Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7556

7556 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك أنا أبو الأحوص القاضي نا ابن عابد نا الهيثم : فذكره بإسناده و زاد فيه و تحول الملك في صغاركم و الفقه في رذالكم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو ابوالا حوس قاضی نے ان کو ابن عابد نے ان کو ھیشم نے ۔ پھر اس نے مذکور ہ حدیث کو ذکر کیا اپنی سند کے ساتھ اور اس نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے ۔ کہ بادشاہت تمہارا گھٹیا لوگوں میں منتقل ہو جائے اور عقل وفہم تمہارے کمز و اور ذیلوں میں چلی جائے ۔

ابْنُ عَابِدٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 7556

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7557

7557 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا وهب بن جرير عن شعبة عن سماك عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم : قال إنكم مصيبون و منصورون و مفتوح لكم فمن أدرك ذلك فليتق الله و ليأمر بالمعروف و لينه عن المنكر و من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک نے ان کو عبدالرحمن ٰبن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہوں نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے: بے شک تم پر مصیبت آئے گی اور بے شک تمہاری مد د بھی ہوگی اور تمہارے لئے فتح و کامیابی بھی ہوگی ۔ جو شخص یہ حالت پالے اس کو چاہئے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے اور جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ بولے گا مجھ پر اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 7557

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7558

7558 - أخبرنا أبو علي الروذباري أن الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي نا داود الحضري نا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن عبد الله بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و الذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف و لتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا منه ثم تدعونه فلا يستجيب لكم قال الإمام أحمد رحمه الله : فثبت بالكتاب و السنة وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر ثم إن الله تعالى جعل الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر فرق ما بين المؤمنين و المؤمنات لأنه قال : { المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض يأمرون بالمنكر وينهون عن المعروف } و قال : { المؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر } فثبت بذلك أن أخص أوصاف المؤمنين و أقواها دلالة على صحة عقدهم و سلامة سريرتهم هو الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر ثم إن ذلك ليس يليق بكل أحد و إنما هو من الفروض التي ينبغي أن يقوم بها سلطان المسلمين إذا كانت إقامة الحدود إليه و التعزيز موكولا إلى رأيه فينصب في كل بلد و في كل قرية رجلا صالحا قويا عالما أمينا و يأمره بمراعاة الأحوال التي تجري فلا يرى و لا يسمع منكرا إلا غيره و لا يبقى معروفا محتاجا إلى الأمر به إلا أمره به إلا أمره و كلما وجب على فاسق حدا أقامه و لم يعطله فالذي شرعه أعلم بطريق سياستهم قال : و كل من كان من علماء المسلمين الذين يجمعون بين فضل العلم و صلاح العمل فعليه أن يدعو إلى المعروف و يزجر عن المنكر بمقدار طاقته فإن كان تعليق ابطال المنكر و رفعه و ردع المتعاطي له عن فعله و إن كان لا يطيق ذلك بنفسه و يطيقه بمن يستغني عن فعله إلا ما كان طريقة طريق الحدود و العقوبة فإن ذلك إلى السلطان دون غيره و إن كان لا يطيق إلى القول قال و إن و العقوبة فإن ذلك إلى السلطان دون غيره و إن كان لا يطيق إلا القول قال و إن لم يطق إلا الإنكار بالقلب انكر و الأمر بالمعروف في مثل النهي عن المنكر إن اسمع العالم المصلح لا يدعو إليه و يأمر به فعل و إن لم يقدر إلا على القول قال و إن لم يقدر إلى على الإرادة بقلبه أراده و تمنى على الله عز و جل فلعله أن يشفعه به

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو داؤد حضری نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابوعمرو نے ان کو عبد اللہ بن عبدالرحمن ٰنے ان کو حذیفہ بن یمان سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ تم ضرورامر بالمعروف کرو گے اور البتہ تم ضرور نہیں عن المنکر کرو گے ور نہ تو ممکن ہے اللہ تمہارے اوپر عذاب بھیج دے گا اسی کی وجہ سے اس کے بعد تم اللہ سے دعا کرو گے اور تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بابت امام احمد حنبل کا فرمان :امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہنے کا واجب ہونا اور لازم ہونا کتاب وسنت سے ثابت ہو چکا ہے۔ بلکہ اللہ تعالی ٰنے اس کو مؤمن مردوں مومنہ عورتوں اور منافق مردوں اور منافق عورتوں کے درمیان فرق بناتا ہے اور فرق قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ٰہے: المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض يا مرون بالمنكر وينهون عن المعروف۔منافق مرد اور منافق عورتیں بعض بعض میں سے ہیں (یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ) وہ برائی کی تلقین کرتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں ۔ اور ارشاد ہوا: والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ۔ مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ان میں بعض بعض کے دوست ہیں نیکی کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ مؤمنوں کی اہم ترین اور خاص ترین صفات میں سی جوان کے عقیدے کی صحت پر قوی ترین دلیل ہے اور اس کی سیرت کی سلامتی پر جو چیز دلیل ہے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کی صفت ہے ۔ اس کے بعد یہ ایسی صفت ہے جو ہر ایک کے شایان شان بھی نہیں ہے ۔ یقینا ً وہ ایسے فرائض میں سے جن کے لئے مناسب ہے کہ سلطان اور بادشاہ اس کو قائم کرے جب اقامت حدود اس کے ذمے ہے اور تعزیر اس کی رائے کے سپرد ہے۔ لہذا اس کو چاہئے کہ وہ ہر شہر میں اور ہر بستی میں ایک ایسا نیک آدمی مقرر کرے جو قوی ہو، عالم ہو امین ہو اور امام و بادشاہ اس کو ان حالات کی رعایت کرنے کا حکم دے جو حالات جاری ہوں لہذا وہ نہ تو منکر کو دیکھے اور نہ ہی سنے مگر جہاں اس کو دیکھے اور سنے وہی اس کو روک دے۔ اور کہیں کوئی ایسا معروف نہ چھوڑے جس کے امر کی ضرورت ہومگر یہ کہ وہ اس کا حکم کرے۔ اور جب کسی فاسق پر حد واجب ہو اس کو قائم کرے اس کو معطل نہ کرے۔ ایسے آدمی کو مقرر کرے جو ان کے طریقہ سیاست کو خوب جانتا ہو ۔اور مسلمان علما ء میں سے جو لوگ علم کی فضیلت اور عمل کی کی زینت سے آراستہ ہیں ان میں سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ امر بالمعروف کی دعوت دے اور نہی عن منکر سے یعنی برائی سے جھڑکی دے اپنی استطاعت کے مطابق ، اگر منکر کو روکنا اور ختم کرنا اور اس کو اٹھا دینا اور اس فعل میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے والوں کو ڈانٹنا، اگر اس کے بس میں ہوتو ضرور ایسا کرے اور اگر وہ بذات خود اس کی طاقت نہ رکھتا ہو بلکہ ان کے واسطے سے اس کی طاقت رکھتا ہو جو اس کی طرف سے اس فعل کو انجام دے مگر وہ امور جن کا طریقہ حدود والا طریقہ ہو اور سزا دینے والا تو یہ امور سلطان کی طرف راجع ہوں گے دوسرے کو اس کا اختیار نہیں ہوگا اور اگر وہ عالم صرف زبان سے کہنے کی طاقت رکھتا ہو تو زبان سے کہے ۔اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو بلکہ محض دل سے انکار کی طاقت رکھتا ہے تو وہ دل سے ہی اس کو برا سمجھے ۔ (اب تک بات منکر کو یعنی برائی کو روکنے کی ہورہی تھی ) رہا امر بالمعروف تو وہ بھی نہی عن المنکر کی طرح ہے کہ اگر کوئی عالم مصلح اس کی طاقت رکھتا ہے اس کی دعوت دے اس کا امر کرے اور اگر صرف قولی طور پر کہنے پر قدرت رکھتا ہے تو زبان سے کہے اگر زبان کے ساتھ بھی نہ کہہ سکے تو محض دل میں ارادہ کر سکتا ہے تو وہی کر لے یعنی دل سے ارادہ کرے اور اللہ سے امید کرے شاید اس کی شفاعت قبول کر لے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← داود الحضري ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو علي الروذباري أن الحسين بن الحسن بن أيوب

Hadith 7558

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7559

7559 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا سعيد بن عامر نا شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن مروان خطب يوم العيد قبل الصلاة فقام إليه رجل فقال إنما الصلاة قبل الخطبة قال ترك ذلك يا أبا فلان فقال أبو سعيد أما هذا فقد قضى ما عليه ثم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رأى منكم منكرا فلينكر بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك أضعف الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو قیس بن مسلم نے ان کو طارق بن شہاب نے یہ کہ مروان خلیفہ نے نماز عید سے پہلے عید کا خطبہ پڑھا عید کے دن ۔ تو ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں اس نے کہا یپہ عمل کو چھوڑ دیا گیا ہے اے ابوفلاں ۔ بس ابوسعید نے کہا بہر حال اس منع کرنے والے شخص نے وہ فرض ادا کر دیا تھا جو اس کے اوپر عائد ہوتا تھا اس کے بعد ابوسعید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تم میں سے کسی نا جائز و غلط کام کو دیکھے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ساتھ منع کرے اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو پھر اپنی دل کے ساتھ اس کو غلط سمجھے یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث شعبہ کے ذیل میں ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7559

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7560

7560 - و روينا عن عبد الله بن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من نبي بعثه الله في أمته إلا كان له من أمته حواريون و أصحاب يأخذون بسنته و يقتدون بأمره ثم إنها يخلف خلوف يقولون ما لا يفعلون و يفعلون ما لا يقولون و يفعلون مالا يؤمرون فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن و من جاهدهم بلسانه فهو مؤمن و من جاهدهم بقلبه فهو مؤمن ليس وراء ذلك من الإيمان حبة خردل

اور ہم نے روایت کی ہے ابن مسعودرضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسے نہیں ہے جس کو اللہ نے اس کی امت میں بھیجا ہو مگر اس کی امت میں سے اس کے کچھ خاص اصحاب ہوتے تھے جو اس کی سنت اور طریقے کو لیتے تھے اور اس کے حکم کی اقتداء کرتے تھے اس کے بعد قصہ یہ ہوا کہ ان کے بعد کچھ نا خاف بعد میں آگئے وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو وہ خود نہیں کرتے اور وہ ایسے کام کرتے ہیں جو وہ کہتے نہیں ہیں ۔اور کرتے وہ کام ہیں جس کا حکم ان کو نہیں دیا گیا ہوتا ۔ جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کرے گا وہ مؤمن ہے اور جو شخص اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا، ، وہ بھی مومن ہے اور جو شخص اپنے دل کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا وہ بھی مؤمن ہے اس کے بعد رائی کے دانے کے برابربھی ایمان نہیں ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← و روينا

Hadith 7560

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7561

7561 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا عمرو بن محمد الناقد نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان عن الحارث عن جعفر بن عبد الله بن الحكم عن عبد الرحمن بن المسور عن أبي رافع عن ابن مسعود بهذا الحديث رواه مسلم عن عمرو الناقد و غيره : قال الإمام أحمد رحمه الله : و هذا لا يخالف ما روينا في حديث الإيمان أعلاها شهادة أن لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق لأن الأدنى غير الأضعف فإن للأدنى اسم لم يتباعد من معان القرب و إن كان مرجعه في المبنى إليها و الأضعف اسم لما يظهر وجه القربة فيه و يخلص له و لكن يكون من نوعه ما هو أقوى و أبلغ منه و بسط الكلام في شرحه

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبد اللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عمر و بن محمد ناقد نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو حارث نے ان کو جعفر بن عبد اللہ بن حکم نے ان کو عبد الرحمن ٰ بن مسعود نے ان کو ابورافع نے ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے ساتھ اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے عمر وناقد وغیرہ سے ۔ ایک اشکال اور اس کا جواب: (ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں پہلے گزر چکا ہے کہ ایمان کا اعلی درجہ لا الہ الا اللہ ہے اور ادنی ٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ مگر گذشتہ روایت میں ہے کہ دل سے برائی کو برا سمجھنا اضعف الایمان ہے ۔ اور فلاں قسم کے لوگوں کے ساتھ جو جہاد نہ کرے اس میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ اس تعارض واشکال کو دور کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔مترجم۔) امام احمد حنبل رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں : کہ مذکورہ روایت مخالف نہیں ہے اس حدیث کے جو ہم نے روایت کی ہے کہ ایمان کاعلی درجہ یا علی شعبہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اور اس کا ادنی ٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے۔ اس لئے خلاف نہیں ہے کہ اس حدیث میں ادنی ٰ درجے کی بات تھی اور یہاں پر اضعف درجے کی بات ہے ۔ ادنی ٰالگ چیز ہے اور اضعف الگ چیز ہے ۔ ادنیٰ نام ہے اس چیز کے لئے جو بعید ہو مقام قرب سے اگر چہ اس کا مرجع اصل میں اور بنیادی طور پر اسی کی طرف ہو ۔ اور اضعف نام ہے اس چیز کا جس سے وجہ قربت اور سبب قربت ظاہر ہو اور اس کے لئے خالص ہو مگر اس کے ایسی نوع سے ہو جو اس سے زیادہ قوی اور زیادہ بلیغ ہو۔ شیخ نے اس کی شرح میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔

عمرو الناقد و غيره ← ابن مسعود بهذا الحديث رواه مسلم ← أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← الْحَارِثِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7561

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7562

7562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن السائب بن يزيد : أن رجلا قال لعمر بن الخطاب لأن أخاف في الله لومة لائم خير لي أم أقبل على نفسي ؟ فقال : أما من ولي من أمر المسلمين شيئا فلا يخاف في الله لومة لائم و من كان خلوا فليقبل على نفسه و لينصح لولي أمره قال الحليمي رحمه الله : ينبغي أن يكون الآمر بالمعروف و الناهي عن المنكر مميزا برفق في موضع الرفق و يعنف في موضع العنف و يكلم كل طبقة من الناس بما يعلم يليق بهم و أنجع فيهم و أن يكون غير محابي و لا مراهن و أن يصلح نفسه أولا و يقومها ثم يقبل على إصلاح غيره و تقويمه قال الله عز و جل { أتأمرون الناس بالبر وتنسون أنفسكم }

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو سائب بن یزید نے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب سے کہا البتہ اگر میں اللہ کے دین کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈروں تو یہ میرے لئے بہتر ہے یا یہ کہ میں اپنے نفس پر توجہ دوں؟ حضرت عمر نے فرمایا ۔خبردار جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی مقرر کیا جائے اس کو چاہئے کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرے اور جو شخص ایسی کسی بھی ذمہ داری سے خالی ہو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس کی طرف توجہ دے اور اس کو چاہئے کہ اس کی خیر خواہی کرے اگر اس کی اور ذمہ داری نہ ہو ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ مناسب بات یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا اس چیز میں ممتاز ہو کہ جس جگہ نرمی کر نی ہو وہاں نرمی کرے اور جس جگہ سختی کرنی ہو وہاں سختی کرے اور لوگوں کے ہر طبقے کے ساتھ اس طریقے سے کلام کرے جوان کے ساتھ لائق ہو اور مناسب ہو اور ان میں بھلائی تلاش کرے اور وہ ان میں دوستیاں نہ کر نے والا ہو ۔ اور نہ ہی ان میں ہمیشہ رہنے یعنی گھل مل کر رہنے والا نہ ہو ۔ اور پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرے اور اس کو درست کرے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح پر توجہ دے اور ان کو درست کر نے پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسكم کیا تم لوگ ! لوگوں کو نیکی کرنے کاحکم کرتے ہو اوراپنے آپ کو بھول جاتے ہو ۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7562

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7563

7563 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني أبو جعفر الصيرفي نا عبد الرحمن بن مهدي قال سمعت محمد بن النضر الحارثي فجال في نفسي منه شيء فحدثني مفضل بن يونس عن محمد بن النضر قال : ذكر رجل عند الربيع بن خيثم فقال ما أنا عن نفسي براض فأتفرغ منها إلى ذم غيرها إن العباد خافوا الله على ذنوب غيرهم و أمنوه على ذنوب أنفسهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالد نیا نے ان کو ابو جعفر صیرفی نے ان کو عبد الرحمن ٰبن مہدی نے انہوں نے سنا محمد بن نضر جارثی سے پس میرے دل میں اس سے کوئی چیز گھوم رہی تھی ۔ مجھے حدیث بیان کی مفضل بن یونس نے ان کو محمد بن نضر نے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن خیثم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا انہوں نے کہا میں اپنے نفس سے راضی نہیں ہوں کہ میں اس سے فارغ ہوکر کسی اور کی برائی کروں بے شک بندے اللہ سے ڈرتے ہیں دوسروں کے گناہ کرنے پر اور اللہ سے بے فکر و بے غم ہو جاتے ہیں اپنے نفسوں کے گناہوں کے باوجود ۔

مَا ← رَجُلٌ عِنْدَ الرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ ← مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ ← محمد بن النضر الحارثي فجال في نفسي منه شيء ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أبو جعفر الصيرفي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 7563

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7564

7564 - قال و نا عبد الله حدثني محمد بن الحسين عن زكريا بن أبي خالد : قال رجل تعبدت ببيت شعر سمعته : ( لنفسي أبكي لست أبكي لغيرها لنفسي في نفسي عن الله شاغل )

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو محمد بن حسین نے زکریا بن ابو خالد سے وہ کہتے ہیں کہ میں اس شعر کے ساتھ عبادت کرتا ہوں جو میں نے سنا تھا:لنفسى ابکسى لست ابكي لغيرها لنفسى فى نفسی عن الله شاغل میں اپنے نفس کا رونا روتا ہوں میں اس کے سواکسی اور کے لئے نہیں روتا ہوں ۔ میرے اپنے نفس میں اللہ سے غافل کرنے والا موجود ہے میرے نفس کو ۔

الله شاغل ← لنفسي أبكي لست أبكي لغيرها لنفسي في نفسي ← رجل تعبدت ببيت شعر ← زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Hadith 7564

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7565

7565 - قال و نا عبد الله حدثني العباس بن جعفر نا هاشم بن الوليد سمعت الفضيل بن عياض عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين قال : التقي عن ذكر الخاطئين مشغول

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ نے ان کو عباس بن جعفر نے ان کو ہاشم بن ولید نے انہوں نے سنافضیل بن عیاض سے اس نے ہشام بن حسان سے اس نے محمد بن سیرین سے وہ کہتے ہیں کہ متقی پرہیز گارآ دمی گنہگاروں کا تذکرہ کرنے سے بے خبر و غافل ہوتا ہے ۔

الخاطئين مشغول ← التَّقِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← هَاشِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Hadith 7565

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7566

7566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط نا يعقوب بن شيبة نا يزيد بن هارون أنا المسعودي عن عون بن عبد الله قال : إذا أزرى أحدكم على نفسه فلا يقولن ما في خير فإن فينا التوحيد و لكن ليقل قد خشيت أن يهلكني ما في من الشر و ما أحسب أحدا يفرغ لعيب الناس إلا عن غفلة غفلها من نفسه و لو اهتم لعيب نفسه ما تفرغ لعيب أحدا و لا لذمه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان حناط نے ان کو یعقوب بن شیبہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سعودی نے ان کوعون بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ جس وقت تم میں سے کوئی آدمی اپنے نفس پر عتاب و سرزنش کرے تو ہرگز یوں نہ کہے کہ میرے اندر کوئی خیر خوبی نہیں ہے اس لئے کہ ہمارے اندر تو عقیدہ توحید الہٰی بھی ہے ( اور وہ سب سے بڑی خیر و بھلائی ہے ) بلکہ اسے چاہئے کہ وہ یوں کہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میرے اندر جوشر اور برائی ہے کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کرے۔ اور میں نہیں گمان کرتا کسی ایک کو بھی کہ وہ لوگوں کے عیبوں کو بیان کرنے یا ڈھونڈھنے کے لئے فارغ ہومگر بوجہ اپنے نفس سے غافل ہونے کے اگر وہ اپنے نفس کے عیبوں کو دیکھنے کا اہتمام کرے اس کو کسی اور کے عیب دیکھنے فرصت ہی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کی برائی کرنے کی فرصت ہوگی۔

عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يعقوب بن شيبة، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7566

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7567

7567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن نا أبو عثمان نا أحمد بن أبي الحواري سمعت عوام بن سميع قال : كان سليمان الخواص يمر باللحام يأخذ منه لقط له فإذا هو يكلم امرأة قال تقول له يا سليمان من أجل قط نمسك عن الكلام فجاء إلى منزله فأخرج القط فطردها ثم صار من الغد إلى اللحام فوعظه قال الحليمي رحمه الله : و السلطان الذي يتعاطى الفواحش يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر لأن السلطنة هي هذا فلو انقبضت يده عنه لم يكن سلطانا و ليس من دونه في هذا مثله لأن القيام بهذا الأمر إنما يصبر له عند إمساك السلطان عنه لعلمه و صلاحه فإذا اختل صلاحه فقد صار مستحقا للتغيير عليه فلا يكون مع ذلك مغيرا على غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن نے ان کو ابوعثمان نے ان کو احمد بن ابوالحواری نے انہوں نے سنا عوام بن سمیع سے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان الخواص گوشت فروش کے پاس جاتے تھے اور اس سے اپنی بلی کے لئے گوشت لے آتے تھے گوشت فروش ایک بلی کو مار مار کر زخمی کر رہا تھا ( سلیمان اس کو نصیحت کرنا چاہتے تھے مگر گھر میں بلی کو بند کیا ہوا تھا ) لہذا وہ اس بلی کی وجہ سے اس کو نصیحت کرنے سے رک گئے گھر میں آئے تو بلی کو نکال کر بھگا دیا اس کے بعد صبح کو گوشت فروش کے پاس گئے اور جا کر نصیحت کی ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کاقول:کہ وہ بادشاہ جو خواہش کا اور گناہوں کا مرتکب ہوتا ہو وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر سکتا ہے کیونکہ حکومت وسلطنت یہی ہے اور اگر وہ ایسا کرنے سے ہاتھ کھینچ لے تو وہ سلطان نہیں اور صاحب اقتدار نہیں ہوگا اور وہ لوگ جو بادشاہ کے ماسوا ہیں وہ اس کی مثل نہیں ہیں ۔ کیونکہ اس امر کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کو قائم کرنا ان کی طرف لوٹتا ہے جب بادشاہ اس سے رک جائے بوجہ ان کے علم کے اور اس کی صلاحیت کے اور جب اس کی صلاحیت خراب اور ناقص ہو جائے تو وہ تغیر وتبدیلی کے مستحق ہو جاتا ہے وہ اس کے باوجود دوسرا کوئی بدلنے والا نہیں ہوگا۔

عوام بن سميع ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7567

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood