Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11023

11023 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن عبد الله الحداد نا أبو همام نا أبي نا زياد بن خيثمة عن زيد بن علي عن عروة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس أحد من أمتي يعول ثلاث بنات أو ثلاث إخوات فيحسن إليهن إلا كن له سترا من النار

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن عبد اللہ حرار نے ان کو ابو ہمام نے ان کو ان کے والد نے ان کو خبر دی زیاد بن خیثمہ نے زید بن علی سے اس نے عروہ سے اس نے عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ہے کوئی ایک شخص میری امت میں سے جو اپنی تین بیٹیوں کی عیالداری کرتا ہے ان کو پالتا ہے۔ یا تین بہنوں کا کہا تھا پھر وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے مگر وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جاتی ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← أَبِي ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أحمد بن عبد الله الحداد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 11023

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11024

11024 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد نا مطر بن خليفة قال : كنت جالسا عند زيد بن علي فمر عليه شيخ يقال له شرحبيل بن سعد فقال له زيد : من أين جئت قال : من عند أمير المؤمنين حدثته بحديث فقال : لأن يكون هذا الحديث حقا أحب إلي من أن يكون لي حمر النعم قال : فحدث به القوم قال : سمعت ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من مسلم يدرك له ابنتان فيحسن إليهما ما صحبهما أو صحبتاه إلا أدخلتاه الجنة

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر قاضی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلی ٰبن عبید نے ان کو مطر بن خلیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس ایک بوڑھے آدمی کا گذر ہوا جس کو شرحبیل بن سعد کہتے تھے۔ زید نے اس سے کہا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ امیر المومنین کے پاس (یعنی امیر مدینہ ) میں نے اس کو حدیث بیان کی ہے تو اس نے کہا ہے کہ اگر یہ حدیث حق ہے (یعنی سچی ہے تو یہ میرے ہاں سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔ ) وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا جو بھی مسلمان دو بیٹیوں کو پالیتا ہے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے جب تک وہ اس کے پاس رہتی ہیں یا وہ جب تک ان کے ساتھ رہتا ہے وہ اس کو جنت میں داخل کر دیتی ہیں۔

مطر بن خليفة ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير القاضي

Hadith 11024

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11025

11025 - أخبرنا أبو الحسين بن شجاع الصوفي أنا أبو بكر بن الأنباري نا أحمد بن الخليل نا عفان نا سعيد بن زيد قال : سألت علي بن زيد كيف حديث : من كان له ثلاث بنات قال : وعم محمد بن المنكدر أن جابر بن عبد الله الأنصاري حدثه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان له ثلاث بنات يعولهن و يكفهن و يرحمهن فقد وجبت له الجنة البتة فقال رجل من بعض القوم : و ابنتان يا رسول الله قال : و ابنتان

ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن شجاع صوفی نے ان کو ابو بکر انباری نے ان کو احمد بن خلیل نے ان کو عفان نے ان کو سعید بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا علی بن زید سے کہ کیسے ہے حدیث ؟ کہ جس کی تین بیٹیاں ہوں؟ اس نے کہا کہ محمد بن منکد رنے زعم کیا ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے اس کو حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں ہوں جو ان کی عیالداری کرتا ہے اور ان کی حفاظت کرے اور ان پر شفقت کرے تحقیق اس کے لئے قطعی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر دو بیٹیاں ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دو بیٹیاں ہوں جب بھی یہی بات ہے۔

وعم محمد بن المنكدر أن جابر بن عبد الله الأنصاري ← سألت علي بن زيد كيف حديث من كان له ثلاث بنات ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أبو بكر بن الأنباري ← أبو الحسين بن شجاع الصوفي

Hadith 11025

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11026

11026 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا أبو يعلى نا هارون بن معروف نا ابن أبي حازم عن أبيه عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا و كافل اليتيم كهاتين في الجنة هكذا و أشار بالسبابة و الوسطى رواه البخاري عن عبد الله بن عبد الوهاب عن عبد العزيز بن أبي حازم

ہمیں خبر دی ابو عمرو نے اور محمد بن عبد اللہ ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو ابو یعلی نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو ابن ابو حازم نے ان کو ان کے والد نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ اس طرح پر اور آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملا کر فرمایا تھا۔بخاری نے اس کو روایت کیا عبداللہ بن عبد الوہاب سے اس نے عبد العزیز بن ابو حازم سے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Hadith 11026

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11027

11027 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائقي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن صفوان بن سليم : أنه بلغه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا و كافل اليتيم له أو لغيره كهاتين إذا اتقى و أشار النبي صلى الله عليه و سلم بأصبعيه الوسطى و التي تلي الإبهام 11027 - مكرر ـ و بهذا الإسناد عن صفوان بن سليم رفعه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الساعي على الأرامل و المساكين كالذي يجاهد في سبيل الله أو كالذي يصوم النهار و يقوم الليل رواه البخاري عن ابن أبي أويس عن مالك

اور ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے اس نے صفوان بن سلیم سے ان کو خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا یتیم اس کا اپنا عزیز ہو یا غیر ہو ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے جب وہ شخص تقویٰ اختیار کرے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ ( مکر رہے ) اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے صفوان بن سلیم سے اس نے اس کو مرفوع کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیواؤں اور مسکینوں کے لئے کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا فر مایا کہ اس کے مثل ہے جو دن بھر روزے رکھے اور راتوں کو قیام کرے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ابو اویس سے اس نے مالک سے۔

صفوان بن سليم أنه بلغه ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِقِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Hadith 11027

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11028

11028 - و قد رواه سفيان بن عيينة عن صفوان بن سليم عن امرأة يقال لها أنيسة عن أم سعيد بنت مرة الفهري عن أبيها : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا و كافل اليتيم له أو لغيره في الجنة كهاتين و أشار سفيان بأصبعه أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان ثنا الحميدي ثنا سفيان فذكره

اور تحقیق اس کو روایت کیا ہے سفیان بن عیینہ نے صفوان بن سلیم سے اس نے ایک عورت سے اس کو انیسہ کہتے ہیں۔ اس نے ام سعید بنت مرہ فہری سے اس نے اپنے والد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ یتیم ان کا اپنا ہو یا غیر ہو جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے۔ سفیان نے ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کیا تھا۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔

أَبِيهَا ← أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتِ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ، ← امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُنَيْسَةُ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← و قد رواه سفيان بن عيينة

Hadith 11028

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11029

11029 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه إملاءا ثنا أبو مسلم ثنا القعنبي عن مالك عن ثور بن زيد عن أبي الغيث عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الساعي على الأرملة و المساكين كالمجاهد في سبيل الله قال أبو عبد الرحمن : أحسبه قال كالقائم الذي لا يفتر و كالصائم الذي لا يفطر رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن القعنبي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے بطور املاء کے ان کو ابومسلم نے ان کو قعنبی نے ان کو مالک نے ثور بن زید سے اس نے ابوالغیث سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا بیوہ مسکینوں کی سر پرستی کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے جیسا ہے اور عبدالرحمن ٰنے کہا کہ میرا گمان ہے کہ یوں فرمایا تھا کہ اس کی مثال ان راتوں کو قیام کرنے والے جیسی ہے جو قیام ختم نہ کرے اور اس روزے دار کی سی ہے جو کبھی روزہ ترک نہ کرے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا اور مسلم نے صحیح میں قعنبی سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه إملاءا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11029

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11030

11030 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا إسحاق بن عيسى حدثني مالك عن ثور عن أبي الغيث سمعه يحدث عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كافل اليتيم له أو لغيره أنا و هو كهاتين في الجنة و أشار مالك بالسبابة و الوسطى رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن إسحاق بن عيسى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر نے ان کو عبد اللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو اسحٰق بن عیسٰی نے ان کو حدیث بیان کی مالک نے ثور سے ان کو ابوالغیث نے اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ یتیم ان کا اپنا ہو یا غیر ہو۔ دونوں جنت میں دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے حضرت مالک نے سبابہ اور وسطی ٰانگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اس نے اسحٰق بن عیسی ٰسے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي الغيث سمعه ← ثَوْرٍ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11030

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11031

11031 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج ثنا حماد عن علي بن زيد عن زرارة بن أوفى عن مالك بن عمرو القشيري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أعتق رقبة مسلمة فهي فداؤه من النار عظم من عظامه محرر بعظم من عظامه و من أدرك أحد والديه ثم لم يغفر له فأبعده الله و من ضم يتيما بين أبوين مسلمين إلى طعامه و شرابه حتى يغنيه الله وجبت له الجنة

اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نجوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حجاج نے ان کو حماد نے علی بن زید سے اس نے زرارہ بن اوفی سے اس نے مالک بن عمر قشیری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جو شخص کسی مسلمان کی گردن آزاد کرے وہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا اس کی ہڈی اس کی ہڈی کے بدلے میں آزاد ہو گی اس کی ہڈیوں میں سے اور جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پالے پھر اس کی معرفت نہ ہو سکے اللہ اس کو اپنی رحمت سے بعید رکھے۔ اور جو شخص کسی یتیم کو اپنے ساتھ ملالے اپنے دو مسلمان والدین کے ساتھ ۔ کھانے میں پینے میں یہاں تک کہ وہ یتیم کو بے فکر کر دے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و،

Hadith 11031

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11032

11032 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي نا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يحيى بن معين ثنا معتمر بن سليمان قال : قرأت على الفضيل عن أبي جرير أن أنفع حدثه عن عبد الله بن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم عاد امرأة من خثعم فقال : كيف تجدينك قالت : لا أظنني إلا لما بي قال : وددت أنك لم تفارقي الدنيا حتى تعولي يتيما أو تجهزي غازيا

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یحیی بن معین نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی فضیل کے سامنے اس نے ابو جزیرہ سے یہ کہ یہ اس کی احادیث میں سے سب سے زیادہ نافع ہے جس کو انہوں نے عبداللہ بن عمر سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ نثعم کی ایک عورت کی مزاج پرسی کی تھی آپ نے پوچھا کہ تم اپنے آپ کو کیسا پاتی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں نہیں گمان کرتی مگر اسی تکلیف کا جو میرے ساتھ ہے ( یا یوں کہا کہ یہ میرے اپنے عمل کی وجہ سے تکلیف ہے۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہدایت فرمائی کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ آپ دنیا سے رخصت ہونے سے قبل یا تو کسی یتیم کی پرورش کریں یا کسی غازی اور مجاہد کے لئے اس کے جہاد کی تیاری کروائیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أبي جرير أن أنفع ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Hadith 11032

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11033

11033 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا يحيى بن أبي الهيثم العطار قال : سمعت يوسف بن عبد الله بن سلام يقول : أجلسني رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجره و مسح على رأسي و سماني يوسف تابعه أبو نعيم عن يحيى و فيه دلالة على مسح رأس الصبي رحمة له و إن لم يكن أبوه ميتا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو ابو محمد زبیری نے ان کو یحییٰ بن ابو جالہیثم عطار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن عبد اللہ بن سلام سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی گود میں بیٹھا کر میرے سر پر ہاتھ پھیراتھا اور میرا نام یوسف رکھا تھا۔ اس کے متابع بیان کی ہے ابونعیم نے یحییٰ سے اس حدیث میں اس پر دلالت ہے کہ بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنا اس پر شفقت کرتے ہوئے اگر چہ اس کا باپ زندہ ہو۔

يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ الْعَطَّارُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 11033

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11034

11034 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن رجل عن أبي هريرة : أن رجلا شكى إلى النبي صلى الله عليه و سلم قسوة قلبه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أردت أن يلين قلبك فأطعم المساكين و امسح رأس اليتيم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو عمران جونی نے ایک آدمی سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی اپنی دل کے سخت ہو جانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دل نرم ہو جائے تو آپ مسکینوں کو کھانا کھلائیے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیریں۔

رَجُلٌ: ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 11034

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood