Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11011

11011 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا إسماعيل عن أيوب عن عمرو بن سعيد عن أنس بن مالك قال : ما رأيت أحدا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان إبراهيم مسترضعا له في عوالي المدينة فكان ينطلق و نحن معه فيدخل البيت و إنه ليدخن و كان ظئره قينا فيأخذه فيقبله ثم يرجع قال عمرو : فلما توفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن إبراهيم ابني و إنه مات في الثدي و أن له الظئرين يكملان رضاعه في الجنة رواه مسلم في الصحيح عن زهير و غيره عن إسماعيل بن علية

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو اسماعیل نے ان کو ایوب نے عمرو بن سعید سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا کوئی نہیں دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عیال کے ساتھ زیادہ مہربان ہو وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم عوالی مدینہ میں دودھ پیتے ان کی دودھ پلانے والی دائی وہیں رہتی تھی اور وہ لوگ لوہار کا کام کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تو ہم بھی ساتھ ہوتے تھے ایک مرتبہ گئے اور اس گھر میں داخل ہوئے تو گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا کیونکہ آپ کا دودھ پلانے والا لوہار تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیم کو اٹھاتے تھے اس کو پیار کرتے تھے پھر واپس آ جاتے تھے ۔ حضرت عمرو کہتے ہیں کہ جب ابراہیم بن رسول کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابراہیم میرا بیٹا ہے وہ دودھ پینے کی عمر میں فوت ہو گیا ہے بے شک اس کے لئے دودھ پلانے والیاں مقرر ہیں جو اس کے رضاع کو مکمل کر رہی ہیں جنت کے اندر ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں زہیر وغیر ہ اسماعیل بن علیہ سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11011

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11012

11012 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا علي بن محمد بن عيسى نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن أنا أبا هريرة قال : قبل رسول الله صلى الله عليه و سلم حسن بن علي و الأقرع بن حابس جالس عنده فقال الأقرع إن لي لعشرة من الولد ما قبلت منهم أحدا قط فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : إنه لا يرحم من لا يرحم رواه البخاري عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسی ٰنے ان کو ابو الیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے زہری سے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمنٰ نے یہ کہ ابوہریرہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی کو بوسہ دیا اور اقرع بن حابس وہاں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا میرے دس بیٹے ہیں میں نے کبھی بھی ان میں سے کسی ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا پھر فرمایا۔ انه لا يرحم من لا يرحم بیشک اس پر رحم نہیں کیا جاتا جو رحم نہیں کرتا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابوالیمان سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11012

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11013

11013 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا سليمان بن أيوب بن أحمد الطبراني نا ابن أبي مريم نا الفريابي نا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : تقبلون الصبيان فما نقبلهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أو أملك لك أن الله عز و جل نزع من قلبك الرحمة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو سلیمان بن ایوب بن احمد طبرانی نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ سے ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم لوگ بچوں کو پیار کرتے ہو ہم تو ان کو بوسہ نہیں دیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس بات کا مالک ہوں اگر اللہ نے تیرے دل سے شفقت کھینچ لی ہے۔

تُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ ← جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← سليمان بن أيوب بن أحمد الطبراني ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 11013

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11014

11014 - و بهذا الإسناد عن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يؤتى بالصبيان فيحنكهم و بهذا الإسناد عن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : خيركم خيركم لأهله و أنا خيركم لأهلي الحديث الأول رواه البخاري عن محمد بن يوسف الفريابي و رواه مسلم من وجه آخر عن هشام و أخرجا الحديث الثاني من وجه آخر عن هشام

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے سیدہ عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نومولود بچے لائے جاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کھجور چبا کر تالوں پر لگاتے تھے۔ اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے سیدہ عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر ہو اور میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں اپنے گھر والوں کے ساتھ۔ حدیث اول کو بخاری نے روایت کیا ہے محمد بن یوسف فریابی سے۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے ہشام سے اور بخاری ومسلم نے دوسری حدیث کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ہشام سے۔

Hadith 11014

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11015

11015 - أخبرنا أبو عمرو بن محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا أبو خليفة نا أبو الوليد نا ليث عن سعيد المقبري عن عمرو بن سليم الزرقي أنه سمع أبا قتادة يقول : بينما نحن على باب رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يحمل أمامة بنت أبي العاص بن الربيع و أمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هي صبية قال : فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و هي على عاتقه يضعها إذا ركع و يعيدها على عاتقه إذا قام حتى قضى صلاته يفعل ذلك بها رواه البخاري في الصحيح على أبي الوليد

ہمیں خبر دی ابو عمرو بن محمد بن عبد اللہ ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابوخلیفہ نے ان کو ابو الولید نے ان کولیث نے سعید مقری سے ان کو عمرو بن سلیم زرقی نے اس نے سنا ابو قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلے اور انہوں نے امامہ بنت ابو العاص بن ربیع کو اٹھا رکھا تھا جب کہ اس کی والدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں اور امامہ بچی تھی ۔ ابو قتادہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور امامہ آپ کی گردن پر تھی جب آپ رکوع کرتے تھے اس کو نیچے بٹھا دیتے تھے اور جب کھڑے ہوتے تھے تو اٹھا لیتے تھے اور اس کو اپنے کندھے پر لوٹا دیتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنی نماز اسی حالت میں پوری کی۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابوالولید سے۔

أَبَا قَتَادَةَ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو عمرو بن محمد بن عبد الله الأديب

Hadith 11015

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11016

11016 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا يونس بن بكير عن حسن بن واقد المروزي نا عبد الله بن بريدة عن أبيه قال : بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب إذ أقبل الحسن و الحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان و يعثران فلما رآهما رسول الله صلى الله عليه و سلم نزل إليهما و أخذهما ثم صعد المنبر واحد من ذا الشق و واحد من ذا الشق ثم صعدا المنبر فقال صدق الله قال : { إنما أموالكم و أولادكم فتنة } إني لما رأيت هذين الغلامين يمشيان لم أصبر أن قطعت كلامي و نزلت إليهما

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبد الجبار نے ان کو خبر دی یونس بن بکیر نے ان کو حسین بن واقد مروزی نے ان کو عبد اللہ بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک حسن اور حسین سامنے آگئے ان دونوں کے جسم پر سرخ رنگ کی قمیضیں تھیں چلتے اور پھسلتے ہوئے آرہے تھے جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ منبر سے اتر کر ان کے پاس گئے اور ان دونوں کو لے لیا اس کے بعد منبر پر چڑھ کر بیٹھ گئے ایک کو ایک طرف سے دوسرے دوسری طرف سے بٹھایا اور پھر منبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا سچ فرمایا ہے اللہ تعالی ٰنے ۔ انما اموالکم واولادکم فتنتہ یقینا ً تمہارے مال اور تمہاری اولادیں آزمائش ہیں۔ میں نے جب ان کو دیکھا کہ دونوں بچے چلے آرہے ہیں تو میں صبر نہیں کر سکا بلکہ میں نے اپنی بات کاٹ دی اور ان کی طرف اتر کر چلا گیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حسن بن واقد المروزي ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Hadith 11016

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11017

11017 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث نا علي بن حكيم الودي نا شريك عن العباس بن ذريح عن البهي عن عائشة قالت : عثر أسامة بن زيد بعتبة الباب فانشج في وجهه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أميطي عنه الأذى فكأني تقذرته فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يمسه و يمسحه و يقول لو كان أسامة جارية لحليته و كسوته حتى أنفقتها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو عبد اللہ بن عثام بن حفص بن غیاث نے ان کو علی بن حکیم اودی نے ان کو شریک نے ان کو عباس بن ذریح نے بہی سے اس نے عائشہ سے وہ کہتی ہیں اسامہ بن زید دروازے کی دہلیز پر پھسل پڑے اور ان کے چہرے پر زخم آ گیا بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدہ عائشہ سے کہ اس کے چہرے سے یہ تکلیف دہ چیز صاف کر دے گویا کہ میں اس سے اذیت محسوس کر رہا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس کے چہرے کو پونچھ کر صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اس کو زیور پہناتا اور اس کو کپڑے پہناتا یہاں تک کہ میں اس کو خرچہ نفقہ دیتا۔

عثر أسامة بن زيد بعتبة الباب فانشج في وجهه ← عَائِشَةَ ← الْبَهِيِّ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، ← شَرِيکٍ ← علي بن حكيم الودي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَثَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 11017

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11018

11018 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا ابن أبي مريم أنا أبو غسان حدثني زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب : أنه قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم سبي فإذا امرأة قد تحلب ثديها تسعى إذا وجدت صبيا في السبي أخذته ببطنها فأرضعته فقال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : أترون هذه المرأة طارحة ولدها في النار فقلنا : لا و الله و هي تقدر على أن لا تطرحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أرحم بعباده من هذه المرأة بولدها رواه البخاري عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق نے اور صنعانی نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو ابو غسان نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے حضرت عمر بن خطاب سے بے شک حال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئے یکایک ایک عورت ان سے اپنی بکری کا دودھ نکال رہی تھی۔ وہ دوڑی دوڑی آئی اس نے قیدیوں میں ایک بچے کو پایا اس کو جلدی سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگالیا اور اس کو دودھ پلانے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا۔ کیا خیال ہے یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟ ہم نے عرض کی ہر گز نہیں اللہ کی قسم یہ ایسا نہیں کر سکے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ٰاس سے زیادہ مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ جس قدریہ اپنے بچے کے ساتھ شفیق ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے سعید بن ابو مریم سے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أبو غسان، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11018

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11019

11019 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قرقوب التمار بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري نا عبد الله بن أبي بكرة أن عروة بن الزبير أخبره : أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : جاءت امرأة و معها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فأخذتها فشققتها بين ابنتيها و لم تأكل منها شيئا ثم قامت و خرجت و ابنتاها فدخل علي النبي صلى الله عليه و سلم فحدثته حديثها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من ابتلى من البنات بشيء فأحسن إليهن كن سترا له من النار رواه البخاري عن أبي اليمان و رواه مسلم عن الدارمي عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن قرقوب تمار نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوالیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے زہری سے ان کو عبد اللہ بن ابوبکرہ نے یہ کہ عروہ بن زبیر نے اس کو خبر دی کہ عائشہ زوجہ رسول فرماتی ہیں کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس نے مجھ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا مگر میرے پاس سے اس کو کچھ نہ مل سکا سوائے کھجور کے ایک دانے کے میں نے اس کو وہی ایک دانہ دے دیا اس نے اس کو لے کر آدھا آدھا کر کے ان دونوں لڑکیوں کو دے دیا اور خود کچھ نہ کھایا اس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی اور اس کی بیٹیاں بھی اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے میں نے ان کو یہ خبر سنائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیٹیوں کے ساتھ آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کرے وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ابوالیمان سے اور مسلم نے دارمی سے اس نے ابوالیمان سے۔

عبد الله بن أبي بكرة، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11019

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11020

11020 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة و محمد بن إسحاق قالوا : نا قتيبة بن سعيد نا بكر بن مضر عن ابن الهاد أن زياد بن أبي زياد مولى ابن عياش حدثه عن عراك بن مالك قال : سمعته يحدث عن عمر بن عبد العزيز عن عائشة أنها قالت : جاءتني مسكينة تحمل ابنتين لها فأطعمتها ثلاث تمرات فأعطت كل واحدة منها تمرة و رفعت إلى فيها تمرة لتأكلها فاستطعمتها ابنتاها فشقت التمرة التي كانت تريد أن تأكل بينهما فأعجبتني فذكرت الذي صنعت لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن الله أوجب لها بها الجنة أو أعتقها بها من النار رواه مسلم عن قتيبة

اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن شاذان نے اور احمد بن سلمہ نے اور محمد بن اسحاق نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی قتیبہ بن سعید نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو ابن الہاد نے یہ کہ زیاد بن ابو زیاد مولی ٰبن عیاش نے اس کو حدیث بیان کی ہے عراک بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناوہ حدیث بیان کرتے تھے عمر بن عبد العزیز سے وہ سیدہ عائشہ سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی اس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھا رکھی تھیں۔ میں نے اس کو کھانے کے لئے تین دانے کھجور کے دیئے اس نے ایک ایک دانہ دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور تیسرا دانہ خود کھانے کے لئے منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ دونوں نے وہ دانہ مانگ لیا چنانچہ اس نے وہ دانہ بھی آدھا آدھا کر کے ان دونوں کو دے دیا جس کو وہ خود کھانا چاہتی تھی مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی جو اس نے کیا تھا میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا۔ بے شک اللہ نے اس عورت کے لئے اس عمل کے بدلے میں جنت واجب کردی ہے۔ یا یوں فرمایا تھا کہ اس کو جہنم سے آزاد کر دیا ہے اس کے بدلے میں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قتیبہ سے۔

ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة و محمد بن إسحاق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 11020

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11021

11021 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل البخاري قال : و قال القواريري نا أبو معشر البراء نا الحسن بن وقاص حدثتني مولاتي مزينة بنت سليمان قالت : سمعت عائشة قالت : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : أوهب لها الجنة بالتمرة التي شقتها بين صبيتها

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحاق صنعانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے وہ کہتے ہیں کہا قواریری نے ان کو ابو معشر براء نے ان کو حسن بن وقاص نے ان کو حدیث بیان کی ان کی لونڈی مزینہ بنت سلیمان نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ سے سنا وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے اللہ نے اس عورت کے لئے جنت ہبہ اور عطیہ کر دی ہے کھجور کے اس دانے کے بدلے میں جس کو اس نے دو بیٹیوں کے مابین چرا تھا۔

أوهب لها الجنة بالتمرة التي شقتها بين صبيتها ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← الحسن بن وقاص حدثتني مولاتي مزينة بنت سليمان ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Hadith 11021

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11022

11022 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبد الله بن الصقر نا إبراهيم بن المنذر نا عبد الله بن معاذ عن معمر عن الزهري عن أنس قال : لم يكن أحد أشبه بالنبي صلى الله عليه و سلم من الحسن بن علي و كان رجل جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم فجاءه ولد له فأخذه و أجلسه في حجره و جاءت ابنة له فأخذها فأجلسها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فهلا عدلت بينهما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبد اللہ بن صقر نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو عبد اللہ بن معاذ نے ان کو معمر نے زہری سے اس نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ کوئی ایک شخص حسن بن علی سے زیادہ رسول کے ہم شکل نہیں تھا۔ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا بیٹا بھی اس کے پاس آ گیا۔ اس شخص نے اس کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ پھر اس کی بیٹی بھی اس کے پاس آگئی اس نے اس کو بھی پکڑ کر بٹھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے دونوں کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا ؟

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَقْرِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 11022

chevron_left Previous
12345…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood