Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10849

10849 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الزبير بن عبد الواحد نا عبد الله بن قحطبة نا محمد بن الصباح نا سعيد بن مسلمة : فذكره بإسناده نحوه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انکو زبیر بن عبد الواحد نے ان کو عبداللہ بن قحطبہ نے انکو محمد بن صباح نے ان کو سعید بن مسلمہ نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ کی مثل ۔

سعيد بن مسلمة فذكره بإسناده نحوه ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10849

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10850

10850 - و بهذا الإسناد نا سعيد بن مسلمة عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فذكره بنحوه غير أنه قال : في الإسنادين : و الجاهل السخي أحب إلى الله من العابد البخيل

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی سعید بن مسلمہ نے انکو یحییٰ بن سعید نے محمد بن ابراہیم سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر محمد بن ابراہیم نے اس کی مثل اس کو ذکر کیا ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کہ دونوں سندوں میں ہے کہ جاہل سخی زیادہ محبوب ہے اللہ کے نزدیک عابد بخیل سے۔

عَائِشَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← و بهذا الإسناد

Hadith 10850

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10851

10851 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو منصور محمد بن أحمد بن بشر الخرقي الصوفي نا الحسين بن محمد بن زياد القباني نا عمرو بن زرارة نا سعيد بن محمد الوراق نا يحيى بن سعيد الأنصاري عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السخي قريب من الله قريب من الناس قريب من الجنة و بعيد من النار و البخيل بعيد من الله بعيد من الجنة بعيد من الناس قريب من النار و لفاجر سخي أحب إلى الله من عابد بخيل و أي داء أودى من البخل و قيل عن سعيد عن يحيى عن الأعرج

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو منصور محمد بن احمد بن بشر خرقی صوفی نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد قبانی نے ان کو عمرو بن زرارہ نے ان کو سعید بن محمد وراق نے ان کو یحیی ٰبن سعید انصاری نے ان کو ابوالزناد نے اعرج سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سخی اللہ کے قریب ہوتا ہے ، لوگوں کے قریب ہوتا ہے، جنت کے قریب ہوتا ہے، جہنم سے دور ہوتا ہے اور بخیل آدمی اللہ سے دور ، جنت سے دور ، لوگوں سے بھی دور ہوتا ہے، جہنم کے قریب ہوتا ہے۔ البتہ گناہگار سخی اللہ کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے اس شخص سے جو عبادت گزار ہو مگر بخیل ہو اور کونسی بیماری ہے جو بخل سے بڑھ کر لا علاج ہو اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے سعید سے اس نے یحییٰ سے اس نے اعرج سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← أبو منصور محمد بن أحمد بن بشر الخرقي الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10851

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10852

10852 - أخبرناه أبو سعد الماليني نا أبو أحمد بن عدي نا أحمد بن الحسين بن عبد الصمد الموصلي و محمد بن أحمد بن هارون قالا : أنا الحسن بن عرفة حدثني سعيد بن محمد الوراق الثقفي الكوفي عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة : فذكره مرفوعا كذلك تفرد به سعيد بن محمد و هو ضعيف

ہمیں اس کی خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو احمد بن حسین بن عبد الصمد موصلی نے اور محمد بن احمد بن ہارون نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی حسن بن عرفہ نے ان کو سعید بن محمد وراق ثقفی کوفی نے یحییٰ بن سعید سے اس نے عبد الرحمن ٰاعرج سے اس نے ابوہریرہ سے اس نے ذکر کیا ہے بطور مرفوع روایت کے اسی طرح اس کے ساتھ سعید بن محمد کا تفرد ہے اور وہ راوی ضعیف بھی ہے۔

أبي هريرة فذكره مرفوعا كذلك تفرد به سعيد بن محمد و هو ضعيف ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ الثَّقَفِيُّ الْكُوفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أحمد بن الحسين بن عبد الصمد الموصلي و محمد بن أحمد بن هارون ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 10852

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10853

10853 - و رواه حميد بن زنجويه عن محمد بن بكار عن سعيد بن محمد الوراق عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبيه عن عائشة : يزيد و ينقص

اور اس کو روایت کیا ہے حمید بن زنجویہ نے محمد بن بکار سے اس نے سعید بن محمد وراق سے اس نے یحییٰ بن سعید سے اس نے محمد بن ابراہیم تیمی سے اس نے اپنے والد سے اس نے عائشہ سے وہ کم زیادہ کرتا ہے۔

عائشة يزيد و ينقص ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← و رواه حميد بن زنجويه

Hadith 10853

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10854

10854 - و قيل عن يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة عن عائشة : و كل ذلك غير محفوظ

اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے یحییٰ بن سعید سے اس نے اعرج سے اس نے ابوہریرہ سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مگر یہ سب کی سب غیر محفوظ ہیں۔

عائشة و كل ذلك غير محفوظ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← و قيل

Hadith 10854

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10855

10855 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه الطابراني بها نا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي بها نا سليمان بن الحسن بن زيد العطار ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو الحسين بن علي الحافظ أنا أبو أيوب سليمان بن الحسن ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن داود الزاهد إملاء نا سليمان بن الحسن العطار و أخبرنا أبو عبد الله حدثني الزبير بن عبد الواحد الأسد أبادي أخبرني أبو أيوب سليمان بن الحسن البصري و كان نعم الشيخ نا سهيل بن إبراهيم الجارودي نا سليمان بن مروان عن إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن أبي سلمة عن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا بني سلمة من سيدكم اليوم و في رواية الفقيه من سيدكم يا بني سلمة قالوا : الجد بن قيس و لكنا نبخله قال : أي داء أدوى من البخل و لكن سيدكم عمرو بن الجموح و في رواية الفقيه بل سيدكم عمرو بن الجموح

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن یعقوب فقیہ طاہرانی نے طابر ان میں ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد عثمان واسطی نے مقام واسط میں ان کو سلیمان بن حسن بن زید عطار نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو ابوالحسین بن علی حافظ نے ان کو ابو ایوب سلیمان بن حسن نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن داؤد زاہد نے بطور املاء کے اس کو سلیمان بن حسن عطار نے اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ نے ان کو حدیث بیان کی زبیر بن عبد الواحد اسد آبادی نے ان کو خبر دی ابو ایوب سلیمان بن حسن بصری نے اور وہ اچھے شیخ تھے ان کو سہیل بن ابراہیم جارودی نے ان کو سلیمان بن مروان نے ابراہیم بن یزید سے اس نے عمرو بن دینار سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے عبدالرحمن ٰبن ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنی سلمہ آج کل تمہارا سردار کون ہے؟ اور فقیہ کی ایک روایت میں ہے کون تمہارا سردار ہے؟ اے بنو سلمہ لوگوں نے کہا کہ جد بن قیس مگر ہم اس کو بخیل قرار دیتے ہیں یا ہم اس کو بخیل سمجھتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کونسی بیماری ہے جو بخل سے بڑھ کر ہو بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← سليمان بن مروان ← سُهَيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجَارُودِيُّ، ← أبو أيوب سليمان بن الحسن البصري و كان نعم الشيخ ← الزبير بن عبد الواحد الأسد أبادي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← سليمان بن الحسن العطار و ← أبو بكر محمد بن داود الزاهد إملاء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو أيوب سليمان بن الحسن ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← سليمان بن الحسن بن زيد العطار ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي بها ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه الطابراني بها

Hadith 10855

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10856

10856 - و رواه سعيد بن محمد الوراق عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : بمعناه غير أنه قال : بشر بن البراء بن معرور بدل عمرو بن الجموح الأول أولى

اس کو روایت کیا ہے سعید بن محمد وراق نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ابوہریرہ سے اس کے مفہوم میں سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا بشر بن براء بن معرور، عمرو بن جموع کے بدلے میں مگر پہلی زیادہ بہتر ہے۔

بشر بن البراء بن معرور بدل عمرو بن الجموح الأول أولى ← أبي هريرة بمعناه غير أنه ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← و رواه سعيد بن محمد الوراق

Hadith 10856

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10857

10857 - و روي عن ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن جابر أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحافظ نا إبراهيم بن إسحاق الصيرفي نا أحمد بن عبد الله بن زياد يعني الحداد البغدادي نا قبيصة بن عقبة نا سفيان بن عيينة : فذكره نحو حديث ابن يعقوب غير أنه قال : و إنا لنبخله و رواه الزهري عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سيدكم يا بني سلمة ؟ قالوا : يا رسول الله الجد بن قيس قال : و بم تسودونه قالوا : بأنه أكثرنا مالا و إنا على ذلك لنزنه بالبخل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أي داء أدوى من البخل ليس ذاك سيدكم قالوا : فمن سيدنا يا رسول الله قال : سيدكم البراء بن معرور

روایت کی گئی ہے ابن عیینہ سے اس نے عمرو بن دینار سے اس نے جابر سے۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حافظ نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق صیرفی نے ان کو احمد بن عبد اللہ بن زیاد نے یعنی حداد بغدادی نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان بن عینیہ نے اس نے ذکر کیا ہے مثل حدیث ابن یعقوب کے سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے وانا لنبخلہ ہم اس کو بخیل سمجھتے ہیں۔ اور روایت کیا ہے زہری نے عبد الرحمن ٰبن عبد اللہ بن کعب بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا سردار کون ہے اے بنی سلمہ ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ وہ جد بن قیس ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس وجہ سے تم لوگ اس کو اپنا سردار مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس لئے کہ وہ ہم لوگوں میں سب سے زیادہ مالدار ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم اس کو جانتے ہیں کہ وہ بخیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخل سے بڑی بیماری کوئی ہے؟ وہ تمہارا سردار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ پھر کون ہمارا سردار ہے یا رسول الله ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا سردار ہے براء بن معرور۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← لنبخله و رواه الزهري ← و، ← سفيان بن عيينة فذكره نحو حديث ابن يعقوب غير أنه ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أحمد بن عبد الله بن زياد يعني الحداد البغدادي ← إبراهيم بن إسحاق الصيرفي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← و روي

Hadith 10857

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10858

10858 - أخبرناه أبو نصر بن قتادة أنا أبو محمد أحمد بن إسحاق الهروي أنا علي بن محمد بن عيسى أنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري : فذكره و هو مرسل

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد احمد بن اسحٰق ہروی نے ان کو علی بن محمد بن عیسی ٰنے ان کو ابو الیمان نے ، وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی شعیب نے زہری سے اس نے اسی کو ذکر کیا ہے۔ لیکن وہ روایت مرسل ہے۔

الزهري فذكره و هو مرسل ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أبو محمد أحمد بن إسحاق الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 10858

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10859

10859 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا الكديمي نا أبو بكر بن أبي أسود حدثني حميد بن الأسود عن الحجاج الصواف عن أبي الزبير جابر قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا بني سلمة من سيدكم قالوا : الجد بن قيس و إنا لنبخله قال و أي داء أدوى من البخل بل سيدكم الخير الأبيض عمرو بن الجموح قال : و كان على أضيافهم في الجاهلية قال : و كان يولم على رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا تزوج

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید کریمی نے ان کو ابو بکر بن اسود نے ان کو حدیث بیان کی حمید بن اسود نے حجاج صواف سے ان کو ابوالز بیر نے جابر سے وہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا اے بنو سلمہ تمہارا سردار کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جد بن قیس ہے اور ہم اس کو بخیل آدمی سمجھتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کونسی بیماری ہے جو بخل سے زیادہ بڑی ہے؟ وہ نہیں بلکہ تمہارا سردار خیر ابیض عمرو بن جموح ہے۔ راوی نے کہا ہے کہ وہ اسلام سے قبل ان کے مہمانوں پر مقرر تھا اور جب نکاح کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت ولیمہ دیتا تھا۔

أبي الزبير جابر ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أَسْوَدَ، ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 10859

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10860

10860 - قال : و أنا أحمد نا موسى بن زكريا نا خليفة نا يزيد بن زريع نا حجاج الصواف حدثني أبو الزبير أن جابرا حدثهم : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سيدكم يا بني سلمة فذكره بنحوه

فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی احمد نے ان کو موسیٰ بن زکریا نے ان کو خلیفہ نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو حجاج صواف نے ان کو حدیث بیان کی ابوزبیر نے یہ کہ جابر نے ان کو حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کون سردار ہے اے بنی سلمہ ؟ پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔

أبو الزبير أن جابرا ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← خَلِيفَةُ، ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أَحْمَدُ، ← و،

Hadith 10860

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood