Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7440

7440 - و في تاريخ البخاري قال إسحاق بن عيسى عن عمران بن أبي يحيى عن عمه مروان بن قيس سمع ابن مسعود يقول : لن تزالوا بخير ما صلحت أئمتكم قال أحمد و قد رويناه في معناه و أتم منه ما

تاریخ بکاری میں ہے کہ اسحٰق نے کہا عیسیٰ سے اس نے عمران بن ابو یحییٰ سے اس نے اپنے چچامروان بن قیس سے انہوں نے سنا ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں تم لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارے امام وحکمران نیک رہیں گے ۔امام احمد نے کہا کہ ہم نے اس کو روایت کیا ہے اس کے مفہوم میں مگر اس سے زیادہ مکمل نیچے درج ہے۔

أحمد و قد رويناه في معناه و أتم منه ما ← لن تزالوا بخير ما صلحت أئمتكم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عمه مروان بن قيس ← عمران بن أبي يحيى ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← و في تاريخ البخاري

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7440

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7441

7441 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا أبو نعيم ثنا مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن أبيه قال عمر رضي الله عنه عند موته : إن الناس لم يزالوا بخير ما استقامت لهم ولاتهم و هداتهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوابوبکر سماک نے ان کو حنبل بن اسحق نے ان کو ابونعیم نے ان کو مالک بن انس نے ان کوزید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی موت کے وقت بے شک لوگ اس وقت تک خیر کے ساتھ رہیں گے جب تک ان کے والی سیدھے ر ہیں گے اوران کے ہادی ورہبر (یعنی بادشا ہ خلفا ، و حکمران اور عالم و پیر ومرشد ۔)

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7441

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7442

7442 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد نا الوليد بن علي الجعفي عن خاله الحسن بن الحسين عن القاسم بن مخيمرة قال : إنما زمانكم سلطانكم فإذا صلح زمانكم صلح سلطانكم و إذا فسد سلطانكم فسد زمانكم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو ولید بن علی جعفی نے اپنے ماموں حسن بن حسین سے انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے وہ کہتے ہیں کہ یقینی بات ہے کہ تمہارے زمانے تمہارے بادشاہ ہیں۔ جب تمہارے زمانے نیک ہوں گے تمہارے بادشاہ بھی نیک ہوں گے اور جب تمہارے بادشاہ خراب ہوں گے تو تمہارے زمانے بھی خراب ہوں گے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← خاله الحسن بن الحسين ← الوليد بن علي الجعفي ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7442

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7443

7443 - أخبرنا أبو عبد الله قال : سمعت أبا سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان يقول : سمعت فاطمة بنت إبراهيم بن عبد الله السعدية تقول : سمعت فاطمة امرأة يحيى بن يحيى تقول : قام يحيى ليلة لورده فلما فرغ منه قعد يقرأ من المصحف فذكر قصته في دخول عبد الله بن طاهر الأمير عليه قالت : فلما قرب منه و سلم قام إليه و المصحف في يده ثم رجع إلى قراءته حتى ختم السورة التي كان افتتحها ثم وضع المصحف و اعتذر إلى الأمير و قال : لم أشتغل عنه تهاونا بحقه إنما كنت افتتحت سورة فختمتها فقعد عبد الله ساعة يحدثه ثم قال له : ارفع إلينا حوائجك فقال : و هل يستغنى عن السلطان أيده الله و قد وقعت لي حاجة في الوقت فإن قضاها رفعتها فقال : نقضيها ما كانت فقال أبو زكريا : قد كنت أسمع بمحاسن وجه الأمير و لم أعاينها إلا ساعتي هذه و حاجتي إليه أن لا يرتكب ما يحرق هذه المحاسن بالنار فأخذ الأمير عبد الله بن طاهر في البكاء حتى قام يبكي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ نے انہوں نے سنا ابوسعید بن ابو بکر بن ابوعثمان سے انہوں نے سنا فاطمہ بنت ابراہیم بن عبداللہ بن سعدیہ سے وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے سنا فاطمہ زوجہ یحییٰ بن یحییٰ سے کہتی ہیں کہ ان کے شوہر یحییٰ رات کو اپنی عبادت کے لئے کھڑے ہوئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو بیٹھ کر تلاوت کرنے لگے اسی اثنا میں ان کو یاد آیا کہ ان کو ملنے کے لئے امیر عبداللہ بن طاہر بھی تو آئے تھے فرماتی ہیں کہ جب وہ ان کے قریب ہوئے انہوں نے سلام کیا اور ان کے لئے کھڑے ہو گئے مگر قرآن بدستور ہاتھ میں تھا۔ اس کے بعددوبارہ تلاوت میں لگ گئے یہاں تک کہ سورت پوری کر لی جس کو شروع تھا۔ اس کے بعد قرآن مجید رکھ لیا اور امیر کے آگے معذرت پیش کی کہ دراصل میں اس کے حق میں کوتاہی کرتے ہوئے اس کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ میں نے ایک سورۃ شروع کر لی تھی اب میں نے اس کوختم کر لیا ہے۔ چنانچہ امیر عبداللہ ان کے ساتھ ایک ساعت بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اس کے بعد امیر نے کہا کہ آپ اپنی حوائج و ضرورتیں ہمارے آگے پیش کریں ۔انہوں نے کہا کہ کیا سلطان کو اللہ تعالی ٰ تائید و نصرت بخشے کیا اس سے بھی استغناء اور لاپرواہی کی جاسکتی ہے؟ فی الوقت ایک میری حاجت آن پڑی ہے اگر آپ پوری کریں تو میں اس کو پیش کروں امیر نے کہا کہ ہاں ہاں کیوں نہیں ضرور پیش کیجئے ابو زکریا یحیی ٰنے کہا میں امیر عبد اللہ کے چہرے کا حسن اور خوبیاں سنتا رہتا تھا مگر دیکھا نہیں تھا آج ایک لحظہ میں نے ایک لحظہ ان کو دیکھا ہے میری حاجت یہ ہے کہ آپ کسی ایسے کام کا ارتکاب نہ کرنا جو ان محاسن و خوبیوں کو آگ میں جلا دے چنانچہ امیر عبد اللہ نے وہیں رونا شروع کر دیا اور وہ روتے روتے وہاں سے اٹھ گئے ۔

فاطمة بنت إبراهيم بن عبد الله السعدية تقول ← أبا سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7443

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7444

7444 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن علي الساوي بها أنا أبو أحمد الطرائفي بجرجان نا أبو إسحاق محمد بن هارون بن يزيد الهاشمي المنصوري نا أبو علي أحمد بن إبراهيم القهستاني و أبو القاسم عبيد الله بن عبد الله الوراق و الحسين بن عبد الله الحصيني قالوا : نا أحمد بن إبراهيم الموصلي قال : كنا عند المأمون فقام إليه رجل فقال : يا أمير المؤمنين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخلق عيال الله و أحب العباد إلى الله أنفعهم لعياله قال : فصاح به المأمون اسكت أنا أعلم بالحديث منك

ہمیں خبر دی ابو محمد عبد الرحمٰن بن علی ساوی نے ان کو ابو احمد طرائفی نے گورگان میں ۔ ان کو ابواسحاق محمد بن ہارون بن یزید ہاشمی المنصوری نے ان کو ابوعلی احمد بن ابراہیم قہستانی نے ان کو ابوالقاسم عبیداللہ بن عبداللہ الوراق نے اور حسین بن عبداللہ الحصینی نے ان کو خبر دی احمد بن ابراہیم موصلی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خلیفہ مامون الرشید کے پاس بیٹھے تھے چنانچہ ایک آدمی ان کے آگے کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے امیر المؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ( ٹبر ہے) اور اللہ کے نزدیک تو بندوں میں سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کو زیادہ نفع پہنچانے والا اور مفید ہو ۔ (اللہ تعالی ٰ کنبے قبیلے اور رشتہ داریوں کی ہر نسبت سے پاک ہے اس لئے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ فرمان تمثیلی کعیال (یعنی عیال اور کنبے کی طرح ہیں ) کہتے ہیں کہ مامون الرشید ان پر چیخا کہ چپ ہو جا میں تم سے اس حدیث کو زیادہ جانتا ہوں۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7444

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7445

7445 - حدثنيه يوسف بن عطية الصفار عن ثابت عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخلق عيال الله و أحب عباد الله إلى الله أنفعهم لعياله لفظ القهستاني

ہمیں اس کے بارے میں حدیث بیان کی یوسف بن عطیہ صفار نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرماتے ہیں مخلوق ( اللہ کے عیال کی طرح ہے ) اللہ کے بندوں میں سے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ بندہ ہے جو ان میں سے اس کے عیال کے لئے زیادہ مفید ہو۔ یہ الفاظ قہستانی کی روایت کے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَارُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7445

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7446

7446 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو عمرو بن مطر أنا أبو القاسم بن أمية بن منيع نا أحمد بن إبراهيم الموصلي قال : كنت مع أمير المؤمنين بالشماسية و هو يجري الحلبة و معه يحيى بن أكثم و هو يقول : يا يحيى أما ترى أما ترى ثم قال : حدثنا يوسف بن عطية عن ثابت البناني عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الخلق كلهم عيال الله فأحب الخلق إلى الله أنفعهم لعياله قال أحمد بن إبراهيم الموصلي : ثنا يوسف بن عطية عن ثابت بهذا

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو ابوالقاسم بن امیہ بن منیع نے ان کو احمد بن ابراہیم موصلی نے وہ کہتے ہیں کہ میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھا شماسیہ میں اور دو گھوڑوں کا گرو ہ دوڑا رہے تھے ۔ ان کے ساتھ یحیی ٰبن اکثم تھے ۔ اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے اکثم کیا تم دیکھتے نہیں ۔ کیا تم دیکھتے نہیں۔اس کے بعد کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن عطیہ نے ثابت بنانی سے اس نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کر مخلوق ساری کی ساری اللہ کا کنبہ ہے اللہ کی مخلوق میں سے اللہ کو زیاد ہ محبوب وہی ہے جو اس کے عیال کے لئے زیادہ نافع ہو۔ احمد بن ابراہیم موصلی نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی یوسف بن عطیہ نے ان کو ثابت نے یہی حدیث ۔

أحمد بن إبراهيم الموصلي ← أبو القاسم بن أمية بن منيع ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7446

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7447

7447 - أخبرنا أبو بكر محمد بن أبي سعيد المجاور بمكة أنا أبو الفضل أحمد بن محمد بن حمدويه الشرمقاني نا الحسن بن سفيان نا بشر بن الحكم نا يوسف نا ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : الخلق كلهم عيال الله و أحب الخلق أنفعهم لعياله تفرد به يوسف بن عطية و قد روي بإسناد ضعيف

ہمیں اس کی خبر دی ابو بکرمحمد بن ابوسعید مجاہد نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالفضل احمد بن محمد بن حمدویہ شر مقانی نے ان کوحسن بن سفیان نے ان کو بشر بن حکم نے ان کو یوسف نے ان کو ثابت ، نانی نے ان کو انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے ۔ مخلوق ساری کی ساری اللہ کا کنبہ ہے اور ساری مخلوق سے اللہ کو زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کی مخلوق کے لئے سب سے زیادہ فائدہ دینے والا ہو ۔ یوسف بن عطیہ کا اس روایت میں تفرد ہے اور یہ ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← يُوسُفُ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو الفضل أحمد بن محمد بن حمدويه الشرمقاني ← أبو بكر محمد بن أبي سعيد المجاور بمكة

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7447

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7448

7448 - حدثنا أبو حازم الحافظ أنا علي بن الفضل بن محمد بن عقيل الخزاعي نا محمد بن عثمان بن أبي شيبة نا أبو صهيب النضر بن سعيد نا موسى بن عمير عن الحكم بن عتيبة عن إبراهيم عن الأسود عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخلق عيال الله فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله

ہمیں حدیث بیان کی ابو حازم حافظ نے ان کوعلی بن فضیل بن محمد بن عقیل خزاعی نے ان کو محمد بن عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو ابو صہیب نضر بن سعید نے ان کو موسٰی بن عمیر نے ان کو حکم بن عتیبہ نے ان کو ابراہیم نے اسود سے اس نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔کہ مخلوق اللہ کا عیال ہے لہذامخلوق میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کے ساتھ زیادہ نیکی کرے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبُو صُهَيْبٍ النَّضْرُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7448

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7449

7449 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو محمد بن عبد الواحد الزاهد نا أحمد بن زياد السمسار نا إسحاق بن كعب نا موسى بن عمير : بإسناده نحوه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو محمد بن عبدالواحد زاہد نے ان کو احمد بن زیاد سمسار نے ان کو اسحاق بن کعب نے ان کو موسٰی بن عمیر نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور حدیث روایت کی ہے۔

موسى بن عمير بإسناده نحوه ← إسحاقُ بنُ كعبٍ: ← أحمد بن زياد السمسار ← أبو عمرو محمد بن عبد الواحد الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7449

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7450

7450 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو معشر موسى موسى بن محمد بن موسى الماليني أنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد نا محمد بن حميد بن فروة حدثني أبي حميد بن فروة قال : لما استقرت للمأمون الخلافة دعا إبراهيم بن المهدي المعروف بابن شكلة فوقف بين يديه فقال : يا إبراهيم أنت المؤلب عليهنا يدعي الخلافة فقال إبراهيم : يا أمير المؤمنين أنت ولي الدار و المحكم في القصاص و العفو أقرب للتقوى و قد جعلك الله فوق كل ذي ذنب كما جعل كل ذي ذنب دونك فإن أخذت أخذت بحق و إن عفوت عفوت بفضل و لقد حضرت أبي و هو جدك وأتى برجل و كان جرمه أعظم من جرمي فأمر الخليفة بقتله و عنده المبارك بن فضالة فقال المبارك : إني رأى أمير المؤمنين أن يتأنى في أمر هذا الرجل حتى أحدثه بحديث سمعته

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ نے تاریخ میں ان کو ابو معشر موسٰی بن محمد بن موسٰی مالینی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن سعید نے ان کو محمد بن حميد بن فروہ نے ان کو ابوحمید بن فروہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب مامون الرشید کی خلافت پکی ہوگئی تو انہوں نے ابراہیم بن مہدی المعروف ابن شکلہ کو بلایا وہ ان کے آگے بیٹھے ۔ مامون نے کہا اے ابراہیم تم نے ہمارے خلاف گروہ بنایا ہے جو خلافت کا دعویدار ہے؟ ابراہیم نے کہا اے امیرالمؤمنین! آپ دار خلافت کے والی ہیں بدلہ لینے میں محکم ہیں اور درگذر کرنا تقوی ٰکے زیادہ قریب ہے۔ اللہ نے آپ کو ہر صاحب گناہ کے اوپر مقرر کیا ہے یا اللہ نے آپ کو ہر گناہ کرنے والے سے اوپر کیا ہے جیسے اس نے ہر گناہ کرنے والے کو آپ سے کم کیا ہے اگر آپ مجھے سزا دیں گے تو درست اور حق کے مطابق دیں گے اور اگر آپ معاف کریں گے تو آپ فضل وعنایت کے ساتھ معاف کریں گے البتہ تحقیق میرے والد فوت ہو چکے ہیں وہ آپ کے نانا تھے ان کے سامنے ایک آدمی لایا گیا تھا جس کا جرم میرے جرم سے زیادہ بڑا تھا ۔ خلیفہ نے اس کوقتل کرنے کا حکم دیا تھا مگر وہاں مبارک بن فضالہ موجود تھے مبارک نے کہا اگر امیر المؤمنین مناسب سمجھے کہ اس آدمی کے معاملے میں نرمی کرے تو نرمی کر لے یہاں تک کہ میں ان کو ایک حدیث بیان کروں جس کو میں نے سنا تھا۔

أبي حميد بن فروة ← محمد بن حميد بن فروة ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد ← أبو معشر موسى موسى بن محمد بن موسى الماليني ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7450

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7451

7451 - من الحسن قال : إيه يا مبارك فقال : حدثنا الحسن عن عمران بن حصين : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان يوم القيامة نادى مناد من بطنان العرش ألا ليقومن العافون من الخلفاء إلى أكرم الجزاء فلا يقوم إلا من عفا فقال الخليفة : أيها يا مبارك قد قبلت الحديث بقبوله و قد عفوت عنه فقال المأمون : و قد قبلت الحديث بقبوله و عفوت عنك ها هنا ها هنا يا عمر

حسن سے انہوں نے کہا تھا پیش کیجئے اے مبارک ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی تھی حسن نے عمران بن حصین سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جب قیامت کا دن ہوگا ۔ ایک اعلان کرنے والا عرش سے اعلان کرے گا خبر دار البتہ معافی دینے والے حضرات خلفاء میں سے سب سے زیادہ عزت والی جزا لینے کے لئے کھڑے ہو جائیں پس کوئی کھڑا نہ ہوگا مگر وہی جس نے معاف کیا ہوگا ۔ پس خلیفہ نے یہ سنتے ہی فرمایا تھا۔ لیجئے اے مبارک میں نے حدیث کو قبول کر لیا ہے بسبب ان کے قبول کرنے کے اور میں نے اس کو معاف کر دیا ہے چنانچہ مامون نے بھی کہا میں نے بھی اس حدیث کو قبول کیا ہے اس کی قبولیت کے ساتھ اورتم کوبھی معاف کر دیا ہے یہاں پر اسی جگہ پر اے عمر ۔ جو شخص لوگوں کی کمزوریاں تلاش کرے وہ فساد ڈالتا ہے:

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← إيه يا مبارك فقال ← مِنَ الْحَسَنِ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7451

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood