Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7580

7580 - حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو إسحق إبراهيم بن أحمد بن فراس نا علي بن عبد العزيز نا أبو عبيد نا علي بن عاصم : فذكر هذا الإسناد و زاد في أول الحديث لا تقفن عند رجل يقتل فإن اللعنة تنزل على من حضره حين لم يدفعوا عنه و لا تقفن عند رجل يضرب مظلوما فإن اللعنة تنزل على من حضره قال و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي لامرئ يشهد مقاما فيه مقال حق إلا تكلم فيه فإنه لن يقدم أجله و لن يحرمه رزقا هو له

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن احمد بن فراس نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے ان کو علی بن عاصم نے اس نے اسی سند سے ذکر کیا ہے اس اسناد کو اور حدیث کے اول میں یہ زیادہ کیا ہے کہ آپ کسی کے قتل پر بھی حاضر نہ رہیں کیونکہ جو وہاں حاضر ہو بے شک اس پر لعنت نازل ہوتی ہے جب تک وہ اس کی طرف سے دفاع نہ کریں اور اس جگہ بھی حاضر نہ رہوں جہاں مظلوم کی مار لگ رہی ہو کیونکہ جو وہاں موجود رہے اس پر بھی لعنت نازل ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے مقام پر حاضر ہو جس جگہ حق بات کہنی ہو ( اور وہ نہ کہے ) مگر یہ کہ وہ اس بارے میں کلام کرے کیونکہ ایسا کرنا نہ تو اس کی موت کو لے آئے گا اور نہ ہی اس کو اس کے رزق سے محروم کرے گا ۔

عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7580

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7581

7581 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله الترسي نا يحيى بن أبي بكير نا حماد بن سلمة نا أبو طالب عن أبي أمامة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم عند الجمرة الأولى أي الجهاد أفضل فأعرض عنه ثم سأله عند الجمرة الوسطى فأعرض عنه ثم سأله عند العقبة فوضع رجله في الغرز ثم قال أي الجهاد أفضل يا رسول الله ؟ قال أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر هذا شاهد مرسل جيد

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے اور ان کو احمد بن عبیداللہ ترسی نے ان کو یحیی بن ابوبکیر نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو طالب نے ان کو ابوامامہ نے یہ کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( رمی کر تے ہوئے ) جمرہ اولی ٰ کے پاس سوال کیا کہ کونسا جہاد افضل ہے ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر اس نے ان سے حمیرہ وسطی پر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال جمرہ عقبہ پر کیا۔ اس نے اپنا پیر چمڑے کی بنی ہوئی رکاب میں رکھا اور سوال کیا کہ کون سا جہاد افضل ہے یا رسول اللہ ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل جہاد ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ۔ یہ شاہد ہے مرسل ہے جید ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أبو طالب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أحمد بن عبيد الله الترسي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7581

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7582

7582 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو داود الحفري عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن طارق بن شهاب قال : سئل رسول الله : أي الجهاد أفضل قال كلمة عدل عند إمام جائر

میں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو دا ؤ د حضری نے ان کو سفیان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو طارق بن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ انصاف کہنا۔ حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو:

كلمة عدل عند إمام جائر ← سئل رسول الله أي الجهاد أفضل ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7582

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7583

7583 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا محمد بن عمرو الرزاز نا إسماعيل بن محمد الفسوي القاضي نا مكي بن إبراهيم وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان المروزي نا أبو شهاب معمر بن محمد البلخي نا مكي بن إبراهيم نا هشام بن حسان و الحسن بن دينار عن محمد بن واسع عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : أوصاني رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن أنظر إلى من دوني و لا أنظر إلى من هو فوقي و أوصاني بحب المساكين و الدنو منهم و أوصاني أن أقول الحق و إن كان مرا و أوصاني أن أصل رحمي و إن أدبرت و أوصاني أن لا أخاف في الله لومة لائم و أوصاني أن لا أسأل الناس شيئا و أوصاني أن استكثر من لا حول و لا قوة لا إلا بالله فإنها من كنز الجنة ألفاظهم سواء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو محمد بن عمرورزاز نے ان کو اسماعیل بن محمد فسوی قاضی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواحمد بکر بن محمد بن حمدان مروزی نے ان کو ابو شہاب معمر بن محمد بلخی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن حسان نے اور حسن بن دینار نے ان کومحمد بن واسع نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابوذ ر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ میں اپنے آپ سے کمتر کو دیکھوں اور اس کو نہ دیکھو جو مجھ سے اوپر ہو۔ اور مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب رہوں اور مجھے یہ وصیت فرمائی کہ میں حق بات کہوں اگرچہ کڑوا ہو۔ اور مجھے وصیت کی کہ میں صلہ رحمی کروں اگر چہ میں پیچھے رہوں۔ اور مجھے وصیت کی کہ میں اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کروں ۔ اور مجھے وصیت کی تھی کہ میں لوگوں سے کسی شئی کا سوال نہ کروں (یعنی کسی سے کچھ نہ مانگو ) اور مجھے وصیت کی کہ میں کثرت کے ساتھ لاحول ولاقوة الاباللہ پڑھوں بے شک یہ جنت کا خزانہ ہے ۔الفاظ کے سب برابر ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← هشام بن حسان و الحسن بن دينار ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو شهاب معمر بن محمد البلخي ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إسماعيل بن محمد الفسوي القاضي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7583

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7584

7584 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا سليمان بن حرب نا محمد بن طلحة بن مصرف عن زبيد عن عامر بن أبي جحيفة عن علي قال : الجهاد ثلاث جهاد بيد و جهاد بلسان و جهاد بقلب فأول ما يغلب عليه جهاد اليد ثم جهاد اللسان و إذا كان القلب لا يعرف معروفا و لا ينكر منكرا أنكس فجعل أعلاه أسفله 7584 - مكرر ـ و بإسناده نا محمد بن طلحة عن جامع بن شداد قال : كنت عند عبد الرحمن بن يزيد الفارسي فأتاه نعي الأسود بن يزيد فأتيناه نعزيه فقال مات أخي الأسود ثم قال : قال عبد الله يذهب الصالحون أسلافا و يبقى أصحاب الريب قالوا يا أبا عبد الرحمن و ما أصحاب الريب قال قوم لا يأمرون بمعروف و لا ينهون عن منكر

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو محمد بن طلحہ بن مصرف نے ان کو زبیر نے ان کو عامر نے ان کو ابو جحیفہ نے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ جہاد تین قسم کی میں ایک ہاتھ کے ساتھ جہاد کرنا۔ دوسرا زبان کے ساتھ جہاد کرنا تیسرا ہے دل سے اول نمبر جہاد وہ ہے کہ جس پر ہاتھ کے ساتھ جہاد کرنا غالب ہو ۔اس کے بعد زبان کے جہاد کا نمبر ہے۔ اور جس وقت دل اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ سمجھے لہذا اس کو اوندھا اور الٹا کر دیا جاتا ہے یعنی اوپر والی حصے کو نیچے کر دیا جاتا ہے ۔ ( مکر رہے ) اور اسی سند کے ساتھ کہا حمد بن طلحہ نے جامع بن شداد سے وہ کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن ٰبن یزید فارسی کے پاس تھا ان کے پاس اسود بن یزید کی موت کی اطلاع پہنچی ہم نے اس کی تعزیت کی تو وہ کہنے لگے میرے بھائی اسود فوت ہو گئے ہیں اس کے بعد کہا۔ کہ کہا تھا عبداللہ نے کہ نیک لوگ ایک ایک کر کے چلے جائیں گے اور باقی اصحاب ریب رہیں گے ۔لوگوں نے پوچھا اے ابو عبدالرحمن ٰیہ اصحاب ریب کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ وہ لوگ ہوں گے جو اچھائی کی تلقین نہیں کریں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے۔

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7584

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7585

7585 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا حفص بن عمر نا شعبة عن أبي إسحاق عن خالد بن زفر عن حذيفة قال : الإسلام ثمانية أسهم أظنه قال : فالإسلام سهم و الصلاة سهم و الزكاة سهم و صوم رمضان سهم و الحج سهم و الجهاد سهم و الأمر بالمعروف سهم و النهي عن المنكر سهم و قد خاب من لا سهم له هذا موقوف و قد روينا من حديث حبيب بن حبيب عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا كما

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقبری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحاق نے ان کو خالد بن زفر نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ اسلام کے آٹھ حصے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا۔ اسلام ایک حصہ ہے ۔ نماز دوسرا حصہ ہے زکوۃ تیسرا حصہ ہے۔ رمضان کے روزے رکھنا ایک حصہ ہے ( چوتھا ) پانچواں حصہ حج ہے ۔ چھٹا حصہ جہاد ہے ساتواں حصہ اچھائی کا حکم کرتا ہے آٹھواں حصہ برائی سے روکنا ہے ۔ اور وہ شخص نا کام ونامراد ہو گیا جس کا کوئی بھی حصہ نہ ہو۔ یہ موقوف ہے ۔ اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے حبیب بن حبیب کی حدیث سے اس نے ابواسحاق سے اس نے حارث سے اس نے علی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مرفوع روایت کے جیسے ذیل میں ہے۔

حُذَيْفَةَ ← خالد بن زفر ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7585

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7586

7586 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أبو يعلى نا سويد بن سعيد نا حبيب بن حبيب أخو حمزة : فذكره مرفوعا و قال الإسلام سهم و لم يشك و رواية شعبة أصح و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو ابویعلی ٰنے ان کو سوید بن سعید نے ان کو حبیب بن حبیب حمزہ کے بھائی نے اس نے اس کو مرفوع ذکر کیا ہے ۔ اور فرمایا کہ اسلام ایک حصہ ہے اور اس نے شک کا اظہار نہیں کیا۔ اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم ۔

الإسلام سهم و لم يشك و رواية شعبة أصح و الله أعلم ← حبيب بن حبيب أخو حمزة فذكره مرفوعا و ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7586

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7587

7587 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو الطيب محمد بن علي بن الحسن الصوفي نا سهل بن عمار نا محمد بن عبيد نا سالم المرادي عن عمرو بن هرم عن جابر بن زيد عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه يصيب من أمتي آخر الزمان من سلطانهم شدائد لا ينجو منه إلا رجل عرف دين الله فصدق به و رجل عرف دين الله فسكت عليه فإن رأى من يعمل الخير أحبه عليه و إن رأى من يعمل بباطل أبغضه عليه فذلك ينجو على ابطائه كله

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی علوی نے ان کو ابوطیب محمد بن علی بن حسن صوفی ان کو سہل بن عمار نے ان کومحمد بن عبید نے ان کو سالم مرادی نے ان کو عمرو بن حرم نے ان کو جابر بن زید نے ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر زمانے میں میری امت کو بادشاہ کی طرف سے سختیاں پہنچیں گی اس سے وہی شخص نجات پائے گا ۔ جو اللہ کے دین کو پہچانے گا اور اس کو سچا مانے گا ۔ اور وہ آدمی جو اللہ کے دین کو پہچانے گا اور اس پر خاموش رہے گا۔ اگر وہ کسی ایسے آدمی کو دیکھے گا جو کوئی خیر کا عمل کر رہا ہے تو اسی پر وہ اس سے محبت کرے گا اگر ایسے آدمی کو دیکھے گا جو باطل پر عمل کر رہا ہے تو اسی پر وہ اس سے نفرت کرے گا تو وہ شخص اسی روشن کونجات پائے گا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ← سالم المرادي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو الطيب محمد بن علي بن الحسن الصوفي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7587

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7588

7588 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا أبو أحمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا مسعر من قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال : جاء رجل إلى عبد الله بن مسعود فقال : هلك من لم يأمر بالمعروف وينه عن المنكر قال عبد الله : هلك من لم يعرف المعروف بقلبه و ينكر المنكر بقلبه

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو ابواحمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعر نے ان کو قیس بن مسلم نے ان کو طارق بن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور عرض کیا کہ وہ شخص ہلاک ہو گیا جس نے نہ تو اچھائی کا حکم کیا اور نہ ہی برائی سے روکا۔ عبد اللہ نے کہا کہ وہ شخص ہلاک ہو گیا جس نے اپنے دل سے اچھائی کو اچھا نہ سمجھا اور برائی کو برا نہ سمجھا۔

المنكر" ← هلك من لم يأمر بالمعروف وينه ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← مسعر من قيس بن مسلم ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أبو أحمد بن عبد الوهاب، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7588

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7589

7589 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن الربيع بن عملية نا عبد الله حدثنا : ما سمعنا حديثا هو أحسن منه إلا كتاب الله عز و جل و رواية عن النبي صلى الله عليه و سلم : قال إن بني اسرائيل لما طال عليهم الأمد فقست قلوبهم اخترعوا كتابا من عند أنفسهم استهوته قلوبهم و استحتله ألسنتهم و كان الحق يحول بينهم و بين كثير من شهواتهم حتى نبذوا كتاب الله وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون فقال اعرضوا هذا الكتاب على بني اسرائيل فإن تابعوكم عليه فاتركوهم و إن خالفوكم فاقتلوه قال : لا بل ابعثوا إلى فلان رجل من علمائهم فإن تابعكم لم يختلف عليكم أحد و إن خالفكم فاقتلوه فلن يختلف عليكم أحد بعده فأرسلوا إليه فأخذ ورقة فكتب فيها كتاب الله ثم أدخلها في قرن ثم علقها في عنقه ثم لبس عليها الثياب ثم أتاهم فعرضوا عليه الكتاب فقالوا اتؤمن بهذا فأشار إلى صدره يعني الكتاب الذي في القرن فقال آمنت بهذا و ما لي لا أومن بهذا فخلوا سبيله قال و كان له أصحاب يغشونه فلما حضرته الوفاة أتوه فلما نزعوا ثيابه وجدوا القرن في جوفه الكتاب فقالوا ألا ترون إلى قوله آمنت بهذا و ما لي لا أومن بهذا فإنما عنى بهذا هذا الكتاب الذي في القرن قال فاختلفت بنو إسرائيل على بضع و سبعين فرقة خير مللهم أصحاب ذي القرن قال عبد الله : و إن من بقي منكم سيرى منكرا و بحسب امرئ يرى منكرا لا يستطيع أن يغيره أن يعلم الله من قلبه أنه له كاره

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو عمارہ بن ربیع بن عملیہ نے ان کو عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی کہ اس سے خوبصورت حدیث ہم نے نہیں سنی مگر کتاب اللہ ۔ اس کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے فرمایا بے شک بنی اسرائیل پر جب مدت دراز ہوگئی تو ان کے دل سخت ہو گئے تھے انہوں نے اپنی طرف سے ایک کتاب گھڑ لی تھی ۔ ان کے دلوں نے اس کو حد سے زیادہ چاہا ان کی زبانوں کو وہ میٹھی لگی ۔ حالانکہ حق گردش کرتا تھا۔ ان کے درمیان اور ان کی بہت بھی شہوات کے درمیان یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو ا پنی پیٹھ کے پیچھے اس طرح پھینک دیا کہ گواس کو وہ جانتے ہی نہیں ہیں ۔ کہا کہ اس کتاب کو بنی اسرائیل پر پیش کرو اگر وہ تمہاری اس کتاب پر موافقت کریں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اگر وہ تمہاری مخالفت کریں تو ان کوقتل کر دو ۔ کہا کہ نہیں بلکہ اس کوفلاں اپنے عالم کے پاس بھیجو اگر وہ تمہاری موافقت کر لے تو اس کے بعد تمہارے خلاف کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا ، اور اگر وہ عالم اختلاف کر لیتا ہے تو اس کوقتل کر دو اس کے بعد تمہارے خلاف کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا ۔ ( چنانچہ یہ منصوبہ طے ہو گیا۔) لہذا انہوں نے اس کتاب کو اس عالم کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ اس نے ایک کاغذ اٹھایا اور اس میں کتاب اللہ کو لکھا اور اس کو قرن میں ڈالا ( ناقوس ) اور اس کو اپنے گلے میں لٹکایا اور اس کے اوپر کپڑے پہن لئے اس کے بعد وہ ان لوگوں کے پاس آیا۔انہوں نے اس پر کتاب پیش کی ،اور اس سے پوچھا کہ کیا اس کتاب پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا( یعنی وہ کتاب ہے جو قرن میں ہے۔) اور زبان سے اس نے یوں کہا میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کے ساتھ ایمان نہ لاؤں؟ دل میں نیت اسی اصلی کتاب کی تھی جو قرن و ناقوس میں چھپ ہوئی تھی ان لوگوں نے سمجھا کہ ہماری اس گھڑی ہوئی اور اختراع کی ہوئی ( کتاب کے لئے کہہ رہا ہے ) لہذا انہوں نے اس عالم کو چھوڑ دیا۔ (اس طرح وہ قتل ہونے سے بچ گیا۔) فرمایا کہ اس کے اصحاب واحباب ایسے تھے جو اس کو گھیرے رہتے تھے جب عالم کی وفات ہوگئی اور انہوں نے غسل دینے کے لئے اس کے کپڑے اتارے تو انہوں نے ناقوس کو دیکھا تو اس میں اصلی کتاب تھی ۔ انہوں نے کہا کیا تم نے اس کے قول کو نہیں سمجھا تھا جو انہوں نے کہا تھا کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں ۔ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کتاب پر ایمان نہ لاؤں ۔ اس نے تو اس قول سے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو ناقوس میں ہے۔ فرمایا کہ لہذا بنی اسرائیل میں یہیں سے اختلاف پیدا ہوا اور وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے ۔ ان سب میں اچھے اور بہتر مذہب والے وہ تھے جو ذالقران تھے یعنی ناقوس والے ۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ بے شک تم لوگوں میں سے جو بھی باقی رہے گا عنقریب منکر اور غلط باتیں دیکھے گا کسی آدمی کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ کوئی منکر اور ایسی بری بات دیکھے جس کو بدلنے کی استطاعت نہ رکھتا ہومگر اللہ تعالی ٰاس کے دل کو جانتا ہو کہ وہ اس کو نا پسند کرتا ہے۔

مَا ← عَبْدُ اللَّهِ ← عمارة بن الربيع بن عملية ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7589

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7590

7590 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن علي بن أحمد المعادي أنا أبو علي الصواف نا بشر بن موسى نا أبو نعيم نا سفيان عن حبيب عن ابن الطفيل قال : سئل حذيفة ما ميت الأحياء ؟ قال : لا ينكر المنكر بيده و لا بلسانه و لا بقلبه

ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن علی بن احمد معادی نے ان کو ابوعلی صواف نے ان کو بشر بن موسی ٰنے ان کو خبر دی ابونعیم نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب نے ان کو ابوطفیل نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، زندوں کا مردہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو گناہ کو اپنے ہاتھ سے بھی نہ بدلے اور نہ اپنی زبان کے ساتھ بدلے نہ اپنی دل سے اس کو برا جانے ۔

لا ينكر المنكر بيده و لا بلسانه و لا بقلبه ← سئل حذيفة ما ميت الأحياء ← ابن الطفيل ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ← أبو محمد عبد الله بن علي بن أحمد المعادي

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7590

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7591

7591 - أخبرنا علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق نا شعبة عن معاوية بن إسحاق قال : سمعت سعيد بن جبير قال : سألت ابن عباس قلت أميري آمره بالمعروف و أنهاه عن المنكر قال إن خشيت أن يقتلك فلا

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے معاویہ بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن حبیب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے کہ کیا میں اپنے امیر وحکمران کو معروف کام کی اور نیکی کی تلقین کروں اور اس کو برائی سے منع کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تجھے خوف ہو کہ وہ تجھے قتل کرا دے گا تو پھر نہ کرو۔

إن خشيت أن يقتلك فلا ← المنكر" ← سألت ابن عباس قلت أميري آمره بالمعروف و أنهاه ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7591

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood