Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7505

7505 - و في رواية الأهوازي : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عليك بالسمع و الطاعة في منشطك و مكرهك و عسرك و يسرك و أثره عليك رواه مسلم عن سعيد بن منصور و قتيبة عن يعقوب

اور ہوازی کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: کہ تم اپنے اوپر لازم کر لو حکم سننے کو اور اس کی اطاعت کرنے کو اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناپسندیدگی میں بھی اپنی تنگدستی اور اپنی فراخ دستی میں اور اس صورت میں جب تجھ پر کسی کو تر جیح دی جائے ۔ اس کو مسلم نے راویت کیا ہے سعید بن منصور سے اور قتیبہ نے یعقوب سے۔

و في رواية الأهوازي

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7505

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7506

7506 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن غالب نا أبو معمر نا عبد الوارث نا محمد بن جحادة نا الوليد بن عبد الرحمن عن عبد الله البهي عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون امراء تطمئن إليهم القلوب و تلين لهم الجلود ثم يكون عليكم امراء تشمئز منهم القلوب و تقشعر منهم الجلود و قال : قال رجل : أنقاتلهم يا رسول الله ؟ قال : لا ما أقاموا الصلاة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابو معمر نے ان کو عبدالوارث نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو ولید بن عبدالرحمن ٰنے ان کو عبداللہ بن البھی نے ان کو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امیر وحکمران ہوں گے (ایسے بھی ) جن کی طرف دل مطمئن ہوں گے چمڑے جن کے لئے نرم ہو جایا کریں گے۔ اس کے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے جن سے دل تنگ ہو جائیں گے اور ان سے چھڑے ( خوف سے ) سکڑ جائیں گے ۔اور کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ان لوگوں سے لڑیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک وہ نماز کو قائم کر یں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7506

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7507

7507 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو الحسن السراج نا مطين نا محمد بن عبد الله بن نمير نا يحيى بن يعلى نا أبي يعلى نا أبي نا غيلان عن قيس الهمداني يعني ابن وهب أنه سمع أنس بن مالك يقول : أمرنا أكابرنا من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أن لا نسب امراءنا و لا نغشهم و لا نعصيهم و أن نتقي الله و نصبر فإن الأمر قريب

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو یحییٰ بن یعلی ٰنے ان کو ان کے والد نے ان کو غیلان نے ان کو قیس ہمدانی نے یعنی ابن وہب نے کہ انہوں نے سنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ اصحاب محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے اکابر نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اپنے حکمرانوں کے نہ تو نسیوں کی بحث کریں نہ ان کے ساتھ دھوکہ کریں اور نہ ہی ان کی نافرمانی کریں اور یہ کہ ہم اللہ سے ڈریں اور یہ کہ ہم صبر کریں بے شک معاملہ قریب ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قيس الهمداني يعني ابن وهب أنه ← غَيْلَانَ ← أَبِي ← أَبِي يَعْلَى ← يحيى بن يعلى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7507

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7508

7508 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا محمد بن العباس نا شريح بن النعمان نا محمد بن طلحة عن ليث قال : قال علي بن أبي طالب : لا يصلح الناس إلا أمير بر أو فاجر قالوا : يا أمير المؤمنين هذا البر فكيف بالفاجر ؟ قال : إن الفاجر يؤمن الله عز و جل به السبل و يجاهد به العدو و يجبي به الفيء و تقام به الحدود و يحج به البيت و يعبد الله فيه المسلم آمنا حتى يأتيه أجله

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کومحمد بن عباس نے ان کو شریح بن نعمان نے ان کو محمد بن طلحہ نے ان کو لیث نے وہ کہتے ہیں کہ کہا علی بن ابو طالب نے فرمایا لوگوں کی اصلاح امیر وحکمران ہی کرتا ہے خواہ نیک ہو یا بد ہو۔لوگوں نے کہا یا امیر المؤمنین نیک تو اصلاح کرے گا مگر برا کیسے کرے گا ؟ فرمایا کہ فاجر اور برے کے ذریعے اللہ تعالی ٰراستوں کو محفوظ بنائے گا۔ اس کے ذریعے دشمن کے ساتھ جہاد کیا جائے گا ۔اس کے پاس مال فی کھینچ کر آئے گا اس کے ذریعے حدود قائم کی جائیں گی اس کے ذریعے بیت اللہ کا حج کیا جائے گا جس میں مسلمان امن کی حالت میں اللہ کی عبادت کریں گے یہاں تک کہ اس کا اجل آ جائے ۔

يا أمير المؤمنين هذا البر فكيف بالفاجر ← علي بن أبي طالب لا يصلح الناس إلا أمير بر أو فاجر ← لَيْثٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7508

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7509

7509 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا غسان بن المفضل أبو معاوية العلاني نا عمر بن علي عن سفيان بن حسين قال : قال إياس بن معاوية لا بد للناس من ثلاثة أشياء لا بد لهم من أن تؤمن سبلهم و يختار لحكمهم حتى يعدل الحكم فيهم و أن يقام لهم الثغور التي بينهم و بين عدوهم فإن هذه الأشياء إذا قام بها السلطان احتمل الناس ما سوى ذلك من أثره السلطان و كل ما يكرهون

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن بشران نے ان کو ابوعمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو غسان بن مفضل نے ان کو معاویہ علانی نے ان کو عمر بن علی نے ان کو سفیان بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ ایاس بن معاویہ نے کہا لوگوں کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں ۔ کہ ان کے راستے سفر کے لئے محفوظ ہوں۔ ان کے فیصلوں کو ترجیح دی جائے یہاں تک کہ قاضی ان میں انصاف کرے اور ان کے لئے پل باندھے جائیں جو ان کے اور دشمن کے درمیان ہوں ان امور کو جب بادشاہ قائم کر دے تو اس کے ماسوا کولوگ اپنے ذمے لے لیں گے اور جس کو بادشاہ تر جیج دے اور دیگر ہر چیز جس کو وہ ناپسند کریں گے سب برداشت کر لیں گے۔

سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← غسان بن المفضل أبو معاوية العلاني ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7509

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7510

7510 - أخبرنا أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الفقيه أنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد البراري نا الحسن بن علي الطوسي نا الزبير بن بكار حدثني مبارك الطبري سمعت أبا عبد الله الوزير سمعت أبا جعفر أمير المؤمنين المنصور يقول لابنه المهدي أمير المؤمنين : يا أبا عبد الله إذا أردت أمرا ففكر فيه فإن فكرة العاقل مرآته تريه حسنه و سيئه يا أبا عبد الله الخليفة لا يصلحه إلا التقوى و السلطان لا يصلحه إلا الطاعة و الرعية لا يصلحها إلا العدل و أعظم الناس عفوا أقدرهم على العقوبة و أنقص الناس عقلا من ظلم من هو دونه

ہمیں خبر دی ابومنصور عبد القاہر بن طاہر فقیہ نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن احمد براری نے ان کو حسن بن علی طوسی نے ان کو زبیر بن بکار نے ان کو مبارک طبری نے اس نے سنا ابوعبداللہ وزیر سے اس نے سنا ابو جعفر امیرالمؤمنین المنصور سے وہ اپنے بیٹے المہدی منصور سے کہتے ہیں اے ابو عبد اللہ جب بھی کسی معاملے کا ارادہ کرو تو اس میں خوب غور وفکر کرو بے شک عامل کی سوچ اس کا آئینہ ہوتی ہے اس کو اس کا اچھا وبرا دکھاتی ہے۔ اے ابو عبد اللہ خلیفہ کی اصلاح تقوی ٰکرتا ہے بادشاہ کی اصلاح اطاعت کرتی ہے۔ رعایا کی اصلاح عدل و انصاف کرتا ہے سب لوگوں سے بڑا معاف کرنے والا وہی ہوتا ہے جو سزا دینے پر سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے سب لوگوں سے بڑا ناقص العقل دہ ہوتا ہے جو اپنے سے کمزور پر ظلم کرتا ہے۔

أبا جعفر أمير المؤمنين المنصور ← أبا عبد الله الوزير ← مباركٌ الطبريُّ ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الطُّوسِيُّ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد البراري ← أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الفقيه

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7510

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7511

7511 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي في جامع المنصور أنا أبو بكر بن الأنباري و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب قالا نا جعفر بن محمد بن شاكر نا حسين بن محمد المرورذي نا شيبان عن زياد بن علاقة عن عرفجة بن شريح الأشجعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستكون بعدي هنات و هنات فمن رأيتموه يفوق أمة محمد و هم جميع فاقتلوه كائنا من كان من الناس ليس في رواية الصوفي ذكر الأسلمي و قال عن عرفجة بن شريح فقط أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن شيبان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن شجاع صوفی نے جامع المنصور میں، ان کو ابوبکر بن انباری نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو حسین بن محمد مروزی نے ان کو زیاد بن علاقہ نے ان کو عر فجہ بن شریح نے اشجعی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عنقریب میرے بعد فتنے وفساد ہوں گے تم لوگ جس کو دیکھو کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں تفریق و جدائی پیدا کرتا ہے ۔ حالانکہ وہ سب متفق ہیں پس اس کوقتل کر دو لوگوں میں سے وہ جو کچھ بھی ہو ۔ صوفی کی روایت میں اسلمی کا ذکر نہیں ہے ۔ اور کہا انہوں نے کہ روایت ہے عرفجہ بن شریح سے فقط اور اس کونقل کیا ہے مسلم نے صحیح میں دوسرے طریق میں شیبان سے ۔

عرفجة بن شريح الأشجعي ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شَيْبَانَ ← حسين بن محمد المرورذي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أبو بكر بن الأنباري و ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي في جامع المنصور

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7511

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7512

7512 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي محمد بن أحمد بن محمد بن زيد العدل نا أبو الأزهر أحمد بن الأزهر بن منيع نا عبد الحميد الحماني عن زياد بن علاقة عن عرفجة الأشجعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستكون بعدي هنات و هنات فمن رأيتموه فارق الجماعة فكأنما فارق بين أمتي فاقتلوه كائنا من كان فإن يد الله مع الجماعة و إن الشيطان مع مفارقة الجماعة يركض و قال مرة على الجماعة قال شيخنا هكذا حدثناه أسقط بين الحماني و زياد يحيى بن أيوب البجلي الكوفي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی محمد بن احمد بن محمد بن زید عدل نے ان کو ابوالا زہر محمد بن از هر بن منیع نے ان کو عبدالحمید حمانی نے ان کو زیاد بن علاقہ نے ان کو عرفجہ اشجعی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عنقریب میرے بعد فتنے اور فساد ہوں گے تم جس شخص کو دیکھو کہ وہ جماعت سے جدا ہو گیا ہے پس گویا کہ اس نے میری امت میں مفارقت وجدائی ڈالی ہے ۔اس کوقتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو بے شک اللہ کی ( تائید و نصرت والا ) کا ہاتھ جماعت کے اوپر ہے۔ بے شک شیطان جماعت کی مفارقت کے ساتھ ٹھوکریں مارتا ہے (یعنی خوش ہوکر ناچتا ہے ) ایک بار علی جماعتہ فرمایا تھا اور پہلے مع الجماعتہ مذکور ہے اور ہمارے شیخ نے کبھی حمانی وزیادہ کے درمیان میں یحییٰ بن ایوب بجلی کوفی کے بغیر بھی بیان کیا۔

عرفجة الأشجعي ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ← أبو الأزهر أحمد بن الأزهر بن منيع ← أبو علي محمد بن أحمد بن محمد بن زيد العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7512

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7513

7513 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن عبد الله الشافعي نا الحسن بن علويه القطان نا محمد بن الصباح نا أبو يحيى الحماني عن يحيى بن أيوب عن زياد بن علاقة : فذكره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو حسن بن علویہ قطان نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو ابویحییٰ حمانی نے ان کو یحیی بن ایوب نے ان کوز یاد بن علاقہ نے پھر اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

زياد بن علاقة فذكره ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو يَحْيَی الْحِمَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلَوِيَّه الْقَطَّانُ، ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7513

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7514

7514 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو عبد الله بن محمد بن محمد بن يوسف السوسي و أبو علي الروذباري قالوا أنا أبو العباس بن يعقوب الأصم نا أبو عتبة أحمد بن الفرح نا بقية عن معان بن رفاعة حدثني عبد الوهاب بن بخت عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث لا يغل عليهن قلب مؤمن إخلاص العمل لله و مناصحة أولي الأمر و لزوم جماعة المسلمين فإن دعوتهم تحيط من ورائهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے اور ابوعبدالله اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے اور ابوعلی رود باری نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالعباس بن یعقوب اصم نے ان کو ابوعتبہ احمد بن فرح نے ان کو بقیہ نے ان کو معان بن رفاعہ نے ان کو وہاب بن بخت نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین چیزیں ہیں ان میں خیانت داخل نہ کی جائے ۔ (ایمان دار دل میں ۔ ) اللہ کے لئے خالص عمل کرنے میں ۔ صاحب حکم کی خیر خواہی میں مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے میں۔ بے شک ان کی دعا ان کے ماسوا کا احاطہ کرتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عبد الوهاب بن بخت ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← بَقِيَّةُ ← أبو عتبة أحمد بن الفرح ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ،

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7514

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7515

7515 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عباس بن عبد الله الترقفي نا محمد بن المبارك نا معاوية بن يحيى أبو مطيع نا بجير بن سعد عن خالد بن معدان عن العرباض بن سارية قال : وعظنا رسول الله صلى الله عليه و سلم موعظة بليغة ذرفت منها العيون و وجلت منها القلوب قال قائل كأن هذه موعظة مودع فما تأمرنا ؟ قال : عليكم بالسمع و الطاعة لمن ولاه الله أمركم و إن كان عبدا حبشيا ألا و سيرى من بقي منكم بعدي اختلافا كثيرا فمن أدرك ذاك منكم فعليه بسنتي و سنة الخلفاء المهديين عضوا عليها بالنواجذ إياكم و محدثات الأمور فإنها ضلالة كذا و قال

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحیی بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کومحمد بن مبارک نے ان کو معاویہ بن یحییٰ ابو مطیع نے ان کو بجیر بن سعد نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو وعظ فرمایا جو کہ بہت زبردست وعظ تھا جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں جس سے دل ھل گئے، کسی کہنے والے نے کہہ دیا کہ یہ تو الوداع کہنے اور رخصت ہو جانے والے کے وعظ جیسا وعظ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اوپر لازم کر لو سننے کو اور اطاعت کرنے کو اس شخص کی جس کواللہ تعالیٰ تمہارے معاملے کا والی مقرر کر دے اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو خبردار عنقریب دیکھ لے گا جوتم میں سے باقی رہا کثیر اختلاف جو شخص تم میں سے اس کیفیت کو پالے لازم ہے اس پر میری سنت اور میری خلفاء کی سنت ۔ وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اس کوتم داڑھوں کے ساتھ مضبوط پکڑ نا ۔ اور بچانا تم اپنے آپ کونو پیدا ا مور سے بے شک وہ ضلالت و گمراہی ہیں ۔ اور ایسے ہی کہا ہے (درج ذیل روایت کے راوی نے ۔ )

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بُجَيْرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مُطِيعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7515

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الجماعة و الألفة و كراهية الاختلاف و الفرقة و ما جاء في إكرام السلطان و توقيره · حديث 7516

7516 - و أخبرنا أبو القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله الحرقي نا حبيب بن الحسن بن داود القزاز املاء نا إبراهيم بن عبد الله بن مسلم البصري نا أبو عاصم الضحاك بن مخلد عن ثور يعني ابن يزيد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية أنه قال : صلى لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الصبح ثم أقبل علينا بوجهه و وعظنا بموعظة بليغة ذرفت منها الأعين و وجلت منها القلوب فقال قائل يا رسول الله كأنها موعظة مودع فأوصنا قال : أوصيكم بتقوى الله و السمع و الطاعة و إن كان عبدا حبشيا فإنه من يعش منكم فيسرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين و عضوا عليها بالنواجد و إياكم و محدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة

ہمیں خبر دی ابوالقاسم بن عبدالرحمن ٰبن عبداللہ حرفی نے ان کوحبیب بن حسن بن داؤد قزاز نے بطور املاء کے ان کو ابراہیم بن عبداللہ مسلم بصری نے ان کو ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ان کو ثور یعنی ابن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو عبدالرحمن ٰبن عمر وسلمی نے ان کو عریاض بن سار یہ رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو کی نماز پڑھائی اس کے بعد وہ ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ گئے ۔ اور پھر ہمیں بہت زبردست وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہنے لگیں اور اس دل ڈر گئے کسی کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ ! ایسے لگتا ہے جیسے کہ یہ رخصت ہو کر جانے والے کی نصیحت ہے؟ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی وصیت فرمائے ۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور (امیر وخلیفہ کی ) بات سننے اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے کی ،اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ کی ہو۔ بے شک تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا پس تم لوگ میری سنت کو اور خلفا ءراشد بن محمدین کی سنت کو لازم پکڑنا اوران کو داڑھوں کے ساتھ مضبوط پکڑنا اور نئے کھڑے ہوئے امور سے اپنے آپ کو بچانا بے شک ہرنئی چیز گمراہی ہوگی ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← إبراهيم بن عبد الله بن مسلم البصري ← حبيب بن الحسن بن داود القزاز ← أبو القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله الحرقي ← و،

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › A chapter on the virtue of the group, familiarity, and the hatred of difference and division, and what came about honoring and revering the Sultan · Hadith 7516

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood