شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11083
11083 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجده نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن أبي عمرو الشيباني عن أبي مريم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إياكم أن تتخذوا ظهور دوابكم منابر فإن الله عز و جل إنما سخرها لكم لتبلغوا إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس و جعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجاتكم قال الإمام أحمد : و هذا فيمن ركبها من غير حاجة إلى سير إو إعلام الناس من كلامه ما يحتاج إلى إعلامه و لم يكن هناك منبر يصعده
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیرویہ نے کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے یحییٰ بن ابو عمر وشیبانی سے اس نے ابو مریم سے اس نے ابوہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا بچاؤ تم اپنے آپ کو اس بات سے کہ تم اپنی سواریوں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے اللہ تعالی ٰنے ان کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اس لئے کہ تم ان کے ذریعے سفر کر کے اپنے شہر تک پہنچ سکو جہاں تم ان کے بغیر نہیں پہنچ سکتے مگر انتہا تنگی اور سختی کے ساتھ اللہ نے تمہارے لئے زمین بنائی ہے پس اسی پر اپنی حاجات پوری کیا کرو۔ امام احمد حنبل نے فرمایا: یہ ممانعت اس شخص کے بارے میں جو بلا ضرورت ان پر سوار ہو جائے۔ یعنی بغیر سفر کی ضرورت کے اور بغیر لوگوں کو اطلاع کرنے اور اپنی کلام پہنچانے کی ضرورت کے جس کے پہچانے کی ضرورت ہو اور وہاں پر نہ ہو تو سواری پر چڑھ جائے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Hadith 11083
