Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7568

7568 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفخام نا محمد بن يحيى نا يعلى بن عبيد نا الأعمش عن شقيق قال : قيل لأسامة بن زيد ألا تكلم فلانا قال والله لا أقول لرجل إنك حير الناس و إن كان علي أميرا بعد أن سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يجاء الرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتنزلق أقتابه فيدور في بها في النار كما يدور الحمار برحاه فتطيف به أهل النار فيقولون يا فلان ما لك ما أصابك ألم تكن تأمرنا بالمعروف و تنهانا عن المنكر قال كنت أمركم بالمعروف و لا آتيه و أنهاكم عن المنكر و آتية أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کومحمد بن یحییٰ نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے وہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید سے کہا گیا کیا آپ فلاں سے کلام نہیں کرتے ؟ فرمایا کہ اللہ کی قسم میں کسی آدمی سے یہ نہیں کہتا کہ تم سب لوگوں سے بہتر ہو۔ اور تم مجھ پر امیر ہواس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا اس کی آنتیں لٹک رہی ہوں گی اور وہ ان کے ساتھ آگ میں ایسے گھوم رہا ہوگا جیسے گدھا آٹا پیسنے کی چکی کے گرد گھومتا ہے اہل جہنم اس کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے فلا نے تجھے کیا ہوا کیا تو ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کے لئے کہتا تھا مگر خود میں نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود برائی کرتا تھا ۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث اعمش سے ۔

قيل لأسامة بن زيد ألا تكلم فلانا ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر محمد بن إبراهيم الفخام ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7568

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7569

7569 - حدثتا أبو سعد الزاهد أنا أبو الحسن محمد بن عبد الله بن صبيح نا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن ( ) نا الحجاج بن قتيبة نا بشر بن الحسين نا الزبير بن عدي عن الضحاك عن ابن عباس قال : جاء رجل فقال يا ابن عباس إني أريد أن آمر بالمعروف و أنهى عن المنكر قال أو بلغت ؟ قال أرجو قال : فإن لم تخش أن تفتضح بثلاثة أحرف في كتاب الله عز و جل فافعل قال : و ما هن ؟ قال : قوله عز و جل : { أتأمرون الناس بالبر وتنسون أنفسكم } أحكمت هذه الآية ؟ قال : لا قال : فالحرف الثاني قال قوله عز و جل : { لم تقولون ما لا تفعلون * كبر مقتا عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون } أحكمت هذه الآية ؟ قال : لا قال : فالحرف الثالث قال قول العبد الصالح شعيب عليه السلام { ما أريد أن أخالفكم إلى ما أنهاكم عنه } أحكمت هذه الآية ؟ قال : لا قال فابدأ بنفسك

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعد زاہد نے ان کو ابوالحسن محمد بن عبداللہ بن صبیح نے ان کو ابوعبداللہ حسین بن محمد بن (...) ان کو حجاج بن قتیبہ نے ان کو بشر بن حسین نے ان کوزبیر بن عدی نے ان کو ضحاک نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا اے ابن عباس میں چاہتا ہوں کہ میں لوگوں کو اچھے کاموں کے لئے کہوں اور برے کاموں سے روکوں ابن نے عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ بات پہنچاسکیں گے تبلیغ کرسکیں گے؟ اس نے کہا میں امید کرتا ہوں ابن عباس نے کہا شرط یہ ہے کہ تم اس بات سے نہ ڈرو کہ تم رسوا ہو گے تین کلمات بولنے کے ساتھ جو کتاب اللہ میں ہیں تو پھر ضرور کرو ۔ اس نے پوچھا کہ وہ الفاظ کون سے ہیں؟ ابن عباس نے فرمایا اللہ تعالی ٰ کا یہ قول:انامرون الناس بالبروتنسون انفسکم(البقرہ ۴۴) کیا تم یہ آیت پر محکم عمل کرو گے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔اس نے پوچھا کہ دوسرا کلمہ کون سا ہے؟ ابن عباس نے کہا کہ اللہ تعالی ٰکا یہ قول ہے۔ لم تقولون مالانفعلون كبر مقتا عندالله ان تقولوا مالاتفعلون۔( صف ۳۰۲) کیوں کہتے ہو تم وہ بات جو خود نہیں کرتے ہو تم بخت غصے والی ہے یہ بات اللہ کے نزدیک یہ کہ تم وہ بات کہو جو تم کرتے نہیں ہو ۔ کیا محکم عمل کرو گے اس آیت پر ؟ اس نے کہا نہیں؟ پھر اس نے پوچھا تیسرا کلمہ کونسا ہے؟ ابن عباس نے فرمایا کہ جو عبد صالح شعیب علیہ السلام نے کہا تھا: ما اريد ان اخا لفكم الى ما انهكم عنه. ( ھود ۸۸) میں نہیں چاہتا کہ میں مخالفت کروں اس چیز کی طرف جس سے میں تمہیں روکتا ہوں ۔ فرمایا کیا تم محکم عمل کرو گے اس پر اس نے کہا کہ نہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر فابدا بنفسک پھر پہلے اپنے نفس کوتبلیغ کیجئے۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پہلے اپنے آپ کوکرو۔ اور دوسروں کو تبلیغ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اگر لوگوں کو نیکی کا حکم کروتو اپنے نفس کو نہ بھولو۔ اور بات وہ کہو جس پر خود بھی عمل کرو۔ اور جس چیز سے لوگوں کو منع کرو وہ کام خود بھی نہ کرو یہی مذکورہ تینوں آیات کا مطلب ہے یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس شخص سے تقاضا فرما رہے تھے اللہ تعالی ٰ ہم سب کو پہلے اپنے نفس کی اصلاح توفیق بخشے آمین ۔ (مترجم)

يا ابن عباس إني أريد ← جاء رجل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← الزبير بن عدي ← بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الحجاج بن قتيبة ← أبو عبد الله الحسين بن محمد بن ← أبو الحسن محمد بن عبد الله بن صبيح ← حدثتا أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7569

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7570

7570 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا محمد بن عبيد نا طلحة عن عطاء قال سمعت أبا هريرة يقول : قلنا لرسول صلى الله عليه و سلم : يا رسول الله لئن لم تأمر بالمعروف و تنهى عن المنكر حتى لا يبقى من المعروف شيئا إلا علمنا به و لا يبقى من المنكر شيئا إلا انتهينا عنه لا نأمر إذا بمعروف و لا ننهى عن منكر فقال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : مروا بالمعروف و إن لم تعملوا به كله و انهوا عن المنكر و إن لم تنتهوا عنه كله قال الإمام أحمد : طلحة بن عمرو المكي ضعيف في الحديث فإن صح هذا لا يخالف ما مضى فإنه فيمن يكون الغالب عليه الطاعة و تكون للمعصية منه نادرة ثم يتداركها بالتوبة و الأول فيمن يكون الغالب عليه المعصية و تكون الطاعة منه نادره و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو طلحہ نے ان کو عطا ء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ البتہ اگر آپ معروف کا حکم نہ کریں اور منکر سے بھی نہ روکیں یہاں تک کہ معروف میں سے بھی کوئی شئی باقی نہ رہے گی سوائے اسی کے جس کے ساتھ صرف ہم نے عمل کر لیا اور منکر میں سے بھی کوئی شئی باقی نہیں رہے گی سوائے اس کے جس سے ہم رک لئے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اس وقت پھر ہم نہ تو معروف کا امر کر سکیں گے نہ ہی کسی منکر سے روک سکیں گے ۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا۔ کہ تم لوگ معروف کا حکم کرو اگر چہ تم خود اس پر عمل نہ بھی کر رہے ہو پورے کے پورے پر ۔ اور منکر کو روکو اگر چہ تم اس سے پورے پورے نہ رک رہے ہو۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام احمد نے فرمایا اس حدیث میں طلحہ بن عمرو مکی ضعیف ہے ۔ اور اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو بھی مذکورہ سابقہ تفصیل کے مخالف نہیں ہے اس لئے کہ یہ اس شخص کے بارے میں ہوگی جس میں اطاعت غالب ہو اور معصیت اس سے نادر ہو قلیل الوجود ہو پھر اس کی بھی درستگی توبہ کے ساتھ ہو جائے گی ۔ اور پہلی یعنی ممانعت والی حدیث اس شخص کے بارے میں ہوگی جس پر معصیت غالب ہواور اطاعت اس سے نادر ہو قلیل الوجود ہو ۔

قلنا لرسول صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7570

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7571

7571 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن رجل عن أبي سعيد الخدري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يحقرن أحدكم نفسه أن يرى أمر الله عليه فمن فقال فلا يقول به فيلقى الله عز و جل و قد أضاع ذلك فيقول ما منعك ؟ فيقول خشية الناس فيقول فإياي كنت أحق أن تخشى قال الإمام أحمد رحمه الله : و هذا فيمن يتركه خشية ملامة الناس وهو قادر على القيام به

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابوالجنتری نے انہوں نے ایک آدمی سے اس نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایک بھی تم میں سے اپنے نفس کو ہرگز حقیر نہ سمجھے بایں طور کہ وہ اپنے اوپر کوئی اللہ کا حکم دیکھے باقی ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ نہ کہے اس امر باحق کے بارے میں پھر وہ مرکر اللہ کو جاملے ۔ معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالی ٰکو جا ملے تو اس وقت کو وہ ضائع کر چکا ہوگا۔ اللہ تعالی ٰکہے گا کہ تجھے کس چیز نے منع کیا تھا؟ یعنی میری بات کہنے سے پھر وہ کہے گا کہ لوگوں کے خوف نے ۔ اللہ تعالی ٰفرمائے گا میں ہی زیادہ حق دار تھا کہ آپ مجھ سے ڈرتے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو اس کولوگوں کی ملامت کے خوف سے ترک کر دے حالانکہ وہ اس کو قائم کرنے پر قادر ہو ۔ (یعنی اللہ کے حکم کو نافذ کرنے پر قادر ہو۔)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← رَجُلٌ: ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7571

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7572

7572 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد نا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الملك بن محمد نا عبد الصمد بن عبد الوارث نا شعبة عن قتادة عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يمنعن أحدكم مهابة أن يتكلم بحق إذا علمه قال أبو سعيد فما زال بنا البلاء حتى قصرنا و إنا لنبلغ في السر قال شعبة و حدثني أبو مسلمة عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر دقاق نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبد الملک بن محمد نے ان کو عبد الصمد بن عبدالوارث نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو ابونضرہ نے ان کو ابوسعید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہرگز نہ روکے کوئی تمہیں حق کی بات کہنے سے جب کہ وہ اس جان کا خطرہ محسوس کر چکا ہو ۔ ابوسعید نے کہا ہمیشہ رہی ہمارے ساتھ آزمائش یہاں تک کہ ہم نے کوتاہی کی یا پیچھے ہو گئے ہیں حالانکہ ہم بے شک البتہ پہچانتے ہیں خفیہ طور پر ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7572

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7573

7573 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر أنا علي بن عاصم أنا الحريري و أبو مسلمة سعيد بن يزيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يمنعن أحدكم أن يقول في الحق إذا رآه و علمه قال أبو سعيد حملني هذا الحديث أن ركبت إلى معاوية و وعظته ثم أقبلت

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کوعلی بن عاصم نے ان کو خبر دی حریری نے ان کو ابو مسلمہ سعید بن یزید نے ان کو ابونصر ہ نے ان کو ابوسعید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ہرگز نہ منع کرے کوئی بھی تمہیں حق بات کہنے سے جب وہ حق کو دیکھ لے اور اس کو جان لے۔ ابوسعید نے کہا کہ اسی حدیث نے ہی تو مجھ کو ابھارا تھا کہ میں سوار ہو کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا تھا اور جا کر میں نے اس کو وعظ ونصیحت کی تھی۔ اس کے بعد میں واپس لوٹ آیا تھا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الحريري و أبو مسلمة سعيد بن يزيد ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7573

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7574

7574 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا إسحاق بن الحسين بن ميمون نا سعيد بن سليمان نا عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر عن نهار العبدي أنه سمع أبا سعيد الخدري يذكر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل ليسأل العبد يوم القيامة حتى يسأل ما منعك إذا رأيك المنكر أن تنكره و إذا لقن الله عبدا حجته قال : يا رب وثقت بك و فرقت من الناس تابعه يحيى بن سعيد و إسماعيل بن جعفر عن أبي طوالة عبد الله بن عبد الرحمن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسحٰق بن حسن بن میمون نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن عبد الرحمن ٰ بن عمر نے ان کو نہار عبدی نے کہ انہوں نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن بندے سے پوچھیں گے یہاں تک کہ یہ بھی پوچھیں گے کہ اے بندے تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تم نے جب کسی غلط کام کو دیکھا تھا تم اس کو غلط کہتے ۔ اور جس وقت اللہ تعالی ٰ اپنے کسی بندے کو اس کی دلیل و حجت خود سکھائیں گے تو وہ کہے گا اے میرے مالک میں تیرے ساتھ تو یقین رکھتا تھا مگر میں لوگوں سے ڈر گیا تھا یحییٰ بن سعید اس کا متابع لائے ہیں اور اسماعیل بن جعفر بھی ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن سے ۔

أبا سعيد الخدري يذكر ← نهار العبدي أنه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إسحاق بن الحسين بن ميمون ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7574

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7575

7575 - أخبرناه أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف قال ذكر سفيان عند هشام بن سعد عن نهار عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يسأل العبد يوم القيامة فيقول ما لك إذا رأيت المنكر فلم تنكره قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فيلقن حجته فيقول يا رب خفت الناس و رجوتك قال الإمام أحمد : و يحتمل أن يكون هذا فيمن يخاف سطوتهم و هو يستطيع دفعها عن نفسه

ہمیں اس کی خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف کہتے ہیں کہ سفیان نے ہشام بن سعد کے سامنے بیان کیا۔ انہوں نے نہار سے بیان کیا اور انہوں نے سعید الخدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ عز وجل قیامت کے دن بندے سے پوچھیں گے اور کہیں گے تجھے کیا ہوگیا تھا کہ جب غلط کام کو دیکھا تھا تم نے اس کو غلط نہیں کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالی ٰ اس کی حجت اور جواب بھی خود سکھلائیں گے لہذاوہ جواب دے گا اے میرے مالک میں نے لوگوں کا خوف کیا تھا اور تجھ سے امید رکھی تھی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ احتمال ہے کہ یہ اس شخص کے بارے میں ہو جو لوگوں کے غلبے سے اور رعب سے ڈر گیا ہو اور وہ اس کو اپنے رب سے روکنے اور دفع کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← نهار ← سفيان عند هشام بن سعد ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7575

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7576

7576 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا جعفر بن عون أنا الأعمش عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الواقع في حدود الله و المداهن فيها كمثل قوم استهموا في سفينة بعضهم سفل و بعضهم علو و كان الذين في السفل يستقون من العلو فيمرون عليهم فيؤذونهم فقال الذين في العلو آذيتمونا تصبون علينا الماء فاخذوا فأسا فجعلوا يحفرون في السفينة فقال الذين في العلو ما تصنعون فإن تركوهم و ما يريدون غرقوا جميعا و إن أخذوا على أيديهم نجوا جميعا أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اعمش نے ان کو شعبی نے ان کو نعمان بن بشیر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ کی حدود میں واقع ہونے والے اور اس میں سستی کرنے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو ایک کشتی میں قرعہ اندازی سے سوار ہوں کہ بعض ان میں سے اوپر کی منزل میں ہوں گے اور بعض نیچے۔ نیچے والے اوپر والوں سے پینے کے لئے پانی مانگیں اور جا کر ان کواذیت دیں لہذا اوپر والے یہ کہیں کہ تم لوگوں نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے ہم تمہیں پانی نہیں دیں گے ۔لہذا نیچے والے کلہاڑی اٹھا کر کشتی میں سراخ کرنا شروع کر دیں کہ ہم نیچے سے اپنے لئے پانی حاصل کر یں گے ۔ اوپر والے ان سے کہیں کہ یہ کیا کرر ہے ہو؟ ( اب دو صورتیں ہوں گی ) اگر اوپر والے نیچے غلط کام کرنے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں کہ یہ ان کا معاملہ ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ کشتی میں پانی بھر جائے گا اور اوپر نیچے والے سب کے سب غرق ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے جا کر نیچے والوإ کو روکنے کے لئے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور سوراخ نہ کرنے دیں تو تو اوپر نیچے والے سب کے سب بچ جائیں گے۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← محمد بن إبراهيم الفحام ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7576

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7577

7577 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن الفضل نا سهل بن عثمان نا حفص عن الأعمش عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خذوا على أيدي سفهائكم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل نے ان کو سہل بن عثمان نے ان کو حفص نے ان کو اعمش نے ان کو شعبی نے ان کو نعمان بن بشیر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کم عقلوں اور بیوقوفوں کے ہاتھ پکڑ لیا کرو ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7577

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7578

7578 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب نا عبيد الله بن إياد بن لقيط عن أبيه أياد بن لقيط قال : حدثتني ليلى امرأة ابن الخصاصية و كان اسمه قبل زحما فسماه رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيرا قال : حدثني بشير أنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صوم الجمعة و أن لا يكلم ذلك اليوم أحدا ؟ قال فقال له : لا تصم يوم الجمعة إلا في أيام كنت تصومها أو في شهر و أن لا تكلم أحدا فلعمري لأن تكلم فتأمر بالمعروف أو تنهى عن منكر خير من أن تسكت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو احمد زبیری نے ان کو عبید اللہ بن ایاد بن لقیط نے ان کو ابو ایا د بن لقیط نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی لیلی ٰنے ابن الخصاصیہ کی بیوی سے اسلام سے پہلے اس کا نام زحم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بشیر رکھا تھا وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی بشیر نے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا جمعہ کے دن کے روزے کے بارے میں اور اس بارے میں کہ وہ اس دن کسی سے بات چیت بھی نہیں کرے گا بلکہ چپ رہے گا کیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا روز ہ ویسے نہ رکھو ہاں مگر ان ایام کے اندر رکھ سکتے ہو جن میں پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ۔ یا ماہ رمضان میں ۔اور یہ بھی نہیں کر سکتے کہ تم کسی سے کلام نہ کرو ۔ البتہ اگرتم امر بالمعروف کرواور نہی عن المنکر کرو تو یہ تمہارے چپ رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔

أبيه إياد بن لقيط ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7578

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7579

7579 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا علي بن عاصم عن أبي علي الرحبي عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي لامرئ يقوم مقاما في مقال حق ألا تكلم به فإنه لن يقدم أجله و لا يحزمه رزقا هو له

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر فحام نے ان کومحمد بن یحییٰ ذھلی نے ان کوعلی بن عاصم نے ان کو ابوعلی رجبی نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جہاں حق کی بات کہنا پڑے اور وہ حق کی بات نہ کرے (ایسانہ کرے کیونکہ ) حق بات کہنا نہ تو اس کی موت کو لے آئے گا اور نہ ہی اس کے طے شدہ رزق کو روک سکے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7579

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood