Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10796

10796 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي نا سعيد بن مسعود نا عبيد الله بن موسى نا شيبان عن يحيى أخبرني أبو سلمة أنه سمع أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يغار و إن المؤمن يغار و غيرة الله أن يأتي المؤمن ما حرم الله عز و جل عليه رواه البخاري عن أبي نعيم عن شيبان و أخرجه من وجه آخر عن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محجوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے ان کو یحیی ٰنے ان کو خبر دی ابو سلمہ نے اس نے سنا ابو ہریرہ سے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا’’ بے شک اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور یہ کہ مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ کی غیرت ( بایں وجہ ) ہوتی ہے کہ مومن ہر اس کام کا ارتکاب کرے جو اللہ نے اس پر حرام کر رکھا ہے۔“ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابو نعیم ہے۔ اس نے شیبان سے اور ایک دوسرے طریق سے یحییٰ سے بھی نقل کیا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← اَبُوْ سَلَمَۃَ، اَنَّہٗ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10796

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10797

10797 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن زيد بن أسلم قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الغيرة من الإيمان و المذاء من النفاق و المذاء الديوث هذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے۔ ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک غیرت ایمان کا حصہ ہے اور بے غیرتی منافقت کا حصہ ہے اور بے غیرت دیوث (دلہ ) ہوتا ہے۔‘‘یہ روایت اسی طرح مرسل آئی کہ تابعی نے بیچ سے صحابی کا واسطہ چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت فرمادی ہے۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10797

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10798

10798 - و قد رويناه عن أبي مرحوم عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الغيرة من الإيمان قال الحليمي رحمه الله : المذاء أن يجمع الرجال و النساء ثم يخليهم يماذي بعضهم بعضا و أخذ من المذي و قيل : هو إرسال الرجال مع النساء من قولهم مذيت فرس إذا أرسلتها ترعى قال : و قال الله عز و جل : { و قل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن و يحفظن فروجهن و لا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها } الآية و قال : { يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا } فدخل في جملة ذلك أن يحمي الرجل امرأته و بنته مخالطة الرجال و محادثتهم و الخلوة بهم

اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے اپنے والد مرحوم سے، اس نے زید بن اسلم سے اس نے عطا ، بن یسار سے اس نے ابوسعید خدری سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ: الغيرة من الايما غیرت ایمان میں سے ہے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ’’ مذاء‘‘ یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط ہو۔ یعنی غیر مرد اور غیر عورتیں ( غیر محرم مرد وعورتیں باہم جمع ہوں ) پھر ان کو تخلیہ اور علیحدگی دے دی جائے کہ ان کا بعض بعض کے ساتھ دل لگیاں کرے۔ (یا اظہار انس و محبت کرے یا بوس و کنار کرے جیسے اس دور میں مغربی اور یہودی تہذ یب کے خوگر لوگوں میں رواج ہے)۔ (واضح رہے کہ مذی کو منافقت فرمایا گیا ہے ) اور مذا، (مذی کرانے والا ) کو دیوث اور بے غیرت بتایا گیا ہے۔ دراصل یہ لفظ المندی کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ المذى هو ارسال الرجال مع النساء کہ مذی کہتے ہیں مردوں کو عورتوں کے ساتھ چھوڑنے کو اور یہ لفظ مذی اس عربی محاورے سے لیا گیا ہے کہ ایک عرب کہتا ہے: مذيت الفرس کہ میں نے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیا ہے اور اذا ارسلتها ترغی۔ جب اس کو چراگاہ میں اس طرح چھوڑ دیں کہ وہ آزادی کے ساتھ گھوم پھر کر خوب چر سکے ۔ ( گویا کہ مردوں عورتوں) کو بھی ایسے آزاد چھوڑ دینا کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ آزاد ہوں۔ ایک دوسرے کے وجود اور جسم سے قولی طور پر ہو یا فعلی طور پر لطف اندوز ہوں۔ یہ انداز اسلام میں اور شریعت محمدی میں ناجائز اور حرام ہے۔ اور یہی اس دور میں آزادی، آزاد اقوام، آزاد خیالی، روشن خیالی، وسعت نظری جیسے پر فریب الفاظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ دراصل یہ یہودیت زدہ ذہن کی اختراع ہے۔ العیاذ باللہ العظیم حالانکہ ارشاد باری تعالی ہے: وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ماظهر منها الخ (سورة نور، پاره ۱۸) (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ فرمادیجئے اہل ایمان عورتوں سے کہ وہ اپنی نظریں (شرم و حیا کے ساتھ ) نیچی رکھیں اور اپنی عزتوں (شرمگاہوں) کی حفاظت کیا کریں اور اپنے حسن و خوبصورتی کو ظاہر نہ کیا کریں۔ سوائے ان اعضاء کے جو ان میں ( قدرتی طور پر) ظاہر ہیں ۔ ( مثلاً چہرہ، ہاتھ ، پیر )۔ پوری لمبی آیت پڑھنی چاہئے جو اس کی تفصیل ہے۔ نیز ارشاد باری تعالی ٰہے: يا ايها الذين أمنوا قوا انفسكم واهليكم ناراً الخ (سورۃ تحریم ، پاره ۲۸) اے اہل ایمان ، اپنے آپ کو بچاؤ اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے۔ اس مجموعے میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ مرد اپنی بیوی کی حفاظت کرے اور اپنی بیٹی کی بھی غیر مردوں کے ساتھ میل جول سے اور اختلاط سے اور ان کے ساتھ بے تکلف ہو کر باتیں کرنے سے اور ان کے ساتھ خلوت اور علیحدگی میں رہنے سے۔

الحليمي المذاء ← الغيرة من الإيمان ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← و قد رويناه

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10798

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10799

10799 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا يزيد بن زريع نا عمر بن محمد العمري عن عبد الله بن يسار عن سالم عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يدخلون الجنة العاق لوالدبه و المرأة المترجلة و الديوث

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو عمر بن محمد عمری نے ان کو عبداللہ بن یسار نے ان کو سالم نے ان کو ابن عمر نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اپنے والدین کا نافرمان اور مردوں سے مشابہت بنانے والی عورت اور دیوث آدمی ( یعنی اپنی بیوی دوسرے مردوں کو پیش کرنے والا )۔

ثلاثة لا يدخلون الجنة العاق لوالدبه و المرأة المترجلة و الديوث ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10799

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10800

10800 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري نا محمد بن مسلم بن واره حدثني محمد بن موسى بن أعين قال : وجدت في كتاب أبي موسى بن أعين عن عمرو بن الحارث عن سعيد يعني ابن أبي هلال عن أمية يعني ابن هند عن عمرو بن حارثه عن عروة بن محمد بن عمار بن ياسر عن أبيه عن جده عمار بن ياسر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يدخلون الجنة أبدا الديوث من الرجال و الرجلة من النساء و مدمن الخمر فقالوا : يا رسول الله أما مدمن الخمر فقد عرفناه فما الديوث من الرجال قال : الذي لا يبالي من دخل على أهله قلنا : فالرجلة من النساء قال : التي تشبه الرجال

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابو الحسن علی بن ابراہیم بن معاویہ نیشاپوری نے ان کو محمد بن مسلم بن دارہ نے ان کو محمد بن موسیٰ بن اعین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو موسیٰ بن اعین کی کتاب دیکھی، اس نے راویت کی عمرو بن حارث سے، اس نے سعید سے یعنی ابن ابوھلال سے اس نے امیہ سے یعنی ابن ھند سے، اس نے عمرو بن حارثہ سے اس نے عروہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے، اس نے اپنے والد سے، اس نے اس کے دادا عمار بن یاسر سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے ہمیشہ کے لئے مردوں میں سے دیوث آدمی عورتوں میں مردوں کی مشابہت بنانے والی اور دائمی اور عادی شرابی۔ لوگوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال دائمی اور عادی شرابی تو ہم نے پہچان لیا ہے۔ ہم جانتے ہیں ان کو مگر مردوں میں سے دیوث کون ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس گھر میں کون داخل ہوا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ عورتوں سے رجلہ کون ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جومردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جده عمار بن ياسر ← أَبِيهِ ← عروة بن محمد بن عمار بن ياسر ← عمرو بن حارثه ← أمية يعني ابن هند ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← وجدت في كتاب أبي موسى بن أعين ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ أَعْيَنَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10800

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10801

10801 - قرأت في تاريخ البخاري عن عبد الرحمن بن شبيه قال : أخبرني ابن أبي فديك حدثني موسى بن يعقوب عن أبي رزين الباهلي أخبره عن مالك بن يخامر أخبره أنه : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله لا يقبل من الصقور يوم القيامة صرفا و لا عدلا فقلنا : و ما الصقور يا رسول الله قال : الذي يدخل على أهله الرجال

میں نے تاریخ بخاری میں پڑھا، عبدالرحمن ٰبن شیبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابن ابوفدیک نے ان کو حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن یعقوب نے ان کو ابو رزین باھلی نے ان کو خبر دی مالک بن یخام نے ، اس نے اس کو خبر دی ہے۔ ان کو خبر دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بے غیرت اور بے شرم آدمی کی کوئی فرضی عبادت یا نفلی عبادت قبول نہیں کریں گے۔ ہم لوگوں نے پوچھا کہ وہ یعنی صقور آدمی کون ہوتا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ شخص جس کے گھر میں غیر محرم مرد آتے جاتے ہوں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّهُ ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، ← أبي رزين الباهلي ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← عبد الرحمن بن شبيه ← في تاريخ البخاري

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10801

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10802

10802 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي نا عمران بن موسى نا عثمان بن أبي شيبة نا عبده بن سليمان عن هشام عن زينب بنت أم سلمة عن أم سلمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان عندها و في البيت مخنث قال : المخنث لأخ أم سلمة عبد الله بن أبي أمية إن فتح الله لكم الطائف فإني أدلك على بنت غيلان فإنها تقبل بأربع و تدبر بثمان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل هؤلاء عليكم رواه البخاري عن عثمان بن أبي شيبة و أخرجاه من أوجه أخر عن هشام بن عروة قال الإمام أحمد : ثم إن الغيرة التي ذكرنا إنما تكون محمودة إذا وقعت في موقع الريبة فأما إذا لم تطب نفس الرجل بأن تخلو ابنته بابنه أو أخته بأخيها فليس ذلك بمحمود و في هذا المعنى ورد ما

ہمیں خبر دی ابو عمر محمد بن عبد اللہ ادیب نے ، ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو عمران بن موسیٰ نے ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو ان کے غلام بن سلیمان نے ہشام سے، اس نے زینب بنت ام سلمہ سے اس نے ام سلمہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے اور گھر میں ایک مخنث موجود تھا (ہیجڑا۔ نامرد) چنانچہ اس ہیجڑے نے ام المومنین ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابو امیہ سے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لئے طائف کا شہر فتح کر دے تو میں آپ کو غیلان کی بیٹی دکھاؤں گا۔ وہ ایسی ہے کہ آگے سے یعنی سامنے سے اس کے چار چارچنٹ اور بل پڑتے ہیں، پیچھے سے (دبر پر ) تو آٹھ آٹھ بل پڑتے ہیں۔ ( گویا کہ یہ ہیجڑا اس عورت کے حسن کی اور اس کے سامنے اور پیچھے کے جسم کی صورت کشی کر کے بتلارہا تھا۔ ) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں سے سن لیا تو از راہ غیرت واز راہ شرم و حیاء ) آپ نے فرمایا لا يدخل هؤلاء علیکم یہ لوگ تم لوگوں کے پاس نہ آیا کریں۔ یعنی علیکم فرمایا علیکن نہیں فرمایا۔ عورتوں کے پاس نہیں بلکہ مردوں کے پاس بھی ان کے داخلے کو رحمت عالم غیرت مجسم نے منع فرما دیا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا عثمان بن ابو شیبہ سے اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے دیگر طرف سے ہشام بن عروہ سے کہ امام احمد نے فرمایا کہ پھر وہ غیرت ہم نے جس کو ذکر کیا ہے یقیناً وہ محمود اور قابل تعریف ہوتی ہے۔ جب شک کے موقع پر واقع ہو۔ بہر حال جب کسی آدمی کا دل اس بات پر مطمئن نہ ہو، اس بات سے کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے کے ساتھ خلوت میں رہنے دے یا اپنے بھائی کو اپنی بہن کے ساتھ خلوت میں دیکھے، یہ بات محمود اور پسندیدہ نہیں ہے اور اسی مفہوم میں یہ روایت وارد ہوئی ہے جو درج ذیل ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10802

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10803

10803 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عفان نا أبان نا يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم عن ابن جابر بن عتيك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من الغيرة ما يحبه الله عز و جل و منها ما يبغض الله فأما الغيرة التي يحب الله فالغيرة في الريبة و أما الغيرة التي يبغض الله فالغيرة في غير ريبة و أما الخيلاء التي يحبها الله فاختيال الرجل بنفسه عند القتال أو اختياله عند الصدقة و الخيلاء التي يبغض الله فاختيال الرجل بنفسه في الفخر و الخيلاء

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ان کو عفان نے ان کو ابان نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو بن جابر بن عتیک نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہ بے شک عزت میں سے ایک غیرت تو وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اور پسند کرتا ہے اور ایک وہ غیرت بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے۔ جس غیرت کو اللہ تعالی ٰپسند کرتا ہے وہ تو وہ غیرت ہے جو شک کے مقام پر ۔ بہر حال جس غیرت کو اللہ تعالی ٰانتہائی نا پسند کرتا ہے وہ غیرت ہے جو غیر شک کے محل میں ہو۔ بہرحال غرور و تکبر جس کو اللہ تعالی ٰپسند کرتا ہے وہ غرور اور تکبر اور فخر کرنا ہے جو جہاد اور قتال میں اپنی ذات اور نفس میں کرتا ہے یا صدقہ کرتے وقت بڑائی کرتا ہے اور وہ تکبر اور بڑائی جس کواللہ تعالی ٰنا پسند کرتا ہے۔ وہ وہ فخر اور تکبر اور اترانا ہے جو فخر اور بڑائی انسان اپنے دل میں رکھتا ہے۔

ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10803

شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10804

10804 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الرازي يقول : حضرت مجلس موسى بن إسحاق القاضي و قدمت امرأة زوجها إليه فادعت عليه مهرها خمسمائة دينار فأنكر الرجل فقال وكيل المرأة قد أحضرت شهودي فقال : واحد من الشهود انظر إلى المرأة فقام و قامت فقال الزوج بفعل ماذا ينظر إلى امرأتي قالوا : نعم قال : فإني أشهد القاضي أن لها علي مهرها خمسمائة دينار كلها ذهبا عينا مثاقيل و لا تسفر عن وجهها قالت المرأة : فإني أشهد القاضي أني قد وهبتها له قال القاضي : يكتب هذا في مكارم الأخلاق قال الإمام أحمد رحمه الله : قال الحليمي : و يدخل في الغيرة الغيرة على الدين حتى إذا سمع مخالفا في الدين يطعن في دين الإسلام لم يسكن و لم يغص و من هذا الباب المحافظة على الجهاد و في سبيل الله عز و جل دفعا للمشركين عن عورة المسلمين و إشفاقا من أن يظهروا على شيء من الدار فيسبوا النساء و الذراري و أول ما يدخل في هذه الجملة الغيرة من كل مسلم على دينه حتى لا يسلم بركوب المعاصي و بسط الكلام في كل فصل من هذه الفصول و الله يوفقنا لطاعته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رازی سے ، وہ فرماتے تھے میں حضرت موسیٰ بن اسحاق قاضی کی مجلس میں حاضر ہوا۔ ایک عورت ان کی عدالت میں اپنے شوہر کو لے آئی اور اس نے اس پر دعویٰ دائر کر دیا کہ اس کے اوپر پانچ سو دینار میر امہر واجب الادا ہے۔ اس شخص نے انکار کر دیا۔ چنانچہ اس عورت کے وکیل نے کہا کہ میں اپنے گواہ پیش کرتا ہوں جو کہ میں نے کر آیا ہوں۔ لہذا گواہوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں پہلے کو دیکھوں گا (یعنی اس کو دیکھے بغیر اس کے بارے میں کیسے گواہی دوں؟ ) اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا اور عورت بھی کھڑی ہو گئی (یہ سنتے ہی ) اس شوہر نے کہا بہر صورت یہ میری بیوی کو دیکھے گا ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں دیکھے گا۔ اتنے میں اس نے کہا کہ میں جج کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میرے ذمہ واقعی اس کے مہر کے پانچ سو دینار ہیں، سب کے سب خالص سونے کے مثقال ہیں۔ (لہذا یہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹا کر غیر مرد کے سامنے ) اپنا چہرہ نہ کھولے۔ (اپنے شوہر کی یہ غیرت ملاحظہ کرتے ہی ) عورت نے کہا کہ میں اس جج ( قاضی ) کو گواہ کر کے کہتی ہوں کہ بے شک میں نے وہ اپنے مہر کے پانچ سو دینار اپنے شوہر کو بطور ہبہ کے بخش دیئے ہیں۔ قاضی نے فیصلہ لکھا کہ یہ واقعہ مکارم اخلاق ( اعلی ترین اخلاق کی مثال ) کے طور پر لکھ دیا جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اور غیرت کے اندر وہ غیرت بھی داخل ہے جو غیر دین کے لئے کہ جب انسان یہ سن لے کہ کوئی مخالف اسلام و مخالف دین ، دین اسلام میں طعن کرتا ہے یا اعتراض کرتا ہے تو وہ بے قرار ہو جائے اور اس نا گوار بات کو برداشت نہ کرے۔ اور اسی غیرت کے باب میں ہے جہاد فی سبیل اللہ کی محافظت کرنے ،مشرکین کو دفع کرنے کے لئے مسلمانوں کی غیرت سے اور اس بات کا اندیشہ کرنے کے لئے کہ وہ کہیں دار اسلام پر غالب نہ آجائیں۔ لہذا وہ عورتوں اور اولادوں کو گالیاں دیں گے اور ہتک عزت کریں گے۔ پہلے نمبر پر جو چیز فی الجملہ اور مجموعی طور پر اس غیرت میں داخل ہے جو کہ ہر مسلم کے اندر ہونی چاہئے وہ وہی غیرت ہے جو اس کے دین پر ہو۔ حتی کہ وہ اس دینی غیرت کی وجہ سے گناہوں کے ارتکاب پر برداشت نہ کرے اور تفصیل سے کلام کیا گیا ہے ان فصلوں میں سے ہر فصل پر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عطا کرے۔

أبا عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الرازي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10804

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood