شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7416
7416 - ـ : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من وال يلي شيئا من أمور الناس إلا يأتي به يوم القيامة يده مغلولة إلى عنقه فيوقف على جسر من النار ينتفض ذلك الجسر انتفاضة يزيل كل عضو منه عن موضعه ثم يعاد فيحاسب فإن كان محسنا نجاة إحسانه و إن كان مسيئا انحرف به ذلك الجسر فهوى به في النار سبعين خريفا قال له : ممن سمعت هذا قال : من أبي ذر و سلمان فأرسل إليهما عمر فسألهما فقالا : نعم سمعناه من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر : و اعمراه من يتولاها بما فيها فقال أبو ذر : من أرغم الله أنفه و ألصق خده بالأرض قال : فأخذ المنديل فوضعه على وجهه ثم بكى و انتحب حتى أبكاني
مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کہ جوبھی والی لوگوں کے امور میں سے کسی شئی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوں گے اور اس کو جہنم کی پل پر کھڑا کیا جائے گا۔اور وہ پل اس کے نیچے سے سرک جائے گی ۔لہذا اس کا ہر ہر جوڑ اپنی جگہ سے اتر جائے گا پھر اس کو لوٹایا جائے گا اور اس سے حساب لیا جائے گا اگر وہ نیکو کار ہوگا تو اس کو اس کا احسان نجات دے دے گا اوراگر وہ خطا کار ہوگا تو وہ پل اس کو لے کر اپنی جگہ سے ہٹے گی اور اس کو جہنم میں گرا دے گی جہاں وہ ستر سال تک نیچے گرتا چلا جائے گا۔ اس نے اس سے کہا کہ تم نے یہ حد یث کس سے سنی؟ فرمایا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور سلمان رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر نے ان دونوں کے پاس نمائندہ بھیجا اور دونوں سے پچھوایا۔ دونوں نے کہا جی ہاں! ہم نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: ہے عمرکون متولی بنے گا اس کا جو کچھ اس میں ہے ۔ ابوذ ر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تعالی ٰ جس کی ناک کو خاک آلود کرے گا اور جس کے چہرے کوز مین کے ساتھ لگائے گا ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مال لیا اور اس کو اپنے چہرے پر رکھا اور اس کے بعد روئے اور زور زور سے روئے یہاں تک کہ مجھے بھی رلا دیا۔
Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7416
