Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10957

10957 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين علي بن محمد بن علي الكاشاني الهروي قدم علينا قالا : سمعنا أبا عبد الله محمد بن العباس يقول : سمعت أبا الحسين محمد بن عبد الله بن محمد بن مخلد يقول : نا يونس بن عبد الأعلى حدثني محمد بن إدريس الشافعي : أن رجاء بن حيوة عاتب ابن شهاب في الإسراف و كان يدان فقال : لا آمن أن يحبس هؤلاء القوم أيديهم عنك قد حملت على أمانيك قال : فوعده أن يقتصر فمر به بعد ذلك و قد وضع الطعام و نصب موائد العسل فوقف به رجاء فقال : يا أبا بكر هذا الذي افترقنا عليه فقال له ابن شهاب : إنزل فإن السخي لا تؤدبه التجارب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوالحسین علی بن محمد بن علی کا شانی ہروی نے جب وہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، دونوں نے کہا ہم نے سنا ابو عبد اللہ احمد بن عباس سے وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوالحسین محمد بن عبد اللہ بن محمد بن مخلد سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یونس بن عبدالاعلیٰ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن ادریس شافعی نے یہ کہ رجاء بن حیوۃ نے ابن شہاب کو ڈانٹا اسراف کرنے اور فضول خرچی کرنے پر وہ خرچ زیادہ کرتا تھا۔ اور کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ آپ سے (لینے والا) ہاتھ روکیں گے اور آپ کبھی اپنی خواہشات اور آراؤں پر قابو پالیں گے۔ چنانچہ ابن شہاب نے رجاء سے وعدہ کر لیا کہ وہ آئندہ زیادہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک لے گا۔ پھر ایک عرصے بعد رجاء کا ابن شہاب کے پاس گذر ہوا تو اس نے ان کے آگے دستر خوان بچھایا اور اس پر شہد کا برتن آراستہ کیا۔ چنانچہ رجاء نے اپنے ہاتھ کو روکتے ہوئے کہنا کہ اے ابو بکر یہی چیزیں تو تھیں جس پر ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے تھے۔ لہذا ابن شہاب نے اس سے کہا کہ آپ بیٹھے، بے شک سخی جو ہوتا ہے اس کو تجربات ادب نہیں سکھا سکتے۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أبا الحسين محمد بن عبد الله بن محمد بن مخلد ← أبا عبد الله محمد بن العباس

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10957

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10958

10958 - قال أبو عبد الله محمد بن العباس : فأنشدني الحسين بن عبد الله الكاتب في هذا المعنى : ( له سحائب جود في أنامله أمطارها الفضة البيضاء و الذهب ) ( يقول في العسر إن أيسرت نابتة أقصرت عن بعض ما أعطى و ما أهب ) ( حتى إذا عاد أيام اليسار له رأيت أمواله في الناس تنتهب )

کہا ابوعبد اللہ محمد بن عباس نے کہ مجھے شعر سنائے حسین بن عبداللہ کاتب نے اسی مفہوم میں (مفہوم) (فلاں شخص) کی انگلیوں کے پوروں میں یا دل میں ( سخاوت کے ) جو سونے اور چاندی کی بارش برساتے ہیں، چنانچہ وہ تنگی کے وقت کہتا ہے ( کاش ) کہ میں آسودہ حال ہوتا ( تو میں لوگوں کو دینے سے کوتاہی نہ کرتا) میں جن بعض لوگوں کو دیتا تھا ان کو دینے سے کوتاہی نہ کرتا۔ یہاں تک کہ جب اس پر پھریسر اور خوشحالی کے ایام آتے ہیں تو آپ دیکھتے ہو کہ اس کے اموال لوگوں میں اڑ رہے ہوتے ہیں (اس کی سخاوت کی وجہ سے )۔

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10958

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10959

10959 - و أنشدني أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا محمد بن العباس العصمي : أنشدنا الحسين أبي عبد الله الكاتب لبعضهم فذكر هذه الأبيات

اور مجھے شعر سنایا ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو محمد بن عباس عصمی نے ان کو حسین بن عبد اللہ کاتب نے بعض شعراء کے کلام سے اس نے بھی مذکورہ شعر ذکر کئے۔

هذه الأبيات

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10959

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10960

10960 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول : سمعت الربيع بن سليمان يقول : سمعت الحميدي يقول : قدم الشافعي من صنعاء إلى مكة بعشرة آلاف درهم في منديل فضرب خباءه في موضع خارجا من مكة فكان الناس يأتونه فما برح حتى ذهبت كلها و قال غيره عن الربيع في هذه الحكاية : و فرق المال كله في قريش ثم دخل مكة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اس نے سنا ابو العباس محمد بن یعقوب سے، انہوں نے سنا ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمیدی سے وہ کہتے ہیں حضرت شافعی رحمتہ اللہ علیہ صنعاء سے مکہ مکرمہ تک آئے ، ان کے پاس رومال میں دس ہزار دینار تھے اور انہوں نے مکہ سے باہر اپنا خیمہ نصب کیا۔ لوگ ان کے پاس آتے تھے (اور وہ لوگوں کو دیتے تھے ) انہوں نے وہ پورے دینار لوگوں کو دے کر ختم کر دئیے۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے ربیع سے اسی حکایت کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے پورا مال قریش میں تقسیم کر دیا۔ بعد میں وہ مکے میں داخل ہوئے۔

الْحُمَيْدِيُّ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10960

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10961

10961 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا نصر بن محمد أنا أبو علي الحسن بن حبيب بن عبد الملك بدمشق قال : سمعت الربيع بن سليمان يقول : كان الشافعي راكب حمار فمر على سوق الحذائين فسقط سوطه من يده فوثب غلام من الحذائين فأخذ السوط و مسحه بكمه و ناوله إياه قال الشافعي لغلامه : إدفع تلك الدنانير إلى هذا الفتى قال الربيع : فلست أدري تسعة دنانير أو سبعة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو نصر بن محمد نے ان کو ابو علی حسن بن حبیب بن عبد الملک نے دمشق میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت شافعی رحمتہ اللہ علیہ گدھے پر سواری کرتے تھے۔ ایک دن وہ موچیوں کے بازار سے گذرے اور ان کے ہاتھ سے ان کا چابک گر گیا۔ چنانچہ موچیوں میں سے ایک لڑکے نے بھاگ کر وہ چابک اٹھایا اور اس کو اپنے کرتے سے صاف کر کے ان کو دے دیا۔ چنانچہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خادم سے کہا کہ یہ دنا نیر اس نوجوان کو دے دیجئے ( جس نے چابک اٹھا کر دیا ہے )۔ ربیع کہتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ نو دینار تھے یا سات تھے۔

الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10961

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10962

10962 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن نا عبد الرحمن بن أبي حاتم الرازي نا الربيع بن سليمان قال : تزوجت فسألني الشافعي : كم أصدقتها قلت : ثلاثين دينارا فقال : كم أعطيتها قلت : ستة دنانير فصعد دارا و أرسل إلي بصرة فيها أربعة و عشرون دينارا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بن الحسن نے ان کو عبد الرحمن ٰبن ابو حاتم رازی نے ان کو ربیع بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے شادی کر لی ، چنانچہ مجھے شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ آپ نے کتنا مہر باندھا تھا؟ ہم نے بتایا تیس دینار ۔ انہوں نے پوچھا کہ کتنا ادا کر دیا ہے؟ میں نے بتایا کہ چھ دینار ادا کر دیئے ہیں (باقی مہر چوبیس دینار بچے ہیں ) لہذا آپ اپنے گھر میں اوپر چلے گئے اور انہوں نے میرے پاس ایک تھیلی بھیج دی۔ میں نے دیکھا تو اس کے اندر چوبیس دینار پڑے ہوئے تھے۔ (یعنی انہوں نے اس طرح اس شخص کا مہر کا قرض اتار دیا۔ )

تزوجت فسألني الشافعي كم أصدقتها قلت ثلاثين دينارا ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10962

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10963

10963 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه الجلاب نا أبو نعيم أنا الربيع قال : أخذ رجل بركاب الشافعي فقال لي : يا ربيع أعطه أربعة دنانير و اعذرني عنده

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے طلاب سے ان کو ابو نعیم نے ان کو ربیع نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی سواری کا رکاب تھام لیا اور کہا کہ مجھے کچھ عنایت کریں۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ اے ربیع ان کو چار دینار دے دیجئے اور میری ان سے معذرت کر لیجئے۔

أخذ رجل بركاب الشافعي ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه الجلاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10963

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10964

10964 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن أحمد الرازي نا أبو زرعة عبيد بن بن عبد الكريم نا عبيد بن جناد الحلبي نا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن أيوب عن عبد الله بن الوليد عن أبي سليمان الليثي عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل المؤمن و مثل الإيمان كمثل الفرس في أخبته يجول حتى يرجع إلى خبته و أن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء و ولوا معروفكم المؤمنين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد رازی نے ان کو ابوزرعہ عبید اللہ بن عبدالکریم نے انکو عبید بن جناد حلبی نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو سعید بن ایوب نے ان کو عبد اللہ بن ولید نے ان کو ابوسلیمان لیثی نے ان کو ابوسعید خدری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے جیسی ہے جو اپنے خیموں کے اندر گھوم رہا ہو۔ حتی کہ وہ اپنے خیمے میں واپس آ جائے اور یہ کہ مومن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔ تم لوگ اپنے طعام نیک اور متقی لوگوں کو کھلاؤ اور تمہاری اچھائیوں اور تمہارے مصروف کاموں کے سرپرستی اور والی نیک اور اہل ایمان ہوا کریں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سعيد بن أيوب ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← أبو زرعة عبيد بن بن عبد الكريم ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10964

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10965

10965 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا جعفر بن محمد بن المستفاض نا محمد بن الحسن البلخي بسمرقند سنة ست و عشرين أنا عبد الله بن المبارك نا سعيد بن أبي أيوب نا عبد الله بن الوليد : فذكره بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ، ان کو حسن بن محمد اسحاق نے ان کو جعفر بن محمد بن مستفاض نے ان کو محمد بن حسن بلخی نے سمرقند میں ۲۶ ہجری میں ان کو عبید اللہ بن مبارک نے ان کو سعید بن ایوب نے ان کو عبداللہ بن ولید نے پھر اس نے مذکورہ حدیث کو نقل کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اسی مفہوم میں

عبد الله بن الوليد فذكره بإسناده و معناه ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← محمد بن الحسن البلخي بسمرقند سنة ست و عشرين ← جعفر بن محمد بن المستفاض ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10965

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10966

10966 - سمعت الإمام أبا الطيب سهل بن محمد بن سليمان يقول : سمعت والدي يقول : سمعت بعض أهل الأدب يقول : عن أبي حاتم عن عبيدة معمر بن المثنى قال : سئل يونس بن حبيب النحوي عن المثل المشهور كمجير أم عامر قال : خرج فتيان من العرب للصيد و أثاروا ضبعا ففلتت من أيديهم و دخلت خباء لبعض العرب فخرج إليهم فقال : و الله لا تصلون إليها و قد استجارت بي فخلوه و إياها فلما انصرفوا عمد الرجل إلى خبز و سمن فثرده و قربه إليها فأكلت حتى شبعت و تمددت في جانب الخباء و غلب الأعرابي النوم فلما استثقل وثبت إليه فقرضت حلقه و بقرت بطنه و أكلت حشوته و خرجت تسعى و جاء أخو المقتول فلما نظر إليه أنشأ يقول : ( و من يصنع المعروف في غير أهله يلاقي كما لاقى في مجير أم عامر ) ( أعد لها لما استجارت ببيته قراها من ألبان اللقاح الغرائر ) ( فأشبعها حتى إذا ما تملئت فرطه بأنياب لها و أظافر ) ( فقل لذوي المعروف هذا جزاء من يجود بمعروف إلى غير شاكر )

میں نے سنا امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے ، فرماتے تھے کہ میں نے سنا بعض اہل ادب سے وہ کہتے ہیں ابو حاتم سے اس نے ابو عبیدہ معمر بن مثنٰی سے وہ کہتے ہیں کہ یونس بن حبیب نحوی سے پوچھا گیا مشہور مثل کے بارے ’’ جیسے ام عامر کو پناہ دینے والا ‘‘ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عرب کے کچھ نو جوان شکار کھیلنے چلے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک بجو پر حملہ کیا اور وہ ان کے ہاتھوں سے بھاگ کر کسی عربی کے خیمے میں داخل ہو گیا۔ وہ عربی باہر نکلا اور کہنے لگا۔ اللہ کی قسم تم لوگ اس کے پاس نہیں پہنچ سکتے۔ اس بجو نے میری پناہ لی ہے۔ لہذا تم لوگ اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ وہ نو جوان بجو کو اور اس دیہاتی کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اس دیہاتی نے روٹی اٹھائی اور گھی لیا، اس کا ملیدہ بنایا اور اس بجو کے آگے رکھ دیا۔ بجو نے شوق سے کھایا اور خوب پیٹ بھر لیا اور جا کر گھر کے کونے میں بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس دیہاتی پر نیند غالب آگئی اور وہ ہو گیا۔ ( سوچا ہی ہوگا کہ اٹھوں گا تو اس کو کاٹ کر اس کا گوشت بنا کر کھاؤں گا)۔ مگر اس بجو نے موقع غنیمت جانا اور سوئے ہوئے دیہاتی پر ایک دم حملہ کر کے اپنے منہ سے اور پنجوں سے اس کا گلا کاٹ دیا اور پنجوں سے اس کا پیٹ بھی پھاڑ دیا اور اس کی آنتیں وغیرہ کھا گیا اور باہر نکل کر بھاگ گیا۔ مرنے والے کا بھائی جب آیا اور اس نے یہ منظر دیکھا تو اس نے شعر کہے: ومن يصنع المعروف في غير اهله ۔۔۔۔ یلاقی کما لاقى في مجير ام عامر۔۔۔۔ اعد لها لما استجادت ببیته ۔۔۔۔ قراها من البان اللقاح الغرائر ۔۔۔۔ فاشبعھا حتى إذا ما تملنت ۔۔۔۔ قرطه بانیاب لها واظافر ۔۔۔۔ فقل لذوى المعروف هذا جزاء من ۔۔۔۔ يجود بمعروف الىٰ غير شاكر ۔ جو شخص کسی ایسے کے ساتھ بھلائی اور نیکی کرتا ہے جو اس کی نیکی کا اہل نہ ہو وہ ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہوتا ہے ” جیسے ام عامر کو پناہ دینے والے ‘‘ کے ساتھ پیش آیا کہ اس نے جب اس کے گھر میں پناہ لی تھی تو اس نے تو اس کے لئے خوبصورت اونٹیوں کے دودھ کے ساتھ اس کی مہمان نوازی کی تھی اور اس کو خوب شکم سیر کیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جب خوب بھر گیا تو اس نے اپنے پنجوں سے اور دانتوں سے اپنے مہمان نواز کو پھاڑ دیا (اے مخاطب) آپ نیکیاں کرنے والوں سے کہہ دیجئے کہ جو شخص ناشکرے اور نالائق کے ساتھ سخاوت کرتا ہے اس کی جزا اور اس کا بدلہ یہی ہوتا ہے۔

المثل المشهور كمجير أم عامر ← سئل يونس بن حبيب النحوي ← عبيدة معمر بن المثنى ← أَبِي حَاتِمٍ، ← بعض أهل الأدب ← وَالِدِي ← الإمام أبا الطيب سهل بن محمد بن سليمان

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10966

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10967

10967 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان حدثني سليمان بن سلمة الحمصي نا منيع بن السري الحراري نا عبد الله بن حميد المزني عن شريح بن مسروق أبي زكريا عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المعروف لا يصلح إلا لذي دين أو لذي حسب أو لذي حلم كان في الكتاب عن أبي زكريا ينظر فيه و هذا إسناد فيه بعض من يجهل حاله و الله أعلم و قد روي معناه في حديث آخر في إسناده ضعف بين

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو بیان کیا سلیمان بن سلمہ احمصی نے ان کو منیع بن سری حراری نے ان کو عبد اللہ بن حمید مزنی نے ان کو شریح بن مسروق ابوزکریا نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان المعروف لا يصلح الا لذى دين اولذی حسب اولذى حلم ۔ بے شک بھلائی کرنا نہیں درست ہوتا مگر دیندار کے ساتھ یا حسبی و نسبی انسان کے ساتھ یا با حوصلہ اور بردبار کے ساتھ۔ ابوز کریا کی مکتوبہ کتاب میں تھا کہ اس میں غور کیا جائے۔ یہ اسناد مجہول ہے کیونکہ اس میں بعض راوی ایسے ہیں جن کا حال معلوم نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ اور تحقیق ہم نے اسی مفہوم کی ایک اور روایت بھی نقل کی ہے۔ اس کی اسناد بھی ضعیف ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← شريح بن مسروق أبي زكريا ← عبد الله بن حميد المزني ← منيع بن السري الحراري ← سليمان بن سلمة الحمصي، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10967

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10968

10968 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر بن خنب البغدادي ببخارى أنا أبو عبد الله محمد بن خلف المروزي ح و أخبرناه أبو حاتم أحمد بن الوليد الزوزني أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن خلف بن عبد السلام المروزي نا يحيى بن هاشم نا هشام بن عروة و أخبرنا أبو الحسن المقري الإسفرايني بها أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا محمد بن سعيد بن أبان نا سهل بن عثمان نا المسيب بن شريك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصلح الصنيعة إلا عند ذي حسب و دين كما لا تصلح الرياضة إلا في نحيب لفظ حديث يحيى و في رواية المسيب : لا تنفع الصنائع إلا عندي ذي نهى حسب أو دين كما لا تنفع الرياضة إلا عند نجيب هكذا رواه جماعة من الضعفاء عن هشام

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبد الخالق بن علی مؤذن نے ان کو ابو بکر بن خنب بغدادی نے بخارا میں ان کو ابوعبداللہ محمد بن خلف مروزی نے (ح) اور ہمیں اس کی خبر دی ابو حامد احمد بن ولید مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن عبد اللہ شافعی نے ان کو محمد بن خلف بن عبد السلام مروزی نے ان کو یحیٰی بن ہشام نے ان کو ہشام بن عروہ نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری اسفرائنی نے وہاں پر ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو محمد بن سعید بن ابان نے ان کو سہل بن عثمان نے ان کو مسیب بن شریک نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہنر اور کاریگری نہیں سجتی مگر صاحب شرف یا صاحب دین کے پاس۔ جیسے جسمانی ورزش اور طاقت نہیں سجتی مگر بہادر اور شریف کے ساتھ ۔ یہ الفاظ ہیں حدیث یحییٰ کے اور مسیب کی ایک روایت میں ہے کہ ہنر نہیں فائدہ دیتے مگر صاحب عقل کے پاس یا صاحب عزت و شرف کے ساتھ یا دیندار کے ساتھ ۔ جیسے جسمانی ورزش نہیں فائدہ دیتی خاندانی شریف کے ساتھی ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ضعفاء کی ایک جماعت نے ہشام سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← محمد بن سعيد بن أبان ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن المقري الإسفرايني بها ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ, و ← يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو حاتم أحمد بن الوليد الزوزني ← و، ← أبو عبد الله محمد بن خلف المروزي ← أبو بكر بن خنب البغدادي ببخاري ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10968

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood