Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7544

7544 - ما أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن الفضل الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا محمد بن يوسف نا سفيان عن علي بن بذيمة قال : سمعت أبا عبيدة بن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول ما وقع النقص في بني إسرائيل كان الرجل يرى أخاه على الذتب فينهاه ثم لا يمنعه منه من الغد أن يكون خليطه و شريبه فضرب الله بقلوب بعضهم على بعض و أنزل فيهم القرآن : { لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود و عيسى ابن مريم } إلى قوله : { كثير منهم فاسقون } قال و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم متكئا فجلس قال : كلا و الذي نفسي بيده حتى تأخذوا على يدي الظالم و تأطروه على الحق أطرأ هكذا رواه سفيان الثوري و رواه يونس بن راشد و شريك عن علي بن بذيمة عن أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود و قد ذكرنا إسنادهما في كتاب السنن و روي من وجه آخر عن سالم الأفطس عن أبي عبيدة عن عبد الله

ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم بن فضل فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ڈھلی نے ان کومحمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو علی بن بذیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک پہلا پہلا عیب جو بنی اسرائیل میں واقع ہوا تھا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی اپنے دوسرے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اس کو منع کرتا تھا اس کے بعد وہ وقت آیا کہ انہوں نے منع کرنا چھوڑ دیا یہ سوچ کر کہ کل کو یہ خود بھی اس گناہ میں اسی کی طرح مبتلا ہوگا اور اس گناہ گار کا ہم پیالہ و ہم نوالہ ہوگا ۔ لہذا اللہ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دیا ( یعنی سب کو ایک جیسا کر دیا ) اور ان کے بارے میں قرآن اترا:لعن الذين كفروا من بنى اسرائيل على لسان داؤد و عيسى بن مريم۔ بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا و ہ لعنت کئے گئے داؤد اور عیسی ٰبن مریم کی زبان پر ۔ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون كانوا لايتناهون عن منكر فعلوه لبنش ماكانو يفعلون. ترى كثيرا منهم يتولون الذين كفروا لبئس ماقدمت لهم انفسهم ان سخط الله عليهم و في العذاب هم خالدون. ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما انزل اليه ما اتخذوهم اولياء ولكن كثيرا منهم فسقون ۔یہ اس لئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گذرتے تھے آپس میں منع نہیں کرتے تھے میرے کام سے جو وہ کر رہے تھے کیا ہی برا کام ہے جو وہ کر رہے تھے ۔ تو دیکھتا ہے ان میں بہت سے لوگ دوستی کرتے ہیں کافروں سے کیا ہی برا سامان بھیجا ہے انہوں نے اپنے واسطے وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں ۔اور اگر وہ یقین رکھتے اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی پر اترا تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے ٹیک لگائے بیٹھے تھے پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے فرمایا ہرگزنہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ( تم بھی نہیں بچ سکتے ) یہاں تک کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لو ( اور ظلم سے اس کو روک دو ) اور اس کو مجبور کر دو حق پر ۔ اسی طرح روایت کیا ہے سفیان ثوری نے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے یونس بن راشد نے اور شریک نے علی بن بذیمہ سے اس نے ابوعبیدہ سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے اور تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے دونوں اسنادوں کو کتاب السنن میں اور روایت کی گئی ہے دوسرے طریق سے سالم افطس سے اس نے ابوعبیدہ اس نے عبداللہ سے ۔

أبا عبيدة بن عبد الله بن مسعود ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم بن الفضل الفحام ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← مَا

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7544

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7545

7545 - كما أخبرناه : أبو الحسن العلوي أنا أبو الفضل بن عبدوس السمسار نا أبو حاتم الرازي نا محمد بن مهران نا عيسى بن يونس عن عبيد الله بن أبي زياد عن سالم بن عجلان الأفطس عن أبي عبيدة عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل تدرون فيما سخط الله على بني إسرائيل ؟ قالوا الله و رسوله أعلم قال إن الرجل كان يرى الرجل منهم على معصية فينهاه بعد النهي ثم يلقاه بعد فيصافحه و يواكله و يشاربه كأنه لم يره على معصيته حتى كثر ذلك فيهم فلما رأى الله عز و جل ذلك منهم ضرب بقلوب بعضهم على بعض ثم لعنهم على لسان داود و عيسى ابن مريم ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون و الذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر و لتأخذن على يدي الظالم و لتأطرنه على الحق اطرأ أو ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض ثم يلعنكم كما لعن من قلبكم

جیسے ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوالحسن علوی نے ان کو ابوالفضل بن عدوس سمسار نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کومحمد بن مہران نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو عبید اللہ بن ابوز یاد نے ان کو سالم بن عجلان افطس نے انہوں نے ابوعبیدہ سے ان کو عبد اللہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ کس چیز کے بارے میں اللہ تعالی ٰ بنی اسرائیل پر ناراض ہو گیا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا بنی اسرائیل جب ان میں سے کوئی کسی کو کسی گناہ پر دیکھتا تو اس کو روک دیتا تھا۔ پھر اس کو منع کرنے کے باوجود بعد میں اس کو ملتا اور اس کے ساتھ مصافحہ کرتا اور اس کو اپنے ساتھ کھلاتا اور پلاتا اور اس طرح ہو جاتا جیسے اس کو اس نے گناہ کر تے دیکھا ہی نہیں تھا یہاں تک کہ یہ وبا عام ہوگئی ان میں ، اللہ نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو بعض کے دلوں کو بعض پر مار دیا۔ پھر انہیں لعنت کر دی حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبان پر یہ اس لئے کیا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ تم لوگ ضرور اچھائیوں کا حکم کرو اور البتہ ضرور تم لوگ برائیوں سے روکو اور ضرور تم لوگ ظالم کا ہاتھ پکڑ کر ظلم کرنے سے اس کو روک دو اور اس کو حق پر چلاؤ ورنہ اللہ تعالی ٰتمہارے بھی بعض کے دلوں کو بعض پر مار دے گا ( بنی اسرائیل کی طرح ) ( یعنی ایک جیسے کر دے گا ) اس کے بعد تمہیں بھی لعنت کرے گا جیسے اس نے تم سے پہلے لوگوں ( یہودونصاری پر ) لعنت کی تھی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سَالِمُ بْنُ عَجْلاَنَ الأَفْطَسُ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو الفضل بن عبدوس السمسار ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7545

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7546

7546 - أخبرنا أبو منصور الظفر بن محمد العلوي نا علي بن عبد الرحمن بن ماني الكوفي نا أحمد بن حازم الغفاري نا عبيد الله بن موسى نا سفيان عن الحسن بن عمرو الفقيمي عن محمد بن مسلم عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم أمتي لا تقول للظالم أنت ظالم فقد تودع منهم محمد بن مسلم هذا هو أبو الزبير المكي و لم يسمع من عبد الله بن عمرو بن العاص كذا قال يحيى بن معين و غيره و قد روى ابن شهاب عن الحسن بن عمرو عن أبي الزبير عن عمرو بن شعيب أبيه عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابومنصور ظفر بن محمد علوی نے ان کو علی بن عبد الرحمن ٰبن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم غفاری نے ان کو عبید اللہ بن موسٰی نے ان کو سفیان نے انہوں نے حسین بن عمرو سے ان کو محمد بن مسلم نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو میری امت کو کہ وہ ظالم کو ظالم نہیں کہتی ( کہ تو ظالم ہے ) تو بس ان کو خیر باد کہہ دو ۔ محمد بن مسلم وہی ابوالز بیر مکی ہے اس کا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے سماع نہیں ہے اور ایسے ہی کہا ہے یحییٰ بن معین وغیرہ نے اور تحقیق ابن شہاب سے بھی منقول ہے اس نے حسن بن عمرو سے اس نے ابوالز بیر سے اس نے عمرو بن شعیب سے اس نے اس کے والد سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← علي بن عبد الرحمن بن ماني الكوفي ← أبو منصور الظفر بن محمد العلوي

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7546

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7547

7547 - أخبرناه أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا عمر بن بكار نا محمد بن عبيد الله المنادي نا شبابة نا ابن شهاب : فذكره بنحوه قال أحمد و المعنى في هذا : أنهم إذا خافوا على أنفسهم من هذا القول فتركوه كانوا مما هو أشد منه و أعظم من القول و العمل أخوف و كانوا إلى أن يدعوا جهاد المشركين خوفا على أنفسهم و أموالهم أقرب و إذا صاروا كذلك فقد تودع منهم و استوى وجودهم و عدمهم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی سے اس نے عمر بن بکار سے اس نے محمد بن عبید اللہ المنادی سے اس نے شبابہ سے اس نے ابن شہاب سے اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اسی کی مثل ۔ امام احمد نے فرمایا کہ اس کا مفہوم اس حدیث ذیل میں ہے کہ وہ لوگ (میری امت والے ) جب ظالم کو ظالم کہتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرہ محسوس کریں اور ظالم کو اس کے حال پر چھوڑ دیں تو یہ اس سے زیادہ سخت ہے اس سے اور یہ بہت بڑا ( نقصان ) ہے اس قول سے اور کہنے سے ، اور عمل زیادہ خوف ناک ہے اور وہ ہوں گے ۔ یہاں تک کہ وہ بلائیں مشرکین کے ساتھ جہاد کی طرح اپنے نفسوں اور مالوں پر خوف سے زیادہ قریب اور جب لوگ ایسے ہو جائیں تو ان سے دور ہوجا کیونکہ وجود عدم برابر ہو چکا ہے۔

ابن شهاب فذكره بنحوه ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← عمر بن بكار ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7547

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7548

7548 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا حامد بن أبي حامد المقري نا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد نا عمرو بن أبي قيس عن عطاء عن محارب بن دثار عن ابن بريدة عن أبيه قال : لما قدم جعفر بن أبي طالب من أرض الحبشة لقيه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أخبرني بأعجب شيء رأيته بأرض الحبشة فقال مرت امرأة على رأسها مكتل فيه طعام فمر بها رجل على فرس فأصابها فرمى بها فدعلت أنظر إليها و هي تعيده في مكتلها و هي تقول و يل لك يوم يضع الملك كرسيه فيأخذ للمظلوم من الظالم فضحك النبي صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه فقال كيف تقدم أمة لا يأخذ لضعيفها من شريفها حقه و هو غير متعتع

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حامد بن ابوحامد مقری نے ان کو عبدالرحمن ٰبن عبد اللہ بن سعد نے ان کو عمرو بن ابو قیس نے انہوں نے عطاء سے انہوں نے محارب بن دثار سے انہوں نے ابن بریدہ سے انہوں نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ جب جعفر بن ابوطالب ارض حبشہ سے واپس آئے تو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے جا کر ملے اور فرمایا کہ تم نے وہاں جو سب سے زیادہ حیرت ناک چیز دیکھی ہو وہ مجھے بتاؤ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عورت گذر رہی تھی ۔ اس کے سر پر روٹی کی ٹوکری تھی ۔اس کے پاس سے گھوڑے پر سوار ایک آدمی گذرا وہ اس کے پاس پہنچا۔ اس کو تیر سے مارا۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ ان روٹیوں کو اپنی ٹوکری میں واپس رکھ بھی رہی تھی اور وہ کہہ رہی تھی ہلاکت ہو تیرے لئے اس دن جس دن بادشاہ اپنی کرسی بچھائے گا اور مظلوم کے لئے ظالم سے بدلہ لے گا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے ۔ حتی کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی آگے آئے گی کوئی امت جو اپنے کمزور کے لئے اپنے طاقتور سے اس کا حق نہیں لیتی حالانکہ وہ مظلوم غیر سختی کرنے والا ہے ( یعنی حالانکہ اس کی کوئی زیادتی نہیں ہے۔ )

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7548

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7549

7549 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد نا إبراهيم بن أبي طالب نا خشنام بن سعيد الجلاب نا إبراهيم بن موسى الرازي نا ابن أبي زائدة عن أيوب عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا قدست أمة لا تأخذ لضعيفها حقه من قويها غير متعتع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن سعد نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو خشنام بن سعید نے جلاب نے ان کو ابراہیم بن موسی ٰرازی نے ان کو ابن ابوزائدہ نے ان کو ایوب نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں پاک اور مقدس ہو سکتی کوئی امت جو اپنے ضعیف کے لئے اپنے طاقتور سے اس کا حق نہیں لیتی حالانکہ وہ مظلوم کوئی زیادتی نہیں کرتا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ ← خشنام بن سعيد الجلاب ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7549

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7550

7550 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى نا يزيد بن هارون أنا إسماعيل بن أبي خالد ح و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا عمر بن عون أنا هشيم عن إسماعيل عن قيس قال : أنا أبو بكر رضي الله عنه بعد أن حمد الله و أثنى عليه يا أيها الناس إنكم تقرؤون هذه الآية و تضعونها على غير موضعها { عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم } و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من يوم يعمل فيه بالمعاصي تقدرون على أن تغيروا ثم لا تغيرون إلا يوشك أن يعمهم الله منه بعقاب لفظ حديث هشيم و في رواية يزيد أن الناس إذا رأوا الظالم لم يأخذوا على يديه أوشكوا أن يعمهم الله بعقاب و قال في أوله قام أبو بكر الصديق فحمد الله و أثنى عليه ثم قال يا أيها الناس إنكم تقرؤون هذه الآية و ذكر الآية

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ھشیم نے ان کو اسماعیل نے قیس سے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہ بعد حمد وصلوٰۃ کے۔اے لوگو! تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو مگر اسے تم غیر محل میں رکھتے ہو ( یعنی بےجامطلب مراد لیتے ہو )آیت یہ ہے۔عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم ۔تم لوگ اپنے آپ کو مضبوط رکھو جو شخص گمراہ ہوا وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا جب تم ہدایت پر ہو ۔ ( یعنی بادی النظر میں تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ تم ہدایت پر ہوتو بس کافی ہے تمہارے لئے اور اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے تمہیں اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مگر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے کچھ اور ثابت ہوتا ہے وہ درج ذیل ہے )۔ (مترجم) صدیق اکبر نے فرمایا میں نے سنا تھا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔ جو گناہ کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس کے بدل دینے پر تم قادر ہو پھر نہیں بدلتے ہو مگر عین ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تم سب کو عمومی عذاب میں پکڑ لے۔اس ( حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم) سے معلوم ہوا کہ برائی کو بدل دینا لازم ہے ورنہ بصورت دیگر عمومی عذاب کا ڈر ہے۔ مذکور ہ الفاظ حدیث ہشیم کے تھے اور یزید کی ایک روایت میں ہے کہ لوگ جب ظالم کو دیکھیں ظلم کرتا ہوا اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عموی عذاب میں لے لے۔ راوی نے اس روایت کے شروع میں کہا ہے کہ سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ کی حمد وثنا کی اس کے بعد فرمایا لوگو تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو ۔ ( پھر راوی نے آیت ذکر کی ہے۔)

أَبُو بَکْرٍ بَعْدَ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← هُشَيْمٌ ← عمر بن عون ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7550

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7551

7551 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا محمد بن الحسين بن أبي الحسن نا عمر بن حفص نا أبي نا الأعمش نا أبو إسحاق عن ابن حزم عن أبي بكر قال : إذا عمل قوم بالمعاصي بين ظهراني قوم هم أعز منهم فلم يغيروا عليهم أنزل الله عليهم البلاء ثم لم ينزعه منهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو محمد بن حسین بن ابو الحسن نے ان کو عمرو بن حفص نے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابن حزم نے ان کو ابوبکر نے وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی قوم گناہوں کا عمل کرتی ہے ایسے لوگوں کے سامنے جوان سے زیادہ معزز ہیں مگر وہ لوگ ان کو نہیں بدلتے اللہ تعالی ٰان سب پر آزمائش اتار دیتا ہے پھر اس کو ان سے ختم نہیں کرتا ( بلکہ وہ سب ہمیشہ اسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ )

أَبِي بَكْرٍ، ← ابن حزم ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← محمد بن الحسين بن أبي الحسن ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7551

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7552

7552 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا شبابة بن سوار أنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية قال : كان بين الرجلين عند عبد الله بن مسعود بعض ما يكون بين الناس حتى قام كل واحد منهما إلى صاحبه قال فقال رجل عند ابن مسعود لو قمت إلى هذين فأمرتهما أو نهيتهما فقال رجل إلى جنبه عليك بنفسك فإن الله يقول : { يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم } قال فسمع ذلك ابن مسعود و قال لم تجيء بتأويل هذه الآية بعد أن القرآن نزل على النبي صلى الله عليه و سلم و منه آي مضى تأويلهن يعني قبل أن ينزل و منه آي وقع تأويلهن يعني بعد اليوم و منه أي يقع تأويلهن عند الساعة وما ذكر عند الساعة و منه آي يقع تأويلهن يوم القيامة و الجنة و النار و الحساب و الميزان ما دامت قلوبكم واحدة و أهواؤكم واحدة لم يلبسكم شيعا و يذيق بعضكم بأس بعض فأمروا و انهوا فإذا اختلفت قلوبكم و أهواؤكم و لبسكم شيعا و أذاق بعضكم بأس بعض بعد ذلك جاء تأويل هذه الآية فامرو نفسه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن یزید نے ان کو شبابہ بن سوار نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو ربیع بن انس نے ان کو ابوالعالیہ نے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمیوں کا کچھ اختلافی معاملہ آیا ہوا تھا جیسے بعض لوگوں میں ہوتا ہے یہاں تک کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے سے لڑنے کھڑا ہو گیا۔ کہتے ہیں ایک دوسرا آدمی جو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اس نے کہا اگر میں کھڑا ہو جاؤں ان دونوں کے پاس دونوں کو امر بالمعروف کروں یا نہی عن منکر کروں ۔ایک اور آدمی جو وہاں بیٹھا تھا اس نے کہا میاں تم اپنے آپ کو بچاؤ بے شک اللہ تعالی ٰفرماتا ہے:يايها الذين امنوا عليكم انفسكم لايضركم من ضل اذا اهتديتم ۔ ایمان والو! تم اپنے آپ کو قابو کرو جب تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ اس آیت کی تاویل وتعبیر ( عملی طور پر ) ابھی تک نہیں آئی ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونے کے بعد بھی ۔ قرآن میں سے بعض آیات وہ ہیں جن کی تاویل وتعبیر گذر چکی ہے یعنی نزول سے پہلے ہی ۔ اور ان میں سے بعض آیات وہ ہیں جن کی تاویل وتشریح عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں واقع ہوئی ہے۔ اوران میں سے بعض وہ آیات ہیں جن کی تاویل تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کئی سال بعد واقع ہوئی ہے۔ اوران میں سے بعض آیات وہ ہیں جن کی تاویل وتعبیر آج کے دن کے بعد واقع ہوگی ( آج کے دور کے بعد )۔ اور بعض آیات وہ ہیں جن کی تاویل وتعبیر قیام قیامت کے وقت واقع ہوگی جو قیامت کے وقت کے بارے میں مذکور ہیں۔ اور بعض آیات وہ ہیں جن کی تاویل وتعبیر قیامت کے دن واقع ہوگی ۔اور جنت جہنم ، حساب و کتاب و میزان واعمال کے وقت واقع ہوگی ۔ جب تک تمہارے دل ایک رہیں گے۔ اور تمہاری خواہشات اور تقاضے ایک جیسے رہیں گے تمہیں جب تک گروہ بندی کا شکار نہیں کریں گے کہ چکھائے بعض تمہارے کو عذاب بعض کا ۔جب تک تم امر بالمعروف اور نہی المنکر کرتے رہو۔ اور جب تمہارے دل مختلف ہو جائیں اور خواہشات اور تقاضے مختلف ہو جائیں اور تم اختلاف وگروہ بندی کا شکار ہو جاؤ اور بعض تمہارا جان کو تکلیف پہنچائے اس کیفیت کے بعد اس آیت کی تاویل وتعبیر سامنے آئے گی پھر تم صرف اپنے آپ کو ہی امر بالمعروف کرنا۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7552

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7553

7553 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا محمد بن يوسف الفريابي نا صدقة بن زيد الخراساني عن عتبة بن أبي الحكيم عن أبي أمية الشعباني : سألت أبا ثعلبة الخشني عن هذه الآية { لا يضركم من ضل إذا اهتديتم } كيف نصنع فيها فقال أبو ثعلبة لقد سألت عنها خبيرا سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ائتمروا بالمعروف و تناهوا عن المنكر حتى إذا رأيت شحا مطاعا و هوى متبعا و دينا مؤثرة و اعجاب كل ذي رأي برأيه و رأيت أمرا لا يدان لك به فعليك بالخواص قال الفريابي أراه قال و إياك و العوام فإن من ورائكم أياما الصبر فيهن مثل القبض على الجمر و للعامل فيهن أجر خمسين رجلا يعملون بمثل عمله

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن یوسف فریابی نے ان کو صدقہ بن زید خراسانی نے ان کو عتبہ بن ابوحکیم نے ان کو ابوامیہ شعبانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس آیت کے بارے میں ابو ثعلبہ حشنی سے پوچھا کہ لا يضر كم من ضل اذا اھتدیتم میں ہم کیا کریں؟ ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم آپ نے اس آیت کے بارے میں باخبر آدمی سے پوچھا ہے۔ میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کہ تم امر بالمعروف کرتے رہو، (یعنی نیکی کرنے کی تلقین کرتے رہو ) اور نہی عن المنکر بھی کرتے رہو (یعنی برائی سے روکتے رہو ) یہاں تک کہ جب تم دیکھو کونفس کی تیزی کی اطاعت ہورہی ہے۔ (نفس کی ہر بات مانی جارہی ہے ) اور خواہش نفس کی اتباع ہورہی ہے ۔ اور دنیا کو (آخرت پر ) ترجیح دی جارہی ہے ۔ اور ہر صاحب رائے کو اپنی رائے پسند آ رہی ہے (اور وہ اپنی رائے پر خوش ہے ) اور جب تم ایسا معاملہ دیکھو جس میں تیرا کوئی بس نہ چلے تو پھر تم صرف خواص کو لازم پکڑو (یعنی صرف مخصوص لوگوں کو نصیحت کرو۔ )فریابی نے کہا میں اس کو یہ سمجھتا ہوں کہ فرمایا تھا کہ بچانا تم اپنے آپ کوعوام سے بے شک تمہارے بعد بہت سے ایام واوقات آئیں گے۔ جن ایام میں صبر کرنا ایسے مشکل ہوگا جیسے مٹھی میں آگ کا انگارا برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ان اوقات میں عمل کرنے والے کے لئے پچاس آدمیوں کا اجر کے برابراجر ہوگا جو اس جیسا عمل کر یں ۔

أبي أمية الشعباني سألت أبا ثعلبة الخشني ← عُتْبَةُ بْنُ أَبِي الْحَكِيمِ ← صدقة بن زيد الخراساني ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7553

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7554

7554 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد أنا محمد بن شعيب قال أتيت أبا ثعلبة الخشني : فذكره بنحوه غير أنه قال فعليك بنفسك و دع أمر العامة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید نے ان کومحمد بن شعیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی کے پاس گیا۔ پھر محمد بن شعیب نے مذکورہ حدیث کی مثل ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ :فعليك بنفسك و دع امر العامة پس تو اپنے آپ کو لازم پکڑ یعنی خود کو سنبھال اور عوام کا معاملہ چھوڑ دے۔

فعليك بنفسك و دع أمر العامة ← أتيت أبا ثعلبة الخشني فذكره بنحوه غير أنه ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7554

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7555

7555 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي نا الحكم بن موسى نا الهيثم بن جميل عن حفص بن غيلان عن مكحول عن أنس بن مالك قيل : يا رسول الله متى نترك الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر ؟ قال : إذا ظهر فيكم ما ظهر في بني إسرائيل قبلكم قالوا و ما ذاك يا رسول الله ؟ قال : إذا ظهر الادهان في خياركم و الفاحشة في شراركم و الفقه في رذالكم

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو ھیشم بن جمیل نے ان کو حفص بن غیلان نے ان کو مکحول نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ۔ کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا کب چھوڑ دیں؟ فرمایا کہ جب تمہارے اندر وہ کیفیت پیدا ہو جائے اور ظاہر ہو جائے جو بنی اسرائیل میں ظاہر ہوگئی تھی تم سے پہلے ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ و ہ کیا کیفیت تھی؟ فرمایا کہ: جب تمہارے اچھے لوگوں میں فریب اور منافقت پیدا ہو جائے ۔ اور تمہارے بد تر لوگوں میں بے حیائی وز نا غالب آ جائے اور فقہ اور تفتہ تمہارے رزیلوں کے میں چلی جائے ۔

أنس بن مالك قيل ← مَكْحُولٌ ← حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7555

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood