Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7392

7392 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد بن عبد الله الحسيني بمرو نا شهاب بن الحسن العكبري نا عبد الملك بن قريب الأصمعي نا ملك عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : حدثت أن موسى أو عيسى عليهما السلام قال : يا رب ما علامة رضاك عن خلقك ؟ فقال عز و جل : أن أنزل عليهم الغيث إبان زرعهم و أحسبه إبان حصادهم و أجعل أمورهم إلى حلمائهم و فيهئهم في أيدي سمحائهم قال : يا رب فما علامة السخط ؟ قال : أن أنزل عليهم الغيث إبان حصادهم و أحبسه إبان زرعهم و أجعل أمورهم إلى سفائهم و فيئهم في أيدي بخلائهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعلی بن محمد بن عبداللہ حسینی نے مقام مرو میں ان کو شہاب بن حسن عکبری نے ان کو عبدالملک بن قریب اصمعی نے ان کو خبر دی ملک نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے عمر بن خطاب سے انہوں نے بتایا کہ مجھے حدیث بیان کی گئی ہے کہ موسی ٰعلیہ السلام یاعیسی ٰعلیہ السلام نے اے رب ! تیری مخلوق سے تیرے راضی ہونے کی علامت کیا ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: ’’ کہ اگر میں ان پر اپنی بارش نازل کروں جو ان کے کھیت پیدا کرے۔ میرا خیال ہے کہ زرعھم کی جگہ حصادھم کہا تھا۔ اور میں ان کے امور کوان کے حوصلہ مندوں کے حوالے کردوں ۔ اور ان کا مال غنیمت ان کے سخیوں کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے پوچھا اے رب آپ کی ناراضگی کی علامت کیا ہے؟ فرمایا کہ اگر میں ان پر بارش اتاروں جو جوان کے کھیت پیدا کرے میرا خیال ہے کہ ابان زرعھم کہا تھا اور ان کے معاملہ ان کے کم عقلوں اور بے وقوفوں کے حوالے کردوں اور ان کی مال غنیمت ان کے بخیلوں کے ہاتھ میں ہو۔

خلقك ← يا رب ما علامة رضاك ← أن موسى أو عيسى عليهما السلام ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ملك ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← شهاب بن الحسن العكبري ← علي بن محمد بن عبد الله الحسيني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7392

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7393

7393 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل الفقيه نا إبراهيم بن معقل نا حرملة نا ابن وهب نا مالك : أن كعب الأحبار كلم عمر بن الخطاب فقال : ويل لسلطان الأرض من سلطان السماء فقال عمر : إلا من حاسب نفسه فقال : ما بينهما آية في كتاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن سہل فقیہ نے ان کو ابراہیم بن معقل نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن وہب نے ان کو مالک نے کہ کعب الاحبار نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا ہلاکت ہے دھرتی کے بادشاہ کے لئے آسمان کے بادشاہ سے ،عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مگر وہ شخص جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو ، پس فرمایا کہ جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ آیت ہے کتاب اللہ میں ۔

عمر إلا من حاسب نفسه ← ويل لسلطان الأرض من سلطان السماء ← مالك أن كعب الأحبار كلم عمر بن الخطاب ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7393

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7394

7394 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن عاصم بن أبي النجود : أن عمر بن الخطاب كان إذا بعث عمالا اشترط عليهم ألا تركبوا برذونا و لا تأكلوا نقيا و لا تلبسوا رقيقا و لا تغلقوا أبوابكم دون حوائج الناس فإن فعلتم شيئا من ذلك فقد حلت بكم العقوبة ثم يشيعهم فإذا أراد أن يرجع قال : إني لم أسلطكم على دماء المسلمين و لا على أبشارهم و لا على أعراضهم و لا على أموالهم و لكني بعثتكم لتقيموا فيهم الصلاة و تقتسموا فيهم فيئهم و تحكموا بينهم بالعدل فإن أشكل عليكم شيء فارفعوه إلي آلا و لا تضربوا العرب فتذلوها و لا تحمدوها فتفتنوها و لا تقبلوا عليها فتحرموها فيردوا القرآن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صغانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عاصم بن ابو النجود نے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب عاملوں کو بھیجتے تھے تو ان پر شرط لگاتے تھے کہ وہ عمدہ سواری نہیں کریں گے ۔ اور صاف اور چھنا ہوا آٹا نہیں کھائیں گے۔ اور باریک کپڑے نہیں پہنیں گے۔ اور تم لوگوں کی حوائج کے آگے اپنے دروازے بند نہیں کرو گے اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا تو تمہارے اوپر عذاب اتر پڑھے گا۔اس کے بعد ان لوگوں کو بھیجتے تھے۔اور خود رخصت کرنے جاتے اور جب واپس بلانا چاہتے تھے تو کہتے تھے کہ میں نے تمہیں مسلمانوں کے خون پر مسلط نہیں کیا تھا۔اور نہ ہی ان کی چمڑیوں پر اور نہ ہی ان کی عزتوں پر اور نہ ان کے مالوں پر بلکہ میں نے تمہیں اس لئے بھیجا تھا تاکہ تم ان میں نماز قائم کرو اور ان کی غنیمتیں ان میں تقسیم کرو اور ان کے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ فیصلے کرو۔ اگر تمہارے اوپر کوئی چیز مشکل گذرے تو میری طرف اٹھا بھیجو۔ خبردار! عربوں کو نہ مارنا ورنہ تم ان کو ذلیل کر دو گے اور ان کی تعریف بھی نہ کر و ورنہ تم ان کو آزمائش میں ڈال دو گے ( فتنے میں ) اور ان کے خلاف کوئی بات قبول نہ کرنا ورنہ تم اس کو حرام کر دو گے اور قرآن کو رد کر دو گے۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7394

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7395

7395 - و بإسناده عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أن عمر بن الخطاب قال : أرأيتم إن استعملت عليكم خير من أعلم ثم أمرته بالعدل أفقضيت ما علي ؟ قالوا : نعم قال : لا حتى انظر في عمله أعمل بما أمرته أم لا

اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے معمر سے اس نے طاؤس سے اس نے اپنے والد سے کہ عمر بن خطاب فرمایا مجھے یہ بتلاؤ کہ اگر میں تم لوگوں پر اس شخص کو عامل مقرر کر دوں جس کو میں بہتر سمجھوں اس کے بعد میں اس کو انصاف کرنے کا حکم بھی دوں تو کیا میں اپنی وہ ذمہ داری پوری کرلوں گا جو مجھ پر ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آپ کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ پوری نہیں ہوگی جب تک میں یہ نہ دیکھ لوں کہ اس نے اس پر عمل کیا ہے جو میں نے اس کوحکم دیا تھا یا نہیں کیا ہے۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7395

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7396

7396 - و به عن معمر عن أيوب أو غيره عن حميد بن هلال قال : لما دفن عمر أبا بكر رضي الله عنهما قام على المنبر ثم قال : أيها الناس إن الله قد ابتلاني بكم و ابتلاكم بي و خلفت بعد صاحبي و الله لا يحضرني شيء من أموركم و لا يغيب عني منها شيء قالوا : فيها عن أهل الأمانة و الحرم قال : فما زال على ذلك حتى مضى رحمه الله

اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے معمر سے ۔اس نے ایوب سے یا غیر سے اس نے حمید بن بلال سے وہ کہتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فن کر کے آئے تو منبر پر کھڑے ہوئے اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہارے ساتھ اور تمہیں میرے ساتھ آزمائش میں وابستہ کر لیا ہے اور میں اپنے ساتھی کا نائب بنایا گیا ہوں۔ اللہ کی قسم ! تمہارے امور میں سے کوئی شئی نہ حاضر ہوگی اور نہ کوئی شئی ان میں سے غائب ہوگی۔ لوگوں نے کہا کہ اہل امانت اور حرم کے بارے میں کہتے ہیں (حمید) کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی کیفیت پر ر ہے یہاں تک کہ وہ چل بسے۔

أَيُّهَا النَّاسُ ← لما دفن عمر أبا بكر قام على المنبر ثم ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، أَوْ غَيْرِهِ، ← مَعْمَرٌ، ← و به

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7396

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7397

7397 - و بإسناده أنا معمر عن الزهري : أن يهوديا جاء إلى عبد الملك بن مروان فقال : إن ابن هرمز ظلمني فلم يلتف إليه ثم الثانية ثم الثالثة فلم يلتفت إليه فقال له اليهودي : إنا نجد في كتاب الله عز و جل في التوراة أن الإمام لا يشرك في ظلم و لا جور حتى يرفع إليه فإذا رفع إليه فلم يغير شرك في الجور و الظلم قال : ففزع بها عبد الملك و أرسل إلى ابن هرمز فنزعه

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے معمر نے زہری سے عبدالملک بن مروان کے پاس ایک یہودی آ یا۔ کہ مجھ پر ہرمز کے بیٹے نے ظلم کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ دی پھر اس نے دوبارہ کہا پھر تیسری بار کہا مگر انہوں نے توجہ نہ دی اب اس یہودی نے اس سے کہا کہ ہم لوگ اللہ کی کتاب تورات میں یہ مسئلہ پاتے ہیں کہ خلیفہ اس وقت تک ظلم وجور میں شریک نہیں ہوتا جب تک وہ ا سکے سامنے پیش نہ کر دیا جائے ، جب اس کے سامنے پیش کر دیا جائے اور وہ اس کو تبدیل نہ کرے پھر وہ خود بھی ظلم و جور میں شریک ہو جاتا ہے۔ زہری کہتے ہیں کہ اس بات سے عبدالملک گھبرا گیا اور ابن ہرمز کو نمائندہ بھیج کر طلب کر لیا۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7397

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7398

7398 - و بإسناده عن معمر عن أبي أيوب عن أبي قلابة عن أبي مسلم الخولاني قال : مثل الإمام كمثل عين عظيمة صافية طيبة الماء يجري منها إلى نهر عظيم فيحوض الناس النهر فيكدرونه و يعود عليهم مقر العين فإذا كان الكدر من قبل العين فسد النهر قال : و مثل الإمام و الناس كمثل فسطاط مستقيم أو قال : لا يستقيم إلا بعمود و لا يقوم العمود إلا باطناب أو قال : بأوتاد فكلما نزع ازداد العمود و هنا فلا يصلح الناس إلا بالإمام و لا يصلح الإمام إلا بالناس

اسی اسناد کے ساتھ معمر سے مروی ہے اس نے ابوایوب سے اس نے ابوقلابہ سے اس نے ابومسلم خولانی سے وہ کہتے ہیں کہ امام وخلیفہ کی مثال ایک عظیم اور صاف چشمے جیسی ہے جس سے پاکیزہ پانی بہتا ہو ایک عظیم نہر کی طرف اب لوگ اس نہر میں گھس کر اس کے پانی کو گندا کر دیں ظاہر ہے کہ وہ کدورت پر ان ہیں پر ہی پڑے گی ۔ اور جب کدورت ہو چشمے کی جانب سے تو وہ نہر کا پانی گندا ہو جائے گا ۔ فرمایا کہ امام کی اور لوگوں کی مثال سیدھے نصب شدہ خیمے جیسی ہے ۔یا فرمایا کہ اس خیمے جیسی ہے جو سیدھا نہیں کھڑا ہو سکتا مگر عمود اور ستون نما لکڑی کے ساتھ اور عمود کی لکڑ نہیں سیدھی کھڑی ہوسکتی مگر طنابوں اور ڈوریوں کے ساتھ یا یوں فرمایا تھا کہ سیخوں اور کیلوں کے ساتھ ۔ جب بھی ان کو نکال لیا جائے تو عمود کمزور ہو جائیں لوگ امام کے بغیر درست نہیں ہوسکتے اور امام لوگوں کے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7398

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7399

7399 - أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني أنا أبو بكر أحمد بن سلمان قال : قرئ على الحارث بن محمد و أنا أسمع نا علي بن عاصم نا سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يرضى لكم ثلاثا و يسخط لكم ثلاثا يرضى لكم أن تعبدوه و لا تشركوا به شيئا و أن تعتصموا بحبل الله جميعا و لا تفرقوا و أن تناصحوا من ولاة الله عز و جل أمركم و يسخط لكم قيل و قال : و كثرة السؤال و إضاعة المال أخرجه مسلم من حديث سهيل

ہمیں خبر دی ابو سہل احمد بن محمد بن ابراہیم مہرانی نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ حدیث پڑھی گئی حارث بن محمد پر اور میں سن رہا تھا ان کو خبر دی علی بن عاصم نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک اللہ تعالی ٰ راضی ہوتا ہے تمہارے لئے تین چیزوں سے اور ناراض ہوتا ہے تین چیزوں سے تمہارے لئے راضی ہوتا اس بات سے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرو اور یہ کہ تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور مت بکھرواور یہ کہ تم اللہ کے مقرر کر دو والیوں حکمرانوں سے نصیحت قبول کرو جو تمہارے معاملے کے ذمہ دار ہیں ۔ اور ناپسند کرتا ہے تمہارے لئے قیل و قال کو۔ اور کثرت سوال کو اور مال ضائع کرنے کو۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث سے سہیل سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أسمع ← قرئ على الحارث بن محمد و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7399

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7400

7400 - حدثنا أبو الحسن العلوي نا أبو حامد بن الشرقي نا أحمد بن حفص و عبد الوهاب بن محمد الفراء و قطن بن إبراهيم قالوا : نا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن سهيل بن أبي صالح عن عطاء بن يزيد الليثي عن تميم الداري أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدين نصيحة ثلاث مرات قالوا : لمن يا رسول الله ؟ قال : لله و لكتابه و رسوله و أئمة المؤمنين أو قال أئمة المسلمين و عامتهم أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن سهيل

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو ابوحامد بن شرقی نے ان کو احمد بن حفص نے اور عبدالوہاب بن محمد فراء نے اور قطن بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو عطا بن یزید لیثی نے ان کو تمیم داری نے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین نصیحت ہے ( یعنی خیر خواہی ہے ) تین بار آپ نے یہ جملہ فرمایا ۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ کس کے لئے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ اللہ کے لئے ،قرآن کے لئے ،محمد رسول اللہ کے لئے ۔اور اہل ایمان کے ائمہ اور خلفاء کے لئے ۔ یا اہل اسلام کے ائمہ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سہیل سے ۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أحمد بن حفص و عبد الوهاب بن محمد الفراء و قطن بن إبراهيم ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7400

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7401

7401 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسين بن يعقوب بن يوسف العدل نا أبو عثمان سعيد بن إسماعيل الواعظ الزاهد نا موسى بن نصر نا جرير عن سهيل بن أبي صالح عن عطاء بن يزيد الليثي عن تميم الداري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الدين النصيحة الدين النصيحة قيل : لمن يا رسول الله ؟ قال : لله و لكتابه و لنبيه و لأئمة المسلمين و عامتهم قال أبو عثمان : فانصح للسلطان و أكثر له من الدعاء بالصلاح و الرشاد بالقول و العمل و الحكم فإنهم إذا صلحوا صلح العباد بصلاحهم و إياك أن تدعو عليهم باللعنة فيزدادوا شرا و يزداد البلاء على المسلمين و لكن ادع لهم بالتوبة فيتركة الشر فيرتفع البلاء عن المؤمنين و إياك أن تأتيهم أو تتصنع لإتيانهم أو تحب أن يأتوك و اهرب منهم ما استطعت ما داموا مقيمين على الشر فإن تابوا و تركوا الشر من القوم و العمل و الحكمة و أخذوا الدنيا من وجهها فهناك فاحذر العز بهم لتكون بعيدا منهم قريبا بالرحمة لهم و النصيحة إن شاء الله و أما نصيحة جماعة المسلمين فإن نصيحتهم على أخلاقهم ما لم يكن لله معصية و انظر إلى تدبير الله فيهم بقليل فإن الله قسم بينهم أخلاقهم كما قسم بينهم أرزاقهم و لو شاء لجمعهم على قلب واحد فلا يغفل عن النظر إلى تدبير الله فيهم فإذا رأيت معصية الله أحمد الله إذ صرفها عنك في وقتك و تلطف في الأمر و النهي في رفق و صبر و سكينة فإن قبل منم فاحمد الله و إن رد عليك فاستغفر الله لتقصير منك كان في أمرك و نهيك و اصبر على ما أصابك إن ذلك من عزم الأمور

ہمیں خبر دی ابوعبید اللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل حسین بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کو ابوعثمان سعید بن اسماعیل واعظ زاہد نے ان کوموسی ٰبن نصر نے ان کو جریر نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو عطا بن یزید لیثی نے ان کو تمیم داری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: الدين النصيحة الدين النصيحة دین خیر خواہی ہے۔ ۔ پوچھا گیا کہ کس کے لئے خیر خواہی ہے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے اس کے نبی کے لئے اور مسلمانوں کے آئمہ اور خلفاء کے لئے (حکمرانوں کے لئے ) اور تمام مسلمانوں کے لئے ۔ ابوعثمان سعید بن اسماعیل واعظ زاہد کی نصیحت : فرماتے ہیں کہ آپ سلطان (بادشاہ) کونصیحت کیجئے یعنی سلطان کی خیر خواہی کیجئے ۔ اور اس کے لئے کثرت کے ساتھ نیکی کی اور رشد و ہدایت کی دعا کیجئے اس کے قول میں ،عمل میں اور حکم میں ۔ کیونکہ جب وہ نیک اور صالح ہوں گے تو ان کے نیک اور صالح ہونے کی وجہ سے لوگ بھی نیک وصالح بنیں گے ۔ اور اپنے آپ کو بچائیے ان پر لعنت کرنے سے ، ورنہ وہ شر اور برائی میں اور زیادہ ہو جائیں گے ( جب دو زیاد ہ برے ہوں گے تو ) مسلمانوں کی مصیبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا ، بلکہ آپ ان کے لئے توبہ کرنے کی دعا کیجئے ۔ اس سے کہ وہ برائی چھوڑ دیں گے ۔ لہذا اہل ایمان سے مصیبت ٹل جائے گی ۔ اور بچائیے اپنے آپ کو ان کے پاس جانے سے اور ان کے تمہارے پاس آنے پر ، ان کے لئے تصنع اور تکلیف کرنے سے اور اس بات سے بھی کہ تم یہ چاہو کہ وہ تیرے پاس آئیں۔ جتنی تمہیں استطاعت ہو ان سے دور بھاگتے رہئے جب تک وہ اپنی برائیوں پر قائم رہیں ۔اگر وہ تو بہ کر لیں ، اور اپنے قول وعمل میں اور اپنے حکم میں برائی کو ترک کر دیں ، اور دنیا کوا سکے طریقے پر لیں تو پھر ان کے پاس جاسکتے ہو۔ اوران کے سب سے عزت بنانے سے بچتے رہنا تاکہ تم ان سے دور رہو اور شفقت اور نصیحت کے اعتبار سے ان کے قریب رہو گے انشاءاللہ ۔ بہر حال مسلمانوں کی جماعت کی نصیحت و خیر خواہی کا جہاں تک تعلق ہے وہ ان کے اخلاق و عادات پر ہوگی جب تک اللہ کے لئے معصیت نہ ہو۔اور ان کے بارے میں اللہ کی تدبیر پر نظر رکھئے۔ قلیل صورت میں، بے شک اللہ تعالی ٰ نے ان کے درمیان ان کے اخلاق کی تقسیم بھی خود کی ہے جیسے ان کے درمیان ان کے رزق تقسیم کئے ہیں ۔اگر اللہ تعالی ٰ چاہتا تو ان کو ایک دل پر جمع کر دیتا (یعنی سب کو نیک دل بنادیتا ) لہذا ان میں اللہ کی تدبیر پر اور اس کی تقسیم پر نظر رکھنے اور غور کرنے سے غافل نہ ہواور تم جب اللہ کی نافرمانی دیکھوتو تم اللہ کا شکر کرو کیونکہ اس نے ہی اسی معصیت کو تیرے وقت پر تم سے ہٹا دیا ہے ۔ اور امر میں اور نہی میں نرمی کیجئے نفع پہنچانے میں اور صبر میں سکینہ وقار میں اگر وہ تم سے قبول کر لے تو اللہ کا شکر ادا کیجئے اگر وہ اس کو تمہارے اوپر واپس رو کر دے تو اللہ سے آپ استغفار کیجئے اس کوتاہی کرنے پر جوتم سے تمہاری امرونہی کرنے میں واقع ہوئی ہے اور تجھے جو تکلیف یا پریشانی پہنچی ہے اس پر صبر کیجئے بے شک یہ سب کچھ کرنا بڑی بات ہے ۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرٌ ← مُوسَى بْنَ نَصْرٍ ← أبو عثمان سعيد بن إسماعيل الواعظ الزاهد ← أبو الفضل الحسين بن يعقوب بن يوسف العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7401

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7402

7402 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن بن أبي علي الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية نا ابن مبارك عن ابن أبي حسين عن القاسم بن محمد سمعت عمتي عائشة تقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ولي منكم عملا فأراد الله به خيرا جعل له وزيرا صالحا إن نسي ذكره و إن ذكره أعانه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوالحسن بن ابوعلی حافظ نے آخرین میں انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو ابن مبارک نے ان کو ابن ابوحسین نے ان کو قاسم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنی پھوپھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم میں سے کسی کام کا ولی بنایا جائے اور اللہ تعالی ٰ اس کی بھلائی جا ہے اس کا ایک نیک معاون بنادیتا ہے اگر وہ بھولتا ہے تو وہ اس کو یاد دلاتا ہے اگر وہ یادرکھتا ہے اعانت کرتا ہے ۔

عَمَّتِيَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7402

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7403

7403 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالوا : نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر و أحمد بن عيسى الخشاب قالا : نا بشر بن بكر نا الأوزاعي عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من وال يلي إلا وله بطانتان بطانة تأمره بالمعروف و تنهاه عن المنكر وبطانة لا تألوه خبالا فمن وقي شرها فقد وقي و هو من الذي يغلب عليه منهما وقيل فيه عن أبي سلمة عن أبي سعيد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے اور ابوعبداللہ اسحٰق بن محمد بن یوسف سوسی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو احمد بن عیسی ٰخشاب نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی بشر بن بکر نے ان کو اوزاعی نے ان کو زہری نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوبھی والی ( حکمران ) ہوتا ہے اس کے دو رازدان ہوتے ہیں مخفی طور پر ۔ ایک مخفی راز داران کو اچھائیوں کی تلقین کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا راز دان اس کو نقصان پہنچانے اور تباہ کرنے میں کمی نہیں کرتا جو شخص اس خفیہ راز دان سے بچ گیا واقعی و ہ بچ گیا وہ در حقیقت دونوں میں سے ایسا ہوتا جو اس پر غالب ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس سند میں ابوسلمہ سے ابوسعید سے مروی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر و أحمد بن عيسى الخشاب ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7403

chevron_left Previous
1…456…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood