شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7544
7544 - ما أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن الفضل الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا محمد بن يوسف نا سفيان عن علي بن بذيمة قال : سمعت أبا عبيدة بن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول ما وقع النقص في بني إسرائيل كان الرجل يرى أخاه على الذتب فينهاه ثم لا يمنعه منه من الغد أن يكون خليطه و شريبه فضرب الله بقلوب بعضهم على بعض و أنزل فيهم القرآن : { لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود و عيسى ابن مريم } إلى قوله : { كثير منهم فاسقون } قال و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم متكئا فجلس قال : كلا و الذي نفسي بيده حتى تأخذوا على يدي الظالم و تأطروه على الحق أطرأ هكذا رواه سفيان الثوري و رواه يونس بن راشد و شريك عن علي بن بذيمة عن أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود و قد ذكرنا إسنادهما في كتاب السنن و روي من وجه آخر عن سالم الأفطس عن أبي عبيدة عن عبد الله
ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم بن فضل فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ڈھلی نے ان کومحمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو علی بن بذیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک پہلا پہلا عیب جو بنی اسرائیل میں واقع ہوا تھا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی اپنے دوسرے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اس کو منع کرتا تھا اس کے بعد وہ وقت آیا کہ انہوں نے منع کرنا چھوڑ دیا یہ سوچ کر کہ کل کو یہ خود بھی اس گناہ میں اسی کی طرح مبتلا ہوگا اور اس گناہ گار کا ہم پیالہ و ہم نوالہ ہوگا ۔ لہذا اللہ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دیا ( یعنی سب کو ایک جیسا کر دیا ) اور ان کے بارے میں قرآن اترا:لعن الذين كفروا من بنى اسرائيل على لسان داؤد و عيسى بن مريم۔ بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا و ہ لعنت کئے گئے داؤد اور عیسی ٰبن مریم کی زبان پر ۔ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون كانوا لايتناهون عن منكر فعلوه لبنش ماكانو يفعلون. ترى كثيرا منهم يتولون الذين كفروا لبئس ماقدمت لهم انفسهم ان سخط الله عليهم و في العذاب هم خالدون. ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما انزل اليه ما اتخذوهم اولياء ولكن كثيرا منهم فسقون ۔یہ اس لئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گذرتے تھے آپس میں منع نہیں کرتے تھے میرے کام سے جو وہ کر رہے تھے کیا ہی برا کام ہے جو وہ کر رہے تھے ۔ تو دیکھتا ہے ان میں بہت سے لوگ دوستی کرتے ہیں کافروں سے کیا ہی برا سامان بھیجا ہے انہوں نے اپنے واسطے وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں ۔اور اگر وہ یقین رکھتے اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی پر اترا تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے ٹیک لگائے بیٹھے تھے پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے فرمایا ہرگزنہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ( تم بھی نہیں بچ سکتے ) یہاں تک کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لو ( اور ظلم سے اس کو روک دو ) اور اس کو مجبور کر دو حق پر ۔ اسی طرح روایت کیا ہے سفیان ثوری نے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے یونس بن راشد نے اور شریک نے علی بن بذیمہ سے اس نے ابوعبیدہ سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے اور تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے دونوں اسنادوں کو کتاب السنن میں اور روایت کی گئی ہے دوسرے طریق سے سالم افطس سے اس نے ابوعبیدہ اس نے عبداللہ سے ۔
أبا عبيدة بن عبد الله بن مسعود ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم بن الفضل الفحام ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← مَا
Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7544
