Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11035

11035 - و بإسناده ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن واسع أن أبا الدرداء كتب إلى سلمان : أن رجلا شكى إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قسوة قلبه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أردت أن يلين قلبك فامسح رأس اليتيم و أطعمه

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی حماد بن سلمہ نے محمد بن واسع سے اس نے ابو درداء سے اس نے لکھا حضرت سلیمان کے پاس کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کے سخت ہو جانے کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دل نرم ہو جائے تو یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر ئیے اور اس کو کھانا کھلائیے۔

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11035

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11036

11036 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا يحيى بن أيوب أخبرني ابن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مسح برأس يتيم فإن له بكل شعرة مرت يداه عليه حسنة و من أحسن إلى يتيمه أو يتيم غيره كنت أنا و هو كهاتين و فرق بين أصبعيه

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبد وس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ابن زمر نے ان کو علی بن یزید نے ان کو قاسم نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اس کے لئے ہر اس بال کے بدلے میں ایک نیکی ہوگی جن کے اوپر اس کا ہاتھ جائے گا جو شخص یتیم لڑکی یا لڑکے اپنے یا غیر کے ساتھ حسن سلوک کرے گا میں اور وہ جنت میں ایسے ہوں گے اپنی دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ کرتے ہوئے فرمایا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنِ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11036

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11037

11037 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ أنا محمد بن عبد الله الشافعي ثنا أبو الوليد بن برد ثنا الحسين قال : ذكره مالك عن يحيى بن محمد بن طحلاء عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحب بيوتكم إلى الله عز و جل بيت فيه يتيم مكرم

ہمیں خبر دی ابوالفتح بن احمد بن ابو الفوارس حافظ نے ان کو محمد بن عبد اللہ شافعی نے ان کو ابو الولید بن برد نے ان کو حسین نے وہ کہتے ہیں کہ اس کو ذکر کیا ہے مالک نے یحیی ٰبن محمد بن طحلا ء سے اس نے اپنے والد سے اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے گھروں میں اللہ کے نزدیک محبوب اور پیارا گھر وہ ہوتا ہے جس میں کوئی یتیم پرورش پاتا ہو اور اس کا اکرام کیا جاتا ہو۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ، ← ذكره مالك ← الحسين ← أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11037

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11038

11038 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران قالا : حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنيني عن مالك بن أنس : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : خير بيوتكم بيت فيه يتيم مكرم تفرد به الحنيني عن مالك

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابوالحسین بن بشران نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابو عمر وعثمان بن احمد بن سماک نے ان کو ابوالاحوص محمد بن ہثیم قاضی نے ان کو اسحق ٰبن ابراہیم جمہی نے ان کو مالک بن انس نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کی مثل علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تمہارے گھروں میں سے بہتر گھر وہ ہوتا ہے جس میں کسی یتیم کی عزت کی جائے۔ اسی روایت میں حسینی مالک سے روایت کرنے میں اکیلا ہے۔

مَالِكٍ، ← خير بيوتكم بيت فيه يتيم مكرم تفرد به الحنيني ← مالك بن أنس فذكره بإسناده مثله غير أنه ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11038

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11039

11039 - أخبرنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين أنا أحمد بن محمود بن خرزاد الكازروني بالأهواز ثنا إبراهيم بن شريك ثنا أحمد بن الفضل ثنا أحمد بن ونس ثنا زهير ثنا أبو إسحاق عن عبد الرحمن بن إبزي قال : كان داود عليه السلام يقول : كن لليتيم كالأب الرحيم و اعلم أنك كما تزرع كذلك تحصد و إن المرأة الصالحة لبعلها كالملك المتوج بالتاج المحوض بالذهب و اعلم أن المرأة السوء لبعلها كالحمل الثقيل على ظهر الشيخ الضعيف و اعلم أن خطبة الأحمق في نادي القوم كالمغني عند رأس الميت و تعوذ بالله من صاحب إذا ذكرت لم يعنك و إذا نسيت لم يذكرك و ما أقبح الفقر بعد الغنى و أقبح من ذلك الضلالة بعد الهدى

ہمیں خبر دی قاضی ابو عمر محمد بن حسین نے ان کو خبر دی احمد بن محمد دین خرزاد کازرونی نے مقام اہواز میں ان کو ابراہیم بن شریک نے ان کو احمد بن فضل نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زبیر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبدالرحمنٰ بن ابزی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے تھے۔ یتیم کے لئے بمنزلہ اس کے شفیق باپ کے ہو جائیے۔ اور یقین جانیئے کہ آپ جیسا بوئیں گے ویسی ہی کاٹیں گے۔ اور بے شک نیک عورت اپنے شوہر کے لئے اس بادشاہ کی طرح ہے جس نے سنہری پانی چڑھایا ہوا تاج پہن رکھا ہو۔ اور یقین جانئے کہ گندی عورت اپنے شوہر کے لئے بوڑھے اور ضعیف آدمی کی پیٹھ پر بھاری بوجھ کی مثل ہے۔ اور یقین جانئے کہ احمق آدمی کو خطبہ دینا اور نصیحت کرنا قوم میں ایسے ہے جیسے میت کے سرھانے گانا گانے والا اور آپ اللہ کی پناہ مانگے ایسے ساتھی کے بارے میں جب آپ کو یاد ہو تو آپ کی مدد نہ کرے اور جب آپ بھول جائیں تو آپ کو یاد نہ دلائے ۔کہیں فقر قبیح ہوتا ہے غنی کے بعد اور اس سے زیادہ قبیح گمراہی ہوتی ہے ہدایت کے بعد ۔

كَانَ دَاوُدُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← أحمد بن ونس ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ ← أحمد بن محمود بن خرزاد الكازروني بالأهواز ← القاضي أبو عمر محمد بن الحسين

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11039

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11040

11040 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني ثنا إسحاق الدبري ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن إبزي أو ابن أبي ليلى قال : قال نبي الله داود عليه السلام : كن لليتيم كالأب الرحيم ثم ذكر الباقي غير أنه قال في الحمال : كالملك المتوج و قال الشيخ الكبير و زاد و لا تعد أخاك ثم لا تنجز له فإنه يورث بينك و بينه عداوة و ما أحسن العلم بعد الجهل و ما أقبح الفقر بعد الغنى و ما أقبح الضلالة بعد الهدى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفانی نے ان کو اسحاق دلبری نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو مغمر نے ابی اسحاق سے اس نے عبدالرحمن ٰابن ابزی سے یا ابن ابی لیلی ٰسے کہا: اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا یتیم نے، کے شفیق باپ کی طرح ہو جائیے پھر بقیہ حدیث ذکر کی سوائے اس کے کہ حمال کے بارے میں کہا کالملک المتوج شیخ کبیر نے کیا اور یہ اضافہ کیا کہ تو اپنے بھائی کے ساتھ وعدہ خلافی نہ کر اس لئے کہ یہ آپس کی دشمنی پیدا کرتا ہے اور جہالت کے بعد علم کیا ہی اچھا ہے اور مالداری کے بعد تنگدستی کتنی بری ہے اور ہدایت کے بعد گمراہی کتنی بری ہے۔

في الحمال كالملك المتوج و ← الباقي غير أنه ← نبي الله داود كن لليتيم كالأب الرحيم ثم ← عبد الرحمن بن إبزي أو ابن أبي ليلى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11040

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11041

11041 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن محمد القاضي النسوي ثنا مكي بن إبراهيم ثنا أبو الورقاء عن عبد الله بن أبي أوفى قال : بينما نحن قعود عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ أتاه غلام فقال : يا رسول الله غلام يتيم و أم لي أرملة أطعمنا أطعمك الله مما عنده حتى ترضى قال : فقال : ما أحسن ما قلت يا غلام يا بلال انطلق إلى أهلنا فأتنا بما وجدت عندهم من طعام فأتاه بلال بواحد و عشرين تمرة فوضعها في كف رسول الله صلى الله عليه و سلم فأشار رسول الله صلى الله عليه و سلم بكفيه إلى فيه و نحن نرى تلك الساعة أنه يدعو بالبركة لليتيم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للغلام : سبعة لك و سبعة لأمك سبعة لأختك و تعش بتمرة و تغد بأخرى فانصرف الغلام و كان من أبناء المهاجرين فقام إليه معاذ بن جبل فوضع يده على رأسه فقال : يا غلام جبر الله يتمك و جعلك خلفا من أبيك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم عند ذلك : و الذي نفس محمد بيده لا يلي أحد من المسلمين يتيما فيحسن ولايته ثم يضع يده على رأسه إلا جعل الله له بكل شعرة حسنة و كف عنه بكل شعرة سيئة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن محمد قاضی نسوی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو ابوالورقاء نے ان کو عبد اللہ بن ابو اوفی ٰنے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک لڑکا آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میں ایک یتیم لڑکا ہوں میری ماں بیوہ ہے آپ ہمیں کھانے کے لئے کچھ دیجئے اللہ آپ کو کھلائے گا جو اس کے پاس ہے حتی کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے یتیم نے کتنی اچھی بات کہی ہے۔ اے بلال ہمارے گھر میں جائیے اور ان کے پاس کھانے کے لئے جو کچھ موجود ہو لے آئیے چنانچہ حضرت بلال گئے اور کھجور کے اکیس دانے لے آئے اور لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ دیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں سے اس کے منہ کی طرف اشارہ کیا اور ہم اس ساعت کو دیکھ رہے تھے کہ بے شک آپ ہر اس یتیم کے لئے برکت کی دعا کر رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا کہ اس میں سے سات دانے تیرے لئے ہیں اور سات دانے تیری والدہ کے لئے ہیں اور سات دانے تیری بہن کے لئے ہیں۔ ایک دانہ عشاء کے وقت کھانا اور ایک دانہ صبح کھانا۔ لڑکا واپس چلا گیا یہ لڑکا مہاجرین میں سے تھا وہ جانے لگا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اٹھ کر اس کے پاس گئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے اے لڑکے اللہ تعالیٰ تیری یتیمی کی تلافی فرمائے اور آپ کو اپنے باپ کا نیک جانشین بنائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو اشارہ فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی جب کسی یتیم کی سرپرستی کرتا ہے اور اچھے طریقے سے کرتا ہے پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر ایک بال کے بدلے میں ایک نیکی عطا کرتا ہے اور ہر بال کے بدلے میں اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أبو الورقاء ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إسماعيل بن محمد القاضي النسوي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11041

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11042

11042 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد محمد بن أحمد بن شعيب العدل أنا علي بن عبد الرحيم الصفار ثنا أيوب بن الحسن ثنا عبد السلام بن نهشل عن أبيه عن إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الله بن أبي أوفى قال : كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتاه غلام فقال : غلام يتيم و أخت لي يتيمة و أم لي أرملة أطعمنا مما أطعمك الله أعطاك الله مما عنده حتى ترضى فجاء بواحدة و عشرين تمرة فقال : سبع لك و سبع لأختك و سبع لأمك فقام إليه معاذ بن جبل فمسح رأسه و قال : جبر الله يتمك و جعلك خلفا من أبيك و كان من أبناء المهاجرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد رأيتك يا معاذ و ما صنعت قال : رحمته قال : لا يلي أحد منكم يتيما فيحسن ولايته و يضع يده على رأسه إلا كتب الله له بكل شعرة حسنة و محا عنه بكل شعرة سيئة و رفع له بكل شعرة درجة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابوا احمد محمد بن احمد بن شعیب عدل نے ان کو علی بن عبد الرحیم صفار نے ان کو ایوب بن حسن نے ان کو عبد السلام بن نہشل نے اپنے والد سے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو عبد اللہ بن ابو اوفیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ایک لڑکا آیا اور آکر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یتیم ہوں اور میری ایک یتیم بہن ہے اور میری والدہ بیوہ ہے آپ ہمیں کچھ کھلائیے اس میں سے جو اللہ نے آپ کو کھانے کو دیا ہے اللہ آپ کو کھانے کو دے گا اس میں سے جو اس کے پاس ہے یہاں تک کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیس کھجوریں منگوائیں اور فرمایا کہ اس میں سے سات تیرے لئے ہیں اور سات تیری بہن کے لئے ہیں اور سات تیری والدہ کے لئے ہیں حضرت معاذ بن جبل نے اٹھ کر اس یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی اللہ تعالیٰ آپ کی یتیمی کی تلافی فرمائے اور آپ کو اپنے باپ کا نیک نائب اور جانشین بنائے وہ لڑکا مہاجرین کا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ میں نے تمہیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھا اور تیری یہ شفقت دیکھی تم میں سے جو آدمی کسی یتیم کی سر پرستی قبول کرے گا اور اپنی ذمہ داری احسن طریقے پر پوری کرے گا اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے گا اللہ تعالی ٰہر ایک بال کے بدلے میں ایک نیکی لکھے گا اور ہر بال کے بدلے میں ایک گناہ مٹائے گا اور ہر بال کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کرے گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِيهِ ← عبد السلام بن نهشل ← أيوب بن الحسن ← علي بن عبد الرحيم الصفار ← أبو أحمد محمد بن أحمد بن شعيب العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11042

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11043

11043 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي نا الحسين بن علي السري ثنا أحمد بن الحسن الليثي حدثني محمد بن طلحة عن عبد المجيد بن أبي عيسى عن أبيه عن جده قال : وقف غلام على النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد فقال : السلام عليك يا رسول الله إني غلام يتيم و إن لي أما أرملة مسكينة و أختا أرملة مسكينة فآتنا مما آتاك الله عز و جل مد الله في الرضا عنك حتى ترضى فقال : يا غلام أعد علي كلامك إنك لمقول على لسانك فأعاد كلامه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هلموا ما في بيت آل رسول الله قال : فأوتي بجفنة من تمر أكثر من ملء الكف و أقل من ملء الكف قال : خذ هذا ففيه غداؤك و غداء أمك و أختك و سأعينك فيهم بالدعاء فأخذها الغلام و خرج حتى إذا كان بباب المسجد لقيه سعد بن أبي وقاص فمسح على رأسه و لا أدري أعطاه شيئا أم لا قال محمد بن أبي طلحة فمن هناك جرت سنة المسح على رأس اليتيم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن احمد بن اسحاق طیبی نے ان کو حسین بن علی سری نے ان کو احمد بن حسن لیثی نے ان کو محمد بن طلحہ نے عبدالمجید بن ابو عیسیٰ سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکا رسول اللہ کے پاس آکر رکا مسجد کے اندر اور کہنے لگا السلام علیک یا رسول اللہ میں ایک یتیم لڑکا ہوں میری بیوہ ماں ہے مسکین ہے اور بیوہ بہن ہے وہ بھی مسکین ہے۔ اللہ نے جو کچھ آپ کو دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی دیجئے اللہ تعالیٰ اپنی رضا میں زیادتی کرے یہاں تک کہ آپ راضی ہو جا ئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے ایسا کلام دوبارہ کہئے تیری زبان سے یہ کلمے اچھے لگے ہیں چنانچہ اس لڑکے نے اپنے الفاظ دہرائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس لے آؤ آل رسول کے گھر میں جو کچھ ہے۔ کہتے ہیں ایک تھال لایا گیا اس میں ایک مٹھی بھر سے زیادہ یا مٹھی سے کم کھجوریں تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ یہ لے جائیے اس میں تیرے لئے اور تیری والدہ اور تیری بہن کے لئے صبح کی خوراک ہے اور میں دعا کے ساتھ تیری مدد کروں گا ان کے معاملے میں لڑکے نے وہ کھجوریں اٹھائیں اور نکل گیا جب وہ مسجد کے دروازے پر پہنچا تو حضرت سعد بن ابووقاص ان کو ملے انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے معلوم نہیں کہ اس نے بھی کچھ دیا اس کو یا نہیں ۔ محمد بن ابو طلحہ کہتے ہیں کہ بس وہیں سے سنت جاری ہوگئی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر نے کی۔

السَّلَامُ عَلَيْكَ ← وقف غلام على النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد المجيد بن أبي عيسى ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ اللَّيْثِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11043

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11044

11044 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل حدثني عبد الله بن عطاء ثنا حجر بن الحارث الغساني قال : سمعت عبد الله بن عوف القارىء قال : سمعت بشر بن غزية يقول : استشهد أبي مع النبي صلى الله عليه و سلم في بعض غزواته فمر بي النبي صلى الله عليه و سلم و أنا أبكي فقال لي : أسكت أما ترضى أن أكون أنا أبوك و عائشة أمك قلت : بلى بأبي أنت و أمي يا رسول الله

ہمیں خبر دی ابوبکر فارسی نے ان کو ابو اسحق اصفہانی نے ان کو ابو احمد فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو عبد اللہ بن عطاء نے ان کو حجر بن حارث غسانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبد اللہ بن عوف قاری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن بشر بن غزیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شہید ہو گئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے تو میں رو رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تسلی دی اور فرمایا چپ ہو جائیے کیا آپ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میں آپ کا باپ ہوں اور عائشہ تیری ماں ہیں ۔ میں نے عرض کی کیوں نہیں یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان ہو جائیں۔

بشر بن غزية ← عبد الله بن عوف القارىء ← حجر بن الحارث الغساني ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11044

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11045

11045 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا هشام عن قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن عياض بن حمار : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أهل الجنة ثلاثة ذو سلطان مقسط و متصدق موفق و رجل رحيم رقيق القلب بكل ذي قربى و مسلم و فقير عفيف متصدق أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہشام نے ان کو قتادہ نے ان کو مطرف بن عبد اللہ بن شخیر نے عیاض بن حمار سے یہ کہ اللہ کے نبی نے فرمایا۔ کہ اہل جنت تین طرح کے ہیں ایک تو صاحب اقتدار انصاف پرور دوسرا صدقہ کرنے والا مالدار ۔ تیسرا مہربان نرم دل آدمی جو ہر رشتے دار کے ساتھ نرمی کرے اور مسلمان فقیر پاک دامن سوال سے بچنے والا صدقہ کرنے والا۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11045

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11046

11046 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا عبد الرحمن بن بشر ثنا يحيى بن سعيد القطان عن إسماعيل بن أبي خالد أنا قيس بن أبي حازم ثنا جرير بن عبد الله قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من لا يرحم الناس لا يC أخرجه مسلم من وجه آخر عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو عبد الرحمن ٰبن بشر نے ان کو یحیی ٰبن سعید قطان نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابو حازم نے ان کو جریر بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتا ۔ مسلم نےاس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اسماعیل سے۔

إِسْمَاعِيلُ ← من لا يرحم الناس لا يC أخرجه مسلم من وجه آخر ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11046

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood