شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10885
10885 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان نا أبو بكر عبد الله بن محمد القرشي حدثني محمد بن الحسين حدثني يعقوب الزهري قال : سمعت الدراوردي قال : قيل لمعاوية بن عبد الله بن جعفر ما بلغ من كرم عبد الله بن جعفر قال : كان ليس له مال دون الناس هو و الناس في ماله شركاء كان من سأله شيئا أعفاه و من استمنحه شيئا منحه لا يرى أنه مفتقر فيقصر و لا يرى أنه محتاج فيدخر
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو ابوبکر بن عبد اللہ قرشی نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو یعقوب زہری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا در ازادی سے وہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن عبد اللہ بن جعفر سے کہا گیا یعنی ان کو بتایا گیا عبداللہ بن جعفر کرم اور سخاوت کے جس معیار کو پہنچ گئے تھے انہوں نے فرمایا کہ وہ ایسے آدمی تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ مال اکیلا ان کا نہیں ہے بلکہ لوگوں کا اور ان کا مشترکہ مال ہے۔ لہذا جو بھی ان سے سوال کرتا وہ اس کو وافر عطا کرتے تھے اور جو ان سے ادھار مانگتا تھا وہ اس کو بھی دیتے تھے۔ وہ یہ کبھی نہیں سوچتے تھے کہ وہ خود ضرورت مند ہیں۔ لہذا کچھ روک رکھیں اور نہ ہی وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ کبھی محتاج ہو جائیں گے۔ لہذاوہ جمع کر کے رکھ دیں۔
الدَّرَاوَرْدِيُّ ← يَعْقُوبُ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10885
