شعب الإيمان · الحادي و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الحكم بين الناس ـ · حديث 7540
7540 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري ببغداد نا أحمد بن سلمان نا الحارث بن محمد و بشر بن موسى قالا نا عفان بن مسلم حدثني عمر بن علي عن عبد الله بن أبي هلال رجل من أهل الجزيرة سمعته منه غير مرة عن ميمون بن مهران قال : قلت لعمر بن عبد العزيز ليلة يا أمير المؤمنين ما بقاؤك على ما أرى أما في أول الليل فأنت على حاجات الناس و أما وسط الليل مع جلسائك و أما آخر الليلة فالله أعلم إلى ما تصير قال : فضرب على كتفي و قال ويحك يا ميمون إني وجدت لقاء الرجال يلقح ( )
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن حسن غضائری نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حارث بن محمد اور بشر بن موسٰی نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو عمر بن علی نے ان کو عبد اللہ بن ابو ہلال نے ( یہ اہل جزیرہ کا ایک آدمی تھا ) انہوں نے کہا میں نے اس سے کئی بار سنا اس نے میمون بن مہران سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ایک رات کو کہا۔ اے امیر المؤمنین آپ کی کتنی بقا ء ہے، میں جہاں تک سمجھتا ہوں رات کا پہلا حصہ تو آپ لوگوں کو ضرورتیں پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں بہر حال رات کا درمیان وہ آپ اپنے رفقاء کے ساتھ گذارتے ہیں، باقی رہا رات کا آخری حصہ تو اللہ بہتر جانتا ہے آپ کس چیز کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔انہوں نے میرا کندھا تھپتھپایا اور فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے میمون میں لوگوں کی ملاقات کو ایسا پایا ہے کہ وہ تو اصلاح کرتی ہے۔
مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← منه غير مرة ← عبد الله بن أبي هلال رجل من أهل الجزيرة ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الحارث بن محمد و بشر بن موسى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري
Hadith 7540
