شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7392
7392 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد بن عبد الله الحسيني بمرو نا شهاب بن الحسن العكبري نا عبد الملك بن قريب الأصمعي نا ملك عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : حدثت أن موسى أو عيسى عليهما السلام قال : يا رب ما علامة رضاك عن خلقك ؟ فقال عز و جل : أن أنزل عليهم الغيث إبان زرعهم و أحسبه إبان حصادهم و أجعل أمورهم إلى حلمائهم و فيهئهم في أيدي سمحائهم قال : يا رب فما علامة السخط ؟ قال : أن أنزل عليهم الغيث إبان حصادهم و أحبسه إبان زرعهم و أجعل أمورهم إلى سفائهم و فيئهم في أيدي بخلائهم
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعلی بن محمد بن عبداللہ حسینی نے مقام مرو میں ان کو شہاب بن حسن عکبری نے ان کو عبدالملک بن قریب اصمعی نے ان کو خبر دی ملک نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے عمر بن خطاب سے انہوں نے بتایا کہ مجھے حدیث بیان کی گئی ہے کہ موسی ٰعلیہ السلام یاعیسی ٰعلیہ السلام نے اے رب ! تیری مخلوق سے تیرے راضی ہونے کی علامت کیا ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: ’’ کہ اگر میں ان پر اپنی بارش نازل کروں جو ان کے کھیت پیدا کرے۔ میرا خیال ہے کہ زرعھم کی جگہ حصادھم کہا تھا۔ اور میں ان کے امور کوان کے حوصلہ مندوں کے حوالے کردوں ۔ اور ان کا مال غنیمت ان کے سخیوں کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے پوچھا اے رب آپ کی ناراضگی کی علامت کیا ہے؟ فرمایا کہ اگر میں ان پر بارش اتاروں جو جوان کے کھیت پیدا کرے میرا خیال ہے کہ ابان زرعھم کہا تھا اور ان کے معاملہ ان کے کم عقلوں اور بے وقوفوں کے حوالے کردوں اور ان کی مال غنیمت ان کے بخیلوں کے ہاتھ میں ہو۔
خلقك ← يا رب ما علامة رضاك ← أن موسى أو عيسى عليهما السلام ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ملك ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← شهاب بن الحسن العكبري ← علي بن محمد بن عبد الله الحسيني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7392
