Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7404

7404 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا مكرم بن أحمد بن مكرم القاضي نا محمد بن إسماعيل السلمي نا أيوب بن سليمان حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما بعث الله من نبي و لا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان بطانة تأمره بالخير و تحضه عليه و بطانة تأمره بالسوء و تحضه عليه فالمعصوم من عصمه الله و رواه سلميان بن بلال أيضا عن يحيى بن سعيد عن ابن شهاب و استشهد به البخاري ذكرناه في كتاب السنن و قيل عن أبي سلمة عن أبي أيوب و قد أشار البخاري إلى جميع ذلك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو مکرم بن احمد بن مکرم قاضی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ایوب بن سلیمان نے ان کو ابوبکر بن ابواویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کومحمد بن ابوعتیق نے اور موسی ٰبن عقبہ نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابوسلمہ بن عبد الرحمن ٰنے ان کو ابوسعید خدری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے کہا کہ اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی خلیفہ ایسا بنایا مگر اس کے لئے دو راز دان دوست ہوتے تھے ایک راز دان اس کو خیر کا حکم دیتا اور اس کو خیر پرا کساتا ۔اور دوسرا دوست راز دار اس کو غلط کام کر نے کو کہتا اور اس کو اسی پر اکساتا پس محفوظ و ہ رہاجس کواللہ نے محفوظ رکھا۔ اس کو روایت کیا ہے سلیمان بن بلال نے بھی یحییٰ بن سعید سے اس نے ابن شہاب سے ۔ اور بخاری اس کے ساتھ استشہا دلایا ہے ہم نے اس کو ذکر کیا ہے کتاب السنن میں ۔ اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے ابوسلمہ سے اس نے ابوایوب سے اور تحقیق ذکر کیا ہے بخاری نے ان سب کی طرف۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُكْرَمٍ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7404

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7405

7405 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس نا حنبل بن إسحاق نا هارون بن معروف نا عقبة بن علقمة عن أبي هاشم قال : قال ابن محيريز : من جلس على الوسائد وجب عليه النصيحة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو عقبہ بن علقمہ نے ان کو ابو ہاشم نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن محیریز نے جو شخص مسندوں پر بیٹھے اس پر خیر خواہی اور نصیحت واجب ہے۔

ابن محيريز من جلس على الوسائد وجب عليه النصيحة ← أَبِي هَاشِمٍ ← عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ← هَارُونُ بن معروف ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7405

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7406

7406 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن أبي عمر قال : قال سفيان : قال هشام بن عبد الملك لأبي حازم : يا أبا حازم ما النجاة من هذا الأمر ؟ قال : يسير قال : ما ذاك قال : لا تأخذن شيئا إلا من حله و لا تضعن شيئا إلا في حقه قال : و من يطيق ذلك يا أبا حازم قال : من طلب الجنة و هرب من النار

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کومحمد بن ابوعمر نے وہ کہتے میں کہ کہا سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملک نے ابو حازم سے کہا اے ابو حازم اس معاملے سے نجات کی کیا صورت ہے؟ اس نے کہا کہ آسان ہے انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ہرگز کوئی شئی نہ لیجئے مگر اس کی حالت سے اور ہرگز کوئی شئی نہ چھوڑیئے مگر اس کے حق میں ۔انہوں نے پوچھا کہ اے ابو حازم اس کی کون استطاعت رکھے گا ؟ فرمایا کہ جوشخص جنت کو طلب کرے اور جہنم سے دور بھاگے۔

مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7406

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7407

7407 - و بهذا الإسناد قال : قال سفيان : قال بعض الأمراء لأبي حازم : ارفع إلي حاجتك قال : هيهات هيهات رفعتها إلى من لا تختزل الحوائج دونه فلما أعطاني منها قنعت و ما زوى عني منها رضيت قال : فقال ابن شهاب و ما علمت أن هذا عنده قال أبو حازم فقلت لو كنت غنيا لعرفتني ثم قلت لا تنجو مني فقلت : لو كنت غنيا لعرفتني ثم قلت لا تنجو مني فقلت : كان العلماء فيما مضى يطلبهم السلطان و هم يفرون أما العلماء اليوم طلبوا العلم حتى إذا جمعوه بحذافيره أتوا به أبواب السلاطين و السلاطين يفرون منهم و هم يطلبونهم

اور اسی اسناد کے ساتھ کہتے ہیں کہ کہا ہے سفیان نے کہ بعض امراء نے ابوحازم سے کہا آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہمیں بتائے انہوں نے فرمایا کہ بہت دوری ہے بہت دوری ہے (یعنی نہ ممکن ہے ) کہ میں اپنی حوائج اس کے آگے پیش کروں ( جوان سے بے خبر ہے ) اس ذات سے اٹھا کر جس سے کوئی حاجت نہیں چھپتی ۔ اس میں سے جو کچھ وہ مجھے دیتا ہے اسی پر قناعت کرتا ہوں اور جس چیز وہ دکھ سے سمیٹتا ہے (یعنی نہیں دیتا ) میں اس پر راضی ہوتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا اور جو کچھ میں جانتا ہوں یہ ہے کہ یہ اس کے پاس ہے ۔ ابوحازم نے کہا بس میں نے کہا کہ اگر میں غنی ہوتا تو آپ مجھے پہچانتے۔ پھر میں نے کہا آپ مجھ سے بچ نہیں سکتے پس میں نے کہا کہ پہلے زمانے میں علما ،ایسے ہوتے تھے کہ اگر ان کو بادشاہ طلب کرتا تو وہ بھاگتے تھے ۔بہرحال آج کے علما علم طلب کر تے ہیں ۔ جب وہ سب کا سب جمع کر لیتے ہیں تو اس کو بادشاہوں کے دروازے پر لے آتے ہیں اور بادشاہ ان سے دور بھاگتے ہیں اور وہ ان کی طلب میں ہوتے ہیں۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7407

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7408

7408 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى بن إبراهيم نا أبو عمر الجدلي نا علي بن الحسن نا علي بن عثام عن عثمان بن زفر قال : خرج سليمان بن عبد الملك و معه عمر بن عبد العزيز فلما قضيا شأنهما من صيد أو غيره اطلعا على عسكره فأعجب ذلك سليمان فقال : يا أبا حفص ما ترى ؟ قال : أرى دنيا يأكل بعضها بعضا و أنت المسؤول عنا فسكت عنه ثم انتهى إلى فسطاطه فطار غراب و في مخالبه لقمة قد حملها من فسطاطه فتغب قال : ما يقول يا عمر ؟ قال : ما أدري قال : ظن قال : أراه يقول من أين جاءت و أين يذهب بها قال : فقال سليمان : ما أعجبك قال : أعجب مني من عرف الله فعصاه و عرف الشيطان فأطاعه فسكت قيام الأوزاعي مع المنصور وعظته إياه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسی ٰبن ابراہیم نے ان کو ابو عمر وجد لی نے ان کوعلی بن حسین نے ان کوعلی بن عثام نے ان کو عثمان بن زفر نے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن عبد الملک نکلے اور ان کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز تھے جب وہ دونوں اپنی شکار کی یا دیگرمصروفیت سے فارغ ہو گئے تو دونوں نے اپنے لشکر کو دیکھ سلیمان کو بہت اچھا لگا تو اس نے کہا اے ابو حفص آپ دیکھتے ہیں یعنی آپ کا کیا خیال ہے؟ عمر نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا بعض اس کا بعض کو کھا رہا ہے اور آپ ہمارے بارے میں مسول ہیں ( آپ سے پوچھا جائے گا ۔ ) سلیمان اس سے خاموش ہو گیا اس کے بعد و ہ اپنے خیمہ میں گیا۔ اس نے دیکھا کہ کوا اڑا ہے اس کے پنجوں میں ایک لقمہ ہے جس کو اس نے ان کے خیمے سے اٹھایا ہے وہ غائب ہو گیا۔ سلیمان نے پوچھا اے عمر یہ کیا کہتا ہے ۔ عمر نے کہامیں نہیں جانتا۔ سلیمان نے کہا کہ آپ کوئی گمان کیجئے۔ عمر نے کہا کہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ وہ یہ کہتا ہے کہ کہاں سے آیا ہے اور اس کو کہاں لے جائے گا؟عثمان بن زفر کہتا ہے کہ سلمان نے کہا کہ آپ کو کس چیز نے حیران کیا؟ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ مجھے سب سے زیاد ہ حیرت اس پر ہوتی ہے جواللہ کو پہچانتا ہے پھر اس کی نافرمانی بھی کرتا ہے۔ اور شیطان کو پہچانتا ہے پھر اس کی اطاعت بھی کرتا ہے۔ سلیمان خاموش ہو گیا۔

عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← أبو عمر الجدلي ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7408

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7409

7409 - حدثنا الحاكم أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد العدل الآدمي ببغداد قرأت عليه من أصل كتابه أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عبيد بن ناصح النحوي نا محمد بن مصعب القرقسائي حدثني الأوزاعي عبد الرحمن بن عمرو قال : بعث إلي المنصور أمير المؤمنين و أنا بالساحل فلما وصلت إليه سلمت عليه بالخلافة فرد علي و أجلسني ثم قال : ما الذي بطأ بك عنا يا أوزاعي ؟ قلت : و ما الذي تريد يا أمير المؤمنين ؟ قال : أريد الأخذ عنك و الاقتباس منك قال : فانظر يا أمير المؤمنين أن لا تجهل شيئا مما أقول لك قال : و كيف أجهله و أنا أسألك عنه و قد وجهت إليك و أقدمتك له قلت : أن تسمعه و لا تعمل به يا أمير المؤمنين من كره الحق فقد كره إن الله هو الحق المبين قال : فصاح ابن الربيع و أهوى بيده إلى السيف فانتهره المنصور و قال : هذا مجلس مثوبة لا مجلس عقوبة فطابت نفسي و انبسطت في الكلام فقلت : يا أمير المؤمنين

ہمیں حدیث بیان کی حاکم ابوعبدالله حافظ نے ان کو خبر دی ابوبکر محمد بن جعفر بن یزید عدل آدمی نے بغداد میں میں نے اس پر پڑھی اس کی اصل کتاب سے اور ہمیں خبر دی ابو جعفر احمد بن عبید بن ناصح نحوی نے ان کو محمد بن مصعب قرقسائی نے ان کو اوزاعی عبدالرحمن بن عمرو نے انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین خلیفہ المنصور نے میرے پاس نمائندہ بھیجا۔ میں اس وقت ساحل پر تھا جب میں ان کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سلام کیا خلافت کی مبارک باد دی اس نے مجھے سلام کا جواب دیا اور مجھے بیٹھایا اور مجھ سے پوچھا کہ اے اوزاعی ! آپ کوہم سے ملنے میں تاخیر کیوں ہوگئی ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میں آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور آپ سے اقتباس لینا حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا دیکھئے امیر المومنین میں جو کچھ آپ سے کہوں گا اس میں کسی شئی کو آپ بھولیں گے نہیں اس نے کہا کہ میں کیسے اس سے نادانی کروں گا حالانکہ میں نے آپ سے اس کے بارے میں خود پوچھا ہے اور میں خود تمہاری طرف متوجہ ہوا ہوں ۔ میں نے آپ کواسی کے لئے بلوایا ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ سنیں گے تو سہی مگر آپ عمل نہیں کریں گے اے امیرالمومنین جو شخص حق کو ناپسند کرتا ہے وہ نا پسند کیا جاتا ہے ۔ بےشک اللہ واضح حق ہے ۔ کہتے ہیں اتنے میں ابن ربیع نے چیخ ماری اور تلوار اٹھانے کے لئے اس نے ہاتھ جھکایا تواس وظیفہ منصور نے جھڑک دیا اور فرمایا کہ یہ مجلس ثواب کی ہے سزا کی نہیں ہے میرا نفس خوش ہوا ہے اور میں نے کلام میں سرور محسوس کیاہے میں نے کہا اے امیر المؤمنین ۔ (آگے کیجئے)

الْأَوْزَاعِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ← محمد بن مصعب القرقسائي ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِيُّ، ← عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ← أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد العدل الآدمي ← الحاكم أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7409

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7410

7410 - حدثنا مكحول عن عطية عن بشر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما عبد أتاه موعظة من الله في دينه فإنما هي نعمة من الله سبقت إليه فإن قبلها بشكر و إلا كانت حجة من الله ليزداد بها إثما و يزداد عليه سخطا يا أمير المؤمنين

مجھے حدیث بیان کی ہے مکحول نے ان کو عطیہ نے ان کو بشر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بندے کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی نصیحت آ جائے اس کے دین میں بے شک وہ نعمت ہے اللہ کی طرف سے جو اس کی طرف چلائی گئی ہے اگر وہ اس کو شکر کے ساتھ قبول کر لیتا ہے فیھا ورنہ وہ اللہ کی طرف سے حجت ہوتی ہے تا کہ اس کے ساتھ وہ اور زیادہ گنہگار ہو ، اور اس پر زیادہ اللہ کی ناراضگی ہوتی ہے اے امیر المومنین ۔

بِشْرٌ، ← عَطِيَّةَ، ← مَكْحُولٌ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7410

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7411

7411 - حدثني مكحول عن عطية عن بشر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما وال بات غاشا لرعيته حرم الله عليه الجنة يا أمير المؤمنين إن الذي لين قلوب أمتكم لكم حين و لوكم لقرابتكم من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد كان بهم رؤوفا رحيما مواسيا لهم بنفسه و ذات يده و عند الناس لحقيق أن يقوم له فيهم بالحق و أن يكون بالقسط له فيهم قائما و لعوراتهم ساترا لم يغلق عليه دونهم الأبواب و لم يقم عليهم دونهم الحجاب يبتهج بالنعمة عندهم و يبتئس بما أصابهم من سوء يا أمير المؤمنين قد كنت في شغل شاغل من خاصة نفسك عن عامة الناس الذين أصبحت تملكهم أحمرهم و أسودهم مسلمهم و كافرهم و كل له عليك نصيب من العدل فكيف بك إذا اتبعك منهم فئام وراء فئام ليس منهم أحد و هو يشكو شكوى أوبلية أدختلها عليه أو ظلامة سقتها إليه يا أمير المؤمنين

ہمیں حدیث بیان کی مکحول نے ان کو عطیہ نے ان کو بشر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی والی ( صاحب اقتدار ) بھی رات گذارتا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے رعایا کے ساتھ خیانت و دھوکہ کرتا ہے تو اللہ تعالی ٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔ اے امیر المؤمنین بے شک وہ ذات برتر جس نے تم لوگوں کی امت کے دلوں کو تمہارے لئے نرم کر دیا ہے جب کہ تم کوان لوگوں نے اپنا والی مقرر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمہاری قرابت کی وجہ سے، وہ ذات ( تمہارے امتیوں کے ) ساتھ بہت شفیق ہے مہربان ہے ان کے لئے غمخوار ہے اپنی ذات سے بھی اور اپنے اختیار سے بھی ۔ اور وہ ذات لوگوں کے نزدیک اس بات کی حق دار ہے کہ والی اس کے لئے ان لوگوں میں حق کو قائم کرے، اور اس کے لئے ان لوگوں میں انصاف کو قائم کرنے والا ہو، اور ان کے عیبوں کو چھپانے والی ہے وہ ذات ، اس ذات نے ان پر اپنے دروازے بند نہیں کر رکھے، اور ان کے آگے اس نے پردے نہیں ڈال رکھے ۔ ان کے پاس نعمت سے وہ خوش ہوتا ہے اوران کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کو بری لگتی ہے اے امیر المؤمنین ۔ تحقیق تم مصروف کرنے والی مصروفیت میں ہو خصوصا اپنی ذاتی مصروفیت میں عام لوگوں سے آپ جن کے سرخ سیاہ اور جن کے مسلم و کافر کے مالک و بادشاہ بنے ہیں ، اور ہر ایک کا تمہارے اوپر حصہ ہے عدل وانصاف میں سے ، بس تیرا کیا حال ہوگا جب ان لوگوں میں سے کئی کئی گروہ تیرے پیچھے ہوں گے جن میں سے ہر ایک اپنی اپنی شکایات کرے گا؟ تیرے خلاف یا آپ نے ان کو جس مصیبت میں مبتلا کیا ہوگا یا کوئی ظلم جو آپ نے ان پر ڈھایا ہو گا اے امیر المؤمنین ۔

بِشْرٌ، ← عَطِيَّةَ، ← مَكْحُولٌ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7411

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7412

7412 - حدثني مكحول عن عروة بن رويم قال : كانت بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم جريدة رطبة يستاك بها و يروع بها المنافقين فأتاه جبريل قال : يا محمد ما هذه الجريدة التي كسرت بها قرون أمتك و ملأت بها قلوبهم رعبا فيكف بمن شقق أبشارهم و سفك دماءهم و خرب ديارهم و أجلاهم عن بلادهم و غيبهم الخوف منه يا أمير المؤمنين

ہمیں حدیث بیان کی مکحول نے ان کو عروہ بن رویم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تازہ شاخ تھی اس کے ساتھ مسواک بھی کرتے تھے اور اس کے ساتھ منافقتوں کو بھی ڈراتے تھے ۔ جبرائیل آپ کے پاس آئے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسی چھڑی یا شاخ ہے؟ جس کے ساتھ آپ اپنی امت کی سرداری کی چوٹیوں کو توڑ دیا ہے اور ان کے دلوں کو رعب سے بھر دیا ہے ۔ پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جوان کی چمڑیوں کو پھاڑ دے گا اور ان کے خون بہائے گا اور ان کے گھروں کو ویران کرے گا اور ان کو ان کے شہروں سے نکال باہر کرے گا ان کو اس کا خوف غائب کر دے گا ، اے امیر المؤمنین ۔

عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← مَكْحُولٌ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7412

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7413

7413 - حدثني مكحول عن زياد بن حارثة عن حبيب بن سلمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا إلى القصاص من نفسه في خدشة خدشها أعرابيا لم يتعمده فأتاه جبريل فقال : إن الله لم يبعثك جبارا و لا متكبرا فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اقتص مني فقال الأعرابي : قد أحللتك بأبي أنت و أمي ما كانت لأفعل ذلك أبدا و لو أتيت على نفسي فدعا الله له بخير يا أمير المؤمنين روض نفسك لنفسك و خذ لها الأمان من ربك و ارغب في جنة عرضها السموات و الأرض التي

ہمیں حدیث بیان کی مکحول نے ان کو زیاد بن حارثہ نے ان کو حبیب بن سلمہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس سے قصاص لینے کے لئے ایک دیہاتی کو بلایا ایک خراش کے بارے میں جو آپ نے اس کو لگائی تھی مگر آپ نے وہ قصداً نہیں لگائی تھی بلکہ اتفا قا لگ گئی تھی جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ نے آپ کو مسلط ہونے والا بادشاہ نہیں بنایا اور نہ ہی متکبر بنایا ہے۔ حضور نے دیہاتی کو بلایا اور فر مایا مجھ سے بدلہ لے لے اعرابی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے میرے ماں باپ آپ کے او پرقربان جائیں ۔ میں یہ کام کبھی بھی نہیں کروں گا اگر چہ آپ میری جان لینے پر بھی آ جائیں۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے خیر و بھلائی کی دعا فرمائی ۔

حبيب بن سلمة ← زِيَادِ بْنِ حَارِثَةَ، ← مَكْحُولٌ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7413

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7414

7414 - ـ : يقول فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقاب قوس أحدكم في الجنة خير من الدنيا و ما فيها يا أمير المؤمنين إن الملك لو بقي لمن كان قبلك لم يصل إليك و كذلك لا يبقى لك كما لا يبقى لغيرك يا أمير المؤمنين تدري ما جاء في تأويل هذه الآية عن جدك : { مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلا أحصاها } قال : الصغيرة التبسم و الكبيرة الضحك فكيف ما عملته الأيدي و أحصته الألسن يا أمير المؤمنين

اے امیر المومنین آپ اپنے نفس اپنے لئے تابع کر لیجئے ۔ اور اس کے لئے اپنے رب سے امان حاصل کر لیجئے اور اپنے رب کی جنت میں رغبت کیجئے جس کی چوڑائی ارض وسماء ہیں ۔ وہ جنت جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ جنت میں تمہارا قاب قوس تمہاری کمان کا فاصلہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔ (یعنی زیادہ ہے۔) اے امیرالمؤمنین ۔ اگر یہ ملک اوراقتدار باقی رہتا ان لوگوں کے لئے جو تجھ سے پہلے تھے تو یہ تیرے تک نہ پہنچتا اور اسی طرح تیرے پاس بھی باقی نہیں رہے گا جیسے تیرے سوا دوسروں کے پاس نہیں رہا۔ اے امیر المؤمنین! آپ جانتے ہیں؟ آپ کے نانا سے اس آیت کی تاویل کے بارے میں کیا آیا ہے ۔ قال هذا الكتاب لايغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها ۔ اس کو کتاب کو کیا ہوا نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑے نہ بڑی سب کو محظوظ لیتی ہے۔ فرمایا کہ صغیرہ تبسم ہے اور کبیرہ ہنسنا ہے ۔ پھر کیا حال ہوگا اس کا جس کے ہاتھ عمل کریں اور زبانیں جس کا احاطہ کریں ۔اے امیرالمؤمنین ۔

جَدِّكَ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7414

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7415

7415 - بلغني أن عمر بن الخطاب قال : لو ماتت سخلة على شاطئ الفرات ضيعة لخفت أن أسأل عنها فكيف بمن حرم عدلك و هو على بساطك يا أمير المؤمنين تدري ما جاء في تأويل هذه الآية عن جدك : { يا داود إنا جعلناك خليفة في الأرض فاحكم بين الناس بالحق و لا تتبع الهوى } قال : يا داود إذا قعد الخصمان بين يديك فكان لك في أحدهما هوى فلا تتمنين في نفسك أن يكون الحق له فيفلح على صاحبه فأمحوك عن نبوتي ثم لا تكون خليفتي و لا كرامة يا داود إنما جعلت رسلي إلى عبادي رعاة ترعى الإبل لعلهم بالرعاية و رفقهم بالسياسة ليجبروا الكسرة و يدلوا الهزيل على الكلأ و الماء يا أمير المؤمنين إنك قد بليت بأمر لو عرض على السموات و الأرض و الجبال لأبين أن يحملنه و أشفقن منه يا أمير المؤمنين حدثني يزيد بن يزيد بن جابر عن عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري أن عمر بن الخطاب استعمل رجلا من الأنصار على الصدقة فرآه بعد أيام مقيما فقال له : ما منعك من الخروج إلى عملك ؟ أما عملت أن لك مثل أجر المجاهد في سبيل الله قال : لا قال : و كيف ذلك ؟ قال : لأنه

مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا تھا کہ اگر بکری کا چھوٹا سا بچہ بھی فرات کے کنارے ہلاک ہوکر ضائع ہو جائے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کے بارے میں بھی مجھ سے پوچھ نہ ہو جائے۔ پھر بتاؤ کیا حال ہو گا تمہارا جب وہ شخص تمہارے عدل وانصاف سے محروم ہو جائے جو تیرے بستر پر ہواے امیرالمؤمنین ۔ جانتی ہو آپ کے نانا اسی آیت کی تشریح میں کیا یہ آ یا ہے۔ ياداؤد اناجعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس با لحق ولا تتبع الهوى (سورةص ) اے داؤد ہم نے تجھے دھرتی پر اپنا جانشین بنایا ہے لہذا تو لوگوں کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما اور خواہش نفس کی اتباع نہ کر ۔ فرمایا اے داؤد جب دو جھگڑ نے والے تیرے سامنے پیش ہوں اور دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں تیری یہ خواہش ہو تو دل میں یہ تمنی ٰ ہرگز نہ کرو کہ حق اس کے ساتھ ہو پس وہ دوسرے پر کامیاب ہو جائے ورنہ میں تجھے اپنی نبوت سے مٹادوں گا پھر میرے خلیفہ نہیں ہو گے اور نہ تیری کوئی عزت ہوگی ۔ اے داؤ د یقینا ً میں نے اپنے رسولوں کو اپنے بندوں کی طرف ایسا بنایا ہے جیسے اونٹوں کے لئے ان کے چرواہے ہوتے ہیں اس لئے کہ ان کے پاس رعایا کے بارے میں علم ہے اور سیاست کے بارے میں سمجھ ہے تاکہ وہ ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑ دیں ، کمزور اور مریل کو گھانس اور پانی کا راستہ دکھائیں۔ اے امیرالمؤمنین آپ ایک ایسے امر کے ساتھ آزمائے گئے ہیں کہ اگر وہ زمین و آسمان پر اور پہاڑوں پر پیش کیا جاتا تو وہ اس کو اٹھانے سے انکار کر دیتے اور اس سے گھبرا اٹھتے ۔ اے امیر المؤمنین ! مجھ سے حدیث بیان کی ہے یزید بن یزید بن جابر نے عبدالرحمن بن ابوعمرہ انصاری سے یہ کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کسی انصاری آدمی کو صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل مقرر کیا کچھ دنوں کے بعد انہوں نے اسے رکا ہوا اور اپنے کام پر نہ جاتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ آپ کو اپنے کام پر جانے سے کس عذر نے روکا ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تیرا اجر مجاہد فی سبیل اللہ کے اجر کی طرح ہے۔ اس نے پوچھا کہ نہیں میں نہیں جانتا وہ کیسے ہے؟ ابن خطاب نے فرمایا اس لئے کہ بروز قیامت حکمرانوں کے ہاتھ گر دن سے بندھے ہوں گے۔

بلغني

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7415

chevron_left Previous
1…567…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood