Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7416

7416 - ـ : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من وال يلي شيئا من أمور الناس إلا يأتي به يوم القيامة يده مغلولة إلى عنقه فيوقف على جسر من النار ينتفض ذلك الجسر انتفاضة يزيل كل عضو منه عن موضعه ثم يعاد فيحاسب فإن كان محسنا نجاة إحسانه و إن كان مسيئا انحرف به ذلك الجسر فهوى به في النار سبعين خريفا قال له : ممن سمعت هذا قال : من أبي ذر و سلمان فأرسل إليهما عمر فسألهما فقالا : نعم سمعناه من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر : و اعمراه من يتولاها بما فيها فقال أبو ذر : من أرغم الله أنفه و ألصق خده بالأرض قال : فأخذ المنديل فوضعه على وجهه ثم بكى و انتحب حتى أبكاني

مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کہ جوبھی والی لوگوں کے امور میں سے کسی شئی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوں گے اور اس کو جہنم کی پل پر کھڑا کیا جائے گا۔اور وہ پل اس کے نیچے سے سرک جائے گی ۔لہذا اس کا ہر ہر جوڑ اپنی جگہ سے اتر جائے گا پھر اس کو لوٹایا جائے گا اور اس سے حساب لیا جائے گا اگر وہ نیکو کار ہوگا تو اس کو اس کا احسان نجات دے دے گا اوراگر وہ خطا کار ہوگا تو وہ پل اس کو لے کر اپنی جگہ سے ہٹے گی اور اس کو جہنم میں گرا دے گی جہاں وہ ستر سال تک نیچے گرتا چلا جائے گا۔ اس نے اس سے کہا کہ تم نے یہ حد یث کس سے سنی؟ فرمایا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور سلمان رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر نے ان دونوں کے پاس نمائندہ بھیجا اور دونوں سے پچھوایا۔ دونوں نے کہا جی ہاں! ہم نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا: ہے عمرکون متولی بنے گا اس کا جو کچھ اس میں ہے ۔ ابوذ ر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تعالی ٰ جس کی ناک کو خاک آلود کرے گا اور جس کے چہرے کوز مین کے ساتھ لگائے گا ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مال لیا اور اس کو اپنے چہرے پر رکھا اور اس کے بعد روئے اور زور زور سے روئے یہاں تک کہ مجھے بھی رلا دیا۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7416

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7417

7417 - ثم قلت : يا أمير المؤمنين قد سأل جدك العباس رسول الله صلى الله عليه و سلم إمارة على مكة أو الطائف أو اليمن فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : يا عباس يا عم النبي نفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها ـ نصيحة منه لعمه و شفقة منه عليه و إنه لا يغني عنه من الله شيئا إذا أوحي إليه : { وأنذر عشيرتك الأقربين } فقال : يا عباس يا عم النبي و يا صفية عمة النبي و يا فاطمة بنت محمد إني لست أغني عنكم من الله شيئا لي عملي و لكم عملكم و قد قال عمر بن الخطاب لا يقضي بين الناس إلا حصيف العقل أرب العقدة لا يطلع منه على عورة و لا يحنق على جراءة و لا يأخذ في الله لومة لائم

پھر میں نے کہا اے امیر المومنین! آپ کے نانا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ مکے یاطائف کی سرداری مل جائے یا یمن کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عباس رضی اللہ عنہ! اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! ایک جان جس کو آپ نجات دلوادیں وہ بہتر ہے اس سرداری سے اور حکومت سے جو لامحدود ہو ۔ یہ نصیحت تھی یہ شفقت تھی آپ کی طرف صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے چچا کے ساتھ اور یہ ( سرداری ) ان کو اللہ کی طرف کوئی فائدہ نہیں دے سکتی تھی۔کیونکہ آپ کی طرف وحی کی گئی ۔ و انذر عشیرتک الاقربین۔کہ آپ اپنی قریبی رشتہ داروں کو ڈرا ئیے ۔ ( تو رسول اللہ سب کو بلا کر فرمایا ) اے عباس اے چچائے رسول ، اے صفیہ پھوپھی رسول ، اے فاطمہ بنت محمد ! میں تم لوگوں کو اللہ کے ہاں کسی شئی کا کوئی فائدہ نہیں دوں گا۔ میرے لئے میر اعمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل ۔ اور عمر بن خطاب نے فرمایا۔لوگوں کے مابین نہیں فیصلہ کرنا مگر پختہ سمجھ والا ،مضبوط عقل والا ۔ مضبوط گر ہ لگانے والا ( یعنی پکی بات کر کے کہنے والا ) جو نہیں آ گاہ ہوتا کسی کے عیب پر ، جو نہیں غضبناک ہوتا جرات و جسارت کرنے والے پر اور اس کو اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت متاثر نہیں کرتی ۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7417

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7418

7418 - و قال علي رضي الله عنه : السلطان أربعة فأمير قوي طلق نفسه و عماله فذلك كالمجاهد في سبيل الله يد الله باسطة عليه بالرحمن و أمير طلق نفسه و ارتع عماله لضعفه فهو على شفا هلاك إلا أن يتركهم و أمير طلق عماله و ارتع نفسه فذلك الحطمة الذي

حضرت علی رضی اللہ تعالی ٰ عنہ فرماتے ہیں سلطان (بادشاہ) چار طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلا طاقت ور حکمران خوش دل و خوش نفس ( پاک دامن ) یہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہوتا ہے اس پر اللہ کاہاتھ پھیلا ہوا ہوتا ہے رحمت کے ساتھ ۔ دوسرا وہ حکمران جو خوش دل خوش نفس ہے جس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے عامل اور افسران خوب چرتے ہیں (یعنی خوب عیاشی کرتے ہیں ) پس وہ بادشاہ ہلاکت کے کنارے پر ہوتا ہے ہاں مگر یہ بات ہے کہ اگر وہ ان کو چھوڑ دے۔۔ تیسرا وہ حکمران جس کے عامل وافسران خوش مزاج ہوں اور وہ بذات خود خوب چرتا ہو ( یعنی خوب عیاشی کرتا ہو ) پس وہ حطمہ ہے جس کے بارے۔

و،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7418

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7419

7419 - ـ : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شر الرعاة الحطمة فهو الهالك وحده و أمير أرتع نفسه و عماله فهلكوا جميعا و قد

رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ بدترین چرواہا ( نگران ،نگہبان ) حطمہ میں اکیلا تباہ ہونے والا ہوتا ہے۔ چوتھا وہ امیر اور حکمران جو خود بھی چرتا ہے اور اس کے افسران بھی (یعنی سب عیاش ہوتے ہیں ) بس وہ سب کے سب تباہ ہوتے ہیں۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7419

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7420

7420 - بلغني يا أمير المؤمنين : أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أتيتك بخبر من أمر الله تعالى ذكره بمفاتيح النار فوضعت على النار تسعر إلى يوم القيامة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صف لي النار فقال : إن الله تعالى ذكره أمر بها فأوقد عليها ألف عام حتى احمرت ثم أوقد عليها ألف عام حتى اصفرت ثم أوقد عليها ألف عام حتى اسودت فهي سوداء مظلمة لا يطفأ لهبها و لا جمرها و الذي بعثك بالحق لو أن ثوبا من ثياب أهل النار ظهر لأهل الأرض لماتوا جميعا و لو أن ذنوبا من شرابها صب في مياه أهل الأرض جميعا لقتل من ذاقه و لو أن ذراعا من السلسلة التي ذكرها الله عز و جل وضع على جبال الأرض لذابت و ما اشتعلت و لو أن رجلا أدخل النار ثم أخرج منها لمات أهل الأرض من نتن ريحه و تشويه خلقه و عظمه فبكى النبي صلى الله عليه و سلم و بكى جبريل لبكائه فقال : بلى يا محمد و قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك و ما تأخر قال : أفلا أكون عبدا شكورا و لم بكيت يا جبريل و أنت الروح الأمين أمين الله على وحيه فقال : إني أخاف أن أبتلي بمثل ما ابتلي به هاروت و ماروت فهو الذي منعني من اتكالي على منزلتي عند ربي عز و جل فأكون قد أمنت مكره فلم يزالا يبكيان حتى نودي من السماء أن يا جبريل و يا محمد إن الله عز و جل قد أمنكما أن تعصياه فيعذبكما و قد بلغني يا أمير المؤمنين

مجھے خبر پہنچی ہے اسے امیر المؤمنین ! بے شک جبرائیل علیہ السلام آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ میں آپ کے پاس اللہ کے حکم سے ایک خبر لایا ہوں جہنم کی چابیوں کے بارے میں کہ وہ آگ کے اوپر رکھ دی گئی ہیں قیامت تک گرم کی جاتی رہیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے کہا کہ میرے سامنے جہنم کی صفت بیان کیجئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰ نے جہنم کے بارے میں بتلا دیا تھا کہ وہ ایک ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ خوب سرخ ہوگئی ۔اس کے بعد اس کو مزید ایک ہزار سال بھڑکایا گیا تو وہ پیلی ہوگئی۔اس کے بعد تیسری بار اس کو ایک ہزار سال بھڑکا گیا تو وہ سیاہ ہوگئی پس اب وہ سخت کا لی اندھیری ہو چکی ہے۔اب نہ تو اس کے شعلے بجھتے ہیں نہ ہی اس کے انگارے بجھتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر اہل جہنم کے کپڑوں میں سے کوئی ایک کپڑا اہل زمین کے لئے سامنے ہو جائے تو سارے اہل زمین مرجائیں گے۔ اگر جہنمیوں کے پیپوں میں سے ایک ڈول اہل زمین کی سارے پانیوں میں انڈیل دیا جائے تو جو بھی اس میں سے چکھے گا وہی مر جائے گا۔ اگر جہنم کی زنجیر کا ایک ذراع ( ہاتھ ) اللہ نے جس کا قرآن میں ذکر کیا ہے اہل زمین کے سارے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو آگ کا شعلہ نکلے بغیر وہ پگھل جائیں گے ۔اگر کوئی آدمی جہنم میں داخل کر کے اس کو نکال لیا جائے تو پورے روئے زمین کے لوگ اس کی ہوا کی بدبو سے مر جائیں گے اور اس سے ان کی صورت اور ہڈیاں بھون جائیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر رو پڑے اور ان کے رونے کو دیکھ جبرائیل بھی رو پڑے۔ جبرائیل نے کہا جی ہاں اے محمد ! تحقیق اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے ہیں (پھر آپ کیوں روتے ہیں؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کاشکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ مگر تم بتا ؤاے جبرائیل ! تم کیوں روئے ہو تم تو روح الامین ہواللہ کی وحی پر امین ہو اس نے کہا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں اسی طرح نہ آزمایا جاؤں جیسے ہاروت ماروت آزمائے گئے تھے ، اس ذات نے مجھے اس بات سے منع کیا تھا کہ میں کہ اللہ کے ہاں جو میر ا مقام ہے میں اس پر تکیہ نہ کروں کہ میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھوں ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل دونوں رونے لگے حتی کہ آسمان سے آواز آئی یا جبرائیل یا محمد بے شک اللہ تعالی ٰ نے تم دونوں کو اس بات سے محفوظ کر دیا ہے کہ تم اس کی نافرمانی کرو اور وہ تمہیں عذاب دے ۔ اے امیر المؤمنین مجھے خبر پہنچی ہے ۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7420

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7421

7421 - أن عمر بن الخطاب قال : اللهم إن كنت تعلم أني أبالي إذا قعد الخصمان بين يدي على من حال الحق من قريب أو بعيد فلا تمهلني طرفة عين يا أمير المؤمنين إن أشد الشدة القيام لله عز و جل و إن أكرم الكرم عند الله التقوى و إن من طلب العز بطاعة الله رفعه و أعزه و من طلبه بمعصية الله أذله الله و وضعه فهذه نصيحتي و السلام عليك ثم نهضت فقال : إلى أين ؟ فقلت : إلى البلد و الوطن بإذن أمير المؤمنين إن شاء الله قال : قد أذنت لك و شكرت لك نصيحتك و قبلتها بقولها و الله عز و جل الموفق للخير و المعين عليه و به أستعين و عليه أتوكل و هو حسبي و نعم الوكيل فلا تخليني من مطالعتك إياي بمثلها فإنك المقبول القول غير المتهم في نصيحته قلت : أفعل إن شاء الله قال محمد بن مصعب فأمر له بمال يستعين به على خروجه فلم يقبله و قال : أنا في غنى عنه و ما مصعب فأمر له بمال يستعين به على خروجه فلم يقبله و قال : أنا في غنى عنه و ما كنت أبيع نصيحتي بعرض من أعراض الدنيا كلها و عرف المنصور مذهبه فلم يجد عليه في رده قال الحاكم : هذا حديث تفرد به أبو جعفر أحمد بن عبيد بن ناصح الأديب و هو مقدم في أصحاب الأصمعي يلقب بأبي حدث عن يحيى بن صاعد و غيره من الأئمة

کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں اس بات کا لحاظ کروں گا جب میرے سامنے دو جھگڑا کرنے والے بیٹھیں گے کہ جوحق پر ہے وہ قریبی ہے یا دور کا ہے تو مجھے تو آنکھ جھپکنے کی دیر بھی مہلت نہ دے۔ اے امیر المومنین! بے شک سب سے زیاد و سخت قوت اللہ کے حکموں کو قائم کرنے کے لئے کھڑا ہونا ہے اور بے شک سب سے زیادہ عزت وشرف اللہ کے نزدیک تقوی کا ہے ۔ بے شک جو شخص عزت و غلبہ اللہ کی اطاعت کے ذریعے تلاش کرتا ہے اللہ اس کو بلندی عطا کرتا ہے اور اس کو عزت وغلبہ عطا کرتا ہے ۔اور جو شخص اس کواللہ کی معصیت میں تلاش کرتا ہے اللہ تعالی ٰ اس کوذلیل کرتا ہے اور اس کو پست کر دیتا ہے ۔ میری نصیحت تھی ،والسلام علیک ۔ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت سننے کے بعد خلیفہ منصور عباسی کے اس کے بارے میں تاثرات: ( نصیحت پوری کرنے کے بعد ) میں اٹھ کھڑاہوا، خلیفہ منصور نے پوچھا کہ آپ کہا جائیں گے؟ میں نے کہا کہ اپنے شہر اور وطن جاؤں گا ۔ منصور عباسی نے کہا میں آپ کو اجازت دیتا ہوں ، اور آپ کے نصیحت کرنے پر آپ کا مشکور ہوں، اور میں نے اس نصیحت کو لفظ بلفظ قبول کیا ہے اللہ تعالی ٰ خیر کی توفیق دینے والا ہے، اور وہی اس پر مدد کر نے والا ہے اور اسی سے استعانت طلب کرتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں وہی مجھے کافی ہے اور وہی بہت بہتر کارساز ہے۔ آئندہ بھی آپ مجھے ایسی نصیحت کرنے کے لئے اور خصوصی طور پر مجھ پر اپنی نظر رکھنے سے محروم نہ کیجئے گا۔ بے شک آپ کی بات کواور آپ کی نصیحت کو میں قبول کروں گا اس لئے کہ آپ کی نصیحت سچی ہے (امام اوزاعی کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا کہ انشاء اللہ میں ایسے ہی کروں گا ۔ محمد بن مصعب نے کہا کہ خلیفہ منصور نے امام اوزاعی کو کچھ مال دینے کا حکم دیا جس کے ساتھ وہ اپنے جانے میں استعانت لے سکیں۔ (یعنی کرایہ دینا چاہا ) تو شیخ اوزاعی نے اس کو قبول نہ کیا اور فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور میں اپنی نصیحت کو بیچا نہیں کرتا کسی سبب کے ساتھ دنیا کے تمام اسباب میں سے ۔ چنانچہ خلیفہ المنصور نے ان کا مسلک سمجھ لیا لہذا وہ ان کے اس منع کرنے پر ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔ حاکم نے کہا کہ یہ ایسی حدیث ہے جس کے ساتھ ابو جعفر احمد بن عبید بن ناصح ادیب متنفرد اور اکیلا ہے اور وہ اصمعی کے اصحاب میں سے پیش پیش ہے جس کا لقب (۔۔۔۔۔) ہے وہ حدیث بیان کرتے ہیں یحییٰ بن صاعد ہے ۔اور دیگر ائمہ سے۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7421

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7422

7422 - حدثنا أبو نصر أحمد بن مكرم بن أحمد بن سعيد العز البخاري قدم علينا حاجا نا أبو بكر محمد بن عبد الله بن نصر الأزدي الشافعي سمعت أحمد بن أبي الحسين سمعت محمد بن عبيد الله النيسابوري يقول سمعت أبا بكر أحمد بن المنذر يذكر أن علي بن عيسى بن الجراح قال : سألت أولاد بني أمية ما سبب زوال دولتكم قالوا : خصال أربع أولها أن وزراءنا كتموا عنا ما يجب إظهاره لنا و الثاني أن جباة خراجنا ظلموا الناس فارتحلوا عن أوطانهم فخرجت بيوت أموالنا و الثالثة انقطعت الأرزاق عن الجند فتركوا طاعتنا و الرابعة يئسوا من إنصافنا فاسترحوا إلى غيرنا فلذلك زالت دولتنا

ہمیں حدیث بیان کی ابونصر احمد بن مکرم بن احمد بن سعید العز البخاری حج کے سفر کے دوران ان کے پاس آئے تھے ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن عبدالله بن نصر از دی شافعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابوالحسین سے اس نے سنا محمد بن عبیداللہ نیشا پوری سے انہوں نے سنا ابوبکر احمد بن منذر سے وہ ذکر کرتے تھے کہ علی بن عیسی ٰبن جراح نے کہا کہ میں نے بنی امیہ کے نو جوانوں سے پوچھا تھا کہ تمہاری حکومت کے زوال اسباب کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ چار خصلتیں تھیں ۔ پہلی چیز یہ ہے کہ ہمارے وزراء ان امور کو تم سے چھپاتے رہتے تھے جن کو ہمارے سامنے ظاہر کرنا ضروری ہوتا تھا۔ دوسری چیز یہ تھی کہ ہمارے خراج وصول کرنے والے نمائندے لوگوں پرظلم کرتے تھے ۔لہذا لوگ اپنے وطنوں سے کوچ کر جاتے تھے۔ لہذا اس طرح ہمارے بیت المال خالی ہو گئے ۔ تیسری چیز یہ تھی کہ فوج کے سپاہیوں کی خوراک کا نظام منقطع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ہماری اطاعت ترک کر دی تھی ۔ چوتھی چیز تھی کہ لوگ ہمارے عدل و انصاف سے مایوس ہو گئے تھے۔ لہذا انہوں نے ہمارے سوا دوسرے لوگوں کے ہاں آرام تلاش کیا لہذا ان امور کی وجہ سے ہماری حکومت زوال پذیر ہوئی۔

أبا بكر أحمد بن المنذر يذكر أن علي بن عيسى بن الجراح ← محمد بن عبيد الله النيسابوري ← أحمد بن أبي الحسين ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن نصر الأزدي الشافعي

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7422

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7423

7423 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن يوسف و أحمد بن الحسن قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا أبو جعفر الأنباري العابد قال : سمعت فضيل بن عياض يقول : لما قدم الرشيد بعث إلي فذكر الحديث في دخوله عليه و قوله عظنا بشيء من علم فأقبلت عليه فقلت له : يا حسن الوجه حساب هذا الخلق كلهم عليك قال : فجعل يبكي و يشهق قال : فرددتها عليه يا حسن الوجه حساب هذا الخلق كلهم عليك قال : فأخذني الخدم فحملوني و أخرجوني من الحجر و قالوا : يا هذا اذهب بسلام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ اور ابوحمد بن یوسف اور احمد بن حسن نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ابو جعفر انباری نے عابد وہ کہتے ہیں کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا فرما رہے تھے خلیفہ ہارون رشید مسند خلافت پر آئے تو اس نے میرے پاس نمائندہ بھیجا اور مجھے بلایا میں جب گیا تو انہوں نے فرمایا آپ اپنے علم سے ہمیں کوئی وعظ ونصیحت فرمائیے میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے ان سے کہا اے خوبصورت چہرے والے ۔اس پوری مخلوق کا حساب آپ کے ذمے ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی انہوں نے رونا شروع کیا یہاں تک روتے روتے ان کی آواز روندھ گئی۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان پر بھروہ جملہ دوہرادیا کہ اے خوبصورت چہرے والے اس ساری مخلوق کا حساب آپ کے اوپر ہے۔ کہتے ہیں کہ حذام نے مجھے پکڑا اور اٹھا کر باہر لے گئے کمرے سے اور بولے فضیل صاحب آپ ذرا دیر بعد یہاں سے تشریف لے جائے ۔

فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أبو جعفر الأنباري العابد ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن يوسف و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7423

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7424

7424 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط نا ابن أبي الحواري نا أحمد بن عاصم أبو عبد الله الأنطاكي قال : قال هارون الرشيد لسفيان أحب أن أرى الفضيل فقال له : اذهب بك إليه فاستأذن سفيان على فضيل فقال له : من هذا قال : قولوا له هذا سفيان فقال : قولوا له يدخل فقال : و من معي قال : و من معك فلما دخلوا عليه قال له سفيان : يا أبا علي هذا أمير المؤمنين فقال : و إنك لهو يا جميل الوجه أنت الذي ليس بين الله و بين خلقه أحد غيرك أنت الذي يسأل يوم القيامة كل إنسان عن نفسه و تسأل أنت عن هذه الأمة قال : فبكى هارون

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو ابن ابوالحواری نے ان کو احمد بن عاصم ابوعبداللہ انطا کی نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ ہارون رشید نے فرمایا حضرت سفیان ثوری سے کہ میں حضرت فضیل بن عیاض کی زیارت کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ان کے پاس لے کر چلوں گا۔ چنانچہ خلیفہ کو سفیان لے کر فضیل کے پاس پہنچے ۔ اور ان سے ملنے کی اجازت طلب کی ۔ حضرت فضیل نے پو چھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت سے کہو کہ سفیان آیا ہے۔ حضرت فضیل نے فرمایا اس سے کہو اندر آ جائے ۔اب سفیان نے پوچھا کہ جو میرے ساتھ ہے وہ بھی آ جائے ؟ انہوں نے جواب دیا جو تیرے ساتھ ہے وہ بھی آ جائے ۔ جب ان کے پاس پہنچ گئے تو سفیان نے ان سے کہا اے ابوعلی یہ میرے ساتھ امیر المؤمنین بارون رشید ہے۔ تو حضرت فضیل نے خلیفہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بے شک تم وہی ہو اے حسین چہرے والے جو شخص ایسا ہے کہ اللہ کے اور اس کی مخلوق کے درمیان تیرے سوا(۱) کوئی نہیں ہے ۔ تم وہی ہو کہ قیامت کے دن ہر انسان سے اس کی ذات سے متعلق پوچھا جائے گا اور تم سے اور اس پوری امت کے بارے پوچھا جائے گا لہذا ہارون رشید وہیں رو پڑے۔

هارون الرشيد لسفيان أحب ← أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْطَاكِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7424

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7425

7425 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني نا النعمان بن أحمد بن نعيم الواسطي قاضي تستر نا الحسين بن علي الأزدي المعروف نا ابن السمسار نا محمد بن علي النحوي نا الفضل بن الربيع قال : حج أمير المؤمنين هارون الرشيد قال : فبينما أنا ليلة نائم بمكة إذ سمعت قرع الباب فقلت : من هذا فقال : أجب أمير المؤمنين فخرجت مسرعا فقلت : يا أمير المؤمنين هلا أرسلت إلي فآتيك فقال : حل في نفسي شيء فانظر لي رجلا أسأله عنه فقلت : ها هنا سفيان بن عيينة قال : فامض بنا إليه فأتيناه فقرعت عليه الباب فقال : من هذا ؟ فقال : أجب أمير المؤمنين فخرج مسرعا فقال : يا أمير لو أرسلت إلي أتيتك فقال له : خذ لما جئناك له رحمك الله فحادثه ساعة فقال له : أعليك دين ؟ قال : نعم قال : يا عباس اقض دينه ثم التفت إلي فقال : يا عباس ما أغنى عني صاحبك شيئا فانظر لي رجلا أسأله فقلت : ههنا عبد الرزاق بن همام فقال : امض بنا إليه فأتيناه فقرعت عليه الباب فقلت : أجب أمير المؤمنين فخرج مسرعا فقال : يا أمير المؤمنين لو أرسلت إلي أتيتك فقال : خذ لما جئناك له رحمك الله فحادثه ساعة ثم قال له : أعليك دين ؟ قال : نعم قال : يا عباس اقض دينه ثم التفت إلي فقال : ما أغنى عني صاحبك شيئا فانظر لي رجلا أسأله فقلت : ههنا فضيل بن عياض فقال : امض بنا إليه فأتيناه فإذا هو قائم يصلي يتلو آية من كتاب الله و يرددها و كان هارون رجلا رقيقا فبكى بكاء شديدا ثم قال لي : اقرع الباب فقرعته فقال : من هذا فقلت : أجب أمير المؤمنين فقال : ما لي و لأمير المؤمنين فقلت : سبحان الله أو ما عليك طاعة ؟

ہمیں خبر دی ابوعبید اللہ حافظ نے اور ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو نعمان بن احمد بن نعیم واسطی قاضی تستر نے ان کو حسین بن علی از دی المعروف نے ان کو ابن سمسار نے ان کو محمد بن علی نحوی نے ان کو فضیل بن ربیع نے وہ کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین بارون رشید نے حج کیا (میں بھی ان کے ساتھ تھا) مکہ میں ایک رات سو رہا تھا اچانک میں نے درواز ہ کھٹکھٹانے کی آواز سنی میں نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی امیر مؤمنین کی بات ماننے میں جلدی سے باہر آ گیا اور میں نے ہارون رشید کو دروازے پر پایا تو میں نے کہا امیر المؤمنین آپ نے مجھے کیوں نہیں بلایا میں خود حاضر ہو جاتا ۔فرمایا کہ میرے دل میں کوئی بات اترگئی ہے میرے لئے کوئی ( صاحب علم دیکھئے ) میں جس سے کچھ پوچھ سکوں ۔ میں نے کہا کہ یہاں مکے میں حضرت سفیان بن عیینہ موجود ہیں ۔ امیر المؤمنین نے فرمایا کہ تم مجھے ان کے پاس لے چلو چنانچہ ہم وہاں پہنچے میں نے درواز ہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے پوچھا کون ہو؟ میں نے کہا امیرالمؤمنین آئے ہیں باہر آئے وہ جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے اے امیر المؤمنین کیوں زحمت کی اگر آپ پیغام بھیج دیتے تو میں خود آ جاتا۔ امیر نے فرمایا جس کام سے ہم آئے ہیں وہ بات سنئے اللہ آپ کے اوپر رحم کرے۔ چنانچہ کچھ دیر دونوں باتیں کرتے رہے اس کے بعد امیر نے ان سے پوچھا کہ آپ کے اوپر قرض ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہے امیر نے مجھے حکم دیا اے عباس ان کا قرض اتاردیجئے ۔ اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ ان سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا، میرے لئے کوئی اور آدمی تلاش کیجئے جس سے میں کچھ پوچھ سکوں میں نے کہا کہ یہاں پر عبدالرزاق بن ہمام موجود ہے فرمایا کہ مجھے ان کے پاس لے چلو میں ان کو لے کر گیا اور میں نے دروازہ بجایا اندر سے جواب آیا کہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ امیر المؤمنین آپ نے کیوں زہمت کی پیغام بھیج دیتے تو میں آ جاتا ۔انہوں نے کہا کہ ہم جس کام سے آئے ہیں وہ سنئے اللہ آپ کے اوپر رحم کرے۔ ایک لحظہ بات کرتے رہے اسکے بعد ہارون رشید نے پوچھا کیا آپ کے اوپر قرض ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ ان کا قرض ادا کر دیجئے ۔ اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے عباس میرے لئے کوئی اور آدمی تلاش کیجئے تا کہ میں اس سے پوچھ سکوں ان صاحب نے ہمیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔ میں نے کہا یہاں پر مشہور عابد حضرت فضیل بن عیاض ہیں ۔امیر نے فرمایا کہ مجھے ان کے پاس لے کر چلو ۔ ہم ان کے پاس پہنچ گئے جب پہنچے تو وہ کھڑے نماز پڑھ ر ہے تھے اور کتاب اللہ کی ایک آیت بار بار پڑھ رہے تھے ۔ ہارون رشید نرم دل آدمی تھے تلاوت سنی تو سخت روئے اس کے بعد فرمایا کہ درواز ہ بجاؤ میں نے بتایا آواز آئی کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا یہ امیر المؤمنین ہیں ۔ آپ باہر آ ئے۔ اندر سے انہوں نے جواب دیا کہ میرا اور امیر المؤمنین کا کیا تعلق ہے؟ میں نے کہا سبحان اللہ کیا آپ کے ذمے ان کی اطاعت لازم نہیں ہے؟

ليلة نائم بمكة ← فَبَيْنَمَا ← حج أمير المؤمنين هارون الرشيد ← الْفَضْلِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّحْوِيُّ، ← ابن السمسار ← الحسين بن علي الأزدي المعروف ← النعمان بن أحمد بن نعيم الواسطي قاضي تستر ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7425

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7426

7426 - أو ليس قد روي : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه ؟ ! قال : فنزل ففتح الباب ثم ارتقى إلى الغرفة و أطفأ السراج و التجأ إلى زاوية من زوايا الغرفة فجلس فيها فجعلنا نجول عليه بأيدينا فسبقت كف هارون كفي إليه فقال : أوه من كف ما ألينها إن نجت من عذاب الله قال : فقلت في نفسي : لتكلمنه الليلة بكلام نقي من قلب نقي قال فقال له : خذ لما جئناك له رحمك الله فقال له : يا أمير المؤمنين بلغني أن عاملا لعمر بن عبد العزيز شكا إليه فكتب إليه يا أخي اذكر طول سهر أهل النار في النار مع خلود الأبد فإن ذلك يطرق بك إلى الرب نائما و يقظانا و إياك أن ينصرف بك من عند الله فيكون آخر العهد بك و منقطع الرجاء فلما قرأ الكتاب طوى البلاد حتى قدم على عمر فقال له عمر : ما أقدمك ؟ قال : خلعت قلبي بكتابك و لا وليت ولاية حتى ألقى الله قال : فبكى هارون بكاء شديدا ثم قال : زدني رحمك الله فقال : يا أمير المؤمنين بلغني أن عمر بن عبد العزيز لما ولي الخلافة دعا سالم بن عبد الله و محمد بن كعب القرظي و رجاء بن حيوة فقال لهم : إني بليت البلاء فأشيروا علي فعد الخلافة بلاء و عددتها أنت و أصحابك نعمة فقال محمد بن كعب القرظي : إن أردت النجاة من عذاب الله فليكن كبير المسلمين عندك أبا و أوسطهم عندك أخا و أصغرهم عندك ولدا فوقر أباك و أكرم أخاك و تحنن على ولدك و قال له سالم بن عبد الله : إن أردت النجاة من عذاب الله فصم الدنيا و ليكن إفطارك منها الموت و قال له رجاء بن حيوة : إن أردت النجاة غدا من عذاب الله فأحب للمسلمين ما تحب لنفسك و اكره لهم ما تكره لنفسك و إني لأقول لك هذا و إني لأخاف عليك أشد الخوف يوم تزل فيه الأقدام فهل معك رحمك الله من يأمرك بمثل هذا ؟ فبكى هارون بكاء شديدا حتى غشي عليه فقلت له : ارفق بأمير المؤمنين فقال له : يا ابن أم الربيع تقتله أنت و أصحابك و أرفق به أنا ثم إنه أفاق فقال له : زدني رحمك الله فقال له : يا أمير المؤمنين يا حسن الوجه أنت الذي يسأله الله عن هذا الخلق يوم القيامة فإن استطعت أن تقي هذا الوجه من النار فافعل فقال له هارون الرشيد : عليك دين ؟ قال : نعم دين لربي لم يحاسبني عليه فالويل لي إن ناقشني و الويل لي إن لم ألهم حجتي فقال : إنما أعني دين العيال فقال : إن ربي لما يأمرني بهذا أمرني أن أصدق وعده و أن أطيع أمره فقال عز من قائل : { وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون * ما أريد منهم من رزق وما أريد أن يطعمون * إن الله هو الرزاق } فقال له : هذه ألف دينار فخذها و أنفقها على نفسك و تقو بها على عبادة ربك فقال : سبحان الله أنا أدلك على النجاة و أنت تكافئني بمثل هذا سلمك الله و وفقك قال : فخرجنا من عنده فبينما نحن على الباب إذ بامرأة من نسائه قالت له : يا أبا عبد الله قد ترى ما نحن فيه من الحال فلو قبلت هذا المال و فرحتنا به فقال لها : مثلي و مثلكم مثل قوم كان لهم بعير يستقون عليه فلما كبر نحروه و أكلوه لحمه فلما سمع هذا الكلام قال : يرجع فعسى أن يقبل هذا المال فلما أحس به الفضيل خرج إلى تراب في السطح فجلس عليه و جاء هارون إلى جنبه فجعل يكلمه و لا يجيبه بشيء و يكلمه فلا يجيبه بشيء فبينا نحن كذلك إذ بجارية سوداء قد خرجت علينا فقالت : قد آذيتم الشيخ من الليلة انصرفوا رحمكم الله قال : فخرجنا من عنده فقال له : يا عباس إذا دللتني على رجل فدلني على هذا فهذا سيد المسلمين قال : و قال الفضيل : تقرأ في وترك الخلع و تترك من يفجرك ثم تغدو إلى الفاجر فتعامله قال : و قال الفضيل : لا تنظر إليهم من طريق الغلظة عليهم و لكن انظر من طريق الرحمة يعني السلطان

کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ مؤمن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے؟ کہتے ہیں کہ وہ نیچے اترے درواز ہ کھولا پھر اوپر چڑھ گئے اور دیا بجھا دیا اور کمرے کے کونے میں چپ کر بیٹھ گئے ۔ ہم ہاتھوں سے کمرے میں ان کو ٹٹولنے لگے ۔۔ ہارون رشید کا کا ہاتھ میرے ہاتھ سے پہلے ان کو لگ گیا انہوں نے کہا اوہ کتنا نرم ہاتھ ہے اگر عذاب سے بچ جائے میں نے دل میں کہا آج کی رات تم نے ان سے وہ کلام کیا ہے جو صاف ستھرا کلام ہے جو صاف ستھرے دل سے نکلا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ہارون رشید نے ان سے کہا آپ وہ بات سنئے جس کے لئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں اللہ تعالی ٰ آپ کے اوپر رحم کرے۔ چنانچہ فضیل بن عیاض نے کہا کہ اے امیر المومنین مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ایک عامل نے (افسر نے ) ان کے پاس کوئی شکایت کی تھی ۔ جس کے جواب میں عمر بن عبد العزیز نے ان کو جوابی خط لکھا تھا۔اے میرے بھائی! جہنم کے اندر اہل جہنم کی لمبی بے خوابی بیداری کو یاد کیجئے اور ان کے جسموں کے ساتھ آگ کا ہمیشہ رہنا یاد کیجئے یہ بات آپ کو رات کے وقت آپ کے رب کے پاس لا کھڑا کرے گی۔ خواہ تم اس وقت سو رہے ہوں یا جاگ رہے ہوں ۔اور اپنے آپ کو بچاؤ تم اس بات سے کہ تم اللہ کے ہاں سے ہٹا دیئے جاؤ پھر وہ تمہارا آخری عہد ہو اور وہیں پہ تمہاری امیدیں آرزوئیں ختم ہو جائیں ۔ اس نے جب خط پڑھا تو اس نے شہروں پر اقتدار کو لپیٹ کر رکھا اور عمر بن عبدالعزیز کے پاس پہنچ گیا۔ امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز نے آنے کی وجہ پوچھی کہ آپ کیوں آئے ہیں؟ اس نے کہا کہ آپ کے خط نے میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے میں آج کے بعد سے کوئی ولایت حکومت اقتدار نہیں رکھوں گا حتی ٰ کہ مر جاؤں ( کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض سے یہ واقعہ سن کر ) ہارون رشید سخت روئے ۔اس کے بعد کہا کہ اللہ آپ کے اوپر رحم کرے مجھے اور مزید نصیحت کیجئے۔خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا اہل علم سے رجوع کر کے رہنمائی لینا :فضیل بن عیاض نے کہا اے امیر المؤمنین مجھے خبر پہنچی ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز جب خلافت کے والی بنے تو انہوں نے ان حضرات کو بلایا۔۔۔۔ (۱) سالم بن عبدالله (۲) محمد بن کعب قرظی (۳) رجا ءبن حیوۃ نے ان سے کہا کہ میں آزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں میری رہنمائی کرو۔ واضح ہو کہ انہوں نے خلافت کو آزمائش قرار دیا۔ اور اے ہارون ! آپ نے اور آپ کے احباب نے اس کو نعمت قرار دے رکھا ہے۔ عمر ثانی کو حضرت سالم بن عبداللہ کی نصیحت: اگر آپ عذاب الہٰی سے نجات چاہتے ہیں تو دنیا سے روزہ رکھ لیجئے اور آپ کا افطار اس سے موت ہونا چاہئے۔ محمد بن کعب قرضی کی نصیحت : انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ اللہ کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں تو بزرگ مسلمان آپ کے والد کی طرح اور درمیانے آپ کے بھائی اور جھوٹے آپ کے بیٹوں کی طرح ہونے چاہئیں اپنے باپ کی تعظیم کیجئے اور اپنے بھائی کا اکرام کیجئے اور اپنے بچوں پر شفقت کیجئے ۔ امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز کو حضرت رجاء بن حيوة کی نصیحت : فرمایا کہ اگر آپ نجات آخرت چاہتے ہیں اللہ کے عذاب سے تو مسلمانوں کے لئے وہی پسند کیجئے جو کچھ آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی سارے مسلمانوں کے لئے پسند کیجئے اور جو چیز اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں وہ ان کے لئے بھی ناپسند کیجئے۔ (فضیل بن عیاض نے یہ باتیں ہارون رشید کو سنانے کے بعد فرمایا) میں آپ کو یہ باتیں بتا رہاہوں اور مجھے آپ کے بارے میں شدید خوف آ رہا ہے۔ اس دن کا جس دن قدم پھسل جائیں گے۔ کیا تیرے پاس ایسا کوئی آدمی ہے جو آپ کو ایسی باتوں کا حکم کیا کرے؟ چنانچہ ہارون رشید رو پڑے اور شدید روئے حتی کہ ان پر غشی طاری ہوئی ۔ میں نے فضیل سے کہا کہ آپ امیر المؤمنین کے حال پر ترس کھائیے ۔ انہوں نے اس سے کہا اے ابن ام ربیع تم اور تمہارے ساتھی اس کو مارو گے میں اس پر رحم کھارہاہوں اس کے بعد وہ ہوش میں آئے ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ مجھے مزید کچھ فرمایئے اللہ آپ کے اوپر رحم فرمائے فضیل بن عیاض نے فرمایا اے امیر المؤمنین اے خوبصورت چہرے والے ! تم ہو وہ جس سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن اس مخلوق کے بارے میں پوچھے گا اگر آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اس خوبصورت چہرے کو آگ سے بچائیں تو ضرور ایسا کیجئے ۔ ہارون رشید کی طرف سے فضیل بن عیاض کو مالی عطیہ دینے کی کوشش اور ان کا انکار: ہارون رشید نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے اوپر کسی کا قرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ہے میرے رب کا مجھ پر قرض ہے ۔اس نے مجھ سے اس پر حساب طلب نہیں کیا ہے بس ہلاکت ہوگئی میرے لئے اگر اس نے مجھ سے مناقشہ ومطالبہ کر دیا۔ اور ہلاکت ہوگی میرے لئے اگر مجھے اس پر عذر کرنا اور حجت پیش کرنا نہ سکھایا گیا اور الہام نہ کیا گیا۔ ہارون رشید نے کہا حضرت میری مراد سوال کرنے سے آپ کے عیال اور کنبے قبیلے کا قرض مراد تھی ۔ فضیل نے فرمایا کہ میرا رب بے شک جب مجھے اس کا حکم دیتا ہے تو وہ مجھے یہ بھی حکم دیتا ہے کہ میں اس کے وعدے کو بھی سچا مانوں اور اسی کے حکم کی اطاعت کروں اسی مالک نے یہ فرمایا ۔ : وما خلفت الجن والانس الا ليعبدون ما اريد منهم من رزق وما اريد ان يطعمون ان الله هو الرزاق ذو القوة المتين (الذاريات ،آیت ۵۶ ۔ ۵۸ ) میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور میں ان سے اپنے لئے کھانا و رزق نہیں مانگتا۔ بے شک اللہ بہت بڑا رزق دینے والا ہے اور مضبوط قوت والا ہے ۔ ہارون رشید نے فضیل بن عیاض سے کہا یہ ایک ہزار دینار میں اسے آپ لیجئے اور اس کو اپنے اوپر خرچ کیجئے اور اس کے ساتھ اپنے رب کی عبادت پر قوت حاصل کیجئے۔ فضیل نے کہا سبحان اللہ ! میں آپ کو نجات کا راستہ دکھاتا ہوں اور آپ مجھے اس طرح کا بدلہ دے رہے ہیں اس کو اپنے پاس رکھئے ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اورتوفیق بخشے ۔ ہم ان کے ہاں سے نکلے تو ہم ابھی دروازے پر ہی تھے اچھانک ہم نے سنا کوئی عورت ان کی عورتوں میں سے اس سے کہہ رہی ہے اے ابو عبد اللہ آپ دیکھ رہے ہیں ہم کس حال سے گذررہے ہیں اگر آپ اس مال کو قبول کر لیتے تو آپ اس کے ذریعے ہمیں آرام پہنچا سکتے تھے ۔ فضیل نے اس عورت سے کہا میری اورتم لوگوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جن کے پاس اونٹ ہو وہ اس پر پانی لا کر پلاتے رہیں جب وہ بوڑھا ہو جائے تو وہ اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت بھی کھالیں ۔ ہارون رشید نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ دوبارہ ان کے پاس جانا چاہئے ممکن ہے اب وہ اس مال کو قبول کر لیں ۔ جب فضیل نے یہ بات محسوس کی تو وہ چھت پر پڑی مٹی پر جا کر بیٹھ گئے ۔ ہارون بھی جا کر اس کے پہلو میں بیٹھ گئے وہ اس سے کوئی بات کرتے تھے اور وہ اس کا جواب نہیں دے رہے تھے ۔ پھر وہ بات کرتے تھے اور وہ کوئی جواب نہیں دے رہے تھے ہم لوگ اسی حال میں تھے کہ اچانک ایک سیاہ لڑ کی نکل کر ہمارے سامنے آئی اور کہنے لگی آج رات تم لوگوں نے شیخ کو بہت ستایا ہے تم لوگ چلے جاؤ اللہ تمہارے اوپر رحم کرے کہتے ہیں کہ ہم اس کے بعد اس کے ہاں سے نکل گئے ۔ ہارون رشید نے مجھ سے کہا اے عباس جب مجھے آپ کسی سے ملوائیں تو ایسے ہی آدمی سے ملوایا کرو یہ تمام مسلمانوں کا سردار ہے۔ عباس کہتے ہیں کہ فضیل نے یہ بھی کہا تھا کہ تم اپنی نماز وتر میں تو کہتے ہو ونخلغ ونترك من يفجرک جوشخص تیرا نافرمان ہو ہم اس کو خیر باد کہ دیتے ہیں اسے چھوڑ جاتے ہیں مگر جب صبح ہوتی ہے تو تم فاجر کے پاس جاتے ہو اس سے معاملات کر تے ہو۔اور فضیل نے فرمایا کہ ان کی طرف سخت روی اور شدت کے ساتھ نہ دیکھئے بلکہ شفقت کے طریقے سے دیکھے یعنی بادشاہ و حکمران کی طرف۔

لا ينبغي للمؤمن ← أو ليس قد روي

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7426

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7427

7427 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسين بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط نا أحمد بن أبي الحواري حدثني أبو عصمة قال : حدث سفيان قال : قال ابن السماك : بعث إلي هارون فلما أتيته إلى باب القصر أخذني حرسان فأسرعا بي إلى القصر فلما انتهيت إلى صحن القصر لقيني خصيان ضخمان فأخذاني من الحرسين فأسرعا بي إلى قاعة القصر حتى انتهينا إلى باب البهو الذي هو فيه فقال لهما هارون : ارفقا بالشيخ فلما وقفت بين يديه فقلت له : يا أمير المؤمنين ما مر بي يوم منذ ولدتني أمي أنا فيه أتعب من يومي فقلت له : يا أمير المؤمنين و اعلم أن لك مقاما بين يدي الله تعالى أنت فيه أذل من مقامي هذا بين يديك فاتق الله في خلقه و احفظ محمدا في أمته و انصح نفسك في رعيتك و اعلم أن الله آخذ سطواته و انتقامه من أهل معاصيه قال : فاضطرب على فراشه حتى وقع على مصلى بين يدي فراشه فقلت : يا أمير المؤمنين هذا أول الصفة فكيف لو رأيت ذل المعاينة قال : فكادت نفسه تخرج و كان يحيى بن خالد إلى جنبه فقال للخصمين : أخرجوه فقد أبكى أمير المؤمنين فقال سفيان رحمه الله : لقد أبلغ

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو احمد بن ابوالحواری نے ان کو ابو عصمہ نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن سماک نے کہا کہ ہارون رشید نے مجھے بلا بھیجا میں جب ان کے پاس گیا باب قصر پر تو مجھے چوکیداروں نے پکڑ ا اور جلدی سے مجھے محل میں لے گئے جب میں صحن محل میں پہنچا تو دو موٹے خواجہ سرا آئے انہوں نے مجھے دربانوں سے لے لیا اور جلدی سے مجھے بال کمرے تک لے گئے حتی کہ ہم اس ہال تک پہنچے جہاں وہ بیٹھے تھے ہارون نے ان دونوں سے کہا کہ شیخ پر رحم کیجئے جب میں ان کے آگے بیٹھا میں نے اس سے کہا اے امیر المومنین مجھے جب سے میری ماں نے جنم دیا ہے میں جتنی آج تھکا ہوں اور شفت اٹھائی ہے اتنی بھی نہیں اٹھائی ۔ امیرالمؤمنین! اللہ سے ڈریئے اور یقین جانئے کہ آگے بھی اللہ کے آگے کھڑا ہونا ہے اور آپ اس وقت اس سے زیادہ ذلیل ہوں گے جتنی میں آج آپ کے سامنے ہوں اب اللہ کی مخلوق کے بارے میں اللہ سے ڈریئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں حفاظت کیجئے اپنی رعیت کے بارے میں اپنے نفس کی خیر خواہی کیجئے ۔ یقین جانئے کہ اللہ تعالی ٰ اپنے نافرمانوں سے اپنا انتقام لینے والا ہے کہتے ہیں یہ سن کر ہارون رشید اپنے بستر پر تڑپنے لگا حتی کانپتے کانپتے مصلے پر گر گیا جو آگے بچا ہوا تھا۔ میں نے کہا اے امیرالمؤمنین ! یہ تو پہلی کیفیت ہو گی کیا ہوگا اگر آپ معائنے کی ذات ملاحظہ کر تے ہیں ۔فرمایا پھر تو قریب تھا کہ اس کی روح نکل جاتی اور حضرت یحییٰ بن خالد ان کے پہلو میں بیٹھے تھے انہوں نے خواجہ سراؤں سے کہا کہ اس شخص کو نکال دیجئے اس نے امیرالمؤمنین کو رلا دیا ہے سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے البتہ تحقیق پر یہ خبر پہنچی ہے۔

حَدَّثَ سُفْيَانُ، ← أَبُو عِصْمَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الحسين بن محمد بن إسحاق، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7427

chevron_left Previous
1…678…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood