الله رحمته إلا على رحيم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن أحمد بن عبدان الكاتب

Hadith 11060

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11061

11061 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو أمية ثنا علي بن عبد الحميد ثنا أبو الحسن ثنا مندل بن علي عن عبد المجيد بن سهيل عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ريح الولد من ريح الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابومیہ نے ان کو علی بن عبد الحمید نے ان کو ابو الحسن نے ان کو مندل بن علی نے عبدالمجید بن سہیل سے اس نے عبداللہ بن عبداللہ بن عقبہ سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اولاد کی خوشبو جنت کی خوشبو کی جنس سے ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو الْحَسَنِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11061

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11062

11062 - أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق القرشي بن النجار بالكوفة ثنا أبو القاسم بن عمرو ثنا أبو حصين الوادعي ثنا يحيى الحماني ثنا ابن مبارك عن مجالد عن عامر عن الأشعث بن قيس قال : مررت على النبي صلى الله عليه و سلم فرأيت في وجهه و أصحابه الجوع فقال : ما فعلت ابنة عمك قال : نفست بغلام و الله يا رسول الله لوددت أن لي به شبعتكم من الطعام فقال : أما و إن قلت هذا إنهم لمجبنة مبخلة و إنهم لقرة العين و ثمرة الفؤاد

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبد الواحد محمد بن اسحاق قرشی بن نجار نے کوفے میں ان کو ابو القاسم بن عمرو نے ان کو ابو حصین الوداعی نے ان کو یحییٰ بن حمانی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو مجالد نے ان کو عامر نے اشعث بن قیس سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اور آپ کے اصحاب کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی چچازاد نے کیا کیا ہے؟ یعنی کس حال میں ہے؟ ( مراد اس سے بیوی ہے ) میں نے بتایا کہ اس نے بیٹا جنا ہے وہ اس وقت زچہ ہے۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ بیٹے کی خوشی میں آپ آج پیٹ بھر کر میرے ہاں کھانا کھا ئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبر دار آپ نے جب یہ بات کہی ہے۔ بے شک وہ عورتیں بزدل بنانے والی اور بخل کرنے والا بنانے والی ہوتی ہیں۔ ( یا وہ اولاد ایسی ہوتی ہے۔) اور بے شک وہ البتہ آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہیں اور دل کا پھل اور ثمرہ بھی۔

الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَامِرٍ، ← مجالد ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← يحيى الحماني ← أَبُو حُصَيْنٍ الْوَادِعِيُّ، ← أبو القاسم بن عمرو ← أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق القرشي بن النجار

Hadith 11062

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11063

11063 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى و غيرهما قالوا : حدثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عثمان بن صالح ثنا بكر بن مضر عن محمد بن عجلان أن وهب بن كيسان أخبره و قد كان وهب أدرك عبد الله بن عمر بن الخطاب أن عبد الله بن عمر رأى راعيا و غنما له في مكان قبيح و قد رأى مكانه هو أمثل منه فقال له ابن عمر ويحك يا راعي حولها فإني : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل راع مسؤول عن رعيته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ وغیرہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو محمد بن عجلان نے یہ کہ وہب بن کیسان نے اس کو خبر دی ہے حالانکہ وہب نے عبداللہ بن عمر کو پایا تھا۔ ( وہ کہتے ہیں کہ ) عبد اللہ بن عمر نے ایک چرواہے کو دیکھا اور اس کی بکریاں کھلے میدان میں (یا بڑی جگہ ) اور انہوں نے اس کے بجائے دوسری اس سے بہتر جگہ دیکھی۔ اس کو کہا ہلاک ہو جائے اسے چرواہے اس جگہ سے ہٹالے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے ہر چرواہے سے اس کے چرانے کی بابت پوچھ کچھ ہوگی۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى و غيرهما

Hadith 11063

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11064

11064 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن المقدام بن شريح عن أبيه : عن عائشة أنها كانت على جمل فجعلت تضربه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا عائشة عليك بالرفق فإنه لم يكن في شيء إلا زانه و لم ينزع من شيء إلا شانه أخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبید اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے مقدام بن شریح سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ سے کہ وہ اونٹ پر سوار تھیں اور آپ نے اونٹ کو مارنا شروع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ نرمی کو لازم پکڑئیے کیونکہ نرمی جس چیز میں آتی ہے اس کو زینت دے دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی کھینچ لی جاتی ہے ان کو عیب دار کر دیتی ہے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← عائشة أنها كانت على جمل فجعلت تضربه ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 11064

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11065

11065 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا سعيد بن محمد الجرمي ثنا أبو عبيدة عبد الواحد بن واصل ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله رفيق يحب الرفق و يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف و كان يقول : خذوا بالناس ما تيسر قال قتادة : و إن المؤمنين قوم رفقاء رحماء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبد الرحمن ٰبن احمد بن حنبل نے ان کو سعید بن محمد جرمی نے ان کو ابوعبید عبد الواحد بن واصل نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو قتادہ نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے نرمی کرنے کو پسند کرتا ہے اور نرمی کرنے پر اس قدر عطا کرتا ہے جو درشتی او رسختی کرنے پر نہیں کرنا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے لوگوں کے ساتھ وہ روش اختیار کرو جو آسان ہو۔ حضرت قتادہ نے فرمایا بے شک مؤمن لوگ رفقا ، اور حماء ہوتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 11065

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11066

11066 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا محمد بن إسماعيل ثنا محمود بن خالد الدمشقي ثنا الوليد بن مسلم ثنا ابن جابر ثنا عبيد الله بن زياد البكري قال : دخلنا على ابني بشر المرمتين صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يرحمكما الله الرجل يركب منا الدابة فيضربها بالسوط أو يلجمها باللجام فهل سمعتما من رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا فقالا : لا قال عبيد الله : فنادتني امرأة من الداخل فقالت : يا هذا إن الله عز و جل يقول في كتابه : { ما من دابة في الأرض و لا طائر يطير بجناحيه إلا أمم أمثالكم ما فرطنا في الكتاب من شيء ثم إلى ربهم يحشرون } فقالا : هذه أختنا و هي أكبر منا و قد أدركت رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابوطا بر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو محمد بن اسمائیل نے، ان کو محمود بن خالد دمشقی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن جابر نے ان کو عبید اللہ بن زیاد بکری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بشر کے دو بیٹوں کے پاس گئے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل کر چکے تھے۔ میں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ آپ دونوں پر رحم کرے کوئی آدمی ہم میں سے سواری کے جانور کے او پر سوار ہوتا پھر وہ اس کو چابک کے ساتھ مارتا بھی ہے یا اس کی لگام کھینچتا ہے یہ بتائیے کہ تم دونوں نے اس بارے میں کو ئی شی سنی تھی ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو اس بارے کوئی چیز نہیں سنی۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک عورت نے اندر سے مجھے پکارا اور کہنے لگی اے میاں سائل بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے۔ ’’ ما من دابة في الأرض ولا طائر يطير بجناحيه الا امم امثالكم ما فرطنافى الكتاب من شئ ثم الىٰ ربهم يحشرون ‘‘ نہیں کوئی چوپایہ جانور زمین پر اور نہ ہی کوئی پرندہ جو اپنے پروں کے ساتھ پرواز کرتا ہے مگر وہ سب امتیں اور جماعتیں ہیں تمہاری مثل ہم نے کتاب اللہ میں کوئی چیز چھوڑی نہیں ہے پھر وہ سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے۔ اس کے بعد ان دونوں بھائیوں نے بتایا کہ یہ محترمہ جواب دینے والی ہماری بڑی بہن ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا چکی ہیں۔

عبيد الله بن زياد البكري ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 11066

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11067

11067 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أبو قلابة الرقاشي عبد الله بن محمد ثنا علي بن الجعد ثنا عدي بن الفضل عن يونس بن عبيد عن معاوية بن قرة عن أبيه : أن رجلا قال : يا رسول الله آخذ الشاة فأذبحها فارحمها قال و الشاة فإن ترحمها يرحمك الله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو ابو قلابہ رکاشی عبداللہ بن محمد نے ان کو علی بن جعد نے ان کو علی بن فضل نے ان کو یونس بن عبید نے معاویہ بن قرہ سے اس نے اپنے والد سے یہ کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں بکری کو پکڑ کر ذبح کر دیتا ہوں پس میں اس پر رحم بھی کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو بکری پر رحم کرے گا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے گا۔

أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أبو قلابة الرقاشي عبد الله بن محمد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 11067

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11068

11068 - أخبرنا أبو عبد الرحمن بن محجور الدهان ثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا سويد بن سعيد ثنا عثمان بن عبد الرحمن الجمحي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن معقل بن يسار قال : قال رجل : يا رسول الله إني لآخذ العنز فأذبحها فارحمها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن رحمتها رحمك الله و في كلا الإسنادين ضعف

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن بن مجبور دھان نے ان کو ابو العباس احمد بن ہارون فقیہ نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبد اللہ حضرمی نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو عثمان بن عبد الرحمٰن جمحی نے یونس بن عبید سے اس نے حسن سے اس نے معقل بن یسار سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ بے شک میں بکری کو پکڑ کر ذبح کر دیتا ہوں اور میں اس پر شفقت بھی کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس پر رحم کرتا ہے اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔ دونوں اسنادوں میں ضعف ہے۔

رَجُلٌ: ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ← أبو عبد الرحمن بن محجور الدهان

Hadith 11068

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11069

11069 - و رواه إسماعيل بن علية عن رجل عن زياد بن مخراق عن معاوية بن قرة عن أبيه : أن رجلا قال : يا رسول الله إني أذبح الشاة و أنا أرحمها أو قال : إني لأرحم الشاة أن أذبحها قال : و الشاة إن رحمتها رحمك الله أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا محمد بن الصباح ثنا إسماعيل بن علية عن رجل فذكره و رواه يعقوب الدورقي عن ابن علية ثنا زياد بن مخراق و رواه جماعة عن ابن علية عن زياد بن مخراق و الله أعلم

اور اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن علیہ نے ایک آدمی سے اس نے زیاد بن مخراق سے اس نے معاویہ بن قرہ سے اس نے اپنے والد سے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ بے شک میں بکری کو ذبح کرتا ہوں اور میں اس پر شفقت بھی کرتا ہوں یا یوں کہا تھا۔ بے شک میں رحم کرتا ہوں بکری پر اس کو ذبح کرنے سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو بکری پر رحم کرے گا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے گا۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو اسماعیل بن علیہ نے ایک آدمی سے اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے یعقوب دورقی نے ابن علیہ سے اس نے زیاد بن مخراق سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے جماعت نے ابن علیہ سے اس نے زیادہ بن مخراق سے واللہ اعلم۔

أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← رَجُلٌ: ← و رواه إسماعيل بن علية

Hadith 11069

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11070

11070 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا ابن مكرم ثنا محمود بن غيلان ثنا أبو النضر ثنا الوليد بن جميل أبو الحجاج اليامي ثنا القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رحم و لو ذبيحة عصفور رحمه الله يوم القيامة تابعه سليمان بن رجاء عن الوليد

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابن مکرم نے ان کو محمود بن غیلان نے ان کو ابو النضر نے ان کو ولید بن جمیل ابو الحجاج یمامی نے ان کو قاسم بن عبد الرحمن ٰنے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رحم کرتا ہے اگر چہ چڑیا کے ذبح کرنے پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر رحم کرے گا۔ سلیمان بن رجاء نے ولید سے اس کی متابع روایت ذکر کی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الوليد بن جميل أبو الحجاج اليامي ← أَبُو النَّضْرِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← ابْنُ مُكْرَمٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 11070

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood