Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10897

10897 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا جعفر الشعراني بهروي نا أبو الحسين بن أبي علي الخلادي نا محمد بن موسى عن حماد بن إسحاق بن إبراهيم الموصلي قال : قال علي بن عبد الله بن عباس : سادة الناس في الدنيا الأسخياء و في الآخرة الأتقياء

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو ابو جعفر شعرانی نے مہروی میں ان کو ابوالحسین بن ابوعلی خلادی نے ان کو محمد بن موسیٰ نے ان کو حماد بن اسحٰق بن ابراہیم موصلی نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ بن عباس نے سب لوگوں کے دنیا میں سردار وہ ہیں جو سخی ہیں اور آخرت میں سردار وہ ہوں گے جو متقی پرہیز ہیں۔

حماد بن إسحاق بن إبراهيم الموصلي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ← أبو الحسين بن أبي علي الخلادي ← جعفر الشعراني بهروي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10897

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10898

10898 - و قد أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو بكر أحمد بن سعيد الأخميمي نا موسى بن الحسن نا أبو ظفر نا أبو هرمز عن عطاء عن ابن عباس قال : كنت قاعدا مع النبي صلى الله عليه و سلم فجاء ثلاثة عشر رجلا عليهم ثياب السفر فسلموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : قالوا : من السيد من الرجال يا رسول الله قال : ذاك يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم قالوا : ما في أمتك سيد قال : بلى رجل أعطى مالا حلالا و رزق سماحة فأدنى الفقير و قلت شكايته في الناس أبو هرمز ضعيف

اور ہمیں خبر دی ہے عبداللہ یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید اخیمی نے ان کو موس بن حسن نے ان کو ابو ظفر نے ان کو ابو ہرمز نے عطا سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں تین آدمی آئے۔ ان کے اوپر سفر کے کپڑے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے سردار کون ہے؟ فرمایا کہ یہ یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا آپ کی امت میں سردار کوئی ہوتا ہے؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ وہ آدمی جو مال حلال عطا کیا گیا ہو اور سخاوت کا نصیبہ عطا کیا گیا ہے جو فقیر کو قریب کرے اور اس کی شکایت لوگوں میں قلیل ہو۔ ابو ہرمز ضعیف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← أَبُو هُرْمُزَ ← أَبُو ظَفَرٍ، ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الإِخْمِيمِىُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و قد

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10898

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10899

10899 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الحسن بن محمد بن إسحاق الأزهري أنا الغلابي نا إبراهيم بن عمر نا الأصمعي عن أبي عمرو بن العلاء قال : كان أهل الجاهلية لا يسودون إلا من كانت فيه ست خصال : السخاء و الجدة و الحلم و الصبر و التواضع و التأني تمامهن في الإسلام العفاف

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق ازھری نے ان کو الغلابی نے ان کو ابراہیم بن عمر نے ان کو اصمعی نے ان کو ابوعمرو بن علاء نے وہ کہتے ہیں کہ اہل جاہلیت صرف اس شخص کو سردار بناتے تھے جس کے اندر چھ عادات ہوں۔سخاوت، جدت اور حلم و حوصلہ صبر اور تواضع (عاجزی ) اور ڈھیل اور مہلت دینا۔ اسلام میں ان کی تکمیل عفاف اور درگذر سے ہوتی ہے۔ (یا حرام سے بچنے والا ہونا )۔

أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ بن عُمَرَ ← الغلابي، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَزْهَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10899

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10900

10900 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن أحمد القنطري ببغداد نا محمد بن العباس الكابلي نا سعيد بن منصور نا سفيان بن عيينة عن مسعر عن محارب بن دثار قال : صحبنا القاسم بن عبد الرحمن في سفر فغلبنا بثلاث : بسخاء النفس و طول الصمت و كثرة الصلاة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو محمد بن احمد قطری نے بغداد میں ان کو محمد بن عباس کابلی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو سعد نے ان کو محاسب بن دثار نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ قاسم بن عبدالرحمن ٰکے ساتھی ہیں کسی ایک سفر میں وہ ہم سے تین صفات میں غالب رہے۔ سخاوت نفس ، طویل خاموشی، کثرت صلوۃ۔

مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْكَابُلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10900

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10901

10901 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الفضل العطار يقول : سمعت ابن جهمان يقول : أخبرني محمد بن مصعب قال : قال الحسن البصري : نظرت في السخاء فما وجدت له أصلا و لا فرعا إلا حسن الظن بالله عز و جل و أصل البخل و فرعه سوء الظن بالله عز و جل

میں نے سنا ابو عبد الرحمن ٰسلمی سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفضل عطار سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن جھمان سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی محمد بن مصعب نے وہ کہتے ہیں حضرت حسن بصری سے کہا میں نے سخاوت میں نظر کی تو میں نے اس کی اصل پائی نہ ہی کوئی اس کی فرغ پائی ( نہ جڑ نہ ہی کوئی شاخ ) سوائے حسن ظن کے اللہ عزوجل کے ساتھ بخل کی اصل اور اس کی فرع سوء ظن ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← ابن جهمان ← أبا الفضل العطار ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10901

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10902

10902 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا روح عن ميمون عن الحسن : في قوله تعالى : { و لا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } قال : هو البخل

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو روح نے ان کو میمون نے حسن سے اللہ تعالٰی کے اس قول کے بارے میں: ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة۔ تم لوگ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ فرمایا کہ وہ بخل ہے۔

هو البخل ← الحسن في قوله تعالى و لا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة ← مَيْمُونٍ، ← رَوْحٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10902

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10903

10903 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس نا العباس بن الوليد أخبرني أبي قال : سألت الأوزاعي عن البخيل من هو قال : الذي يضيع الصدقة و الحقوق

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس نے ان کو عباس بن ولید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی میرے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اوزاعی سے بخیل کے بارے میں کہ وہ کون ہوتا ہے؟ فرمایا کہ بخیل وہ ہوتا ہے جو صدقہ کو ضائع کرتا ہے اور حقوق کو ضائع کرتا ہے۔

الذي يضيع الصدقة و الحقوق ← البخيل من هو ← سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10903

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10904

10904 - قال : و سمعت الأوزاعي يقول : ثلاث من كن فيه فقد برىء من الشح من أدى زكاة ماله و قرى الضيف و أعطى في النوائب

فرمایا کہ میں نے سنا اوزاعی سے وہ کہتے تھے تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص کے اندر پائی جائیں وہ شح سے تیز نفس یا بخل سے بری ہو جاتا ہے۔ جوشخص اپنے مال کی زکوۃ دیتا ہے اور مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے اور مصائب میں مبتلاء کر دیتا ہے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10904

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10905

10905 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا شعيب بن إبراهيم البيهقي نا محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول : كانت أم حاتم من أسخى الناس فقيل : أجيعوها جوعا فلعلها تمسك فأجيعت فقلت : جعت جوعة فآليت لا أمنع الدهر جائعا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوز کریا عنبری نے ان کو شعیب بن ابراہیم بیہقی نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عشام سے وہ کہتے ہیں کہ ام حاتم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ اس کو شدید بھوک دو، شاید یہ سخاوت کرنے سے باز آ جائے۔ چنانچہ اسے بھوکا رکھا گیا۔ وہ بولی میں شدید بھوک میں بھی قسم کھاتی ہوں کہ میں بھوکی رہ کر بھی زمانے والوں کو منع نہیں کروں گی۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← شعيب بن إبراهيم البيهقي ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10905

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10906

10906 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الفضل بن الحسن بن يعقوب المعدل يقول : سمعت أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب يقول : سمعت علي بن عثام العامري يقول : الجوع كريم و الشبع لئيم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفضل بن حسن بن یعقوب معدل سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو احمد محمد بن عبد الوہاب سے وہ کہتے ہیں، میں نے سناعلی بن عشام عامری سے ، وہ کہتے تھے کہ بھوک کریم ہے اور رشبع ( پیٹ بھرا ہونا ) لئیم ہے۔ (یعنی شریف ۔ اور کمینہ)۔

الجوع كريم و الشبع لئيم ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ الْعَامِرِيُّ ← أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب ← أبا الفضل بن الحسن بن يعقوب المعدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10906

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10907

10907 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن جعفر بن سفيان نا عبد الله بن عثمان أنا المبارك بن سعيد عن صالح بن مسلم عن عبد الأعلى و كان سمسارا قال : قال لي الحسن : أيولي أحدكم أخاه الثوب فيه رخص درهمين أو ثلاثة قال : قلت لا و الله و لا دانق قال : فقال الحسن : أف أف فماذا بقي من المروءة إذا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب نے جعفر بن سفیان نے ان کو عبد اللہ بن عثمان نے ان کو مبارک بن سعید نے ان کو صالح بن مسلم نے ان کو عبدالاعلیٰ نے جو دلال تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے کہا جس نے کہا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے لئے کپڑا خریدنے کا ذمہ لیتا ہے جس میں دو تین درہم سستا ہو ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ نہیں۔ اللہ کی قسم ایک پیسہ کے لئے بھی نہیں۔ حضرت حسن نے فرمایا : افسوس ہے افسوس ہے ! پھر مروت کیا رہے گی۔

فقال الحسن أف أف فماذا بقي من المروءة إذا ← قلت لا و الله و لا دانق ← لي الحسن أيولي أحدكم أخاه الثوب فيه رخص درهمين أو ثلاثة ← عبد الأعلى و كان سمسارا ← صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ ← الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يعقوب بن جعفر بن سفيان ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10907

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10908

10908 - قال : و نا عبد الله بن عثمان أنا عبد الله بن المبارك أنا سفيان قال : ذكروا عند الحسن زيادة دانق أو نقصان دانق فقال الحسن : لا دين إلا بالمروءة

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں لوگوں نے حسن کے سامنے ایک پیسہ کی زیادتی اور نقصان کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مروت کے بغیر کوئی دین نہیں ہے۔

الحسن لا دين إلا بالمروءة ← ذكروا عند الحسن زيادة دانق أو نقصان دانق ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10908

chevron_left Previous
1…678…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood