Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7380

7380 - و رويناه في كتاب السنن من حديث أحمد بن يونس عن سعد بن غيلان عن عفان بن جبير عن أبي جرير أو جرير الأزدي عن عكرمة عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہم نے اس کو روایت کیا ہے کتاب السنن میں احمد بن یونس کی حدیث سے اس نے سعید بن غیلان سے اس نے عفان بن جبیر سے اس نے ابوجریر سے یا جریرازدی سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أبي جرير أو جرير الأزدي ← عفان بن جبير ← سعد بن غيلان ← و رويناه في كتاب السنن من حديث أحمد بن يونس

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7380

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7381

7381 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن إسحاق نا يحيى بن عبد الحميد نا عبد الله بن المبارك حدثني عيسى بن يزيد عن جرير بن يزيد أنه سمع أبا زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حد يقام في الأرض خير من أن تمطر أربعين صباحا

ہمیں اس کی خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو یحیی بن عبدالحمید نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کوعیسیٰ بن یزید نے ان کو جریر بن یزید نے کہ انہوں نے سنا ابوزرعہ سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھرتی پر جوحد قائم کی جائے (حدواللہ میں سے ) و ہ چالیس روز کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ ← عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يحيى بن عبد الحميد ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7381

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7382

7382 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدباس بمكة نا محمد بن علي بن زيد المكي نا إبراهيم بن المنذر الحزامي نا عبد الله بن محمد بن عجلان عن أبيه عن جده عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أمير عشرة إلا و هو يؤتي يوم القيامة مغلولا حتى يفكه العدل أو يوبقه الجور

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبد العزیز بن عبدالرحمن ٰدباس نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن علی بن یزیدمکی نے ان کو ابراہیم بن منذرحزامی نے ان کو عبد اللہ محمد بن عجلان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دسواں امیر جو لایا جائے گا اس پر کوئی نہ کوئی چوری ( یا کھوٹ ہوگا ) اس کو اس کا عدل وانصاف چھڑائے گا یا اس کو ظلم ہلاک کر دے گا۔ حکمران کو جہنم کے پل پہ کھڑا کیا جائے گا :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7382

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7383

7383 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن العباس المؤدب و دسيس العدل قالا : نا شريح بن النعمان نا حشرج بن نباتة عن هشام بن حبيب عن بشر بن عاصم عن أبيه : أنه بعث إليه عمر بن الخطاب ليستعمله على بعض الصدقة فأبى أن يعمل له قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إذا كان يوم القيامة أتي بالوالي فيوقف على جسر جهنم فيأمر الله الجسر فينتفض به انتفاضة يزول كل عظم من مكانه ثم يأمر الله العظام ترجع إلى أماكنها ثم يسأله فإن كان لله مطيعا أخذ بيده و أعطاه كفلين من رحمته و إن كان لله عاصيا خرق بن الجسر فهوى في جهنم مقدار سبعين خريفا فقال عمر : سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم نسمع ؟ قال : نعم قال : و كان سلمان الفارسي و أبو ذر الغفاري فقال سلمان : إي و الله يا عمر بن الخطاب و مع السبعين سبعين خريفا في واد من نار يلتهب التهابا فقال عمر بيده على جبهته : إنا لله و إنا إليه راجعون من يأخذها بما فيها فقال سلمان : من سلب الله أنفه و ألزق خده بالأرض

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عباس مؤدب نے اور دسیس العدل نے دونوں نے کہا کہ ہمیں بتایا شریح بن نعمان بن حشرج نے بن نباتہ نے ان کو ہشام بن حبیب نے ان کو بشر بن عاصم نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے اس کو عمر بن خطاب کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کو کہیں صدقہ کا عامل مقرر کر دیں۔ انہوں نے اس کو عامل بنانے سے انکار کر دیا۔اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے : جب قیامت کا دن ہو گا تو والی کو لایا جائے گا اور اس کو جہنم کی پلی کے اوپر کھڑا کیا جائے گا اس پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے اس کی ہر ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالی ٰ ہڈیوں سے کہیں گے کہ وہ اپنی جگہ پر آ جائیں ۔اس کے بعد اللہ تعالی ٰ اس سے پوچھے گا اگر وہ اللہ کا فرمانبردار ہوگا اس کا ہاتھ پکڑ کر اللہ اس کو اپنی رحمت سے دو حصے دے گا اور اگر وہ نافرمان گنہگارتھا تو اس کے ساتھ وہ پل پھٹ جائے گی ۔اور وہ جہنم میں گر جائے گاستر سال تک کی مقدار گرتا رہے گا ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو ہم نے نہیں سنا؟ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے ۔ پس سلمان نے فرمایا جی ہاں اللہ کی قسم اے عمر بن خطاب اور ستر کے ساتھ مزید ستر سال (گرے گا ) آگ کی ایک کھا ہی کے اندر جو شعلے مارے گی شعلے مارنا حضرت عمر نے اپنے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر اشارہ کیا اور کہا انا للہ وانا الیہ را جعون۔ اسے کون چھڑائے گا اس سے جس میں وہ پڑا ہوگا ؟ سلمان نے فرمایا وہ ذات جو اس کی ناک چھین لیتی ہے اور اس کے رخسار کو زمین سے ملا دیتی ہے۔

أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← هشام بن حبيب ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← محمد بن العباس المؤدب و دسيس العدل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7383

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7384

7384 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي السيرافي نا عبد الله بن رجا نا زايدة نا السائب بن حبيش الكلاعي عن أبي السماح الأزدي عن ابن عم له من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أنه أتى معاوية فدخل عليه فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ولي من أمر الناس شيئا ثم أغلق بابه دون المسكين أو المظلوم أو ذي الحاجة أغلق الله دونه أبواب رحمته عند حاجته و فقره أفقر ما يكون إليه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی سرافی نے ان کو عبد اللہ بن رجاء نے ان کو زائدہ نے ان کو سائب بن جیش کلاعی نے ان کو ابوالسماح از دی نے ان کو ان کے ابن عم نے اصحاب نبی سے کہ وہ صحابی حضرت معاو میہ کے پاس آئے ان کو ملے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافرماتے تھے جو شخص لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بن جائے اس کے بعد وہ اپنا درواز ہ مسکین پر یا مظلوم پر بند کر دے یا حاجت مند پر اللہ تعالی ٰ اس کے آگے سے رحمت کے دروازے بند کر دے گا اس کی حاجت کے وقت اور اس کا فقر ومحتاجی سب سے زیادہ سخت ہوگا ۔

أَبِي السَّمَاحِ الْأَزْدِيِّ، ← السائب بن حبيش الكلاعي ← زَائِدَۃَ، ← عبد الله بن رجا ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7384

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7385

7385 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا محمد بن مبارك نا صدقة و يحيى بن حمزة عن يزيد بن أبي مريم نا القاسم بن مخيمرة عن رجل من أهل فلسطين يكنى أبا مريم بن الأسد قدم على معاوية فقال معاوية : ما أقدمك قال : حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأيت موقفك جئت أخبرك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ولاه الله من أمر الناس شيئا فاحتجب عن حاجتهم و خلتهم وفاقتهم احتجب الله يوم القيامة عن حاجته و خلته و فاقته

اور ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو محمد بن مبارک نے ان کو صدقہ اور یحییٰ بن حمز ہ نے ان کو یزید بن ابومریم نے ان کو قاسم بن مخیمرہ نے ان کو اہل فلسطین کے ایک آدمی جس کی کنیت ابو مریم تھی بن اسد وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ حضرت معاو یہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کیسے آئے ؟ بولے اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔ اللہ تعالی ٰ جس شخص کو لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری سونپ دے اور وہ چھپ جائے اور پردے میں ہو جائے ان کی حاجت سے اور ان کی دوستی سے اور ان کے فاقے سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن اس کی حاجت سے اور خلتہ سے حجاب اور رکاوٹ کر لے گا۔

حَدِيثٍ ← مُعَاوِيَةُ: مَا أَقْدَمَكَ؟ ← رجل من أهل فلسطين يكنى أبا مريم بن الأسد قدم على معاوية ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← صدقة و يحيى بن حمزة ← مُحَمَّدِ بْنِ مُبَارَكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7385

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7386

7386 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا عفان نا حماد بن سلمة نا علي بن الحكم عن أبي الحسن أن عمرو بن مرة قال لمعاوية : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من وال أغلق بابه عن ذي الخلة و الحاجة و المسكنة إلا أغلق الله أبواب السماء عن حاجته و خلته و مسكنته

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن حکم نے ان کو ابوالحسن نے ان کو عمرو بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے: جو والی بھی اپنا دروازہ بند کر لیتا ہے دوستوں سے اور حاجت مندوں اور مسکینوں سے اللہ تعالی ٰ اس کے لئے تعاون آسمانوں کے دروازے بند کر دیتا ہے اس کی حاجت سے اور دوستی سے اور ناداری سے ۔

حاجته و خلته و مسكنته ← ذي الخلة و الحاجة و المسكنة إلا أغلق الله أبواب السماء ← ما من وال أغلق بابه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لِمُعَاوِيَةَ: ← أبي الحسن أن عمرو بن مرة ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7386

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7387

7387 - أخبرنا أبو سعيد شريك بن عبد الملك بن الحسين الاسفرايني بها نا أبو سهل الاسفرايني أنا عبد الله بن ناجية نا عبد الله بن معاوية الجمحي نا حماد بن سلمة : فذكره بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ابوسعید شریک بن عبدالملک بن حسین اسفرائنی سے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو عبداللہ بن ناحیہ نے ان کو عبداللہ بن معاویہ جمحی نے ان کو احمد بن سلمہ نے اس نے اس کو ذ کر کیا ہے اسی اسناد اور اسی مفہوم کے ساتھ ۔

حماد بن سلمة فذكره بإسناده و معناه ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ ← أبو سهل الاسفرايني ← أبو سعيد شريك بن عبد الملك بن الحسين الاسفرايني بها

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7387

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7388

7388 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل محمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي نا الحسين بن منصور نا مبشر بن عبد الله عن نشهل عن داود بن أبي هند عن الحسن : أن بني إسرائيل سألوا موسى عليه السلام قالوا : سل لنا ربك يبين لنا علم رضاه عنا و علم سخطه ؟ فسأله فقال : يا موسى أبلغهم أن رضاي عنهم أن أستعمل عليهم خيارهم و أن سخطي عليهم أن أستعمل عليهم شرارهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن یحییٰ بن حازم سلمی نے ان کو حسین بن منصور نے ان کو مبشر بن عبداللہ نے ان کو نہشل نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو حسن نے یہ کہ بنی اسرائیل نے موسی ٰعلیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ ہمارے لئے بیان کر دے ہم سے اپنے رب کی رضا اور ناراضگی کا ؟ موسی ٰعلیہ السلام نے اللہ تعالی ٰ سے پوچھا تو اللہ تعالی ٰ نے فرمایا اے موسیٰ ان کو بتادے کہ میں جب ان سے راضی ہوں گا تو ان میں سے بہترین لوگوں کو ان پر حکمراں بناؤں گا اور جب میں ان سے ناراض ہوں گا تو ان پر ان میں سے بدتر لوگوں کو ان پر مسلط کروں گا۔

سل لنا ربك يبين لنا علم رضاه عنا و علم سخطه فسأله ← الحسن أن بني إسرائيل سألوا موسى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← نشهل ← مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7388

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7389

7389 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن حمشاذ العدل نا أبو المثنى نا عبيد الله بن معاذ نا عمران بن حدير عن السميط قال : قال كعب الأحبار : إن لكل زمان ملكا يبعثه الله على نحو قلوب أهله فإذا أراد صلاحهم بعث عليهم مصلحا و إذا أراد هلكتهم بعث فيهم مترفيهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو ابوالمشنی نے ان کو عبداللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمران بن حدیر نے ان کو سمیط نے وہ کہتے ہیں کہ کہا کعب الاحبار نے کہ بے شک ہر زمانے کا ایک بادشاہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالی ٰ اس زمانے کے لوگوں کے دلوں کی کیفیت کے مطابق بھیجتا ہے جب اللہ تعالی ٰ ان کی بھلائی چاہتے ہیں تو ان پر اصلاح کرنے والا بھیجتے ہیں اور جب ان کی ہلاکت چاہتے ہیں تو ان پر سرکش بھیجتے ہیں ۔

السُّمَيْطِ ← عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7389

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7390

7390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن حمش يقول : سمعت أبي يقول : اللهم بما كسبت أيدينا سلطت علينا من لا يعرفنا و لا يرحمنا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نا ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بن حمش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے :اے اللہ ! ہمارے ہاتھوں نے جو کچھ کمایا ہے۔ اس کے سبب ہمارے اوپر ایسا شخص مسلط کر دیا گیا ہے جو نہ ہمیں پہچانتا ہے اور نہ ہی ہمارے اوپر رحم کرتا ہے۔

اللهم بما كسبت أيدينا سلطت علينا من لا يعرفنا و لا يرحمنا ← أَبِي ← أبا عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن حمش ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7390

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7391

7391 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ حدثني عبد الحميد بن عبد الرحمن القاضي حدثني أبي نا محمد بن عمرو القهندري نا يحيى بن هشام نا يونس بن أبي إسحاق عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كما تكونوا كذلك يؤمر عليكم هذا منقطع و روايه يحيى بن هاشم و هو ضعيف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو حدیث بیان کی عبدالحمید بن عبد الرحمن ٰقاضی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو محمد بن عمروقہندری نے ان کو یحییٰ بن ہاشم نے ان کو یونس بن ابواسحٰق نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جیسے ہوں گے ویساہی تمہارے اوپر امیر مقرر کیا جائے گا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کا ایک راوی یحییٰ بن ہاشم ضعیف ہے۔

أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنُ هِشَامٍ ← محمد بن عمرو القهندري ← أَبِي ← عبد الحميد بن عبد الرحمن القاضي ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7391

chevron_left Previous
12345…13
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood