Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10933

10933 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا عبد الله بن الحسين الكاتب الفارسي أنشدني جعفر بن قدامة أنشدنا المبرد : ( لئن كانت الدنيا ثروة و احتجت فيها بعد عسر أخا يسر ) ( لقد كشف الإثراء منك خلائقا من اللوم كانت تحت ثوب من الفقر )

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰاسلمی نے ان کو شعر سنائے عبداللہ بن حسین کاتب فارسی نے ان کو شعر سنائے جعفر بن قدامہ نے ان کو شعر سنائے مبرد شاعر نے جن کا مفہوم یہ ہے۔ اگر چہ آپ ساری دنیا کی دولت و ثروت کے مالدار بن جائیں تو بھی تنگدست ہو جانے کے بعد آپ صاحب یسر اور صاحب خیر کے محتاج ہوں گے۔ تیرا صاحب ثروت و مال ہونا مخلوق کے سامنے حقیقت کھول دے گا اور اس عیب کو کھول دے گا جو کپڑوں کے نیچے فقر ومحتاجی میں مخفی ہوتا ۔

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10933

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10934

10934 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا عمرو بن مطر يقول : سمعت محمد بن المنذر الهروي يقول : سمعت أبا الحرث الأولاسي يقول : سمعت عبد الله بن خبيق يقول : كان يقال : لا تبذل وجهك لمن يهون عليه ودك

میں نے سنا ابو عبد الرحمن ٰسلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعمرو بن مرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن منذر مروی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوالحرث اولاسی سے انہوں نے سنا عبداللہ بن خبیق سے وہ کہتے ہیں کہا جاتا تھا آپ اپنے چہرے کو اس شخص کے لئے خرچ نہ کیجئے جو تیرے اوپر تیری دوستی کو ذلیل کر دے۔

كان يقال لا تبذل وجهك لمن يهون عليه ودك ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← أبا الحرث الأولاسي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْهَرَوِيُّ، ← أَبَا عَمْرِو بْنَ مَطَرٍ، ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10934

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10935

10935 - حدثنا أبو القاسم السراج أنا الحسين بن أحمد الصفار الهروي نا أحمد بن حمدون بن عمارة نا الحسن بن عرفة نا عبد الله بن بكر عن أبي بكر العدلي قال : كان مطرف بن عبد الله يقول لإخوانه و ودائه إذا كانت لكم حاجة فاكتبوها في رقعة لأقضيها لكم فإن أكره ذاك السؤال في وجوهكم لقول الشاعر : ( لا تحسبن الموت موت البلى لكنما الموت سؤال الرجال ) ( كلاهما موت و لكن ذا أشد و من ذاك لذل السؤال )

ہمیں حدیث بیان کی ابوالقاسم سراج نے ان کو حسین بن احمد صفار ہروی نے ان کو احمد بن حمدون بن عمارہ نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو عبد اللہ بن بکر نے ان کو ابو بکر عدلی نے وہ کہتے ہیں کہ مطرف بن عبداللہ اپنے بھائیوں سے اور دوستوں سے کہتے تھے جب تمہیں کوئی حاجت پیش آیا کرے اس کو ایک رقعے میں لکھ کر پیش کیا کرو، تاکہ میں اس کو پورا کر لیا کروں۔ بے شک میں تمہارے منہ سے سوال کرنے کو نا پسند کرتا ہوں ۔ بقول شاعر کے (مفہوم یہ ہے ): مت گمان کرموت مصیبت کی موت کو بلکہ مردوں کی موت سوال کرتا ہے ۔ دونوں موتیں ہیں لیکن یہ زیادہ سخت ہے اس ( حقیقی موت سے ) بوجہ سوال کی ذلت کے۔

كَانَ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أبي بكر العدلي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونِ بْنِ عُمَارَةَ، ← الحسين بن أحمد الصفار الهروي ← أبو القاسم السراج

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10935

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10936

10936 - و رواه أبو موسى محمد بن المثنى عن عبد الله بن بكر و قال في آخره قال عبد الله بن بكر : قال بعض الشعراء فذكر البيتين

اور اس کو روایت کیا ہے ابو موسیٰ محمد بن مثنی نے عبداللہ بن بکر سے وہ کہتے ہیں اس کے آخر میں کہ کہا عبداللہ بن بکر نے وہ کہتے ہیں کہ بعض شعراء نے کہا پھر اس نے مذکورہ شعر ذکر کئے۔

بعض الشعراء فذكر البيتين ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← فِي آخِرِهِ ← عبد الله بن بكر و ← و رواه أبو موسى محمد بن المثنى

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10936

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10937

10937 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسين محمد بن عبد الله القهستاني نا محمد بن أيوب نا أبو بكر بن أبي شيبة نا غندر عن شعبة عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال : لا تنشر سرك إلا عند من يريده

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسین محمد بن عبد اللہ قہستانی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو غندر نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے مسلم سے اس نے مسروق سے، اس نے کہا کہ اپنا راز کھول مگر اس کے سامنے جو اس کا ارادہ کرے۔

لا تنشر سرك إلا عند من يريده ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُهُسْتَانِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10937

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10938

10938 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد الرازي أنا إسحاق بن إبراهيم الأنماطي أنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان يقول : خير السخاء ما وافق الحاجة

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبدالرحمن ٰسلمی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن رازی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم انماطی نے ان کو احمد بن ابوالحواری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسلیمان سے وہ کہتے ہیں، بہترین سخاوت وہ ہے جو حاجت کے مطابق ہو۔

خير السخاء ما وافق الحاجة ← أَبَا سُلَيْمَانَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← إسحاق بن إبراهيم الأنماطي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10938

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10939

10939 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : سمعت عبد الله بن محمد الصوفي يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : ليس بكريم من يطلب الثناء على العطاء

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں کہ وہ شخص سخی نہیں جو شخص عطیہ دینے کے بعد اس سے تعریف کا طالب ہو۔

ليس بكريم من يطلب الثناء على العطاء ← ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبد الله بن محمد الصوفي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10939

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10940

10940 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت يوسف بن الحسين و سئل عن الجود و الكرم فقال : الجود أن تتفضل بما لا يجب عليك و الكرم أن تتفضل ما يجب لك

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن ٰسلمی نے انہوں نے سنا محمد بن عبد اللہ سے اس نے سنا یوسف بن حسین سے جبکہ ان سے جو دوسخا کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جو دو سخاوت یہ ہے کہ آپ وہ چیز عطا کریں جو آپ کے اوپر لازم نہیں ہے اور کرم و عنایت یہ ہے کہ آپ وہ چیز دیں جو تیرے ذمے واجب ہے۔

الجود و الكرم ← يوسف بن الحسين و سئل ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10940

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10941

10941 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا بكر الرازي يقول : سألت أبا بكر عبد الله بن طاهر الأبهري من الكريم ؟ قال : الذي كرم بطبعه عن التدنس بشيء من مخالفة ربه

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر عبداللہ بن طاہر الا بھری سے کہ کریم کون ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ شخص جو اپنے رب کی مخالفت سے کسی بھی چیز میں آلودہ ہونے سے بچے ۔ اپنی طبیعت و مزاج کے اعتبار سے کریم اور شریف ہو۔

التدنس بشيء من مخالفة ربه ← الذي كرم بطبعه ← سألت أبا بكر عبد الله بن طاهر الأبهري من الكريم ← أبا بكر الرازي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10941

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10942

10942 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان سعيد بن عثمان الحناط يقول : سمعت ذا النون يقول : العاقل يعترف بذنبه و يحسن ذنب غيره و يجود بما لديه و يزهد فيما عند غيره و يكف أذاه و يحتمل الأذى عن غيره و الكريم يعطي قبل السؤال فكيف يبخل بعد السؤال و يعذر قبل الاعتذار فكيف يحقد بعد الاعتذار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ، ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سعید بن عثمان حناط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے کہ عقلمند اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے اور دوسرے کے عیب و گناہ کو اچھا سمجھتا ہے اور جو کچھ اس کے پاس موجود ہوتا ہے اس کے ساتھ سخاوت کرتا ہے اور جو چیز دوسروں کے پاس ہوتی ہے اس سے وہ بے رغبتی کرتا ہے اور اپنی ایذا اور تکلیف دینے سے رک جاتا ہے۔ دوسروں کی ایذا اور تکلیف برداشت کر لیتا ہے۔ اور کریم وہ ہوتا ہے جو مانگنے سے پہلے دے دیتا ہے۔ لہٰذا وہ مانگنے کے بعد بخل کیسے کر سکتا ہے اور عذر معذرت کرنے سے پہلے معذرت قبول کر لیتا ہے۔ لہذاوہ معذرت کرنے کے بعد کیسے غصہ اور بغض رکھ سکتا ہے۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10942

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10943

10943 - و بإسناده قال : سمعت ذا النون قال : ثلاثة من أعلام السخاء البذل للشيء مع الحاجة و خوف المكافأة استقلالا للعطية و الحمل على النفس استغناما لإدخال السرور على الناس

اور انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ فرمایا کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے تین چیزیں سخاوت کی علامات میں سے ہیں۔ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود چیز دوسروں کو دیتا ہے اور عطیہ دینے کے بعد مستقل طور پر مکافات اور بدلے سے ڈرتا ہے اور اپنے نفس پر مسلط ہونا لوگوں کی خوشی کو عزیز رکھنے کے لئے۔

ذَا النُّونِ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10943

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10944

10944 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الرحمن بن إبراهيم الهاشمي نا أبو جعفر محمد بن عمرو نا القاسم بن منبه قال : قال أبو نصر بشر بن الحارث : بعث أبو رجاء الذي كان بمكة إلى فضيل يستقرض دراهم أو يسأله دنانير ثم قال أبو نصر : بعث مسكين إلى مسكين قال : و لم يكن عند فضيل إلا بعير له يعمل عليه قال : فأمر ابنه أن يدخله السوق فيبيعه ثم يبعث إلى رجاء بنصف ثمنه و يأتيه بالنصف الآخر ثم ذكر أبو نصر كرم أهل الخير و فضلهم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن عبد الرحمن ٰبن ابراہیم ہاشمی نے ان کو ابو جعفر عمر بن عمرو نے ان کو ابو القاسم بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابونصر بشر بن حارث نے نمائندہ بھیجا اور ابوجاء کے پاس جو کہ میں تھے فضیل بن عیاض کے پاس انہوں نے کچھ درہم ان سے قرض مانگے تھے یا کچھ دینار مانگے تھے۔ اس کے بعد ابو نصر نے کہا کہ ایک مسکین نے دوسرے مسکین کے پاس سوال کر کے بھیجا جبکہ فضیل کے پاس صرف ایک اونٹ ہے جس پر سواری کرتا ہے اور بس کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اونٹ کو بازار میں لے جاؤ اور اس کو فروخت کر دو۔ پھر اس کی آدھی قیمت رجاء کے پاس بھیج دو اور آدھی قیمت مجھے لا دو ۔ اس کے بعد ابو نصر نے اہل خیر اور اہل فضل کے کرم اور سخاوت کا ذکر کیا۔

الْقَاسِمُ بْنُ مُنَبِّهِ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو الحسن علي بن عبد الرحمن بن إبراهيم الهاشمي

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10944

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood