شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7568
7568 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفخام نا محمد بن يحيى نا يعلى بن عبيد نا الأعمش عن شقيق قال : قيل لأسامة بن زيد ألا تكلم فلانا قال والله لا أقول لرجل إنك حير الناس و إن كان علي أميرا بعد أن سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يجاء الرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتنزلق أقتابه فيدور في بها في النار كما يدور الحمار برحاه فتطيف به أهل النار فيقولون يا فلان ما لك ما أصابك ألم تكن تأمرنا بالمعروف و تنهانا عن المنكر قال كنت أمركم بالمعروف و لا آتيه و أنهاكم عن المنكر و آتية أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کومحمد بن یحییٰ نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے وہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید سے کہا گیا کیا آپ فلاں سے کلام نہیں کرتے ؟ فرمایا کہ اللہ کی قسم میں کسی آدمی سے یہ نہیں کہتا کہ تم سب لوگوں سے بہتر ہو۔ اور تم مجھ پر امیر ہواس کے بعد کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا اس کی آنتیں لٹک رہی ہوں گی اور وہ ان کے ساتھ آگ میں ایسے گھوم رہا ہوگا جیسے گدھا آٹا پیسنے کی چکی کے گرد گھومتا ہے اہل جہنم اس کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے فلا نے تجھے کیا ہوا کیا تو ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کے لئے کہتا تھا مگر خود میں نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود برائی کرتا تھا ۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث اعمش سے ۔
قيل لأسامة بن زيد ألا تكلم فلانا ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر محمد بن إبراهيم الفخام ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7568
