Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10873

10873 - و رواه أبو عبد الرحمن الخراساني عن عطاء الخراساني عن نافع عن ابن عمر : ـ

اور اس کو روایت کیا ہے ابو عبد الرحمن ٰخراسانی نے عطاء خراسانی سے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← و رواه أبو عبد الرحمن الخراساني

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10873

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10874

10874 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع نا أيوب بن سويد نا الفرات بن سليمان عن ميمون بن مهران قال : دخلت بيت عبد الله بن عمر فما كان فيه ما يسوي ساجي هذا و لقد جاءته عشرون ألفا من بعض الأمراء فأمر بها فقسمت و نسي أهل بيت كان يعطيهم فاستقرض ألفا فأعطاهم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو فرات بن سلیمان نے ان کو میمون بن مہران نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے گھر میں داخل ہوا ( میں نے دیکھا کہ ان کے گھر میں ) اس قدر بھی نہیں تھا جو اس کے ساتھ رات کی تاریکی میں روشنی کا انتظام کر لیتے ۔ بعض امراء کی طرف سے ان کے پاس بیس ہزار آئے۔ انہوں نے ان کو تقسیم کر دینے کاحکم فرما دیا۔ چنانچہ وہ تقسیم کردیئے گئے اور ایک گھرانے کو وہ کچھ پابندی سے دیا کرتے تھے ان کو دینا بھول گئے۔ لہذا جب بات یاد آئی تو ایک ہزار قرض لے کر اس گھر والوں کو دیئے۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← الْفُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10874

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10875

10875 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو بكر محمد بن عبد الله بن قريش نا الحسن بن سفيان نا محمد بن عبد الله الرقي نا سعيد بن مسلمة ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان و اللفظ له أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن العباس المؤدب نا الحكم بن موسى نا سعيد بن مسلمة الأموي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السخاء شجرة من شجر الجنة أغصانها متدليات في الدنيا من أخذ بغصن منها قاده ذلك الغصن إلى الجنة و البخل شجرة من شجر النار أغصانها متدليات في الدنيا من أخذ بغصن منها قاده ذلك الغصن إلى النار و في رواية السلمي متدلية في الوضعين

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو سعد بن مسلمہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے اور یہ الفاظ انہیں کے ہیں ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عباس مؤدب نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو سعید بن مسلمہ اموی نے ان کو جعفر بن محمد نے اپنے والد سے ان سے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سخاوت جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے۔ جس کی ٹہنیاں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک ٹہنی کو پکڑ لے گا وہ ٹہنی ایک کو جنت تک لے جائے گی اور بخل کرنا یہ جہنم کے درختوں میں سے ایک درخت ہے۔ اس کی بھی ٹہنیاں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں جو شخص ان میں سے کسی ایک ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے وہ اس کو جہنم میں لے جاتی ہے۔ اور سلمی کی ایک روایت میں متدلیات کی جگہ متدلیہ ہے دونوں جگہ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن أحمد بن عبدان و اللفظ له ← و، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← محمد بن عبد الله الرقي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10875

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10876

10876 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هانىء نا إبراهيم بن إسحاق الغسيلي نا محمد بن عباد بن موسى نا يعلى بن الأشدق عن عمه عبد الله بن جراد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا ابتغيتم المعروف فابتغوه في حسان الوجوه فوالله لا يلج النار إلا بخيل و لا يلج الجنة شحيح إن السخاء شجرة في الجنة تسمى السخاء و أن الشح شجرة في النار تسمى الشح هذا إسناد ضعيف و كذلك ما قبله

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابراہیم بن اسحاق غسیلی نے ان کو محمد بن عباد بن موسی ٰنے ان کو یعلی بن اشدق نے ان کو ان کے چچا عبد اللہ بن جراد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت تم لوگ خیر و بھلائی کو تلاش کرنا چاہو تو اس کو ہنستے مسکراتے خوبصورت چہروں میں ڈھونڈو۔ بس اللہ کی قسم نہیں داخل ہوگا کوئی آگ میں مگر بخیل آدمی اور نہیں داخل ہوگا جنت میں مگر جنت کا حریص اور بے شک سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام سخاء ہے اور بے شک بخل جہنم میں ایک در خت ہے جس کا نام ہے شح۔ یہ اسناد ضعیف ہے اور اسی طرح اس سے قبل والی بھی۔

عمه عبد الله بن جراد ← يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ ← محمد بن عباد بن موسى ← إبراهيم بن إسحاق الغسيلي ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10876

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10877

10877 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن منير المطيري نا عمر بن شبه نا أبو غسان محمد بن يحيى نا عبد العزيز بن عمران عن إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة عن داود بن الحصين عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السخاء شجرة في الجنة فمن كان سخيا أخذ بغضن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله الجنة و الشح شجرة في النار فمن كان شحيحا أخذ بغصن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله النار

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن منیر مطیری نے ان کو عمرو بن شبہ نے ان کو ابو غسان محمد بن یحییٰ نے ان کو عبد العزیز بن عمران نے ان کو ابراہیم بن اسماعیل نے ابو حبیبہ سے ان کو داؤد بن حصین نے عبد الرحمن ٰاعرج سے۔ اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سخاء ( سخاوت ) جنت میں ایک درخت ہے جو شخص سخی ہوتا ہے وہ اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو پکڑ لیتا ہے۔ وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑتی ۔ حتی کہ اس کو جنت میں داخل کرادیتی ہے اور شح ( بخل ) جہنم کا درخت ہے جو بخیل ہوتا ہے وہ اس کی ایک شاخ کو پکڑ لیتا ہے۔ وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑتی ۔ حتی ٰ کہ وہ اس کو جہنم میں پہنچا دیتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← أبو غسان محمد بن يحيى ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← محمد بن منير المطيري ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10877

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10878

10878 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن مصفة نا بقية نا محمد بن زياد قال : أدركت السلف و أن القوم ليكونون في المنزل الواحد بأهلها فربما نزل على بعضهم ضيف و قدر بعضهم على النار فيأخذها صاحب الضيف فيفتقد القدر فيقول صاحبها من أخذ القدر قال : صاحب الضيف نحن أخذناها لضيفنا قال : فيقول : صاحب القدر بارك الله لكم فيها أو كلمة نحو هذا قال : و الخبز إذا خبزوا مثل ذلك لاستحسنوه فيما بينهم ليس بينهم إلا جدار القصب قال بقية : قد أدركت أنا ذلك لمحمد بن زياد و أصحابه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن مصفی نے ان کو بقیہ نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سلف کو پایا ہے کہ وہ لوگ اپنے گھر والوں سمیت ایک منزل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ بسا اوقات ان کے بعض کے پاس کوئی مہمان آجاتا ہے اور بعض ان میں سے اپنی ہنڈیا آگ پر چڑھاتے ۔ مگر جس کا مہمان ہوتا وہ آکر اس ہنڈیا کو لے جاتا ( اپنے مہمان کے لئے ) اور ہنڈیا کا مالک پوچھتا کہ میری ہنڈیا کس نے لے لی ؟ چنانچہ مہمان والا اس سے یہ کہتا کہ ہم نے اپنے مہمان کے لئے لے لی ہے۔ تو ہنڈیا کا مالک (بجائے ناراض ہونے کے ) اس سے یوں کہتا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے یا اس جیسا کوئی دوسرا کلمہ کہہ دیتا۔ فرمایا کہ روٹی اس وقت اس طرح پکاتے کہ اس کو بھی وہ اسی طرح آپس میں مل کر استعمال کرتے۔ ان کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہوتی تھی سوائے کانے کی دیواروں کے۔ جناب بقیہ نے کہا کہ میں نے اسی کیفیت پر پایا تھا حضرت محمد بن زیاد کو اوران کے اصحاب کو ۔

أدركت السلف و ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← بَقِيَّةُ ← محمد بن مصفة ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10878

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10879

10879 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق حدثني خالي نا الرماد نا سعيد بن سليمان نا إسحاق بن كثير نا الوصافي قال : كنا عند أبي جعفر محمد بن علي يوما فقال لنا : يدخل أحدكم يده في كم أخيه او قال : في كيسه يأخذ حاجته قال : قلنا : لا قال : ما أنتم بإخوان 10879 - مكرر ـ قال : حدثني خالي نا أبو الحارث الأولاشي حدثني عبد الله بن خبيق قال : سمعت عبد الله بن ضريس يقول : قال الحسن : كنا نعد البخيل الذي يقرض أخاه

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو حدیث بیان کی میرے ماموں نے ان کو رماد نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو اسحٰق بن کثیر نے ان کو وصافی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابو جعفر محمد بن علی کے پاس تھے ایک دن انہوں نے ہم سے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کے گریبان کے اندر ہاتھ داخل کر کے یا جیب میں داخل کر کے اپنی حاجت پوری کر سکتا ہے؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بھائی نہیں ہو۔ ( مکرر ہے ) فرمایا کہ مجھے حدیث بیان کی میرے ماموں نے ابوالحارث اولاشی سے ان کو عبد اللہ بن خبیق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناعبداللہ بن ضریس سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ اس شخص کو بخیل شمار کرتے تھے جو اپنے بھائی کو بھی قرضہ دے۔

الْحَسَنُ: كُنَّا نَعُدُّ الْبَخِيلَ الَّذِي يُقْرِضُ أَخَاهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ضُرَيْسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← أبو الحارث الأولاشي ← خَالِي، ← ما أنتم بإخوان مكرر ← قُلْنَا: لَا. ← في كيسه يأخذ حاجته ← لنا يدخل أحدكم يده في كم أخيه او ← كنا عند أبي جعفر محمد بن علي يوما ← الوصافي ← إسحاق بن كثير ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الرَّمَادَ. ← خَالِي، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10879

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10880

10880 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد ابن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا إسحاق بن سليمان الرازي قال : سمعت أبا شيبان يذكر عن حبيب بن أبي ثابت أن أبا يوسف أتى معاوية فشكا إليه أن عليه دينا فلم ير منه ما يحب و رأى كراهته فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنكم سترون بعدي أثره قال : فأي شيء قال لكم : قال : اصبروا قال : فاصبروا قال : فقال : و الله لا أسألك شيئا أبدا و قدم البصرة فنزل على ابن عباس ففرغ له بيته و قال : لأصنعن بك كما صنعت برسول الله صلى الله عليه و سلم و قال : كم عليك من الدين قال : عشرون ألفا فأعطاه أربعين ألفا و عشرين مملوكا و قال : لك ما في البيت كله

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو شیبان سے وہ ذکر کرتے تھے حبیب بن ابو ثابت سے یہ کہ ابو یوسف حضرت معاویہ کے پاس آیا اور آکر ان کے سامنے شکایت کی کہ مجھ پر قرضہ ہے۔ مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ بلکہ اس نے دیکھا کہ وہ سوال کرنے کو نا پسند کر رہے ہیں۔ لہذا ابو یوسف نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ تم لوگ میرے بعد اثرۃ اور ترجیحی سلوک دیکھو گے۔ حضرت معاویہ نے پوچھا کہ پھر ایسی صورت میں انہوں نے تم لوگوں کو کیا کرنے کو کہا تھا؟ ابو یوسف نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم لوگ صبر کرنا۔ معاویہ نے فرمایا کہ پھر تم صبر ہی کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو یوسف نے کہا کہ اللہ کی قسم میں آپ سے ہمیشہ کے لئے کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ لہذا پھر وہ بصرے میں چلے آئے۔ وہاں وہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جا کر اترے۔ انہوں نے ان کے لئے اپنا گھر بھی فارغ کر دیا اور انہوں نے فرمایا کہ البتہ میں آپ کے ساتھ وہی کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا اور پوچھا کہ آپ کے اوپر کتنا قرضہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بیس ہزار۔ لہذا انہوں نے ان کو چالیس ہزار دے دیئے اور بیس غلام بھی اور فرمایا کہ میرے گھر میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ بھی آپ کا ہے۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أبا شيبان يذكر ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10880

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10881

10881 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن موسى الفقيه نا إبراهيم بن أبي طالب نا محمد بن خداش نا أبو داود الحفري عن سفيان الثوري عن عبد الله بن دينار عن ابن عباس قال : ثلاثة لا أكافئهم رجل وسع لي في المجلس لا أقدر أن أكافئه و لو خرجت له من جميع ما أملك و الثاني من اغبرت قدماه بالاختلاف إلي فإني لا أقدر أن أكافئه و لو قطرت له من دمي و الثالث لا أقدر أكافئه حتى يكافئه رب العالمين عني من أنزل بي الحاجة لم يجد لها موضعا غيري

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ فقیہ نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو محمد بن خداش نے ان کو ابو داؤد خضری نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو عبد اللہ بن دینار نے ان کو ابن عباس نے تین شخصوں کو میں ان کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ پہلا وہ شخص جو میرے لئے محفل میں وسعت کر کے جگہ بنائے۔ میں اس کا بدلہ اتارنے کی قدرت نہیں رکھتا ہوں ۔ اگر چہ میں وہ سب کچھ بھی اس کو دے دوں جس کا میں مالک ہوں اور دوسرا شخص وہ ہے جس کے قدم میرے پاس آمد و رفت رکھنے کی وجہ سے غبار آلود ہوتے ہیں۔ بے شک اس کا بدلہ اتارنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا ہوں۔ اگر چہ میں اس کے لئے اپنا خون بھی بہادوں اور تیسر اوہ جس کا میں احسان کا بدلہ نہیں اتار سکتا۔ یہاں تک کہ اللہ رب العالمین میری طرف سے اس کا بدلہ اتارے گا۔ وہ یہ کہ جس کو کوئی ضرورت پیش آجائے اور وہ اپنی ضرورت میرے آگے پیش کر دے اور میرے سوا اس کے لئے دوسری کوئی جگہ بھی نہ ہو اپنی حاجت پیش کرنے کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10881

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10882

10882 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : كنا نسمي جعفر بن أبي طالب أبا المساكين قال : و كان يذهب بنا إلى بيته فإذا لم يجد لنا شيئا أخرج إلينا عكة أثرها عسل قال فشققناها و جعلنا نلعقها

ہمیں خبر دی ابومحمد بن عبد اللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جعفر بن ابو طالب کو ابوالمساکین کہتے تھے۔ فرمایا کہ وہ ہم لوگوں کو اپنے گھر میں لے جاتے تھے ( کچھ کھلانے کے لئے ) اور وہ جب ہمارے لئے کوئی چیز نہ پاتے تو وہ ہمارے لئے شہد کا کپ لے آتے جس کے اندر تھوڑی سی شہد لگی ہوتی تھی۔ ہم لوگ اس کو کاٹ لیتے تھے اور اس کے اندر لگا ہوا شہد چاہتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10882

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10883

10883 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن جعفر الدقاق نا محمد بن جرير حدثني عمر بن شبه نا علي بن شبه نا علي بن محمد عن أبي إسحاق المالك قال : وجه يزيد بن معاوية إلى عبد الله بن جعفر مالا جليلا هدية له قال : ففرقه في أهل المدينة و لم يدخل منزله منه شيئا قال : فبلغ ذلك عبد الله بن الزبير قال : إن عبد الله بن جعفر لمن المسرفين قال : فأنهى ذلك إلى عبد الله بن جعفر فقال : ( بخيل يرى في الجود عارا و إنما على المرء عار أن يضن و يبخلا ) ( إذا المرء أثرى ثم لم يرج نفعه صديق فلاقته المنية أولا ) قال : فبلغ ما فعل عبيد الله بن قيس الرقيات فقال : في قصيدة له يمدح بها الأمراء : ( و ما كنت إلا كالأغر بن جعفر رأى المال لا يبقى فأبقى به ذكرا )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن جعفر دقاق نے ان کو محمد بن جریر نے ان کو عمر بن شبہ نے ان کو علی بن شبہ نے ان کو علی بن محمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو اسحٰق مالک نے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ حضرت عبداللہ بن جعفر کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو بہت بڑے مال کا ہدیہ بھیجا۔ جس کو انہوں نے اہل مدینہ میں تقسیم کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی اپنے گھر میں نہیں لے گئے ۔ اس بات کی خبر حضرت عبد اللہ بن زبیر کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن جعفر فضول خرچ کرنے والوں میں سے ہے۔ اس بات کی خبر عبد اللہ بن جعفر تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا ۔ شعر جس کا مفہوم اس طرح ہے: جو شخص سخاوت کرنے میں بھی عار سمجھتا ہے وہ خود بخیل ہے۔ مرد پر ( سخاوت کرنا ) عار نہیں بلکہ عار تو یہ ہے کہ وہ بخل اور تنگ دلی کا مظاہرہ کرے۔ جس وقت کوئی آدمی ایثار سے کام لے ( اور خود اس مال کے نفع کی امید نہ رکھے ) نہ ہی اس کا کوئی دوست اس مال سے نفع اندوز ہونے کی امید کر سکے تو اس کو تو پہلے موت کا سامنا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن قیس کو وہ اشعار پہنچے جو انہوں نے کہے تھے تو انہوں نے اپنے قصیدے میں ان کو شامل کر لیا۔ جس کے ساتھ وہ بعض امراء کی صلاح کرتے ہیں۔ ان کے ایک شعر کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: کہ آپ تو اغر بن جعفر کی مثل ہیں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ باقی نہیں رہے گا (فنا ہو جائے گا ) تو اس نے اس کو تقسیم کر کے اس کے ذریعے اپنے نام اور اپنا ذ کر باقی رکھ دیا۔

أبي إسحاق المالك ← علي بن محمد ← علي بن شبه ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ← محمد بن جعفر الدقاق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10883

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10884

10884 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي نا محمد بن عبد الله بن المطلب أنبأني أحمد بن عبد الرحمن نا عبد الله بن عمر قال : سمعت إبراهيم بن صالح يقول : عوتب عبد الله بن جعفر على السخاء فقال : يا هؤلاء إني عودت الله عادة و عودني عادة و إني أخاف إن قطعتها قطعني

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن مطلب نے ان کو خبر دی احمد بن عبد الرحمن ٰنے ان کو عبد اللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن صالح سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر کوسخاوت کرنے پر سرزنش کی گئی تھی تو انہوں نے فرمایا اے مجھے ملامت کرنے والو میں نے اللہ تعالیٰ کو اس کی دی ہوئی چیز لوٹا دی ہے اور وہ بھی میری دی ہوئی پھر مجھے لوٹا دے گا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں اس کو واپس دینے کا سلسلہ منقطع کر دوں گا تو وہ مجھے دینے کا سلسلہ نہ منقطع کردے۔

عوتب عبد الله بن جعفر على السخاء ← إبراهيم بن صالح ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← محمد بن عبد الله بْنِ المطَّلِب ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10884

chevron_left Previous
1…456…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood