شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10957
10957 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين علي بن محمد بن علي الكاشاني الهروي قدم علينا قالا : سمعنا أبا عبد الله محمد بن العباس يقول : سمعت أبا الحسين محمد بن عبد الله بن محمد بن مخلد يقول : نا يونس بن عبد الأعلى حدثني محمد بن إدريس الشافعي : أن رجاء بن حيوة عاتب ابن شهاب في الإسراف و كان يدان فقال : لا آمن أن يحبس هؤلاء القوم أيديهم عنك قد حملت على أمانيك قال : فوعده أن يقتصر فمر به بعد ذلك و قد وضع الطعام و نصب موائد العسل فوقف به رجاء فقال : يا أبا بكر هذا الذي افترقنا عليه فقال له ابن شهاب : إنزل فإن السخي لا تؤدبه التجارب
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوالحسین علی بن محمد بن علی کا شانی ہروی نے جب وہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، دونوں نے کہا ہم نے سنا ابو عبد اللہ احمد بن عباس سے وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوالحسین محمد بن عبد اللہ بن محمد بن مخلد سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یونس بن عبدالاعلیٰ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن ادریس شافعی نے یہ کہ رجاء بن حیوۃ نے ابن شہاب کو ڈانٹا اسراف کرنے اور فضول خرچی کرنے پر وہ خرچ زیادہ کرتا تھا۔ اور کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ آپ سے (لینے والا) ہاتھ روکیں گے اور آپ کبھی اپنی خواہشات اور آراؤں پر قابو پالیں گے۔ چنانچہ ابن شہاب نے رجاء سے وعدہ کر لیا کہ وہ آئندہ زیادہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک لے گا۔ پھر ایک عرصے بعد رجاء کا ابن شہاب کے پاس گذر ہوا تو اس نے ان کے آگے دستر خوان بچھایا اور اس پر شہد کا برتن آراستہ کیا۔ چنانچہ رجاء نے اپنے ہاتھ کو روکتے ہوئے کہنا کہ اے ابو بکر یہی چیزیں تو تھیں جس پر ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے تھے۔ لہذا ابن شہاب نے اس سے کہا کہ آپ بیٹھے، بے شک سخی جو ہوتا ہے اس کو تجربات ادب نہیں سکھا سکتے۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أبا الحسين محمد بن عبد الله بن محمد بن مخلد ← أبا عبد الله محمد بن العباس
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10957
