شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7580
7580 - حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو إسحق إبراهيم بن أحمد بن فراس نا علي بن عبد العزيز نا أبو عبيد نا علي بن عاصم : فذكر هذا الإسناد و زاد في أول الحديث لا تقفن عند رجل يقتل فإن اللعنة تنزل على من حضره حين لم يدفعوا عنه و لا تقفن عند رجل يضرب مظلوما فإن اللعنة تنزل على من حضره قال و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي لامرئ يشهد مقاما فيه مقال حق إلا تكلم فيه فإنه لن يقدم أجله و لن يحرمه رزقا هو له
ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن احمد بن فراس نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے ان کو علی بن عاصم نے اس نے اسی سند سے ذکر کیا ہے اس اسناد کو اور حدیث کے اول میں یہ زیادہ کیا ہے کہ آپ کسی کے قتل پر بھی حاضر نہ رہیں کیونکہ جو وہاں حاضر ہو بے شک اس پر لعنت نازل ہوتی ہے جب تک وہ اس کی طرف سے دفاع نہ کریں اور اس جگہ بھی حاضر نہ رہوں جہاں مظلوم کی مار لگ رہی ہو کیونکہ جو وہاں موجود رہے اس پر بھی لعنت نازل ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے مقام پر حاضر ہو جس جگہ حق بات کہنی ہو ( اور وہ نہ کہے ) مگر یہ کہ وہ اس بارے میں کلام کرے کیونکہ ایسا کرنا نہ تو اس کی موت کو لے آئے گا اور نہ ہی اس کو اس کے رزق سے محروم کرے گا ۔
عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،
Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7580
