Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7493

7493 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سهيل بن أبي صالح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يرضي لكم ثلاثا و يكره لكم ثلاثا رضي لكم أن تعبدوه و لا تشركوا به شيئا و أن تعتصموا بحبل الله جميعا و لا تفرقوا و أن تناصحوا من ولاه الله أمركم و يكره لكم قيل و قال و كثرة السؤال و إضاعة المال ليس في رواية مالك و لا تفرقوا أخرجه مسلم في الصحيح من حديث جرير

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعبنی نے ان میں جو اس نے پڑھی مالک پر سہیل بن ابو صالح سے۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو خبر دی جریر نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی ٰنے تمہارے واسطے تین چیزوں کو پسند کیا ہے اور تین کو تمہارے لئے ناپسند کیا ہے۔ یہ کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کرو ۔ اور یہ کہ تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی ( قرآن ) کو مضبوطی سے تھام لو جدا جدا نہ ہو ۔ اور یہ کہ تم اس شخص کی خیر خواہی کرو جو تمہارے معاملے کا ولی اور حکمران بنے ۔اور ناپسند کیا تمہارے واسطے قبل قال کو ۔ کثرت سوال کو ۔ اضاعت مال کو ۔۱۔ قبل قال سے مراد غیر ضروری بات اور محبت کرنا ۔۲۔ بلا وجہ مسئلے پوچھنا اور کٹ حجتی کرنا۔ ۳۔ مال ضائع کرنا اسراف ۔ مالک کی روایت میں ولا تفرقوا کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس کو مسلم نے بھی میں روایت کیا ہے جریر کی حدیث ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سهيل بن أبي صالح و ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7493

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7494

7494 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي بن كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن الحارث الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أنا آمركم بخمس أمرني الله تعالى بهن الجماعة و السمع و الطاعة و الهجرة و الجهاد في سبيل الله فمن فارق الجماعة قيد شبر فيد خلع ربقة الإسلام أو الإيمان من عنقه أو الإيمان من رأسه إلا أن يراجع و من دعا دعوى جاهلية فهو من جثا جهنم قيل يا رسول الله و إن صام و صلى ؟ قال : و إن صام و صلى تداعوا بدعوى الله الذي سماكم بها المسلمين المؤمنين عباد الله

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے ان کو حارث اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم کرتا ہوں ان پانچ کا اللہ نے مجھ کو بھی حکم دیا ہے ۔ (۱) جماعت (۲) سمع (۳) اطاعت (۴) عبادت (۵) جہادفی سبیل اللہ ۔ جو شخص جماعت سے ایک بالشت جدا ہو گیا اس نے اسلام کا حلقہ اور کڑا گردن سے اتار پھینکا، یا ایمان کا اپنی گردن سے، یا ایمان کا اپنے سر سے مگر یہ کہ وہ رجوع کرلے اور وہ شخص جو جاہلیت کا دعوی ٰکرے ( یا جاہلیت کی پکاریں پکارے ) پس وہ جہنم کا ایندھن ہے ۔ کہا گیا یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ شخص نماز پڑھے اور روزہ بھی رکھے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اگرچہ نماز پڑھے اور روزہ بھی رکھے۔ تم لوگ اللہ کی پکار پکارو جس کے ساتھ اس نے تمہارا نام رکھا تھا۔ مسلمین ۔مؤمنین ۔عباداللہ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يحيى بن أبي بن كثير ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7494

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7495

7495 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا العباس بن عبد الله الترقفي نا محمد بن يوسف عن سفيان عن يوسف بن عبيد عن غيلان بن جرير عن زياد بن أبي رياح القيسي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خرج من الطاعة و فارق الجماعة فمات على ذلك فهي ميتة الجاهلية و من خرج من أمتي بظلم برها و فاجرها لا يحتشم أو قال لا يتحاشى من مؤمنها و لا يفي لذي عهدها فليس مني و من قتل تحت راية عمية يغضب للعصبية و ينصر للعصيبة و يدعو للعصبية فقتلته جاهلية أو قال ميتته جاهلية ـ شك أبو محمد

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو یوسف بن عبید نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کوزیاد بن ابو ربا ح قیسی نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص (امیر وخلیفہ ) کی اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی ) جماعت سے جدا ہو جائے ، پھر وہ اسی حالت پر مر جائے تو یہ موت جاہلیت کی موت ہے ۔ اور جو شخص میری امت سے نکل گیا امت کے کسی نیک یا بد کے ظلم کرنے کی وجہ سے اس نے نہیں شرم کی ۔ یا۔ کہا تھا نہیں لحاظ کیا امت کے مؤمن کے ۔ اور اس نے ذی عہد سے بھی وفا نہیں کی وہ مجھ سے نہیں ہے (ذی عہد خلیفہ وامیر جس کی بیعت کر کے اس نے اطاعت کا عہد کیا تھا ) اور جو شخص اندھی تقلید ( یا اندھے پن ) کے جھنڈے تلے مارا گیا جو عصبیت کے لئے غصہ ہوا اور عصبیت کی نصرت کی اور عصبیت کی دعوت دی ۔اس کا قتل جاہلیت ہے۔ یا یوں کہا تھا کہ اس کی موت جاہلیت کی موت کی طرح ہے ۔ بیشک ابو محمد کا ہے۔ ( جاہلیت اسلام سے پہلے دور کا نام ہے عصبیت کے پرچم تلے مرنے والے کی موت کو جاہلیت کی موت کہنے کا مطلب یہ ہے اس کی موت حرام موت ہے اسلام میں جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ) (مترجم)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زياد بن أبي رياح القيسي ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← يوسف بن عبيد ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7495

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7496

7496 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا بكر بن محمد الصيرفي نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا حجاج بن منهال نا مهدي بن ميمون عن غيلان بن جرير عن زياد بن رياح عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من خرج من الطاعة و فارق الجماعة ثم مات مات ميتتة جاهلية و من قتل تحت راية عمية يغضب للعصبية فليس مني و من خرج علي أمتي يضرب برها و فاجرها لا يتحاشى عن مؤمنها و لا يفي بذي عهدها فليس مني أخرجه مسلم من حديث مهدي بن ميمون و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن محمد صیرفی نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو حجاج بن منھال نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کوزیاد بن رباح نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( خلیفہ وامیر کی ) اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اس کے بعد وہ مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص اندھے پرچم تلے مارا گیا (یعنی تقلید میں ) جو عصبیت کے لئے جذباتی ہوتا ہے اور عصبیت کے لئے لڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے اور جو شخص نکلا ( جس نے خروج کیا) میری امت کے خلاف اس نے مارنا شروع کیا امت کے نیک کو بھی اور بد کو بھی امت کے مؤمن کا لحاظ بھی نہیں کیا اور نہ اس کے ذی عہد کے ساتھ وفا کی ( نہ اس نے وعد ہ پورا کیا کسی سے ) اور نہ وفا کی اس شخص کے ساتھ جس سے عہد کر رکھا ہے پناہ لے رکھی یہ اس کو بھی مارتا ہے ) وہ شخص مجھ سے نہیں ہے اس کو مسلم نے حدیث مہدی بن میمون سے ذکر کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7496

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7497

7497 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق نا حجاج بن منهال و عارم و سليمان بن حرب و مسدد قالوا نا حماد بن زيد عن الجعد أبي عثمان و قال مسدد نا حماد بن زيد أبو عثمان نا أبو رجاء العطاردي سمعت ابن عباس يرويه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من رأى من أميره شيئا يكرهه فليصبر فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن ابو بکر احوازی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو حجاج بن منہال نے اور عارم نے اور سلیمان بن حرب اور مسدد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی حماد بن زید نے جعد بن ابوعثمان سے وہ کہتے ہیں کہ کہا مسدد نے ان کو خبر دی حماد بن زید نے ان کو جعد نے ان کو ابوعثمان نے ان کو ابورجاء عطاردی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر سے کوئی ایسی بات دیکھے (یعنی ایسا رویہ ) جس کو وہ پسند نہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ صبر کرے اس لئے کہ جو شخص بھی جماعت سے ایک بالشت بھر بھی دور مر جاتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ ← أبو رجاء العطاردي ← حماد بن زيد أبو عثمان ← مُسَدَّدٌ ← الجعد أبي عثمان و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حجاج بن منهال و عارم و سليمان بن حرب و مسدد ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7497

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7498

7498 - قال و نا به مسدد نا عبد الوارث عن الجعد أبي عثمان عن أبي رجاء عن ابن عباس : رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر الحديث رواه البخاري في الصحيح عن أبي النعمان عارم عن حماد

فرمایا کہ ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو مسدد نے ان کو عبد الوارث نے ان کو جعد نے ان کو ابوعثمان نے ان کو ابور جاء نے ان کو ابن عباس نے ان کو حدیث کو مرفوع کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پھر حدیث ذکر کی ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابونعمان عارم نے حماد سے ۔

حَمَّادٌ، ← أبي النعمان عارم ← الحديث رواه البخاري في الصحيح ← ابن عباس رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ثم ← أَبِي رَجَاءٍ، ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← به مسدد ← و،

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7498

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7499

7499 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو إسماعيل الترمذي نا إسحاق بن إبراهيم حدثني عمرو بن الحارث أخبرني عبد الله بن سالم أخبرني محمد بن الوليد بن عامر نا الفضيل بن فضالة أن حبيب بن عبيد حدثني أن المقدام : حدثهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أطيعوا أمراءكم فإن أمروكم بما جئتكم به فإنهم يؤجرون عليه و يؤجرون بطاعتهم و إن أمروكم بشيء مما لم آتكم به فهو عليكم و أنتم برآء من ذلك إذا لقيتم الله قلتم ربنا لا ظلم فيقولون ربنا لا ظلم أرسلت إلينا رسولا فأطعناه يعني بإذنك واستخلفت علينا خلفا فأطعناهم بإذنك و أمرت علينا أمراء فأطعناهم بإذنك فيقول صدقتم هو عليهم و أنت منه براء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو خبر دی عبداللہ بن سالم نے ان کو خبر دی محمد بن ولید بن عامر نے ان کوفضیل بن فضالہ نے یہ حبیب بن عبید نے حدیث بیان کی ہے انہوں نے مقدام سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ (یعنی حکمرانوں کی ) اگر وہ تمہیں حکم دیں اس کا جو کچھ میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ۔ ( دین ) بے شک ان کو ( تمہارے لئے دینی حکم کرنے پر ) اجر ملے گا اور تمہیں ان کی ( دینی امور میں ) اطاعت کرنے پر اجر ملے گا اور اگر وہ تمہیں ایسی چیز کا حکم دیں جو میں تمہارے پاس لے کر نہیں آیا ہوں تو وہ ( غیر دینی امور کا ) حکم کرنا ان کے اوپر وبال ہوگا اور تم اس سے بری ہوں گے ۔ جب تم اللہ تعالی ٰسے ملو گے تو تم کہو گے کہ اے ہمارے رب ! ظلم نہیں ہے یعنی ہم نے زیادتی نہیں کی تھی اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے زیادتی نہیں کی تھی ۔ آپ نے ہماری طرف رسول بھیجے تھے ہم نے رسولوں کی اطاعت کی تھی تیرے حکم کے ساتھ ، اس کے بعد آپ نے ہمارے اوپر ان کے خلیفے اور جانشین بھیجے تھے ہم نے ان کی بھی اطاعت کی تھی تیری اجازت کے ساتھ ، اور آپ نے ہمارے اوپر امیر وحکمران بنائے تھے ہم نے ان کی اطاعت کی تھی تیری اجازت کے ساتھ ۔ وہ فرمائے گا کہ تم نے سچ کہا وہ ذمہ داری ان پر ہے اور تم اس سے بری ہو ۔

أَنَّ الْمِقْدَامَ ← الفضيل بن فضالة أن حبيب بن عبيد ← محمد بن الوليد بن عامر ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7499

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7500

7500 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن بشار نا محمد بن جعفر نا شعبة عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه قال : سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألوننا حقهم و يمنعونا حقنا فما تأمرنا ؟ قال : فأعرض عنه ثم سأله فأعرض عنه ثم سأله في الثانية أو في الثالثة فجذبه الأشعث بن قيس فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اسمعوا و أطيعوا فإنما عليه ما حمل و عليكم ما حملتم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو علقمہ بن وائل نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ سلمہ بن یزید جعفی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور فرمایا کہ اے اللہ کے نبی یہ فرمایئے کہ اگر ہمارے اوپر امیر حکمران کھٹرے ہو جائیں ۔ وہ ہم سے اپنا حق مانگیں (یعنی اطاعت ) اور ہمارا حق ہمیں نہ دیں (یعنی ہماری حفاظت نہ کریں وغیرہ وغیرہ) تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ سوال کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر آپ نے منہ پھیر لیا پھر اس نے جب دوسری یا تیسری بار پوچھا تو اشعث بن قیس نے اس کے دامن کو پکڑ کر کھینچا یعنی منع کیا سوال کرنے سے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسمعوا واطيعوا فانما عليه ماحمل وعليكم ما حملتم ۔ تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک وہ اس چیز کاذمہ دار وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار بنایا گیا اور تمہارے اوپر وہ لازم ہے جس کی تم ذمہ داری دیئے گئے ہو ۔ ( کیونکہ ان پر ان کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارا بوجھ۔) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن بشار سے ۔

يا نبي الله أرأيت ← سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7500

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7501

7501 - و روينا في حديث حذيفة بن اليمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم في أخباره عن أئمة لا يهتدون بهديه و لا يستنون بسنته قال : تسمع و تطيع للأمير فإن ضرب ظهرك و أخذ مالك فاسمع و أطع

اور ہم نے حذیفہ بن یمان کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آپ کی کئی احادیث میں ان ائمہ و خلفاء کے بارے میں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ساتھ ہدایت نہیں پکڑیں گے اور آپ کی سنت کو اپنا معمول نہیں بنائیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تم ان کا حکم سننا اور امیر کی اطاعت کرنا اگر چہ وہ تیری پیٹھ پر مارے اور تیرا مال چھین لے پس تم سنو اور اطاعت وفرمانبرداری کرو ۔

أئمة لا يهتدون بهديه و لا يستنون بسنته ← النبي صلى الله عليه و سلم في أخباره ← و روينا في حديث حذيفة بن اليمان

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7501

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7502

7502 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا أحمد بن سهل قال : و أنا الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة قالا نا محمد بن بشار نا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة نا الحسن عن ضبة بن محصن عن أم سلمة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : سيعمل عليكم أمراء بعدي تعرفون و تنكرون فمن كره فقد برئ و من أنكر فقد سلم و لكن من رضي و تابع قالوا : يا رسول الله ألا نقاتلهم ؟ قال : لا ما صلوا قال قتادة : يعني من أنكر بقلبه و كره بقلبه رواه مسلم من حديث محمد بن بشار و روينا من وجه آخر عن الحسن أنه قال فمن أنكر بلسانه فقد برئ و قد ذهب زمان هذه و من كره بقلبه فقد جاء زمان هذه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو احمد بن سہل نے وہ کہتے ہیں اور ہمیں خبر دی ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے محمد بن بشار نے ان کو معاذ بن ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کو قتادہ سے ان کو حسن نے انہوں نے ضبہ بن محصن سے انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا عنقریب تمہارے اوپر میرے بعد کچھ امیر مقرر کئے جائیں گے ان میں سے بعض کو تم پہچانو گے اور بعض کو نہیں پہچانو گے جو شخص ناپسند کرے گا بری ہوگا اور جو شخص انکار کرے گا وہ بچ جائے گا مگر جو راضی ہوا اور تابع داری کی ۔ لوگوں نے کہایا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے ساتھ قتال نہ کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں حضرت قتادہ فرماتے ہیں ۔ یعنی جس شخص نے اپنے دل سے انکار کیا اور اپنے دل سے نا پسند کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن بشار کی حدیث ہے ۔ اور ہم نے ایک دوسری وجہ سے روایت کی ہے حسن سے کہ انہوں نے فرمایا جس نے اپنی زبان سے انکار کیا وہ بری ہوا اور تحقیق اس کا زمانہ چلا گیا اور جس نے اپنے دل سے ناپسند کیا تحقیق اس کا یہی زمانہ آ گیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أُمِّ سَلَمَةَ ← ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← الْفَضْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7502

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7503

7503 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا عمر بن سنان نا أحمد بن أبي شعيب الحراني أنا موسى بن أعين عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي البختري قال : قيل لحذيفة ألا تأمر بالمعروف و تنهى عن المنكر ؟ قال : إن الأمر بالمعروف و تنهى عن المنكر ؟ قال : إن الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر لحسن و لكن ليس من السنة أن ترفع السلاح على إمامك قال الحليمي رحمه الله : فالإمام العادل طاعته واجبة و مخالفته حرام و الثبات على عهده و عقده فرض و أما الجائر فمن قال إن الفسق لا يناقض الإمامة احتج بظواهر هذه الأخبار و قال إنها نطقت بإيجاب الطاعة للعادل و الجائر و بسط الكلام فيه و من قال إن الفسق يناقض الإمامة قال : إن ذكر الإمام الجائر منفردا عن الإمام العادل ليس إلا أن الجائر إمام في صورة أمره و ظاهر حاله دون إثبات أن يكون إماما بالاطلاق كالعادل و عرفنا أن مفارقته و نبذ طاعته إذا كانت لا تكون إلا بنقض الجماعة و جبت طاعته و في ذلك دليل على أن مفارقته إذا أمكنت بغير نقض الجماعة وجبت مفارقته و معنى مفارقة الجماعة أن الجمهور إذا كانوا يرون أن فسقه لا يناقض إمامته و كان نفر يسير يرون أنه يناقضها فهؤلاء النفر اليسير ليس لهم أن يبوحوا بما في نفوسهم لأن الجمهور يخالفونهم و يردونهم عن رأيهم فإما أن تقع الفرقة و إما أن تصبيهم من الإمام معرة استظهارا من بالجمهور فيكونوا قد تعرضوا من البلاء لما لا يطيقونه و ذلك مما قد نهوا عنه و هكذا إن كان أهل الرأي يرون أن الفسق يناقض الإمامة إلا أنه لم يمكنهم أن يخالفوه لأن الجند قد ألفوه فإن أظهروا لهم ما عندهم من الرأي اضطربوا و ماجوا و ثارت الفتنة فسبيلهم أن يسكتوا أو يلزموا الجماعة ثم بسط الكلام في إيتان الصلوات و إقامتها خلفه إن أقامها و دفع الصدقات إليه إن طلبها و التراف إلى من نصبه قاضيا و الخروج معه في جهاد الكفار و إن كان في دفع واحد مثله قصد بالقتال توهين المدفوع و إن كان في دفع من قصده بالحق ليزيله عن مكانه أعان أهل الحق إلا أن يرى فيهم ضعفا فيحتال في القعود و إن عذر فيه و إن لم يعذر فيه خرج معه و يبقى الرمي و الضرب و الطعن ما أطاق

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو عمرو بن سنان نے ان کو احمد بن ابوشعیب حرانی نے ان کو ابو موسی ٰبن اعین نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو ابوا لجنتر ی نے وہ کہتے ہیں ۔ حضرت حذیفہ سے کہا گیا کیا کہ کیا تم معروف کا حکم نہیں کرتے اور منکر سے نہیں روکتے ؟ انہوں نے کہا کہ بے شک امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے کہ تم اپنے امام وامیر پر ہتھیار اٹھالو۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ امام یعنی خلیفہ امیر عادل کی اطاعت واجب ہے اور اس کی مخالفت کرنا حرام ہے اور اس کے عہد پر اور عقد بیت پر قائم رہنا فرض ہے اور ظالم خلیفہ حکمران کے بارے میں جس نے یہ قول کیا ہے کہ فاسق ہونا امامت وخلافت کے منافی نہیں ہے اس نے ان مذکور ہ احادیث کے ظاہر سے حجت پکڑی ہے اور کہا ہے کہ یہ احادیث اطاعت کے واجب کرنے پر ناطق ہیں عادل کے لئے بھی اور ظالم کے لئے بھی اور اس نے اس میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔ اور جس نے یہ قول کیا ہے کہ فاسق ہونا امامت کے منافی ہے ۔اس نے یہ کہا ہے کہ امام ظالم کا ذکر امام عادل کے ذکر سے منفرد اورا لگ ہے۔ مگر یہ ہے کہ امام ظالم حکمران ہے محض اپنے حکم کی صورت میں اور اپنے ظاہر حال کے اعتبار سے اس لحاظ سے نہیں کہ وہ امام عادل کی طرح مطلقا امام ہے ۔ اور ہم نے سمجھ لیا ہے کہ خلیفہ غیر عادل سے الگ تھلگ ہو جانا اور اس کی اطاعت چھوڑ دینا جب جماعت کو نقصان پہنچائے بغیر ممکن نہ ہو تو اس کی اطاعت واجب ہے اور اس بات میں دلیل ہے اس چیز کی کہ اس الگ ہونا اطاعت کا چھوڑ دینا جب نقص جماعت کے بغیر ممکن ہوتو اس کی مفارقت واجب ہے (یعنی اس کو چھوڑنا اور الگ ہونا۔ ) اور مفارقت جماعت کا معنی یہ ہے کہ جمہور جب یہ سمجھتے ہوں کہ امام کا فسق ایسا ہے جو اس کی امامت کا منافی نہیں ہے اور دوسرے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہ کہیں اس کا فسق امامت کے منافی ہے، تو اس مختصر سی جماعت اور گروہ کو چاہئے کہ وہ اس بھید کو ظاہر نہ کریں جوان کے دلوں میں ۔ ہے، اس لئے کہ جمہور ان کی مخالفت کریں گے اور ان کی رائے کو روک دیں گے جس کی وجہ سے یا تو تفرقہ پڑے گا یا پھر امام کی طرف سے ان کو نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کو جمہور کی حمایت حاصل ہوگی ۔ لہذا و ہ انجام و نتیجے کے اعتبار سے ایسی آزمائش اور ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے ۔ جس کا مقابلہ کرنے کی ان کو سکت نہیں ہوگی اور یہ چیز ایسی ہے جس سے وہ منع کئے گئے ہیں یہ چیز ان کے لئے ممنوع ہے۔ اوراسی طرح ہے یہ بات کہ اگر اہل رائے یہ سمجھتے ہیں کہ امام وخلیفہ کا فسق ایسا ہے جو کہ اس کی امامت کے منافی ہے مگر وہ ایسے ہیں کہ اس کی مخالفت کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے، اس لئے کہ فوج اور لشکر انہوں نے ترتیب دیا ہے ۔ اگر وہ ان لشکریو کے آگے اپنی رائے کا اور اپنی خواہش کا اظہار کر تے ہیں تو پریشانی کا اختلاف و انتشار کا شکار ہو جائیں گے اور فوجی لشکر پھر جائیں گے ان سے جس کے نتیجے میں فتنہ برپا ہو جائے گا۔ لہذا ایسی صورت میں ان کے لئے سبیل یہ ہے کہ وہ خاموشی اختیار کر لیں اور جماعت کو لازم پکڑیں۔اس کے بعد شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے ۔ اس بارے میں کہ خلیفہ اگر نماز قائم کرے تو اس کے پیچھے نماز ادا کرنا اور اگر زکوۃ وصدقات وصول کرے تو اس کے پاس جمع کرنا۔ اور وہ جس کو قاضی مقرر کرے اس کے پاس فیصلے لے جانا اور اس سے فیصلے کروانا ، اور اگر وہ اعلان جہاد کرے تو اس کے ساتھ مل کر اس کی ماتحتی میں جہاد کرنا کفار کے ساتھ ۔ اگرچہ اس کو اس کی طرف ادا کرنے یا اس کے ماتحتی میں ادا کرنے میں ادا کی ہوئی چیز کی توہین بھی ہو مثلا ً قصد اً قتال ہے، اور اگر امیر کا ارادہ ادا کروانے میں اس چیز کو اس کے حق سے ہٹا کر ناحق کرنے کا ہوتو ،انسان اہل حق کی اعانت وامداد کرے ہاں مگر یہ کہ اہل حق بھی کمزور ہوں تو پھر اس کے ساتھ جہاد پر جانے سے بیٹھے رہنے کا کوئی حیلہ و بہانہ کرے اگر اس میں اس کا عذر مان لیا جائے تو ٹھیک ہے اور اگر اس کا عذر بھی نہ مانا جائے تو پھر وہ امام کے ساتھ نکلے اور تیراندازی شمشیر زنی نیزہ باری کو باقی رکھے جس قد راستطاعت رکھے۔

المنكر" ← قيل لحذيفة ألا تأمر بالمعروف و تنهى ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7503

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7504

7504 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو بكر بن محمويه العسكري نا جعفر بن محمد القلانسي نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن الزهري ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا علي بن محمد المصري نا روح بن الفرح نا يحيى بن عبد الله بن بكير نا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال عليك بالطاعة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو بکر بن محمود یہ عکسری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو لیعقوب بن عبد الرحمن ٰزہری نے ’’ ح ‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کوعلی بن محمد مصری نے ان کو روح بن فرح نے ان کو یحیٰی بن عبداللہ بن بکیر نے ان کو یعقوب بن عبد الرحمن ٰنے ان کو ابو حازم نے ان کو ابوصالح سمان نے ان کوابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیک با لطاعة ۔ لازم پکڑو تم اطاعت کو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← روح بن الفرح ← علي بن محمد المصري، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7504

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood