Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10921

10921 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت محمد بن العباس العصمي يقول : سمعت الخلادي يقول : أخبرني محمد بن موسى السمري عن حماد بن إسحاق الموصلي عن أبيه قال : قيل للمغيرة بن شعبة : ما بقي من لذلك قال : الأفضال على الإخوان

میں نے سنا ابو عبد الرحمن ٰسلیمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عباس عصمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا خلادی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی محمد بن موسیٰ سمری نے اس نے حماد بن اسحاق موصلی سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا مغیث بن شعبہ سے کہ آپ کی لذت میں سے کس قدر باقی ہے؟ انہوں نے فرمایا اپنے بھائیوں و دوستوں سے نوازشات کرنے کی لذت باقی ہے۔

الإِفْضَالُ عَلَى الإِخْوَانِ. ← قيل للمغيرة بن شعبة ما بقي من لذلك ← أَبِيهِ ← حماد بن إسحاق الموصلي ← محمد بن موسى السمري ← الخلادي ← محمد بن العباس العصمي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10921

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10922

10922 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا زيد بن بشران بن وهب حدثني ابن زيد قال : قيل لمحمد بن المنكدر ما بقي من لذة الدنيا قال : مواساة الإخوان و الأفضال عليهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو زید بن بشران نے ابن وہب سے ان کو ابن زید نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن منکدر سے پوچھا گیا کہ لذت دنیا میں کس قدر باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ بھائیوں کے ساتھ غمخواری اور ان پر احسان اور نوازش کرنا۔

مواساة الإخوان و الأفضال عليهم ← قيل لمحمد بن المنكدر ما بقي من لذة الدنيا ← ابْنِ زَيْدٍ ← زيد بن بشران بن وهب ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10922

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10923

10923 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسين بن أحمد بن محمد الهروي نا محمد بن محمد بن عمار الحافظ نا أبو بكر بن أبي عتاب نا إسحاق بن إبراهيم قال : قال ابن السماك عجبا لمن يشتري المماليك بماله و يترك شراء الأحرار بمعروفه

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے ، ان کو حسین بن احمد بن محمد مہروی نے ان کو حمد بن محمد بن عمار حافظ نے ان کو ابوبکر بن ابو عتاب نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن سماک نے کہ حیرانی ہے اس شخص پر جو غلاموں کو تو خرید کرتا ہے اپنے مال کے ساتھ اور اپنے اخلاق اور نیکی کے ساتھ آزاد لوگوں کو خرید تاترک کر دیتا ہے۔

ابن السماك عجبا لمن يشتري المماليك بماله و يترك شراء الأحرار بمعروفه ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو بكر بن أبي عتاب ← محمد بن محمد بن عمار الحافظ ← الحسين بن أحمد بن محمد الهروي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10923

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10924

10924 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري بمكة نا القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء نا محمد بن أحمد بن المستلم بن حيان نا أبو همام الوليد بن شجاع حدثني إبراهيم بن الحسين عن يحيى بن الفرات الهمداني قال : قال جعفر بن محمد لسفيان الثوري : يا سفيان لا يتم المعروف إلا بثلاثة بتعجيله و تصغيره و شكره

ہمیں خبر دی ابوعبد الله محمد بن فضل بن نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں آپ کو قاضی ابو طاہرمحمد بن احمد بن عبداللہ نے بطور املاء کے ان کو محمد بن احمد مستلم بن حیان نے ان کو ابو ہمام ولید بن شجاع نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن حسین نے یحیی ٰبن فرات ہمدانی سے وہ کہتے میں کہا حضرت جعفر بن محمد نے سفیان ثوری سے اے سفیان معروف اور بھلائی مکمل نہیں ہوتی مگر تین چیزوں کے ساتھ : اس کو جلدی کرنے سے اور نیکی کر کے اس کو چھوٹا سمجھنے سے اور اس پر شکر کرنے سے۔

يحيى بن الفرات الهمداني ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← محمد بن أحمد بن المستلم بن حيان ← القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10924

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10925

10925 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو محمد جعفر بن محمد نا محمد بن يونس نا الأصمعي قال : سمعت أعرابيا يقول : عدة الكريم نقد و تعجيل و عدة اللئيم مطل و تسويف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابومحمد جعفر بن محمد نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک اعرابی سے ، وہ کہہ رہے تھے۔ سخی آدمی کی پونجی اور تیاری رکھنا اور جلدی کرنا ہے اور کمینے آدمی کی پونجی ٹال مٹول اور ہاں کروں گا ہوتی ہے۔

عدة الكريم نقد و تعجيل و عدة اللئيم مطل و تسويف ← أَعْرَابِيًّا ← الْأَصْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أبو محمد جعفر بن محمد ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10925

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10926

10926 - أنشدني أبو القاسم بن حبيب المفسر أنشدنا أبو منصور مهلهل بن علي الغبرتي أنشدني العتبي : ( لا خير في عدة إن كنت ماطلها و للوفاء على الأخلاف تفضيل ) ( الخير أنفعه للناس أعجله و ليس ينفع خير فيه تطويل )

مجھے شعر سنائے ابوالقاسم بن حبیب مفسر نے ان کو شعر سنائے ابو منصور مہلہل بن علی غبرتی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے عتبی نے پونجی کی تیاری میں اگر آپ ٹال مٹول کرتے ہیں تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور وفا کے لئے وعدہ خلافی پر فضیلت ہے۔ خیر لوگوں کے لئے سب سے بہتر اور مفید وہ ہوتی ہے جس میں جلدی کی جائے اور وہ خیر فائدہ نہیں دیتی جس میں خواہ مخواہ کی طوالت ہو۔

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10926

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10927

10927 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أحمد بن الحسين القاضي يقول : سمعت سعيد بن محمد الشافعي يقول : سمعت سعثمان بن سعيد المطوعي يقول : سمعت الأصمعي يقول : أوصى زهير بن خباب ولده فقال : يا بني عليكم باصطناع المعروف و اكتسابه و تلذذوا بمودات صدور الرجال و رب رجل صفر من ماله فعاش بذلك و عقبه من بعده

میں نے سنا ابو عبدالرحمن ٰسلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن حسین قاضی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا سعید بن محمد شافعی سے انہوں نے سنا عثمان بن سعید مطوعی سے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا اصمعی سے وہ کہتے تھے حضرت زبیر بن جناب نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی تھی کہ اے بیٹے تم لوگ اپنے اوپر لازم کر لو معروف کو یعنی اچھائی اور بھلائی کرنے کو اور اس کی کمائی کرنے کو اور تم لوگ لذت حاصل کیا کرو۔ لوگوں کے دلوں کی محبتوں کے ساتھ ۔ بہت سے مرد مال سے خالی ہوتے ہیں۔ مگر وہ اسی چیز کے ساتھ جیتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں۔ اور کسی چیز کو اپنے بعد چھوڑ جاتے ہیں۔

أوصى زهير بن خباب ولده ← الْأَصْمَعِيُّ ← سعثمان بن سعيد المطوعي ← سعيد بن محمد الشافعي ← أحمد بن الحسين القاضي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10927

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10928

10928 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت عثمان الحناط يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام السخاء البذل للشيء مع الحاجة إليه و خوف المكفأة استقلالا للعطية و الحمل على النفس استغناما لإدخال السرور على الناس قال : و ثلاثة من أعلام الثقة بالله السخاء بالموجود و ترك المطلوب المفقود و الاستنابة إلى فضل المودود قال : و ثلاثة من أعلام الإفضال صلة القاطع و إعطاء المانع و العفو عن المظالم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے اس نے سنا عثمان حناط سے اس نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے کہ تین چیز سخی ہونے کی نشانیاں ہیں۔ اپنی ضرورت کے ہوتے ہوئے کوئی چیز دوسرے کو دے دینا اور عطیہ دینے میں مستقل اس بات کا خوف کرنا کہ کہیں اس عطیہ کا بدلہ نہ وہ دے دے۔ اور نفس پر سوار ہونے کو غنیمت جانا لوگوں کو خوشی دینے کے لئے اور انہوں نے فرمایا کہ تین چیزیں اللہ کے ساتھ یقین کے ہونے کی علامات ہیں۔ جو چیز موجود ہو اس کے ساتھ سخاوت کرنا اور جو موجود نہیں ہے مطلوب ہے اس کو ترک کر دینا اور پسندیدہ اور اچھی چیز دینے کی خواہش رکھنا اور تین چیزیں کثرت عنایات کی علامت ہیں۔ تعلق توڑنے والے کے ساتھ جوڑنا۔ جونہ دے اس کو دینا اور مظالم کو معاف کر دینا۔

ذَا النُّونِ، ← عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10928

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10929

10929 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو العباس رافع بن عصم الضبي بهراة قال : سمعت أبا الحسن موسى بن عيسى الدينوري يقول : الجود بالموجود غاية الجود و البخل بالموجود سوء الظن بالمعبود

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو العباس رافع بن عصم ضبی نے ہراۃ میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالحسن موسیٰ بن عیسی ٰدینوری سے وہ کہتے ہیں کہ موجود چیز کے ساتھ جو دو سخا کرنا بڑی سخاوت ہے اور جو چیز موجود ہے اس کے ساتھ بخل کرنا معبود برحق کے ساتھ بد گمانی کرنا ہے۔

الجود بالموجود غاية الجود و البخل بالموجود سوء الظن بالمعبود ← أبا الحسن موسى بن عيسى الدينوري ← أبو العباس رافع بن عصم الضبي بهراة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10929

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10930

10930 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني الزبير بن عبد الله البغدادي نا أبو عبد الله محمد بن عامر المؤدب قال : قال لي أبو عبد الله الزيدي دخلت على أبي العباس ثعلب أعوده فقال : يا أبا العباس كيف تجدك قال : أجدني أشتهي ما لا أجد و أجد ما لا أشتهي في زمننا هذا من جاد لم يجد و من وجد لم يجد ثم أنشأ يقول : ( أتعرف في الدنيا كريما تؤمه لدفع أو لبذل جزيل ) ( فذو الجود مقتور عليه و ذو الغنى يضن بما يحويه غير بذول ) ( و لله دهر خيره للئامه و أحراره صرعى بكل سبيل ) ( هو الصبر حتى يأذن الله بالغنى و إلا فما يغني احتيال حيول ) ( فلو أن بالاحتيال وحيلة لقد كنت أحوي منه غير قليل )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو زبیر بن عبد اللہ بغدادی نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن عامر ادیب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا ابوعبداللہ زیدی نے کہ میں ابو العباس ثعلب کے پاس پہنچا۔ ان کی مزاج پرسی کرنے کے لئے ۔ انہوں نے فرمایا اے ابو عباس آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں کچھ اس طرح اپنے آپ کو پاتا ہوں کہ میں اس چیز کی خواہش کرتا ہوں جو میں نہیں پاتا ہوں اور پاتا وہ چیز ہوں جس کی مجھے خواہش ہی نہیں ہوتی۔ ہمارے اس زمانے میں جو شخص ڈھونڈھتا ہے وہ پاتا نہیں ہے اور جو پاتا ہے وہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے بعد انہوں نے شعر کہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے: کیا آپ دنیا میں کوئی ایسا سخی پاتے ہیں جس میں اکٹھی دونوں صفتیں موجود ہوں نہ دینا بھی اور بڑے بڑے عطیے دینا بھی۔ پس صاحب سخاوت ( سخی آدمی ) پر غربت اور محتاجی مسلط ہے اور صاحب غنی ( دولت مند ) اس مال کے ساتھ بخل کرتا ہے۔ جس پر وہ قادر ہو خرچ نہیں کرتا۔ اور اللہ کے لئے ہی ہے زمانہ خیر البتہ اس کا کمتر اور شریف ہر راستے میں گرا ہوا ہے۔ وہ صبر ہی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے غنی کی وگرنہ نہ تو بڑے بڑے حیلہ سازوں کے حیلے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ حیلہ گری اور حیلہ سے کچھ نہیں ہوتا تو میں اس حیلہ گری سے بہت کچھ جمع کر لیتا۔

يا أبا العباس كيف تجدك ← لي أبو عبد الله الزيدي دخلت على أبي العباس ثعلب أعوده ← أبو عبد الله محمد بن عامر المؤدب ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10930

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10931

10931 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان نا مكي بن محمد البلخي نا العباس بن أحمد حدثني النملي حدثني صالح بن المثنى حدثني الأصمعي قال : سمعت أعرابية توصي ابنا لها و قد أراد سفرا فقالت له : يا بني احفظ وصيتي و محص نصيحتي و أنا أسأل الله توفيقه لك فإن قليل توفيقه لك أجدى عليك من كثير نصحي يا بني إياك و النمائم فإنها تزرع الضغائن و تنبت الشحائن و تفرق بين المحبين يا بني إياك و البخل بمالك و الجود بعرضك و البذل لدينك بل كن بمالك جوادا و لعرضك صائنا و لدينك موقيا يا بني إذا هززت فاهتز و إذا هززت فاهزز كريما فإنك تجد طيب مهزته و لا تهزز لئيما فإنها صخرة لا ينفجر ماؤها يا بني و انظر ما استحسنته لغيرك فمثله لنفسك و ما كرهته لغيرك فاجتنبه و دعه ثم أنشأت تقول : ( صاف الكرام و كن لعرضك صائنا و اعلم بأن أخا الحفاظ أخوك ) ( الناس ما استغنيت أنت أخوهم فإذا افتقرت إليهم رفضوك )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن داؤد بن سلیمان نے ان کو مکی بن محمد بلخی نے ان کو عباس بن احمد نے ان کو نملی نے ان کو عباس بن احمد نےان نملی نے ان کو حدیث بیان کی صالح بن مثنی نے ان کو حدیث بیان کی اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک اعرابی عورت سے ، وہ اپنے بیٹے کو وصیت کر رہی تھی جو کہ کہیں سفر کرنے کا ارادہ کر بیٹھا تھا۔ وہ اسے کہ رہی تھی اے بیٹے ! میری وصیت کو محفوظ رکھنا اور میری نصیحت کو پلے باندھ کر رکھنا اور میں اس کے لئے تجھے اللہ سے توفیق عطا کرنے کی دعا کروں گی۔ بے شک تھوڑی توفیق بھی تیرے لئے میری کثیر نصیحت سے بہتر ہے۔ اے بیٹے تم اپنے آپ کو چغل خوری سے بچانا، بے شک یہ دلوں میں کینہ بوتی ہے اور بغض کو اگاتی ہے اور محبت کرنے والوں میں اور دوستوں میں تفرقہ پیدا کرتی ہے۔ اسے بیٹے تم بچانا خود کو اپنے مال کے ساتھ بخل کرنے سے اور اپنی عزت کی سخاوت کرنے سے۔ اور اپنے دین کو ( دنیا کے لئے) خرچ کرنے سے بلکہ تم اپنے مال کے لئے سخاوت کرنے والا اور اپنی عزت کے لئے بخل کرنے والا بن کر رہنا۔ یا اپنی عزت کی حفاظت کرنے والا اور اپنے دین کو بچانے والا بن جانا۔ اے بیٹے ! جب تجھے ہلایا جائے تو ہل جانا اور جب تو خود حرکت کرے تو سخی انسان کو حرکت دینا۔ بے شک آپ اس کو حرکت دینے کا پاک ثمرہ پائیں گے اور کمینے آدمی کو نہ ہلانا کیونکہ وہ پتھر کی چٹان ہوتا ہے جس سے پانی نہیں پھوٹ سکتا۔ اے بیٹے آپ اسی چیز پر نظر رکھئے کہ آپ اپنے ماسوا کے لئے کیا پسند کرتے ہیں؟ لہذا اس کی مثل اپنے لئے بھی پسند کیجئے اور جس چیز کو اپنے سوا دوسرے کے لئے آپ نا پسند کرتے ہیں اس سے خود بھی اجتناب کیجئے اور اس کو چھوڑ دیجئے۔ اس کے بعد اس نے شعر پڑھے جس کا مفہوم یہ ہے۔ شرفاء کی تعریف کیجئے اور اپنی عزت کے محافظ بنئے اور جان لیجئے کہ حفاظت کرنے والے دوست آپ کے دوست ہوں گے۔ آپ جب تک لوگوں سے مستغنی رہیں گے آپ لوگوں کے بھائی ہوں گے اور جس وقت آپ محتاج اور دست نگر بنیں گے لوگ آپ کو چھوڑ دیں گے۔

له يا بني احفظ وصيتي و محص نصيحتي و ← أعرابية توصي ابنا لها و قد أراد سفرا ← الْأَصْمَعِيُّ ← صالح بن المثنى ← النملي ← العباس بن أحمد ← مكي بن محمد البلخي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10931

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10932

10932 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا الوليد الفقيه يقول : نا محمد بن المنذر أنا أحمد بن محمد بن مدرك قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : من سأل نذلا فقد رفعه عن قدره

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰاسلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الولید فقیہ سے وہ کہتے تھے ان کو خبر دی محمد بن منذر نے ان کو احمد بن محمد بن مدرک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی رذیل اور کمینے سے کوئی حاجت مانگتا ہے وہ اس کو اس کے مقام سے بہت اونچا کر دیتا ہے۔

قدره ← من سأل نذلا فقد رفعه ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أحمد بن محمد بن مدرك ← محمد بن المنذر ← أبا الوليد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10932

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood