Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7428

7428 - أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الله الخسروجردي أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا أبو عبد الكريم البزاز البغدادي نا عبد الله بن خبيق حدثني عبد الله بن الضريس قال : دخل ابن السماك على هارون يعني الرشيد فقال : يا أمير المؤمنين إن الله عز و جل لم يجعل أحدا فوقك فلا ينبغي أن يكون أحد أطوع منك لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن عبد اللہ بن خسر و گردی نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابوعبدالکریم بزاز بغدادی نے ان کو عبداللہ بن خبیق نے ان کو عبداللہ بن ضریس نے وہ کہتے ہیں کہ ابن سماک داخل ہوئے ہارون رشید کے پاس کہا اے امیرالمؤمنین اللہ تعالی ٰ نے مخلوق میں سے کسی کو آپ سے اونچا نہیں بنایا لہذا یہ بات بھی نا مناسب ہوگی کہ کوئی دوسرا آپ سے زیادہ اللہ کا اطاعت گزار ہو (یعنی جس طرح آپ منصب میں سب سے برتر ہیں اطاعت میں بھی اب میں سے برتر ہوں۔ )

دخل ابن السماك على هارون يعني الرشيد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الضُّرَيْسِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← أبو عبد الكريم البزاز البغدادي ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو الحسين علي بن عبد الله الخسروجردي

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7428

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7429

7429 - و بإسناده نا عبد الله بن خبيق نا أبو الحسن قال : دخل ابن السماك على هارون فقال : يا أمير المؤمنين تواضعك في شرفك أشرف من شرفك

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن خبیق نے ان کو ابوالحسن نے وہ کہتے ہیں کہ ابن سماک ہارون رشید کے پاس پہنچے تو ان سے کہا اے امیر المؤمنین آپ کا اپنی بلندی کے باوجود تواضع و عاجزی کرنا آپ کی بلندی سے زیادہ بلند ہے۔

دخل ابن السماك على هارون ← أَبُو الْحَسَنِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7429

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7430

7430 - حدثنا أبو عبد الله السلمي أنا محمد بن هارون الشافعي نا إبراهيم بن فاتك الزعفراني سمعت أبا حاتم الرازي يقول : سمعت عبد الله بن صالح يقول : سمعت مسيب بن سعيد دخلت على هارون الرشيد فقال : عظني فقلت : يا أمير المؤمنين إن الله عز و جل لم يرض لك أن يجعل أحدا فوقك فلا ينبغي لأحد أن يكون أطوع له منك قال : لقد بالغت في الموعظة و إن قصرت الكلام

ہمیں حدیث بیان کی عبدالرحمن ٰسلمی نے ان کومحمد بن ہارون شافعی نے ان کو ابراہیم بن فاتک زعفرانی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابو حاتم رازی سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبداللہ بن صالح سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا مسیب بن سعید سے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہارون رشید کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے میں نے کہا اے امیرالمؤمنین۔ بے شک اللہ تعالی ٰ نے یہ پسند نہیں کیا کہ وہ کسی اور کو آپ کے اوپر بناتا لہذا یہ بھی کسی کے لئے بہتر نہیں مناسب نہیں ہے کہ وہ آپ سے زیادہ اللہ کا اطاعت کرنے والا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نصیحت کرنے میں مبالغہ کیا ہے اگر چہ میں نے کلام مختصر کی ہے۔

مسيب بن سعيد دخلت على هارون الرشيد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبَا حَاتِمٍ الرَّازِيَّ ← إبراهيم بن فاتك الزعفراني ← محمد بن هارون الشافعي ← أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7430

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7431

7431 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت عبد الله بن محمد الكعبي سمعت محمد بن أيوب سمعت أحمد بن يوسف القاضي يقول : قلت للمأمون يا أمير المؤمنين إن رجلا ليس بينه و بين الله أحد يخشاه لحقيق أن يتقي الله عز و جل فقال المأمون : صدقت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد کعبی سے انہوں نے سنا محمد بن ایوب سے اس نے احمد بن یوسف قاضی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا خلیفہ میمون سے اے امیر المومنین! ایک آدمی ایسا ہے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان ایسا کوئی بھی نہیں ہے جس سے وہ ڈرے وہ اس بات کا حق دار ہے کہ وہ صرف اللہ عزوجل سے ہی ڈرے مامون نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔

أحمد بن يوسف القاضي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7431

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7432

7432 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر بن محمد بن نصر المروزي حدثني إبراهيم بن بشار سمعت الفضيل يقول : بلغني أن خالد بن صفوان دخل على عمر فقال له عمر بن عبد العزيز : عظني يا خالد فقال : إن الله عز و جل لم يرض أن يكون أحد فوقك فلا يرضى أن يكون أحد أولى بالشكر منك قال : فبكى عمر حتى غشي عليه ثم أفاق فقال : هيه يا خالد لم يرض أن يكون فوقي فو الله لأخافنه خوفا و لأحذرنه حذرا و لأرجونه رجاء و لأحبنه محبة و لأشكرنه شكرا و لأحمدنه حمدا يكون ذلك كله أشد مجهودي و غاية طاقتي و لأجتهدن في العدل و النصفة و الزهد في فاني الدنيا لزوالها و الرغبة في بقاء الآخرة لدوامها حتى ألقى الله عز و جل فلعي أنجو مع الناجين و أفوز مع الفائزين و بكى حتى غشي عليه قال : و تركته مغشيا عليه و انصرفت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصر مروزی نے ان کو ابراہیم بن بشار نے اس نے سنا فضیل سے وہ کہتے میں مجھے خبر پہنچی ہے کہ خالد بن صفوان حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گئے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے اے خالد ۔ انہوں نے کہا کہ بے شک اللہ تعالی ٰنے یہ پسند نہیں کیا کہ تجھ سے اوپر بھی کوئی ہو۔ لہذا وہ اس بات سے بھی خوش نہیں ہوگا کہ کوئی شکر کرنے میں بھی تم سے بہتر ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر عمر بن عبدالعزیز رو پڑے یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے اس کے بعد وہ جب ہوش میں آئے تو کہا یہاں آئیے اے خالد ! اس نے واقعی یہ پسند نہیں کیا کہ میرے اوپر بھی کوئی ہو پس اللہ کی قسم البتہ ضرور میں خوف رکھوں گا ، اور البتہ میں ضرور اس سے بچوں گا ، اور میں ضرور اس سے امید کروں گا اور ضرور میں اس سے محبت کروں گا اور ضرور میں اس کا شکر کروں گا اور ضرور میں اس کی حمد کروں گا یہ تمام چیزیں میری انتہائی کوشش کے مطابق اور انتہائی طاقت و ہمت کے مطابق ہوں گی اور میں ضرور کوشش کروں گا عدل وانصاف کرنے میں اور دنیا فانی کو چھوڑنے میں کیونکہ وہ زوال پذیر ہے اور آخرت کی رغبت کرنے میں کیونکہ وہ باقی ہے یہاں تک کہ میں اللہ سے جا کر ملوں گا تاکہ میں نجات پانے والوں کے ساتھ نجات پا جاؤں اور میں کامیاب ہونے والوں کے ساتھ کامیاب ہو جاؤں یہ کہہ کر وہ رو پڑے کہ ان پر غشی طاری ہوگئی کہتے ہیں کہ میں جب ان کو چھوڑ کر آیا تو ابھی تک وہ بے ہوش تھے ۔

له عمر بن عبد العزيز عظني يا خالد ← بلغني أن خالد بن صفوان دخل على عمر ← الْفُضَيْلُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أبو جعفر بن محمد بن نصر المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7432

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7433

7433 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن محمد بن يعقوب الحجاجي نا عبد الله بن عبد الرحمن اليشكري نا أبو يعلى نا الأصمعي نا هشام بن الحكم الثقفي قال : كان يقال خمسة أشياء تقبح الرجل الفتوة في الشيوخ و الحرص قي القراء و قلة الحياء في ذوي الأحساب و البخل في ذوي الأموال و الحدة في السلطان

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو محمد بن محمد بن یعقوب بن حجاجی نے ان کو عبداللہ بن عبد الرحمن ٰیشکری نے ان کوابو یعلی ٰنے ان کو اصمعی نے ان کو ہشام بن حکم ثقفی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ پانچ چیزیں آدمی کو قبیح اور برا بنا دیتی ہیں بوڑھوں میں اپنے آپ کو جوان ظاہر کرنا، قاریوں میں مال کا حرص ۔ اعلی حسب و شرافت والوں میں حیا کا کم ہوجانا، مالداروں میں بخل و کنجوی آ جانا ۔ بادشاہ میں تیزی آ جانا۔

هشام بن الحكم الثقفي ← الْأَصْمَعِيُّ ← أَبُو يَعْلَى ← عبد الله بن عبد الرحمن اليشكري ← مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7433

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7434

7434 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الخياط قال : قال ذو النون ثلاثة من أعلام الخير في السلطان تسوية القوي و الضعيف عنده في الحق و رفع ظلم الأصحاب عن الرعية و يقي الحدة بحسن الرحمة للفقير الكسير حتى يجبره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان خیاط نے وہ کہتے ہیں کہ ذوالنون مصری نے کہا بادشاہ میں تین باتیں خیر کی نشانیاں ہیں طاقت ور اور کمزور اس کے نزدیک حق کے معاملے برابر ہو۔رعایا سے ارکان سلطنت کا ظلم ختم کرا دینا۔ حسن شفقت کے ساتھ شکستہ دل فقیر کو اپنی تیزی سے بچالیتا یہاں تک کہ ٹوٹا ہوا دل جڑ جائے ۔

أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7434

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7435

7435 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسين بن محمد بن إسحاق نا محمد بن زكريا نا عبيد الله بن عائشة عن أبيه قال : كان عبد الملك بن مروان إذا دخل عليه رجل من أفق من الآفاق فقال : أعفني من أربع و قل بعدها ما شئت لا تكذبني فإن الكذوب لا رأي له و لا تجبني فيما لا أسألك عنه فإن في الذي أسألك عنه شغلا عما سواه و لا تطرني فإني أعلم بنفسي منك و لا تحميني على الرعية فإني إلى الرفق بهم و الرحمة أحق و روي لا تخفي يعني لا تغضبني حتى يحملني الغضب على خفة الطيش

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو محمد بن زکریا نے ان کو عبید اللہ بن عائشہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان کے پاس جب کہیں دور دراز سے کوئی آدمی ملنے کے لئے آتا تو وہ اس سے یہ کہتے تھے کہ مجھے چار چیزوں سے معاف رکھنا اس کے بعد جوتم چاہو کہہ سکتے ہو، مجھ سے جھوٹ نہ بولنا بے شک جھوٹے آدمی کی کوئی رائے نہیں ہوتی ۔اور میں جس چیز کے بارے میں میں تم سے سوال نہ کروں مجھے اس کا جواب نہ دینا(یعنی جو نہ پوچھوں وہ نہ بتانا ) کیونکہ جو کچھ میں پوچھوں گا اس میں غیر مسئول چیز سے حرج ہوگا ۔ اور مجھے بڑھا کر پیش نہ کرنا، کیونکہ میں اپنے آپ کو تم سے بہتر اور زیادہ جانتا ہوں اور تم مجھے رعایا کے بارے میں حفاظت پر نہ اکسانا کیونکہ ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کرنے کا میں زیادہ حق دار ہوں۔

أَبِيهِ ← عبيد الله بن عائشة ← مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← الحسين بن محمد بن إسحاق، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7435

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7436

7436 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا الحسن محمد بن موسى التغلبي سمعت أبا عبد الله الحسين بن إسماعيل القاضي يقول : كتب عمر بن عبد العزيز إلى عامل له أما بعد فإذا دعتك قدرتك على الناس على ظلمهم فاذكر قدرة الله عليك و يقاد ما تأتي و ما يأتون إليك قال أحمد : و في هذا المعنى حديث أبي مسعود في ضربه عبده و ذلك مذكور في باب الإحسان إلى المماليك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے ابولحسن محمد بن موسی تغلبی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبد اللہ حسین بن اسماعیل قاضی سے وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک عامل کو خط لکھا۔ امام بعد ۔جب تیری طاقت وقدرت لوگوں پر ظلم کرنے پر تجھے دعوت دے تم اپنے اوپر اللہ کی قدرت و طاقت کو یاد کرو جو کچھ آپ کریں گے اس کا قصاص و بدلہ لیا جائے گا ۔ اور اس کا بھی جو فیصلے وہ تیرے پاس لائیں گے ۔ امام احمد نے کہا کہ اس مفہوم میں وہ حدیث ابن مسعود مشہور ہے ۔ اپنے غلام کو مارنے کی بابت اور وہ باب احسان الی الممالیک میں مذکور ہے۔

أبا عبد الله الحسين بن إسماعيل القاضي ← أبا الحسن محمد بن موسى التغلبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7436

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7437

7437 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدينا نا أحمد بن إبراهيم حدثني محمد بن يزيد بن خنيس عن وهيب بن الورد : بلغنا أن رجلا فقهيا دخل على عمر بن عبد العزيز فقال : سبحان الله كيف تغيرت بعدنا فقال له عمر : يا أبا فلان فكيف لو رأيتني بعد ثلاث و قد أدخلت قبري و قد خرجت الحدقتان فسألتا على الخدين و تقلصت الشفتان عن الأسنان و خرج الصلب من الدبر و انفتح الفم و نتأ البطن فعلا الصدر فقال الرجل : أما إذا ألهمت هذا نفسك فأنزل عباد الله منك على ثلاثة منازل أما من هو أكبر منك فأنزله كأنه أب لك و أما من هو بسنك فأنزله كأنه أخ لك و أما من هو أصغر منك فأنزله كأنك ابن لك فأي هؤلاء تحب أن تسيء إليه قال : لا إلى أحد منهم

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابوعمرو نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابوالد نیا نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کومحمد بن یزید بن حنیس نے ان کو وہیب بن ورد نے یہ کہ ہمیں خبر پہنچی ہے ایک فقیہ آدمی عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور کہنے لگا سبحان اللہ آپ ہمارے بعد کیسے بدل گئے ہیں؟ عمر نے ان سے کہا اے ابوفلاں ۔ آپ اگر ہمیں تین سال بعد دیکھیں گے تو ہم اپنی قبر میں جا چکے ہوں گے ۔ آنکھوں کی پتلیاں باہر نکل آئی ہوں گی اور وہ رخساروں پر بہہ گئی ہوں گی اور ہونٹ سکڑ کر دانتوں سے الگ ہوکر دور ہو گئے ہوں گے اور پیٹھ جھک کر سرینوں سے پیچھے نکل گئی ہو گی منہ کھل چکا ہوگا اور پیٹ پھول کر سینے سے اونچھا ہو چکا ہوگا ۔ اس فقیہ نے کہا کہ اگر آپ یہ سب کچھ اپنے نفس کو بتا ہی چکے ہیں تو تو (ایک نصیحت سن لیجئے ) اللہ کے بندوں کو آپ تین مقامات پر رکھئے جو آپ سے بڑے ہیں ان کو اپنے والد جیسا مقام دیجئے اور جولوگ آپ کے برابر ہیں ان کو اپنے بھائی کی جگہ پراور جو چھوٹے ہیں ان کو بیٹے کی جگہ پر رکھئے اب آپ (باپ بھائی بیٹے میں سے ) کس کا برا چاہیں گے انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی کے لئے بھی نہیں ۔

وهيب بن الورد بلغنا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبو بكر بن أبي الدينا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7437

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7438

7438 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق حدثني أبو عبد الله نا سفيان قال : قال الأفريقي لأبي جعفر يا أمير المؤمنين إن عمر بن عبد العزيز كان يقول : إن السلطان سوق ( ) عنده أتي به

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو سفیان وہ کہتے ہیں کہ کہا افریقی نے ابو جعفر سے اے امیر المؤمنین! بے شک عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے بے شک بادشاہ بازار کی مانند ہوتا ہے اس کے پاس سب آتے ہیں۔

إن السلطان سوق عنده أتي به ← الأفريقي لأبي جعفر يا أمير المؤمنين إن عمر بن عبد العزيز كان ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7438

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7439

7439 - أخبرنا ابن بشران أنا دعلج بن أحمد نا موسى بن هارون نا إبراهيم بن زياد سبلان نا أبو حمزة أنس بن عياض قال : سمعت أبا حازم يقول : لا يزال هذا الدين عزيزا منيعا ما لم تقع هذه الأهواء في السلطان لأنهم يؤدبون الناس و يذبون عن الدين و يهابونهم يعني الناس يهابون السلطان فإذا كانت فيهم فمن يؤدبهم

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو موسی ٰبن ہارون نے ان کو ابراہیم بن زیادسیلان نے ان کو ابو حمز ہ انس بن عیاض نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حازم سے وہ کہتے ہیں یہ دین ہمیشہ غالب اور قومی رہے گا جب تک بادشاہ میں یہ خواہشات اور دفاع کرتے ہیں اور ان سے لوگ ڈرائے جاتے ہیں ۔ یعنی لوگ سلطان سے ڈرتے ہیں پس جس وقت ان میں وہ لوگ ہوں جوان کو ادب سکھاتے ہیں ۔

أَبَا حَازِمٍ، ← أبو حمزة أنس بن عياض ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← ابن بشران،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7439

chevron_left Previous
1…789…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood