شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10945
10945 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن علي النحوي نا أحمد بن علي بن رزين نا علي بن حشرم حدثني سلمة بن سليمان قال : جاء رجل إلى عبد الله بن المبارك فسأله أن يقضي دينا عليه فكتب له إلى وكيل له فلما ورد عليه الكتاب قال له الوكيل : كم الدين الذي سألت فيه عبد الله أن يقضيه عنك قال : سبعمائة درهم فكتب إلى عبد الله : أن هذا الرجل سألك أن تقضي عنه سبعمائة درهم و كتب إليه سبعة آلاف درهم قد فنيت الغلات فكتب إليه عبد الله إن كانت الغلات قد فنيت فإن العمر أيضا قد فني فأجر له ما سبق به قلمي له
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی نحومی نے انکو احمد بن علی بن رزین نے ان کو علی بن حشرم نے ان کو سلمہ بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مبارک کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ میرے اوپر قرض ہے، آپ میرا قرض ادا کر دیجئے۔ انہوں نے وکیل کے پاس لکھا کہ یہ ادا کر دیجئے ۔ جب ان کے پاس خط پہنچا تو وکیل نے ان سے کہا قرضہ کتنا ہے جس کے بارے میں آپ نے عبداللہ بن مبارک سے سوال کیا ہے کہ آپ کی طرف سے ادا کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سات سو درہم ہے۔ انہوں نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ یہ شخص آپ سے سوال کرتا ہے کہ آپ اس کی طرف سے سات سو درہم ادا کر دیں۔ انہوں نے لکھا کہ ان کے پاس سات سو درہم تو ہیں مگر غلہ وغیرہ سامان خوردو نوش ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ عبداللہ نے ان کے پاس لکھا کہ اگر سامان خورد و نوش ختم ہو رہا ہے تو عمر بھی تو ختم ہورہی ہے۔ لہذا میں نے جو کچھ لکھ دیا اس کو پورا کر دیجئے۔
سَبْعُمِائَةِ دِرْهَمٍ. ← لَهُ الْوَكِيلُ: كَمِ الدَّيْنُ الَّذِي سَأَلْتَ فِيهِ عَبْدَ اللهِ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْكَ؟، ← لَهُ إِلَى وَكِيلٍ لَهُ، فَلَمَّا وَرَدَ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ فَسَأَلَهُ أَنْ يَقْضِيَ دِينًا عَلَيْهِ، ← سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ حُشْرَمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَزِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّحْوِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10945
