Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10945

10945 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن علي النحوي نا أحمد بن علي بن رزين نا علي بن حشرم حدثني سلمة بن سليمان قال : جاء رجل إلى عبد الله بن المبارك فسأله أن يقضي دينا عليه فكتب له إلى وكيل له فلما ورد عليه الكتاب قال له الوكيل : كم الدين الذي سألت فيه عبد الله أن يقضيه عنك قال : سبعمائة درهم فكتب إلى عبد الله : أن هذا الرجل سألك أن تقضي عنه سبعمائة درهم و كتب إليه سبعة آلاف درهم قد فنيت الغلات فكتب إليه عبد الله إن كانت الغلات قد فنيت فإن العمر أيضا قد فني فأجر له ما سبق به قلمي له

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی نحومی نے انکو احمد بن علی بن رزین نے ان کو علی بن حشرم نے ان کو سلمہ بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مبارک کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ میرے اوپر قرض ہے، آپ میرا قرض ادا کر دیجئے۔ انہوں نے وکیل کے پاس لکھا کہ یہ ادا کر دیجئے ۔ جب ان کے پاس خط پہنچا تو وکیل نے ان سے کہا قرضہ کتنا ہے جس کے بارے میں آپ نے عبداللہ بن مبارک سے سوال کیا ہے کہ آپ کی طرف سے ادا کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سات سو درہم ہے۔ انہوں نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ یہ شخص آپ سے سوال کرتا ہے کہ آپ اس کی طرف سے سات سو درہم ادا کر دیں۔ انہوں نے لکھا کہ ان کے پاس سات سو درہم تو ہیں مگر غلہ وغیرہ سامان خوردو نوش ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ عبداللہ نے ان کے پاس لکھا کہ اگر سامان خورد و نوش ختم ہو رہا ہے تو عمر بھی تو ختم ہورہی ہے۔ لہذا میں نے جو کچھ لکھ دیا اس کو پورا کر دیجئے۔

سَبْعُمِائَةِ دِرْهَمٍ. ← لَهُ الْوَكِيلُ: كَمِ الدَّيْنُ الَّذِي سَأَلْتَ فِيهِ عَبْدَ اللهِ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْكَ؟، ← لَهُ إِلَى وَكِيلٍ لَهُ، فَلَمَّا وَرَدَ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ فَسَأَلَهُ أَنْ يَقْضِيَ دِينًا عَلَيْهِ، ← سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ حُشْرَمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَزِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّحْوِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10945

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10946

10946 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو نصر بن عمر نا محمد بن المنكدر حدثني إسحاق بن إبراهيم قال : سمعت هارون بن إسحاق يقول : سمعت حسين الجعفي يقول : كان لعبد الله بن المبارك عندنا صديق يواخيه بالكوفة فقدم ابن المبارك الكوفة و هو محبوس بدين عليه فأمر ابن المبارك بأن يقضي عنه ديونه فخرج من السجن

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو نصر بن عمر نے انکو محمد بن منکدر نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہارون بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن جعفی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارک کا ہمارے پاس ایک دوست تھا جس سے وہ بھائی چارہ کرتے تھے۔ چنانچہ ابن مبارک کوفے میں آئے اور ان کا دوست قرض میں جیل میں پڑا تھا۔ ابن مبارک نے حکم دیا کہ ان کے دوست کا قرضہ ادا کر دیا جائے۔ لہذا وہ قید سے باہر آ گئے۔

حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو نصر بن عمر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10946

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10947

10947 - و روينا قصة أخرى : عن ابن المبارك في قضائه عن شاب بالرقة كان عبد الله إذا دخلها اختلف إليه فقام بحوائجه عشرة آلاف درهم من غير علم و استكتابه من أمر بقضائه عنه و ذلك في تاريخ النيسابوريين في ذكره مكتوب

ہم نے ایک اور قصہ روایت کیا ہے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ سے ان کی ادائیگی کی بابت ایک نوجوان کے بارے میں شفقت کے ساتھ کہ آپ اس کی طرف سے ادا ئیگی کیا کرتے تھے کہ وہ جب آتا تو سب اس کی حوائج اور ضروریات کی کفالت میں دس ہزار درہم بغیر علم کے اور بغیر کسی تحریر کے محض اپنی طرف سے اس کی ادائیگی کا حکم فرما دیتے تھے۔ یہ واقعہ تاریخ نیشاپور میں مذکور و مکتوب ہے۔

ابن المبارك في قضائه ← و روينا قصة أخرى

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10947

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10948

10948 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت محمد بن إبراهيم بن الفضل يقول : سمعت أحمد بن سلمة يقول : سمعت عبد الله بن هاشم بن حيان يقول : كان لرجل على خالد بن الحارث خمسين دينارا فألح عليه فجاء إلى يحيى بن سعيد صاحب له فقال : كلم فلانا يوفر عنا أياما فسكت يحيى فلما خرج خالد من عنده بعث إلى غريمه فأعطاه الخمسين الدينار و لم يخبر خالدا أني أديته عنك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن ابراہیم بن فضل سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی کے خالد بن حارث پر پچاس دینار قرض تھے۔ قرض خواہ نے اصرار کیا قرض کی ادا ئیکی کے لئے۔ لہذا وہ یحییٰ بن سعید کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ اپنے فلاں دوست سے کہیں کہ وہ مجھے کچھ دن مزید مہات دے دے، کیونکہ وہ آپ کا دوست ہے بات مان لے گا ۔ مجھے اسے قرض دینا ہے۔ جب خالد واپس چلئے گئے تو انہوں نے اس قرض خواہ کو بلا کر اس کو پچاس دینار ادا کر دیئے اور خالد کو بتایا بھی نہیں کہ میں نے تیری طرف سے ادا کر دیے ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10948

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10949

10949 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد المقري نا أبو عيسى لترمذي نا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثني شيخ قد سمع من ليث بن سعد قال : جاءت امرأة إلى الليث بن سعد تسأله عسلا و معها قدح و قالت : زوجي مريض فقال : أعطوها رواية عسل فقالوا : يا أبا الحارث سألت قدحا قال : سألت على قدرها و نعطيها على قدرنا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو حامد مقری نے ، ان کو ابو عیسی ٰترندی نے ان کو احمد بن ابراہیم دورتی نے ان کو شیخ نے انہوں نے سنا لیث بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت لیث بن سعد کے پاس آئی اور آکر ان سے شہد مانگا اور وہ پیالہ اپنے ساتھ لائی تھی اور بولی کہ میرا شوہر بیمار ہے (اس کے لئے ضرورت ہے ) آپ نے حکم دیا کہ اس کو شہد کا کپہ دے دو۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضرت اس نے تو ایک پیالہ شہد مانگا ہے؟ فرمایا کہ اس نے اپنے اندازے کے مطابق مانگا ہے مگر ہم اپنے اندازے کے مطابق اس کو دیں گے۔

سألت على قدرها و نعطيها على قدرنا ← زوجي مريض فقال أعطوها رواية عسل فقالوا يا أبا الحارث سألت قدحا ← جاءت امرأة إلى الليث بن سعد تسأله عسلا و معها قدح و ← من ليث بن سعد ← شيخ قد ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أبو عيسى لترمذي ← أبو حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10949

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10950

10950 - قال : و حدثنا أبو عيسى قال : سمعت قتيبة يقول : كان الليث يركب في جميع الصلوات إلى مسجد الجامع و يتصدق كل يوم على ثلاثمائة مسكين

فرماتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عیسٰی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا قتیبہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت لیث تمام نمازوں کے لئے جامع مسجد سواری پر سوار ہو کر جاتے تھے اور ہر روز تین سومسکین پر صدقہ کرتے تھے۔

قُتَيْبَةُ، ← أَبُو عِيسَى، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10950

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10951

10951 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت إسماعيل بن محمد الشعراني يقول : سمعت جدي يقول : سمعت علي بن حشرم يقول : سمعت منصور بن عمار يقول : لما مرض ابن لهيعة مرضه الذي مات فيه دخل عليه الليث بن سعد فقال له : ما تشتكي قال : الدين قال : كم دينك قال : ألف دينار فأتى بها فأعطاه إياه قال : و ولي القضاء ثلاثين سنة لم يستحل أن يغرس ريحانة يشمها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد شعرانی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن خشرم سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا منصور بن عمار سے وہ کہتے ہیں جب حضرت ابن لہیعہ بیمار ہوئے ، اس بیماری میں جس میں ان کا انتقال ہو گیا تھا، لہذا حضرت لیث بن سعد ان کے پاس پہنچے اور ان سے کہا آپ کو کس چیز سے شکایت ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قرض سے۔ انہوں نے پوچھا کہ کتنا قرض آپ کے اوپر ہے؟ بتایا کہ ایک ہزار دینار ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک ہزار دینار لا کر ان کو دے دیا۔ فرمایا کہ تیس سال تک وہ قاضی ( اور جج ) بن کر رہے۔ انہوں نے حلال نہیں سمجھا کہ وہ ایک پھول بھی اگا لیں جس کو وہ سونگھیں۔

مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُشْرَمٍ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10951

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10952

10952 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت ابا زكريا العنبري يقول : سمعت محمد بن إبراهيم العبدي يقول : سمعت أبا رجاء قتيبة بن سعيد يقول : سمعت شعيب بن الليث يقول : وجه أبي إلى أنس بن مالك بألف دينار و إلى عبد الله لهيعة بألف دينار حين احترق منزله و إلى أبي السري منصور بن عمار بألف دينار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابوزکریا عنبری سے انہوں نے سنا محمد بن ابراہیم عبدی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابور جاء قتیبہ بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا شعیب بن لیث سے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت مالک بن انس کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے اور ایک ہزار دینار ابن لہیعہ کے پاس بھیجے جب ان کا گھر جل گیا تھا اور ابوالسری منصور بن عمار کے پاس بھی ایک ہزار دینار بھیجے تھے ۔

شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← أَبَا رَجَاءٍ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أبا زكريا العنبري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10952

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10953

10953 - أخبرنا أبو الحسن الأهوازي أنا أبو بكر بن محمويه نا عبد الكبير بن محمد بن عبد الله نا نصر بن عمرو القرشي نا الأصمعي قال : كنت عند جعفر بن يحيى البرمكي فدخل عليه رجل فقال : أعدني أيها الأمير قال : هو ذاك صاحب الشرطي على الباب قال : أعدني أيها الأمير قال : ويحك ما أعدتك قال : على الفقير قال : نعم يا غلام إدفع إليه ألف دينار

ہمیں خبر دی ابوالحسن اہوازی نے ان کو ابو بکر بن محمد بن محمویہ نے ان کو عبدالکبیر بن محمد بن عبد اللہ نے ان کو نصر بن عمر وقریشی نے ان کو اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں جعفر بن یحییٰ برمکی کے پاس بیٹھا تھا، ایک آدمی آیا ان کے پاس اس نے کہا اے امیر آپ مجھے دوبارہ عنایت کیجئے۔ وہ ابھی یہیں تھا کہ دروازے پر کسی اور نے دستک دی کہ مجھے بھی عنایت فرمائیے اے امیر ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کو کیا دوں یا میں کس چیز کا اعادہ کروں ۔ عرض کی کہ فقر پر دوبارہ توجہ فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا ، اچھا! اے غلام اس کو ایک ہزار دینار دے دیں۔

نعم يا غلام إدفع إليه ألف دينار ← على الفقير ← ويحك ما أعدتك ← أعدني أيها الأمير ← هو ذاك صاحب الشرطي على الباب ← أعدني أيها الأمير ← كنت عند جعفر بن يحيى البرمكي فدخل عليه رجل ← الْأَصْمَعِيُّ ← نصر بن عمرو القرشي ← عبد الكبير بن محمد بن عبد الله ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ ← أبو الحسن الأهوازي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10953

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10954

10954 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين محمد بن المظفر الحافظ نا محمد بن محمد بن سليمان نا هشام بن خالد الأزرق أبو مروان نا الوليد بن مسلم عن سعيد بن عبد العزيز قال : أدى هشام بن عبد الملك عن الزهري سبعة آلاف دينار قال : لا تعودن في الدين قال و كيف و حدثني سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين و رواه المؤمل بن الفضل عن الوليد بن مسلم بمعناه دون ذكر إسناد الحديث بزيادة في الدين ثم قال : قال سعيد بن عبد العزيز فما مات الزهري حتى استدان مثلها فبيعت شعبة فقضى دينه و شعب ضيعه للزهري

ہمیں خبر دی ابو عبید اللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین محمد بن مظفر حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن سلیمان نے ان کو ہشام بن خالد ازرق ابومروان نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو سعید بن عبد العزیز نے وہ کہتے ہیں جناب ہشام بن عبد الملک نے امام زہری کی طرف سے سات ہزار دینار ادا کر دئیے تھے اور کہا تھا آئندہ دوبارہ قرض نہیں کرنا۔ انہوں نے کہا اور یہ کیسے ہوگا اور مجھے حدیث بیان کی ہے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ اور اس کو روایت کیا ہے کہ مؤمل بن فضل نے ولید بن مسلم سے اس مفہوم کے ساتھ سوائے ذکر اسناد حدیث کے ساتھ قرض میں اضافے کے۔ پھر فرمایا کہ کہا سعید بن عبدالعزیز نے کہ زہری کا جب انتقال ہوا تو وہ پھر قرض لے چکے تھے اسی قدر لہذا ان کی زرعی زمین تھی جسے فروخت کر کے ان کا قرض اتارا کیا گیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← و كيف و ← لا تعودن في الدين ← الزهري سبعة آلاف دينار ← أدى هشام بن عبد الملك ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ، ← محمد بن محمد بن سليمان، ← أبو الحسين محمد بن المظفر الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10954

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10955

10955 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد الصفار نا إبراهيم بن الحسين ح و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان قالا : نا إبراهيم بن المنذر نا داود بن عبد الله بن أبي الكرم الجعفري قال : سمعت مالك بن أنس يقول : كان ابن شهاب من أسخى الناس فلما أصاب تلك الأموال قال له مولى له و هو يعظه رأيت ما مر عليك من الضيق و الشدة فانظر كيف تكون و أمسك عليك مالك فقال له ابن شهاب : ويحك إني لم أر الكريم تحكمه التجارب و في رواية أبي عبد الله : ويحك إني لم أر السخي تنفعه أو تحكمه التجارب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید صفار نے ان کو ابراہیم بن حسینی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے دونوں نے کہا ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو داؤ د بن عبد اللہ بن ابوالکرام جعفری نے ، انہوں نے سنا مالک بن انس سے وہ کہتے ہیں حضرت ابن شہاب لوگوں میں سے سخی ترین آدمی تھے، جب ان کے پاس مال آگیا تو ان کے مولی ٰنے نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہا کہ اس نے آپ کا وہ وقت بھی دیکھا ہے جو آپ کے اوپر شدت اور تنگی گذری تھی۔ آپ ذرا سوچیں کہ آپ کا اس وقت کیا حال ہوتا تھا لہذا آپ اپنا مال آئندہ ضرورت کے لئے روک کر رکھا کریں۔ ابن شہاب نے اس سے کہا کہ افسوس ہے تم پر میں نے تو ایسا سخی نہیں دیکھا جس پر تجربات حکومت کرتے اور وہ تجربات کا محکوم ہوتا ہو اور ابوعبداللہ کی ایک روایت میں یوں ہے ہلاک ہو جائے میں نے کوئی ایسا سخی نہیں دیکھا کہ تجربات نے اس کو فائدہ پہنچایا ہو یا تجربات کا محکوم ہو۔

مالک بن أنس ← داود بن عبد الله بن أبي الكرم الجعفري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد الصفار ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10955

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10956

10956 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا إسحاق بن عيسى الطباع عن مالك بن أنس قال : قال الزهري وجدنا السخي لا تنفعه التجارب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ان کو اسحٰق بن عیسی ٰطباع نے انکو مالک بن انس نے وہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا ہم نے سخی کو پایا ہے کہ اس کو تجربے کرنا مفید نہیں ہوتا ہے یا وہ سابقہ تجربات کا پابند نہیں ہوتا۔

الزهري وجدنا السخي لا تنفعه التجارب ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10956

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood