شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10825
10825 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا العباس بن الفضيل النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا خالد بن عبد الله عن داود بن أبي هند عن عكرمة عن ابن عباس : في قوله عز و جل : { فأما من أعطى و اتقى * و صدق بالحسنى } قال : أعطى من ماله و اتقى ربه { و صدق بالحسنى } : بالخلف من الله عز و جل { فسنيسره لليسرى } : قال : للخير من الله عز و جل { و أما من بخل و استغنى * و كذب بالحسنى } قال : بخل بماله و استغنى عن ربه و كذب بالخلف من الله { فسنيسره للعسرى } : للشر من الله عز و جل : قال الإمام أحمد : فثبت بجميع ما ذكرناه أن الجود من مكارم الأخلاق و البخل من أراذلها و ليس الجواد الذي يعطي في غير موضع العطاء و لا البخيل الذي يمنع في موضع المنع لكن الجواد من يعطي في موضع العطاء و البخيل الذي يمنع في موضع العطاء فكل من استفاد بما يعطي أجرا أو حمدا فهو الجواد و من استحق بالبخل ذما أو عقابا فهو البخيل و بسط الكلام فيه
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عباس بن فضیل نصروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خالد بن عبد اللہ نے ان کو داؤ دین ابو ہند نے ان کو عکرمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں۔ فاما من اعطى واتقى وصدق بالحسنى ۔جس نے مال دیا اورڈرا۔ فرمایا کہ اعطی سے مراد ہے اعطی من ماله ۔ جس نے اپنے مال میں سے دیا۔ اور واتقی سے مراد ہے جو شخص اپنے رب سے ڈرا اور وصدق بالحسنی ۔ جس نے حسنیٰ کی تصدیق کی سے مراد ہے جس نے فرمانی نہ کی۔ فسنيسره لليسرى ۔عنقریب ہم اس کو آسانی کر دیں گے آسانی کے لئے۔ فرمایا کہ آسان سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کے لئے اور و امامن بخل و استغنٰى و كذب بالحسنى۔ بہر حال جس نے بخیلی کی اور بے پرواہ بن گیا اور جس نے جنت کی تکذیب کی۔ فرمایا: اس سے مراد ہے کہ اس نے اپنے مال کے ذریعے بخیلی کی اور رب سے بے پرواہی کی اور اللہ سے خلف کی تکذیب کی۔ فسنیسرہ للعسریٰ۔ ہم اس کے لئے عسریٰ کو آسان کریں گے کا مطلب ہے کہ شر کے لئے ۔ اللہ کی طرف سے۔
ابن عباس في قوله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← العباس بن الفضيل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10825
