Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 10999

10999 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني نا محمد بن عثمان بن أبي شيبة نا حمدان بن أسد البجلي قال : و نا علي بن عبد العزيز نا محمد بن عمار الموصلي ج و نا الحضرمي و العمري قالا : نا مسروق بن المرزبان قالوا : نا يحيى بن يمان نا سفيان عن أسامة بن زيد عن عمر بن مخراق قال : مر على عائشة رجل ذو هيئة فدعته يقعد معها و مر آخر فأعطته كسرة فقيل لها فقالت : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ننزل الناس منازلهم قال أبو القاسم : لم يرو عن سفيان إلا ابن يمان قال الإمام أحمد : و عمر بن مخراق عن عائشة مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو محمد بن عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو حمدان بن اسد بجلی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی علی بن عبد العزیز نے ان کو محمد بن عمار موصلی نے (ح) اور ہمیں خبر دی حضرمی نے اور عمری نے دونوں نے کہا کہ ان کو مسروق بن مرزبان نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی یحیی ٰبن یمان نے ان کو سفیان نے اسامہ بن زید سے اس نے عمر بن مخراق سے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کے پاس ایک آدمی کا گذر ہوا جو صاحب صورت و وجاہت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا۔

عمر بن مخراق ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← الحضرمي و العمري ← محمد بن عمار الموصلي ج و ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← و، ← حمدان بن أسد البجلي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Hadith 10999

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11000

11000 - و رواه يحيى بن يمان أيضا عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ميمون بن أبي شبيب عن عائشة : و هو أيضا مرسل

اور اسے روایت کیا یحیی ٰبن یمان نے اسی طرح سفیان سے انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے انہوں نے میمون بن ابی شبیب سے انہوں نے حضرت عائشہ سے اور وہ بھی مرسل ہے۔

عائشة و هو أيضا مرسل ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← و رواه يحيى بن يمان أيضا

Hadith 11000

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11001

11001 - حدثنا أبو الحسن العلوي نا أبو حامد أحمد بن أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ نا محمد بن يحيى بن خالد الذهلي نا سعيد بن واصل الطفاوي نا شعبة عن يونس عن عبيد عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : صحبني جرير فجعل يخدمني و قال : إني رأيت الأنصار يصنعون برسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا لا أرى أحدا منهم إلا خدمته

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو محمد بن یحیی ٰبن خالد ذھلی نے ان کو سعید بن واصل طفاوی نے ان کو شعبہ نے یونس بن عبید سے اس نے ثابت بنانی سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جریر میرے ساتھی بنے اور وہ میر کی خدمت کرنے لگ گئے اور فرمایا کہ میں نے انصار کو دیکھا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کرتے ہوئے اس کے بعد جب بھی ان میں سے جس کو دیکھ لیتا ہوں اس کی خدمت کرتا ہوں۔

صحبني جرير فجعل يخدمني و ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدٌ، ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← سعيد بن واصل الطفاوي ← محمد بن يحيى بن خالد الذهلي، ← أبو حامد أحمد بن أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 11001

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11002

11002 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو عمرو و محمد بن عرعرة بن البرمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن جعفر بن أحمد بن موسى المزكي نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو سهل المهراني و أبو نصر بن قتادة قالوا : أنا يحيى بن منصور القاضي قال : قرىء على أبي مسلم نا محمد بن عرعرة نا شعبة : فذكروه غير أنهم قالوا : صحبت جرير بن عبد الله و كان يخدمني و كان أسن مني فذكره و قال : ألا أكرمته و في رواية أبي عبد الله و كان أكبر و أسن مني و في رواية يعقوب و كان أكبر مني السن رواه البخاري عن محمد بن عرعرة و رواه مسلم عن بندار و غيره عن ابن عرعرة عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عمر اور محمد بن عرعرہ بن بر مد نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر بن احمد بن موسیٰ مزکی نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبد اللہ نے (ح)۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن سلمی نے اور ابو سہل مہرانی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی یحیی ٰبن منصور قاضی نے انہوں نے فرمایا کہ پڑھا گیا ابو مسلم پر ان کو محمد بن عرعر ہ نے ان کو شعبہ نے انہوں نے مذکورہ روایت کو ذکر کیا ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبد اللہ کی صحبت اختیار کی اور وہ میری خدمت کرتے رہے حالانکہ وہ مجھ سے بڑے تھے ۔ پھر راوی نے مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ اس میں یوں مذکور ہے کہ کیا میں اس کا اکرام نہ کروں؟ اور ابو عبد اللہ کی ایک روایت میں ہے کان اکبر و اسن منی اور ابو عبد اللہ کی ایک روایت میں ہے و كان اکبر و اسن منی اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے وکان اکبر منی السن۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن عرعرہ سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے بندار اور ان کے ماسوا دیگر نے ابن عرعرہ سے اس نے شعبہ سے۔

شعبة فذكروه غير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← قرىء على أبي مسلم ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو سهل المهراني و أبو نصر بن قتادة ← و، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْمُزَكِّي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو عمرو و محمد بن عرعرة بن البرمد ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Hadith 11002

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11003

11003 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق نا يونس بن محمد نا عمر بن أبي خليفة حدثني أبو بدر عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : كان غلام لا يؤبه له في حلقة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأراد رسول الله صلى الله عليه و سلم القيام فقام فناول النعل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أردت رضى الله عز و جل رضي الله عنك قال : و كان لذلك الفتى بالمدينة بعد شأن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یونس بن محمد نے انکو عمر بن ابوخلیفہ نے ان کو ابو بدر نے ثابت بنانی سے ان کو انس بن مالک نے فرماتے ہیں کہ ایک لڑکے تھے (چھوٹے ہونے کی وجہ سے ) کوئی حلقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کے لئے جگہ نہیں چھوڑتا تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اٹھالئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے اللہ کی رضا کا ارادہ کیا تھا اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو چکے ہیں۔ کہتے ہیں اس کے بعد اس نوجوان کی مدینے میں اپنی ایک شان ہوا کرتی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 11003

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11004

11004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو نصر أحمد بن علي الفامي قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن عوف نا حيوة و ابن أبي السري قالا : نا الوليد بن مسلم عن ابن المبارك عن خالد الحذاء عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البركة مع أكابركم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو نصر احمد بن علی الفامی نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن عوف نے ان کو حیوۃ نے اور ابن ابوالسری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ولید بن مسلم نے ان کو ابن مبارک نے خالد حذاء سے ان کو عکرمہ نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ البرکۃ مع اكابر کم ۔ برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← حيوة و ابن أبي السري ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو نصر أحمد بن علي الفامي

Hadith 11004

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11005

11005 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد حمزة بن العباس نا عبد الكريم بن الهيثم نا نعيم بن حماد و أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي نا أحمد بن سيار نا وارث بن عبيد الله قالا : نا عبد الله بن المبارك أنا خالد بن مهران الحذاء : فذكره بإسناده مثله

اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو احمد حمزہ بن عباس نے ان کو عبدالکریم بن ہیثم نے ان کو نعیم بن حماد نے اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ان کو احمد بن سیارے ان کو وارث بن عبید اللہ نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے ان کو خالد بن مہران حذاء نے پس اس نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کے مثل ذکر کیا۔

خالد بن مهران الحذاء فذكره بإسناده مثله ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← وَارِثُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← نعيم بن حماد و ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أبو أحمد حمزة بن العباس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11005

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11006

11006 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي من أصل كتابه أنا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله أنا خالد الحذاء عن عكرمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سقى قال : ابدأوا بالأكابر و قال بالأكبر هكذا ذكره مرسلا بهذا اللفظ و رواه عبيد الله بن تمام و ليس بالقوي عن خالد بهذا اللفظ موصولا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواحد حمزہ بن عباس نے ان کو عبد الکریم بن ہیثم نے ان کو نعیم بن حماد نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محبوبی نے اپنی اصل کتاب میں سے ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبد اللہ نے ان کو خالد حذاء نے عکرمہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی پلانا چاہتے تو فرماتے تھے۔ ’’ ابدا ًو ابالا کابر ‘‘ بڑوں سے شروع کرو۔ اور فرمایا کہ ’’ بالاکبر ‘‘ بڑے سے شروع کرو۔ اسی طرح راوی نے اس کوذکر کیا ہے بطور مرسل روایت کے انہیں الفاظ کے ساتھ اور اس کو روایت کیا ہے۔ عبید اللہ بن تمام نے ۔ اور وہ قوی راوی نہیں ہے وہ روایت کرتے ہیں خالد سے انہیں الفاظ کے ساتھ بطور موصول روایت کے۔

عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس المحبوبي من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 11006

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11007

11007 - أخبرناه ابن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار حدثني عمر بن حفص الحربي نا محمد بن المثنى نا عبد الله بن تمام : فذكره و قال بالأكابر لم يشك و الصحيح رواية عبدان عن ابن المبارك

ہمیں اس کی خبر دی ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عمرو بن حفص حربی نے ان کو محمد بن مثنیٰ نے ان کو عبداللہ بن تمام نے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس نے کہا ہے۔ و بالا کابر ۔ اس نے شک ذکر نہیں کیا۔ اور اس بارے میں صحیح روایت عبدان کی ہے ابن مبارک سے۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← بالأكابر لم يشك و الصحيح رواية عبدان ← عبد الله بن تمام فذكره و ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عمر بن حفص الحربي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← ابن عبدان

Hadith 11007

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11008

11008 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن أحمد بن أبي العوام نا أبو عامر نا شعبة عن قتادة قال : سمعت مطرف بن عبد الله يحدث عن حكيم بن قيس بن عاصم أن قيس بن عاصم أوصى بنيه قال : يا بني اتقوا الله و سودوا أكبركم فإن القوم إذا سودوا أكبرهم خلقوا أباهم و إذا سودوا أصغرهم أذرى ذلك لهم عند كفائهم و عليكم بالمال و اصطناعه فإنه منية للكريم و مستفتى به عن اللئيم و إياكم و المسألة فإنها آخر كسب الرجل و لا تنوحوا علي فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينح عليه و لا تدفنوني بأرض يشعر بدفني بكر بن وائل فإني كنت أعاديهم في الجاهلية

ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو محمد بن احمد بن ابو العوام نے ان کو ابو عامر نے ان کو شعبہ نے قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مطرف بن عبداللہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں حکیم بن قیس بن عاصم سے یہ کہ قیس بن عاصم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اے بیٹا اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اپنے بڑوں کو سردار بناؤ بے شک لوگ جب اپنے بڑوں کو سردار بناتے ہیں تو اس کو اپنا باپ بنالیتے ہیں اور جب اپنے چھوٹے کو سردار بناتے ہیں تو یہ بات ان کے لئے ہلاکت ہوتی ہے ان کے مشکلات کے وقت۔ لازم کر لو تم مال کو اور اس کی تیاری کو کیونکہ وہ سخی کی آرزو ہے۔ اور اسی کے ذریعے علم حاصل ہوتا لیئم اور کمتر کے بارے میں۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو مانگنے سے بے شک یہ آخری کمائی ہے انسان کی، اور مجھ پر بین نہیں کرنا ( میری موت کے وقت) بے شک رسول اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا اورمجھے ایسی جگہ دفن کرنا جہاں میرے دفن کی جگہ بکر بن وائل کو معلوم نہ ہو سکے بے شک میں نے جاہلیت میں ان کے ساتھ دشمنیاں کی تھیں۔

حكيم بن قيس بن عاصم أن قيس بن عاصم أوصى بنيه ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 11008

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11009

11009 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن بن زكريا الأديب نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي نا جرير عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن سابط عن عياش بن أبي ربيعة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يزال الناس بخير ما عظموا الحرمة حق تعظيمها و إذا ضيعوا ذلك هلكوا قال أبو علي : هذا مرسل عبد الرحمن بن سابط لم يدرك عياش بن أبي ربيعة

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن بن ذکر یا ادیب نے اس کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو جریر نے یزید بن ابو زیاد سے اس نے عبدالرحمٰن بن سابط سے اس نے عیاش بن ابور بیعہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہیں گے جب تک حرمت کی تعظیم کرتے رہیں گے اور جب حرمت کو ضائع کریں گے ہلاک ہو جائیں گے۔ ابو علی نے کہا کہ یہ روایت مرسل ہے۔ عبد الرحمٰن بن سابط نے عیاش بن ابو ربیعہ کو نہیں پایا ۔

عياش بن أبي ربيعة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← أبو الحسن بن زكريا الأديب ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 11009

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11010

11010 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل الحسن بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء نا جعفر بن عون نا موسى بن عبيدة الزبدي عن يعقوب بن زيد قال : كان سلمان يعمل المكاتل فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا سلمان ألا أعمل معك قال : بلى بأبي أنت و أمي قال : فعمل رسول الله صلى الله عليه و سلم عملا ليس مثل عمل سلمان قال : فكان سلمان يأتونه فيسألونه عن عمل رسول الله صلى الله عليه و سلم فيشترونه قال شيخنا أبو عبد الله : غريب الإسناد و المتن و فيه دليل على أن المتبرك بصنعته ليس عليه جناح أن يشتري بأكثر من ثمنه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو موسیٰ بن عبید ہ زہدی نے ان کو یعقوب بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ سلمان ٹوکریاں بنانے کا کام کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے سلمان کیا میں بھی آپ کے ساتھ کام کروں؟ اس نے عرض کی جی ہاں یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان جائیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کام کیا مگر وہ سلمان کے کام جیسا نہیں تھا کہتے ہیں کہ لوگ سلمان کے پاس آتے اور پوچھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کے بارے میں اور اسی کو خرید کرتے تھے۔ ہمارے شیخ بو عبداللہ نے کہا کہ یہ روایت غریب الاسناد اورغریب المتن ہے۔ اور اس روایت میں اس مسئلے پر دلیل ہے کہ جو شخص کسی کی صنعت کے ساتھ برکت تلاش کرے اور اس کو متبرک سمجھے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اس کی قیمت سے زیادہ قیمت کے ساتھ اس کو خرید کرے۔

يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ ← موسى بن عبيدة الزبدي ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 11010

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood