Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7592

7592 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا أبو عوانة و جرير عن معاوية عن إسحاق عن سعيد بن جبير قال : قلت لابن عباس آمر إمامي بالمعروف ؟ قال : إن خشيت أن يقتلك فلا فإن كنت فاعلا ففيما بينك و بينه زاد أبو عوانة و لا تعب إمامك

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابوعوانہ نے اور جریر نے معاویہ سے اس نے اسحٰق سے اس نے سعید بن جبیر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا کیا میں اپنے امام وخلیفہ کو امر بالمعروف کروں ؟ فرمایا کہ اگر تجھے یہ خوف ہو کہ وہ تجھے قتل کر دے گا تو پھر نہ کہو۔ اور اگر تم لازمی طور پر کہنا چاہتے ہوتو پھر اسی قدر جو تمہارے اور اس کے درمیان ہوں ۔ ابوعوانہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اپنے امام کو مشقت میں نہ ڈال ۔

قلت لابن عباس آمر إمامي بالمعروف ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← إِسْحَاقُ ← مُعَاوِيَةَ، ← أبو عوانة و جرير ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 7592

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7593

7593 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : أتى رجل إلى ابن عباس قال ألا أقوم إلى هذا السلطان فآمره و أنهاه ؟ قال : لا تكن لك فتنة قال : أفرأيت إن أمرني بمعصية ؟ قال : فذاك الذي تريد فكن حينئذ رجلا

میں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا کیا میں اس بادشاہ کے پاس نہ جاؤ میں اس کو امر کروں گا اور نہی کروں گا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تو وہ کہہ جو ارادہ کرتا ہے اس وقت تو ایک آدمی ہوگا ۔

فذاك الذي تريد فكن حينئذ رجلا ← أفرأيت إن أمرني بمعصية ← لا تكن لك فتنة ← ألا أقوم إلى هذا السلطان فآمره و أنهاه ← أتى رجل إلى ابن عباس ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7593

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7594

7594 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري قالا نا أبو العباس الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر عن مالك قال : إن الله عز و جل أمر بقرية أن تعذب فضجت الملائكة قالت إن فيهم عبدك فلانا قال اسمعوني ضجبجه فإن وجهه لم يتمعر غضبا لمحارمي هذا هو المحفوظ من قول مالك بن دينار و قد روي من وجه آخر ضعيف مرفوعا كما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابومحمد بن مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خیر دی ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے کسی ہستی کو عذاب دینے کا حکم دیا تو فرشتے چیخ اٹھے کہ اس بستی میں تیرا فلاں نیک بندہ بھی رہتا ہے اللہ تعالی ٰ نے فرمایا کہ وہ کیسا نیک ہے میرے محرمات کے ارتکاب کرنے والوں کے خلاف ناراض ہونے کی وجہ سے کبھی اس کے چہرے پر بل بھی نہیں آیا۔ یہی محفوظ ہے مالک بن دینار کے قول میں سے ۔ اور ایک دوسرے طریق سے جو کہ ضعیف ہے مرفوعاً مروی ہے ۔ جیسے ذیل میں ہے۔

إن فيهم عبدك فلانا ← إن الله عز و جل أمر بقرية أن تعذب فضجت الملائكة ← مَالِكٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري

Hadith 7594

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7595

7595 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا أبو أسامة نا عبيد بن إسحاق العطار نا عمار بن سيف عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوحي الله عز و جل إلى جبريل عليه السلام أن أقلب مدينة كذا و كذا بأهلها قال : فقال يا رب إن فيهم عبدك فلانا لم يعصك طرفة عين قال : فقال : اقلبها عليهم فإن وجهه لم يتمعر في ساعة قط

ہمیں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابواسامہ نے ان کو عبید بن اسحٰق عطار نے ان کو عمار بن سیف نے ان کو اعمش نے ان کو ابوسفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰنے جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ فلاں شہر کو اس کے باسیوں سمیت الٹ دو کہتے ہیں کہ جبرائیل امین نے عرض کیا بے شک ان میں تیرافلاں نیک بندہ بھی موجود ہے جس نے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی تیری نافرمانی کبھی نہیں کی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے فرمایا کہ تو اسی سمیت شہر کوالٹ دے اس لئے کہ میری وجہ سے کبھی بھی ایک لمحے کے لئے بھی اس کے چہرے پر ناپسندیدگی نہیں آئی ( نافرمانوں کے خلاف۔)

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 7595

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7596

7596 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن حامد القطان نا أحمد بن الحسين الصوفي نا يحيى بن معين نا سعيد بن عامر عن جعفر بن سليمان قال : قال مالك بن دينار اصطلحنا على حب الدنيا فلا يأمر بعضنا بعضا و لا ينهى بعضنا بعضا و لا يذرنا الله تعالى على هذا فليت شعري أي عذاب ينزل

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن احمد بن حامد قطان نے ان کو احمد بن حسین صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو جعفر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار سے کہا ہم لوگوں نے جب دنیا کے معاملے پر آپس میں اتفاق کرلیا ہے ہم لوگ ایک دوسرے کو نہ تو امر بالمعروف کرتے ہیں اور نہ ہی نہی عن المنکر کرتے ہیں اور اللہ تعالی ٰہمیں اس حالت پر زیادہ دیر نہیں چھوڑیں گے کاش کہ معلوم ہوتا کہ کونسا عذاب نازل ہو جائے ۔

جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أحمد بن الحسين الصوفي، ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن حامد القطان ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 7596

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7597

7597 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي حدثني أبو معمر الهذلي نا أبو عبيدة الحداد وهو عبد الواحد بن واصل نا راشد إمام مسجد ابن أبي عروبة عن عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء عن ابن عباس في قوله تعالى : ـ { و لولا دفع الله الناس بعضهم ببعض } قال : يدفع الله بمن يصلي عمن لا يصلي و بمن يحج عمن لا يحج و بمن يزكي عمن لا يزكي قلت و هذا يكون إلى ما شاء الله و قد يدعهم فيهلكوا جميعا إذا كثر الفساد ثم يبعثهم الله على نياتهم كما جاء في الحديث الذي

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو حاتم رازی نے ان کو ابو معمر ہنر لی نے ان کو ابوعبید ہ حداد نے وہ عبدالواحد بن واصل ہے ان کو راشد ( امام مسجد بن عروبہ ) نے ان کوعمرو بن مالک نے ان کو ابوالجوزاء نے ان کو ابن عباس نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ولا لا دفع الله الناس بعضهم ببعض ۔ اگر اللہ تعالی ٰکی طرف سے بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرنا نہ ہوتا تو نہیں میں فساد برپا ہو جاتا ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰ نماز کے ساتھ بے نماز سے اور حاجی کے ساتھ غیر حاجی سے اور زکوٰۃ دینے والے کے ساتھ زکوٰۃ نہ دینے والے سے دفع کرتا ہے (اور حفاظت کرتا ہے ) میں نے کہا کہ یہ معمول تو جب تک اللہ چاہے گا جاری رہے گا ۔ اور کبھی وہ انہیں چھوڑ کر نظر انداز کر دے گا تو پھر سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے جب فساد بہت ہو جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی ٰ ان کو آپ کے ارادوں و نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ جیسے آنے والی حدیث میں ہے۔

ابن عباس في قوله تعالى و لولا دفع الله الناس بعضهم ببعض ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← راشد إمام مسجد ابن أبي عروبة ← أبو عبيدة الحداد وهو عبد الواحد بن واصل ← أبو معمر الهذلي ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 7597

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7598

7598 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا سفيان عن الزهري عن عروة عن زينب بنت أبي سلمة عن حبيبة عن أمها أم حبيبة عن زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : استيقظ النبي صلى الله عليه و سلم من نوم محمرا وجهه و هو يقول لا إله إلا الله ثلاث مرات و يل للعرب من شر قد اقترب فتح من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذه و حلق حلقة بإصبعه قلت يا رسول الله انهلك و فينا الصالحون ؟ قال نعم إذا كثر الخبث أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار (سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے زہری سے اس نے عروہ سے اس نے زینب بنت ابوسلمہ سے اس نے حبیبہ سے اس نے اپنی والدہ رضی اللہ عنہا حبیبہ سے اس نے زینب زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتی ہیں کہ حضور نیند سے اس حالت میں اٹھے کہ چہرہ مبارک سرخ ہور ہا تھا اور کہ یہ کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ تین بار یہ کلمہ دہرانے کے بعد فرمایا عربوں کے لئے اس شر سے ہلاکت اور خرابی ہے جو کہ قریب آ چکا ہے۔ یاجوج ماجوج کی دیوار میں سراخ کھول دیا گیا ہے اس کی مثل آپ نے اپنی انگلی سے حلقہ بنا کر دیکھایا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم بلاک کر دیئے جائیں حالانکہ ہمارے اندر نیک صالح لوگ بھی ہیں؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں جب برے لوگ زیادہ ہو جائیں گے ۔ یا جب زنا عام ہو چکا ہوگا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے سفیان بن عینیہ کی حدیث سے ۔

زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حبيبة ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السري

Hadith 7598

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7599

7599 - أخبرنا أبو الحسن العلوي نا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ املاه علينا من حفظه سنة خمس و عشرين و ثلثمائة نا محمد بن يحيى الذهلي نا عمرو بن عثمان الرقي نا زهير بن معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قلت يا رسول الله إن الله سبحانه ينزل سطواته بأهل الأرض و منهم الصالحون فيهلكون بهلاكهم فقال يا عائشة إن الله سبحانه إذ أنزل سطوته على أهل نقمته فوافت ذلك آجال قوم صالحين فأهلكوا بهلاكهم ثم يبعثون على نياتهم و أعمالهم 7599 - م ـ حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو نصر محمد بن حمدويه المقري نا محمود بن آدم نا سفيان بن عيينة عن جامع بن أبي راشد عن منذر الثوري عن الحسين بن محمد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذ ظهر السوء في الأرض أنزل الله عز و جل بأهل الأرض بأسه قلت يا رسول الله و فيهم أهل طاعته ؟ قال نعم ثم يصيرون إلى رحمة الله

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے بطور املاء کے بتلایا۔ اپنے حافظہ سے ۳۲۵ ھ میں ان کو خبر دی محمد بن یحییٰ ذھلی نے ان کو عمر و بن عثمان رقی نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اللہ تعالی ٰاہل زمین پر سختیاں اتارتے ہیں ۔ حالانکہ بعض ان میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں وہ بھی دوسروں کی ہلاکت کے ساتھ ہلاک ہو جاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ بے شک اللہ سبحانہ جس وقت اپنی سزا اہل سزا پر اتارتے ہیں تو وہ نیک لوگوں کے اجل بھی لے آتی ہے ۔ لہذا وہ بھی ان کی ہلاکت کے ساتھ ہلاکت کر دیئے جاتے ہیں بعد میں اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابونصر محمد بن حمد ویہ مقری نے ان کو محود بن آدم نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو جامع بن ابوراشد نے ان کو منذ رثوری نے ان کو حسین بن محمد انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب دھرتی پر برائی عام ہو جائے اللہ تعالی ٰ اہل زمین اپنا عذاب نازل کرتے ہیں ۔ میں نے کہا یارسول اللہ حالانکہ ان میں اہل اطاعت بھی تو ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسکے بعد وہ اللہ کی رحمت کی طرف رجوع کریں گے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ أملأه علينا من حفظه ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 7599

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7600

7600 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا نا الأصم نا الخضر نا سيار نا جعفر سمعت مالك بن دينار : قرأ هذه الآية : { و كان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الأرض و لا يصلحون } قال فكم اليوم في كل قبيلة و حي من الذين يفسدون في الأرض و لا يصلحون

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابومحمد بن ابوحامد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی اصم نے ان کو خضر نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے اس نے سنا حضرت مالک بن دینار سے انہوں نے یہ آیت پڑھی تھی ۔ وكان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الارض ولايصلحون۔(النحل ۴۸ ) شہر میں نو افراد کا گروہ تھا جو کہ زمین پر فساد مچاتے تھے اصلاح نہیں کرتے تھے۔ مالک بن دینار نے فرمایا۔ ( کہ وہاں تو نو افراد تھے اللہ نے ان کا ذکر بھی کر دیا تھا ) آج ذرا غور فرمائیں کہ ہر قبیلے میں اور ہر محلہ میں ( ہر شہر میں ہر ملک میں تمام ملکوں میں پوری دنیا میں ) کتنے لوگ ہیں جو دھرتی پر فساد برپا کر رہے ہیں اصلاح نہیں پھیلا رہے۔)

مالك بن دينار قرأ هذه الآية ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ، ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Hadith 7600

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7601

7601 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر و أحمد بن عيسى قالا نا بشر بن بكر نا الأوزاعي ح و أخبرنا أبو عمرو الرزجاهي نا أبو محمد عبد الله بن علي بن علي ين زياد الدقاق أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الأنماطي نا الحسين بن عيسى أنا ابن المبارك أنا الأوزاعي سمعت بلال بن سعد يقول : إن المعصية إذا خفيت لم تضر إلا صاحبها و إذا أعلنت فلم تغير ضرت العامة و في رواية ابن بشران إن الخطيئة إذا خفيت لم تضر إلا عاملها و إذا ظهرت ضرت العامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے اور احمد بن عیسیٰ نے دونوں کو بشر بن بکر نے ان کو وزاعی نے ’’ ح“۔ ہمیں خبر دی ابوعمروز جاہی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد دقاق نے ان کو ابواسحٰق ابراہیم بن محمد انماطی نے ان کو حسین بن عیسیٰ نے ان کو ابن مبارک نے ان کو اوزاعی نے انہوں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہتے تھے کہ گنا و معصیت جب مخفی رہتا ہے تو وہ صرف اس کے کرنے والے کونقصان دیتا ہے اور جب ظاہر کیا جائے تو پھر وہ عام لوگوں کو نقصان دیتا ہے۔ اورابن بشران کی ایک روایت میں ہے کہ گنا ہ جب مخفی ہو تو صرف اس کا عمل کرنے والے کو نقصان دیتا ہے اور جب ظاہر ہو جائے تو سب کو نقصان دیتا ہے۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الأنماطي ← أبو محمد عبد الله بن علي بن علي ين زياد الدقاق ← أبو عمرو الرزجاهي ← و، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر و أحمد بن عيسى ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7601

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7602

7602 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن أبي نصر نا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي نا القنبعي عن مالك عن إسماعيل بن أبي حكيم : أنه أخبره أنه سمع عمر بن عبد العزيز يقول كان يقال إن الله عز و جل لا يعذب العامة بذنب الخاصة و لكن إذا عمل المنكر جهارا استحقوا العقوبة كلهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن ابونصر نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰقاضی نے ان کو قعنبی نے ان کو مالک نے ان کو اسماعیل بن ابو حکیم نے کہ انہوں نے خبر دی ہے اس کو کہ اس نے سنا ہے عمر بن عبدالعزیز سے وہ کہتے ہیں کہا جاتا تھا کہ اللہ عزوجل عام لوگوں کو خاص لوگوں کے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیتا لیکن جب گناہ کا عمل ظاہر کیا جائے تو سب لوگ عذاب کے مستحق ہو جائیں گے ۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَنَّهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← القنبعي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7602

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7603

7603 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا نا أبو العباس نا عبيد بن عبد الرحمن بن أبي جعفر المخزومي الدمياطي بها نا أبي نا مسلم يعني ابن ميمون الخواص و كان بالرملة عن زافر حدثني المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أمر بمعروف فليكن أمره بمعروف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس نے ان کو عبید بن عبد الرحمن ٰنے بن ابو جعفر مخزومی دمیاطی نے ان کو ان کے والد نے ان کو مسلم نے یعنی ابن میمون خواص نے اور وہ رملہ کے مقام پر تھے انہوں نے زافر سے اس نے منثی بن صباح سے اس نے عمرو بن شعیب سے اس نے ان کے والد سے اس نے ان کے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اچھائی کی تلقین کرے اس کو چاہئے کہ اس کا اپنا معاملہ بھی اچھائی کا ہونا چاہئے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← زَافِرُ، ← مسلم يعني ابن ميمون الخواص و كان بالرملة ← أَبِي ← عبيد بن عبد الرحمن بن أبي جعفر المخزومي الدمياطي بها ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Hadith 7603

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood