Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10825

10825 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا العباس بن الفضيل النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا خالد بن عبد الله عن داود بن أبي هند عن عكرمة عن ابن عباس : في قوله عز و جل : { فأما من أعطى و اتقى * و صدق بالحسنى } قال : أعطى من ماله و اتقى ربه { و صدق بالحسنى } : بالخلف من الله عز و جل { فسنيسره لليسرى } : قال : للخير من الله عز و جل { و أما من بخل و استغنى * و كذب بالحسنى } قال : بخل بماله و استغنى عن ربه و كذب بالخلف من الله { فسنيسره للعسرى } : للشر من الله عز و جل : قال الإمام أحمد : فثبت بجميع ما ذكرناه أن الجود من مكارم الأخلاق و البخل من أراذلها و ليس الجواد الذي يعطي في غير موضع العطاء و لا البخيل الذي يمنع في موضع المنع لكن الجواد من يعطي في موضع العطاء و البخيل الذي يمنع في موضع العطاء فكل من استفاد بما يعطي أجرا أو حمدا فهو الجواد و من استحق بالبخل ذما أو عقابا فهو البخيل و بسط الكلام فيه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عباس بن فضیل نصروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خالد بن عبد اللہ نے ان کو داؤ دین ابو ہند نے ان کو عکرمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں۔ فاما من اعطى واتقى وصدق بالحسنى ۔جس نے مال دیا اورڈرا۔ فرمایا کہ اعطی سے مراد ہے اعطی من ماله ۔ جس نے اپنے مال میں سے دیا۔ اور واتقی سے مراد ہے جو شخص اپنے رب سے ڈرا اور وصدق بالحسنی ۔ جس نے حسنیٰ کی تصدیق کی سے مراد ہے جس نے فرمانی نہ کی۔ فسنيسره لليسرى ۔عنقریب ہم اس کو آسانی کر دیں گے آسانی کے لئے۔ فرمایا کہ آسان سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کے لئے اور و امامن بخل و استغنٰى و كذب بالحسنى۔ بہر حال جس نے بخیلی کی اور بے پرواہ بن گیا اور جس نے جنت کی تکذیب کی۔ فرمایا: اس سے مراد ہے کہ اس نے اپنے مال کے ذریعے بخیلی کی اور رب سے بے پرواہی کی اور اللہ سے خلف کی تکذیب کی۔ فسنیسرہ للعسریٰ۔ ہم اس کے لئے عسریٰ کو آسان کریں گے کا مطلب ہے کہ شر کے لئے ۔ اللہ کی طرف سے۔

ابن عباس في قوله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← العباس بن الفضيل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10825

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10826

10826 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا سعدان بن نصر نا سفيان بن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل المنفق و البخيل كمثل رجل عليه جبتان أو جنتان من حديد من لدن ثديهما إلى تراقيهما فإذا أراد المنفق أن ينفق سبغت عليه الدرع أو مرت حتى تحسر ثيابه و يقفو أثره و إذا أراد البخيل أن ينفق قلصت عنه يعني الدرع و لزمت كل حلقة موضعها حتى أخذت بعنقه أو بترقوته فهو يوسعها و لا تتسع فهو يوسعها و هي لا تتسع رواه مسلم عن عمرو الناقد عن سفيان و أخرجاه من حديث طاوس عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابوالزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ نے وہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ خرچ کرنے والے کی اور منافق کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس پر دو جبے ہوں یا یوں فرمایا تھا کہ جس پر لوہے کی ڈھالیں ہوں یا زرہ پوش ہو جو ہنسلیوں سمیت پورے سینے کو ڈھکے ہوئے ہوں۔ جب خرچ کرنے والا خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کامل ہو جاتی ہے بلکہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے کپڑے چھوٹے پڑنے لگتے ہیں اور اس کے پیچھے ہوتے ہیں اور جب بخیل آدمی خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کی ذرہ اوپر کو سکڑ جاتی ہے اور اس کی ہر ہر کڑی اپنی جگہ پر رک جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور اس کی گردن کو یا ہنسلیوں کو دبوچ لیتی ہے۔ وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ اور تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اس کو اور کشادہ کرنا چاہتا ہے تو اور تنگ ہو جاتی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عمر والناقد سے اس نے ابوسفیان سے اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث طاؤس سے اس نے ابوہریرہ سے۔

أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10826

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10827

10827 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاء نا العباس بن محمد الدوري نا خالد بن مخلد نا سليمان بن بلال عن معاوية بن أبي مزرد عن سعيد بن يسار عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من يوم يصبح فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما : اللهم أعط منفقا خلفا و يقول الآخر : اللهم أعط ممسكا تلفا رواه مسلم في الصحيح عن القاسم بن زكريا عن خالد و رواه البخاري عن إسماعيل عن أخيه عن سليمان

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو سلیمان بن ہلال نے ان کو معاویہ بن ابی مزرد نے ان کو سعید بن یسار نے ان کو ابوہریرہ نے و ہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دن جب بندے صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور ان میں سے ایک کہتا ہے۔ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کے پیچھے مزید عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ خرچ نہ کرنے والے کا مال تلف فرما ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قاسم بن زکریا سے اس نے خالد سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اسماعیل سے اس نے بھائی سے اس نے سلیمان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10827

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10828

10828 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا محمد بن أيوب أنا يوسف بن موسى نا جرير عن سهيل أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا حميد بن الأسود نا سهيل بن أبي صالح عن صفوان بن أبي يزيد عن القعقاع بن الجلاج عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع غبار في سبيل الله و دخان نار جهنم في جوف عبد و لا يجتمع الشح و الإيمان في قلب عبد و في رواية أبي عبد الله أبدا و لا يجتمع شح و إيمان في قلب عبد أبدا و قال : عن ابن الجلاج و كذلك رواه ابن الهاد و وهيب عن سهيل و اختلف فيه على محمد بن عمرو و سهيل عن صفوان بن سليم عن القعقاع بن الجلاج

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو جریر نے سہیل سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو حمید بن اسود نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو صفوان بن یزید نے ان کو قعقاع بن جلاج نے ان کو ابوہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں ۔اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے پیٹ میں اور اس طرح دو چیزیں ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایمان اور بخل ۔ اور ابو عبد اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے کسی بندے کے دل میں ہمیشہ کے لئے بخیلی اور ایمان اور فرمایا کہ مروی ہے ابن الجلاج سے اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابن الھاد نے اور وہیب نے سہیل سے اور اختلاف کیا ہے اس میں علی محمد بن عمرو نے اور سہیل نے صفوان بن سلیم بن یزید نے ابو العلا بن الجلاج سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← القعقاع بن الجلاج ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10828

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10829

10829 - و رواه ابن أبي جعفر عن صفوان بن يزيد عن أبي العلاء بن اللجلاج سمع أبا هريرة : قوله

اس کو روایت کیا ہے ابن ابو جعفر نے صفوان بن یزید سے اس نے ابو العلاء بن لجلاج سے اس نے سنا حضرت ابوہریرہ سے ان کا قول۔

أبا هريرة قوله ← أبي العلاء بن اللجلاج ← صفوان بن يزيد ← و رواه ابن أبي جعفر

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10829

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10830

10830 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عباس بن محمد نا عون بن عمارة العبدي نا جعفر بن سليمان الضبعي عن مالك بن دينار و أخبرنا أبو محمد بن يوسف نا أبو سعيد ابن الأعرابي نا أبو داود و إبراهيم بن فهد قالا : نا مسلم بن إبراهيم نا صدقة بن موسى عن مالك بن دينار عن عبد الله بن غالب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خصلتان لا تجتمعان في مؤمن البخل و سوء الخلق و في رواية الروذباري لا يجتمعان في جوف مسلم

ہمیں خبر دی ابوعلی روز باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو عون بن عمارہ عبدی نے ان کو جعفر بن سلیمان نصبعی نے ان کو مالک بن دینار نے۔ اور ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو داؤد اور ابراہیم بن محمد نے دونوں نے کہا کہ ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو صداقہ بن موسیٰ نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو عبد اللہ بن غالب نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں ہیں وہ مومن کے اندر جمع نہیں ہو سکتیں۔ بخیلی اور بد اخلاقی اور روذ باری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ دو مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ غَالِبٍ ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← صدقة بن موسى ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبو داود و إبراهيم بن فهد ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← مالك بن دينار و ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَبْدِيُّ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10830

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10831

10831 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن غالب حدثني محمد بن سنان نا ابن علي يعني موسى قال : سمعت أبي عن عبد العزيز بن مروان عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : شر ما في رجل شح هالع و جبن خالع تابعه الليث بن سعد و ابن المبارك و عبد الله بن يزيد المقري عن موسى بن علي بن رباح قال : الهالع المحزن و الخالع المخيف الذي يخلع القلب من شدته

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو محمد بن سنان نے ان کو ابن علی نے یعنی موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے اس نے عبد العزیز بن مروان سے اس نے ابوہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: بدترین چیز جو کسی آدمی میں ہو سکتی ہے وہ ہے حزن و ملال میں مبتلا کرنے والا بخل اور ڈر اور خوف میں مبتلا کرنے والی بزدلی ۔ لیث بن سعد نے اور ابن مبارک نے اور عبد اللہ بن یزید مقری نے موسیٰ بن علی بن رباح سے اس کی متابع بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شح ھائع کا مطلب ہے حزن و غم میں واقع کرنے والا نجل اور جبن ضائع کا مطلب ہے خوف میں مبتلا کرنے والی بزدلی، جس کی شدت سے دل خالی ہو جائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ← أَبِي ← ابْنُ عَلِيٍّ يَعْنِي: مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10831

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10832

10832 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق إملاء أنا أبو المثنى و محمد بن عيسى بن السكن قالا : نا القعنبي نا داود بن قيس عن عبيد الله بن مقسم عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اتقوا الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة و اتقوا الشح فإن الشح أهلك من كان قبلكم حملهم على أن يسفكوا دماءهم و استحلوا محارمهم رواه مسلم عن القعنبي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے بطور املاء کے ان کو ابو المثنی ٰاور محمد بن عیسی ٰبن سکین نے دونوں نے کہا کہ ان کو قعنبی نے ان کو داؤد بن قیس نے ان کو عبد اللہ بن مقیم نے جابر بن عبد اللہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچو ظلم کرنے سے ۔ بے شک قیامت کے دن ظلم ظلمات اور اندھیرے ہوں گے اور بچو بخل سے بے شک بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ( بخل کیا ہوتا ہے تیزی نفس ) اور نفس کی تیزی نے ان کو ایک دوسرے کے خون بہانے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے پر اکسایا تھا اور ایک دوسرے کے محارم اور عزتوں کو برباد کرنے پر برانگیختہ کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قعبنی سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أبو المثنى و محمد بن عيسى بن السكن ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10832

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10833

10833 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن علي بن أبي علي السقا الأسفرايني قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب حدثني سليمان بن بلال حدثني ثور عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الفحش فإن الله لا يحب الفاحش المتفحش و إياكم و الظلم فإنه عند الله ظلمة يوم القيامة و إياكم و الشح و البخل فإنه دعا من قبلكم إلى أن يقطعوا أرحامهم فقطعوها و دعاهم إلى أن يستحلوا محارمهم فاستحلوها و دعاهم إلى أن يسفكوا دماءهم فسفكوها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو الحسن علی بن ابو علی سقا اسفرائنی نے ، دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبد اللہ بن وھب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ثور نے سعید مقبری سے اس نے ابوہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بچاؤ تم اپنے آپ کو بے ہودہ بکواس کرنے سے یا بے ہودہ برا فعل کرنے سے۔ بے شک اللہ تعالی ٰنہ تو فاحش کو پسند کرتا ہے اور نہ ہی متشخص کو ( برائی کرنے والے اور بے حیائی کرنے والے کو )۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو ظلم سے بے شک ہے اور نہ ہی وہ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن تاریکی ہوگی اور بچاؤ تم اپنے آپ کو نفس کی تیزی سے اور بخل سے ۔ بے شک اس نے ہی تم سے پہلے لوگوں کو قطع رحمی کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ لہذا انہوں نے قطع رحمی کرلی تھی اور اس نے ان کو آمادہ کیا تھا حرمت ریزیاں کرنے پر۔ لہذا انہوں نے حرمت ریزیاں کی تھیں اور اس نے ان کو آمادہ کیا تھا خون بہانے پر ۔ لہذا انہوں نے ایک دوسرے کے خون بہانے شروع کر دئیے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ثَوْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10833

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10834

10834 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة و المسعودي عن عمرو بن مرة قال : سمعت عبد الله بن الحارث يحدث عن أبي كثير الزبيدي عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم و الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة و إياكم و الفحش فإن الله لا يحب الفحش و لا التفحش و إياكم و الشح فإنه أهلك من كان قبلكم أمرهم بالقطيعة فقطعوا و أمرهم بالبخل فبخلوا و أمرهم بالفجور ففجروا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن نورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے اور مسعودی نے ان کو عمرو بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبد اللہ بن حارث سے۔ وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو کثیر ز بیری سے، اس نے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم اپنے آپ کو ظلم سے۔ بے شک ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو بد گوئی سے اور برائی سے۔ بے شک اللہ تعالی ٰبرائی اور بد گوئی کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی گالی گلوچ اور بد کرداری کو اور بچاؤ تم اپنے آپ کو بخل سے اور نفس کی تیزی سے۔ اسی چیز نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ اسی چیز نے ان کو قطع رحمی کرنے پر آمادہ کیا تھا ، جس کی وجہ سے انہوں نے قطع رحمی کی تھی اور اس نفس کی تیزی نے ان کو بخل کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ لہذا انہوں نے بخل کیا تھا اور اسی تیزی نفس نے ان کو نا فرمانی اور بدکاری پر آمادہ کیا تھا۔ لہذاوہ نافرمان اور بد کردار بن گئے تھے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شعبة و المسعودي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10834

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10835

10835 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن ملاعب نا عمر بن حفص بن غياث عن أبيه نا الأعمش عن أنس قال : توفي رجل من أصحابه فقالوا أبشر بالجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو لا تدرون فلعله قد تكلم بما لا يعنيه أو بخل بما لا ينفعه هذا هو المحفوظ

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعلی اسماعیل بن محمد صفار نے انکو احمد بن ملاعب نے ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا تھا تو انہوں نے اس کے بارے میں یوں کہا کہ اے فلاں شخص تو خوش ہو جا جنت کے ساتھ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے ہو شاید اس نے کوئی لایعنی کلام کی ہوگی یا ایسی چیز میں بخیلی کی ہو جو چیز اس کے فائدے کی نہیں تھی۔ یہی بات محفوظ ہے۔

أبشِرْ بالجنةِ، ← توفي رجل من أصحابه ← أَنَسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10835

شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10836

10836 - و أخبرنا أبو سهل المهراني أنا محمد بن جعفر بن مطر نا أبو حنيفة الواسطي نا الحسن بن جبلة نا سعيد بن الصلت عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس بن مالك قال : أصيب رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يوم أحد فجاءت أمه فقالت : يا بني ليهنئك الشهادة فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : و ما يدريك لعله كان يتكلم بما لا يعنيه و يبخل بما لا يعنيه

ہمیں خبر دی ابو سہل مہرانی نے ان کو محمد بن جعفر بن مطر نے ان کو ابی حنیفہ واسطی نے ان کو حسن بن جبلہ نے ان کو سعید بن صلت نے اعمش سے ان کو ابوسفیان نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ جنگ احد والے دن اصحاب رسول میں سے ایک آدمی شہید ہو گیا تھا۔ اس کی ماں آئی اور کہنے لگی اے میرے بیٹے تمہیں شہادت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ آپ کو کیا معلوم شاید کہ اس نے کوئی لایعنی بات کی ہوگی یا کسی غیر ضروری چیز میں بخل کیا ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ، ← الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ ← أَبُو حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ ← محمد بن جعفر بن مطر ← أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10836

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood