Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10909

10909 - قال : و نا أبو النعمان نا حماد بن زيد عن محمد بن الزبير قال : قال الحسن : أهل السوق لا خير فيهم بلغني أن أحدهم يرد أخاه من أجل درهم

فرمایا کہ ہمیں خبر دی ابو نعمان نے ان کو حماد بن زید نے ان کو محمد بن زبیر نے وہ کہتے ہیں کہ حسن نے کہا کہ بازار والے لوگ جو ہوتے ہیں ان میں کوئی خیر کی بات نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ تو ایک درہم کے لئے بھی اپنے بھائی کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10909

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10910

10910 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا عثمان بن أحمد بن السماك نا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشرا يقول : النظر إلى الأحمق سخنة عين و النظر إلى البخيل يقسي القلب

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا بشر سے وہ کہتے تھے احمق آدمی کی طرف دیکھنا، آنکھ اندھا کرتا ہے یا غم پیدا کرتا ہے اور بخیل آدمی کی طرف دیکھنا قساوت قلبی لاتا ہے۔

النظر إلى الأحمق سخنة عين و النظر إلى البخيل يقسي القلب ← بِشْرًا ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10910

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10911

10911 - قال : و سمعت بشرا يقول : صاحب ربع سخي أخف علي من عابد بخيل

کہتے ہیں کہ میں نے سنابشر سے وہ کہتے تھے کسی چیز کے چوتھے حصے کا مالک شخص سخی ہو وہ مجھ پر زیادہ ہلکا ہے ایک عابد بخیل سے۔

صاحب ربع سخي أخف علي من عابد بخيل ← بِشْرًا ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10911

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10912

10912 - قال : و سمعت بشرا يقول : البخيل لا غيبة له قال النبي صلى الله عليه و سلم : إنك لبخيل و مدحت امرأة عند النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : صوامة قوامة إلا أن فيها بخلا قال : فما خيرها إذا قال بشر : بما ليس فيها خير

کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر سے وہ کہتے تھے کہ بخیل آدمی کے لئے کوئی غیبت نہیں ہے ( یعنی بخیل کو بخیل کہنا )۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو فرمایا تھا کہ توبخیل ہے اور ایک عورت کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تعریف کی گئی ۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ بڑی شب بیدار ہے بڑی روزے دار ہے۔ ہاں مگر اس میں بخل کی عادت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے۔ بشر نے کہا اس لئے کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔

البخيل لا غيبة له ← بِشْرًا ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10912

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10913

10913 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن عبد الله بن صالح الفقيه نا عبد الله بن محمد نا القاسم بن منبه قال : سمعت بشر بن الحارث يقول : ليس شيء من أعمال البر أحب إلي من السخاء و لأبغض إلي من الضيق و سوء الخلق

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن صالح فقیہ نے ان کو عبد اللہ بن محمد نے ان کو قاسم بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن عارث سے۔ وہ کہتے تھے کہ اعمال نیکی میں سے کوئی چیز مجھے سخاوت سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور کوئی چیز میرے نزدیک نا پسند اور بری زیادہ نہیں ہے تنگ دلی سے اور بد اخلاقی سے۔

بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْقَاسِمُ بْنُ مُنَبِّهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن صالح الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10913

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10914

10914 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : سمعت المظفر بن سهل الخليلي يقول : سمعت محمد بن نصر الخزاعي يقول : سمعت بشر بن الحارث الحافي يقول : النظر إلى الأحمق سخنة العين و مكث البخلاء في الدنيا أذى على قلوب المؤمنين

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں اور میں نے سنا مظفر بن سہیل خلیلی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن نصر خزاعی سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنابشر بن حارث حافی سے وہ کہتے ہیں کہ احمق کی طرف دیکھنا غم پیدا کرتا ہے اور دنیا میں بخیلوں کا ٹھہرنا اہل ایمان کے دلوں پر ایذاء ہے۔

بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَافِي ← محمد بن نصر الخزاعي ← المظفر بن سهل الخليلي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10914

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10915

10915 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المهرجاني نا محمد بن أحمد بن يوسف نا الكديمي نا محمد بن عبيد الله البتي قال : سمعت أعرابيا و ذكر رجلين باللوم فقال : دبغت جلودهما باللوم فلباسهما في الدنيا الملامة و رداءهما في الآخرة ندامة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مہر جانی نے ان کو محمد بن احمد بن یوسف نے ان کو کدیمی نے ان کو محمد بن عبید اللہ بتی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک اعرابی سے، اس نے دو آدمیوں کا ملامت کے ساتھ ذکر کیا تھا اور اس نے کہا کہ میں نے ان دونوں کی کھال ملامت کے ساتھ رنگ دی ہے۔ لہذا ان دونوں کا لباس دنیا میں سلامت ہے اور اوڑھنی ان دونوں کی آخرت میں ندامت ہوگی۔

رجلين باللوم ← أعرابيا و ← محمد بن عبيد الله البتي ← الكديمي ← محمد بن أحمد بن يوسف ← أبو الحسن علي بن محمد المهرجاني

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10915

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10916

10916 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا مكرم بن أحمد القاضي ببغداد نا إبراهيم بن الهيثم البلدي نا الحسن بن أبان نا عبد العزيز بن أبي رواد قال : قال علي بن أبي طالب : السخاء ابتداء مما كان بعد مسألة فإنما لرغبة أو رهبة أو حياء

ہمیں خیر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو مکرم بن احمد قاضی نے بغداد میں ان کو براہیم بن ہثیم بلدی نے ان کوحسن بن ابان نے ان کو عبد العزیز بن ابو رواد نے وہ کہتے ہیں علی بن ابو طالب نے فرمایا کہ سخاوت ابتدائی طور پر اور پہل کرنے کے طور پر ہوتی ہے۔ یعنی کسی کے مانگنے اور سوال کرنے سے پہلے، کیونکہ سوال کرنے کے بعد جو دینا ہے وہ یا تو رغبت اور امید کی وجہ سے ہوتی ہے یا ڈر اور خوف کی وجہ سے ہوتی ہے یا شرم و حیا اور لحاظ داری کی وجہ سے۔

عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← مكرم بن أحمد القاضي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10916

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10917

10917 - حدثنا أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ أنا بشر بن أبي الحسين المزني نا محمد بن عثمان بن سعيد الدارمي نا محمد بن عمارة الواسطي نا أبو سفيان الحميري نا عبد الحميد بن جعفر قال : قال عبد الله بن جعفر ذي الجناحين : ليس الجواد الذي يعطي بعد المسألة لأن الذي يبذل السائل من وجهه و كلامه أفضل مما يبذل المسؤول من ناءله و إنما الجواد الذي يبتدىء بالمعروف

ہمیں حدیث بیان کی ابو حازم عمر بن احمد حافظ نے ان کو بشر بن ابوالحسین مزنی نے ان کو محمد بن عثمان بن سعیددارمی نے ان کو محمد بن عمار واسطی نے ان کو ابوسفیان حیری نے ان کو عبد الحمید بن جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر ذوالجناحین نے فرمایا سخی وہ نہیں ہوتا جو سوال کے بعد دیتا ہے، بلکہ سخی تو وہ ہوتا ہے جو سائل کے سوال کرنے سے پہلے نیکی کر گذرتا ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنے منہ سے اور کلام سے سائل کو عطا کرتا ہے وہ اس سے افضل ہوتا ہے جو مسئول بننے اور مطلوب بننے کے بعد دیتا ہے۔

عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، ← محمد بن عمارة الواسطي ← محمد بن عثمان بن سعيد الدارمي ← بشر بن أبي الحسين المزني ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10917

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10918

10918 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عمر بن أحمد بن أيوب البغدادي يقول : سمعت الحسين بن إسماعيل يقول : نا عبد الله بن شيبة حدثني عيسى بن صالح نا عامر بن صالح عن هشام بن عروة عن أبيه قال : كتب رجل إلى عبد الله بن جعفر رقعة فجعلها في ثنى وسادته التي يتكىء عليها فقلب عبد الله الوسادة فبصر بالرقعة فقرأها فردها في موضعها و جعل مكانها كيسا فيه خمسة آلاف دينار فجاء الرجل فدخل عليه فقال : قلب المرفقة فانظر ما تحتها فخذه فأخذ الرجل الكيس و خرج و أنشأ يقول : ( زاد معروفك عندي عظما إنه عندك ميسور حقير ) ( تتناساه كأنه لم تأته و هو عند الناس مشهور كثير )

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن احمد بن ایوب بغدادی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حسین بن اسماعیل سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبد اللہ بن شیبہ نے انکو عیسیٰ بن صالح نے ان کو عامر بن صالح نے ان کو ہشام بن عروق نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن جعفر کی طرف ایک رقعہ لکھا اور اس کو ان کے تکیہ کے اندر چھپا دیا۔ جناب عبداللہ نے تکیہ کو پلٹا تو ان کی نظر اس رقعہ پر پڑ گئی۔ انہوں نے اس کو پڑھ کر واپس اسی جگہ رکھ دیا اور اس کی جگہ ایک جیب لگادی اور اس میں انہوں نے پانچ ہزار دینار رکھ دیئے۔ پھر وہ آدمی آیا اور ان سے ملا۔ جناب عبد اللہ نے اس کو فرمایا کہ تکیہ کو پلٹئے اور اس کے نیچے کی طرف دیکھئے اور اس کو لےلیجئے ۔ چنانچہ اس شخص نے وہ جیب اور تھیلی لے لی اور چلا گیا اور یہ شعر کہنے لگا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: میرے نزدیک آپ کی نیکی کی عظمت اور بڑھ گئی ہے اگرچہ وہ آپ کے نزدیک معمولی اور حقیر سی بات ہے۔ آپ تو اس کو بھول جائیں گے ( دے کر ) جیسے کہ وہ آدمی آپ کے پاس آیا ہی نہیں تھا کیونکہ آپ تو لوگوں کے نزدیک انتہائی مشہور ہیں۔

رجل إلى عبد الله بن جعفر رقعة فجعلها في ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ ← عيسى بن صالح ← عبد الله بن شيبة ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عمر بن أحمد بن أيوب البغدادي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10918

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10919

10919 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسن بن علي الفهري المصري بمكة أنا عبد الله بن محمد الفقيه الشافعي نا محمد بن إسحاق بن راهوية نا محمد بن الهيثم بن عدي عن أبيه عن مجالد عن الشعبي عن ابن عباس قال : كان العباس بن المطلب كثيرا ما يقول : ما رأيت أحدا أحسنت إليه إلا أضاء ما بيني و بينه و ما رأيت أحدا سألت إليه إلا أظلم ما بين و بينه فعليك بالإحسان و اصطناع المعروف فإن ذلك يقي مصارع السوء

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن حسن بن علی فہری مصری نے مکہ مکرمہ میں ۔ ان کو عبد اللہ بن محمد فقیہ شافعی نے ان کو محمد بن اسحاق بن رہویہ نے ان کو محمد بن ہیثم بن عبدی نے اپنے والد سے اس نے مجالد سے اس نے شعبی سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کثرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نہیں دیکھا کسی کو جس کی طرف میں نے احسان کیا ہو مگر میرے اس کے درمیان جو تعلق ہے وہ رات کو اس نے روشن کر دیا اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی ایک آدمی کو جس سے میں نے سوال کیا ہو مگر میرے اس کے درمیان جو تعلق تھا وہ تاریک ہو گیا ۔ لہذا آپ احسان کرنے اور از خود نیکی کرنے کو لازم کر لیجئے اور بھلائی کرنے کو بے شک یہ چیز بری موت سے بچاتی ہے۔

كان العباس بن المطلب كثيرا ما ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَبِيهِ ← محمد بن الهيثم بن عدي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ← عبد الله بن محمد الفقيه الشافعي ← أبو الحسن علي بن الحسن بن علي الفهري المصري بمكة

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10919

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10920

10920 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن موسى أنا جعفر الكليليني نا ابن أبي الثلج نا حفص بن أبي حفص الأبار عن أبيه قال : سمعت ابن شبرمة يقول : إذا سألت أخا لك حاجة يقدر عليها فلم يقضها لك فتوضأ وضوءك للصلاة ثم كبر عليه أربعا و عده في الموتى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو جعفر کلیلینی نے ان کو ابن ابوالثلج نے ان کو حفص بن ابو حفص آبار نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ میں نے سنا ابن شبرمہ سے وہ کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے کسی بھائی سے کوئی اپنی حالت طلب کریں جس کے پورے کرنے پر اس کو قدرت ہو اور وہ آپ کی وہ حاجت پوری نہ کرے تو آپ نماز کے وضو کی طرح وضو کریں۔ پھر اس کے اوپر چار تکبیریں پڑھیں اور اس کو مردوں میں شمار کر لیں۔

ابْنِ شُبْرُمَةَ ← أَبِيهِ ← حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ ← جعفر الكليليني ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10920

chevron_left Previous
1…789…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood