Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7368

7368 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا عبد الله البغوي نا عبد الله بن عمر القواريري نا حكيم بن حزام و كان من عباد الله الصالحين نا عبد الملك بن عمير عن الربيع بن عملية عن عبد الله بن مسعود و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيليكم أمراء يفسدون و ما يصلح الله بهم أكثر فمن عمل منهم بطاعة الله فلهم الأجر و عليكم الشكر و من عمل منهم بمعصية الله فعليهم الوزر و عليكم الصبر و رويناه من وجه آخر في هذا الجزء أتم من ذلك

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بغوی نے ان کو عبید اللہ بن عمر قواریری نے ان کو حکیم بن حزام نے اور وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ربیع بن عمیلہ نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے متصل بعض امیر ہوں گے جو فساد کریں گے ان میں سے اکثر کی اللہ تعالیٰ اصلاح نہیں فرمائے گا۔ ان میں سے جو اللہ تعالی ٰ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرے گا ان کے لئے اجر ہوگا اور تمہارے اوپر شکر لازم ہوگا ۔اوران میں سے جواللہ کی معصیت کے ساتھ عمل کرے گا ان پر گناہ کا بوجھ ہوگا اور تمہارے اوپرصبر لازم ہوگا۔ ہم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے جو اس سے زیادہ مکمل ہے۔

عبد الله بن مسعود و ← الربيع بن عملية ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حكيم بن حزام و كان من عباد الله الصالحين ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ← عبد الله البغوي، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7368

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7369

7369 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن الحسن بن قتيبة نا محمد بن علي بن عمر رواد نا بشر بن بكر نا سعيد بن سنان عن أبي الزاهرية عن كثير بن مرة عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده فإذا عدل كان له الأجر و على الرعية الشكر و إذا جار كان عليه الإصر و على الرعية الصبر و إذا جارت الولاة قحطت السماء و إذا منعت الزكاة هلكت المواشي و إذا ظهر الزنا ظهر الفقر و المسكنة و إذا خفرت الذمة أديل الكفار رواه ابن خزيمة عن يونس بن عبد الأعلى عن بشر بن بكر و أبو المهدي سعيد بن سنان ضعيف عند أهل العلم بالحديث

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو محمد بن علی بن عمر رواد نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو سعید بن سنان نے ان کو ابوالزاہریہ نے ان کو کثیر بن مرہ نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بادشاہ دھرتی پر اللہ کا سایہ ہے اس کے بندوں میں سے ہر مظلوم اس کی طرف پناہ پکڑتا ہے جب وہ انصاف کرتا ہے۔ تو اس کے لئے اجر ہوتا ہے اور رعایا پر شکر لازم ہوتا ہے۔ اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس پر بوجھ ہوتا ہے اور رعایا پر صبر لازم ہوتا ہے ۔اور جب حکمران ظلم کرتے ہیں تو آسمان سے قحط اترتا ہے (یعنی بارش رک جاتی ہے ) اور جب زکوۃ روک لی جاتی ہے تو مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں جب زنا عام ہو جاتا ہے تو فقروناداری عام ہو جاتی ہے۔ جب عہد شکنی ہوتی ہے تو کفار مسلسل قتل و غارت کر تے ہیں ۔ اس کو ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے یونس بن عبدالاعلی ٰسے اس نے بشر بن بکر سے اور ابو مہدی سعید بن سنان ضعیف ہے اہل علم کے نزدیک۔

ابْنِ عُمَرَ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← محمد بن علي بن عمر رواد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7369

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7370

7370 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن يحيى بن قيس الجزري نا حسين بن العلا عن سهل بن شعيب عن رجل من بني أزد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشهد الله على الوالي من بعدي لما رق على جماعة المسلمين و رحم صغيرهم و أجل كبيرهم و أعطى عمالهم لا يضربهم فيذلهم و لا يحمدهم فيقطع نسلهم و لا يغلق بابه دونهم فيأكل قويهم ضعيفهم و لا يجعل المال دولة بين الأغنياء منهم ألا هل بلغت اللهم أشهد

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن یحییٰ بن قیس جزری نے ان کو حسین بن علاء نے ان کو سہل بن شعیب نے ایک آدمی سے بنی از دمیں سے اس نے حضرت ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اپنے بعد والے والی وحکمران پر وہ مسلمانوں کی جماعت پر شفقت کرے۔اور ان کے چھوٹوں پر رحم کرے اور ان کے بڑوں کی تعظیم کرے اور ان سب کو ان کا جو واجب حق ہے وہ دے اور ان کو نہ مارے ( کہ ان کو ذلیل کرے ان کی تعریف نہ کرے۔) اور نہ ان کی نسل کشی کرے (یعنی ایسا ظلم نہ کرے ) عوام کے آگے اپنا دروازہ بند نہ رکھے۔ کہ ان کا طاقت ور ان کے کمزور کو کھا جائے ۔اور مال کو ایسا نہ کرے کہ وہ ان کے دولت مندوں کے درمیان گردش کرتا رہے۔ خبر دار میں نے پیغام پہنچا دیا ہے اے اللہ تو گواہ ہو جا۔

رجل من بني أزد ← سهل بن شعيب ← حسين بن العلا ← محمد بن يحيى بن قيس الجزري ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7370

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7371

7371 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم أنا أحمد بن حازم أنا يونس بن عبد الرحيم العسقلاني نا عبد الله بن وهب عن محمد بن أبي حميد عن محمد بن زيد بن المهاجر عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أفضل عباد الله عند الله منزلة يوم القيامة إمام عادل رفيق و إن شر الناس منزلة يوم القيامة إمام جائر خرق

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر نے بن جناح نے کونے میں ان کو ابوجعفر بن دحیم نے ان کواحمد بن حازم نے ان کو یونس بن عبداللہ عسقلانی نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو محمد بن ابوحمید نے ان کو محمد بن زید بن مہاجر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اللہ کے بندوں میں سے افضل عادل بادشاہ ہوگا جو عادل اور دوست ہوگا (لوگوں کا ) اور سب لوگوں میں سے بدترین انسان قیامت کے دن ظالم بادشاہ ہوگا پھاڑنے والا ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← محمد بن أبي حميد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7371

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7372

7372 - أخبرنا أبو محمد الحسين بن علي بن المؤمل أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا الفضل بن محمد البيهقي نا أبو بكر بن أبي شيبة أخبرني ابن أبي فديك عن موسى بن يعقوب الربعي عن عبد الأعلى بن موسى بن عبد الله قيس بن مخرمة : أن إسماعيل بن رافع مولى المزنيين أخبره أن زيد بن أسلم أخبره أن أباه أسلم أخبره أنه خرج مع عمر بن الخطاب حتى قدم على أبي عبيدة بن الجراح و هو بباب الجابية فقال أبو عبيدة : يا أسلم هل استعملك عمر من مواليه و أهله ؟ فقلت : لا قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تسبوا السلطان فإنهم ظل الله في أرضه

ہمیں خبر دی ابومحمد حسین بن علی بن مؤمل نے ان کو ابوعثمان عمر بن عبداللہ بصری نے ان کو فضل بن محمد بیہقی نے ان کو ابوبکر بن ابوشیبہ نے ان کو خبر دی ابن ابوفد یک نے ان کو موسی ٰبن یعقوب ربعی نے ان کو عبدالاعلی ٰبن موسیٰ بن عبد اللہ بن قیس بن مخرمہ نے ان کو اسماعیل بن رافع مولی ٰمزنی نے ان کوخبر دی کہ زید بن اسلم نے اس کو خبر دی ہے کہ وہ عمر بن خطاب کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ وہ دونوں ابوعبیدہ بن جراح کے پاس آئے وہ باب جابیہ میں تھے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے اسلم کیا آپ کو حضرت عمر نے عامل مقرر کیا تھا اپنے موالی میں سے اور اپنے اہل میں سے میں نے کہا کہ نہیں ۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ کہ بادشاہ کو گالی نہ دو بےشک وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا سایہ ہیں۔

عبد الأعلى بن موسى بن عبد الله قيس بن مخرمة ← موسى بن يعقوب الربعي ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الفضل بن محمد البيهقي ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسين بن علي بن المؤمل

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7372

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7373

7373 - أخبرنا علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكير نا مسلم بن سعيد الخولاني نا حميد بن مهران عن سعد بن أوس عن زياد بن كسيب : شهدت أبا بكرة يوم جمعة و ذلك قبل أن يبني المسجد و هو يومئذ قصب و على الناس عبد الله بن عامر فخرج على الناس و عليه قميص مرقق و بردان مرجل رأسه فقال أبو بكرة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : السلطان ظل الله في الأرض فمن أكرمه أكرمه الله و من أهانه أهانه الله

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکیر نے ان کو مسلم بن سعید خولانی نے ان کو حمید بن مہران نے ان کو سعد بن اوس نے ان کو ز یاد بن کسیب نے کہ میں جمعہ کے دن ابوبکرہ کے پاس حاضر ہوا یہ مسجد بننے سے پہلے کی بات ہے اس وقت وہ کانوں کی تھی اور لوگوں پر عبداللہ بن عامر مقرر تھے وہ لوگوں کے سامنے نکلے اور انہوں نے بار یک قمیص پہن رکھی تھی اور دو چادریں تھی سر میں کنگھی کی ہوئی تھی ابوبکر ہ نے کہا کہ میں نے رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ بادشاہ زمین پر اللہ کاسایہ ہے جو شخص اس کی عزت کرے گا اللہ تعالی ٰ اس کو عزت عطا کرے گا اور جوشخص اس کی بے عزتی کرے گا اللہ اس کی بے عزتی کرے گا۔

زياد بن كسيب شهدت أبا بكرة يوم جمعة و ذلك قبل ← سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ← مُسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الْخَوْلانِيُّ ← محمد بن أبي بكير ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7373

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7374

7374 - و أخبرنا أبو الحسن أنا الحسن نا يوسف نا محمد بن أبي بكير نا يزيد بن هارون أنا العوام بن حوشب حدثني القاسم بن عوف الشيباني عن رجل عن أبي ذر قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنه كائن بعدي سلطان فلا تذلوه فمن أراد أن يذله فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه و ليس بمقبول توبته حتى يسد الثلمة التي ثلم و يعود فيكون فيمن نصره أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا نغلب على ثلاث أنا نأمر بالمعروف و ننهى عن المنكر و نعلم الناس السنن

ہمیں خبر دی ابوالحسن نے ان کو حسن نے ان کو یوسف نے ان کو محمد بن ابوبکیر نے۔ ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابوالعوام بن حوشب نے ان کو قاسم بن عوف شیبانی نے ان کو ایک آدمی نے ابوذ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ میرے بعد ایک بادشاہ ہوگا تم اس کی تذلیل نہ کرنا جو شخص اس کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ شخص اپنی گردن سے اسلام کی رسی اتار پھینکے گا۔ اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس رخنے کو بند کر دے جو اس نے رخنہ کیا اور اس کی نصرت کرنی شروع کر دے۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم تین چیزوں سے عاجز نہ ہوں یہ کہ ہم امر بالمعروف کریں نہی عن المنکر کریں اور لوگوں کو سنتیں سکھائیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← رَجُلٌ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن أبي بكير ← يُوسُفُ، ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْحَسَنِ ← و،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7374

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7375

7375 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري ببغداد أنا إسماعيل الصفار نا عباس بن عبد الله الترفقي نا سعيد بن عبد الله الدمشقي نا الربيع بن صبيح عن الحسن عن أنس بن مالك : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا مررت ببلدة ليس فيها سلطان فلا تدخلها إنما السلطان ظل الله و رمحه في الأرض

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عباس بن عبد اللہ ترقفی نے ان کو سعید بن عبداللہ دمشقی نے ان کو ربیع بن صبیح نے ان کو حسن نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جب تم کسی ایسے شہر سے گذ رو جس میں بادشاہ ( حکمران ) نہ ہوتو اس میں مت داخل ہونا بے شک سلطان اللہ کا سایہ ہوتا ہے اور اس کا نیز ہ ہوتا ہے دھرتی پر ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← سعيد بن عبد الله الدمشقي ← عباس بن عبد الله الترفقي ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7375

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7376

7376 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن بالويه المزكي أنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي نا محمد بن يونس القرشي نا يعقوب بن إسحاق الحضرمي نا عقبة بن عبد الله الرفاعي نا قتادة عن أنس بن مالك قال : السلطان ظل الله في الأرض فمن غشه ضل و من نصحه اهتدى هكذا جاء مرفوعا على أنس و قد قيل عن قتادة

ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالرحمن ٰبن محمد بن احمد بن بالو یہ مز کی نے ان کو ابو بکر احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو یعقوب بن اسحاق حضری نے ان کو عقبہ بن عبداللہ رفاعی نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ بادشاہ( سلطان عادل ) زمین پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے جو شخص اس سے دھوکہ کرے گا گمراہ ہو جائے گا ۔ اور جو اس کی خیر خواہی کرے گا وہ ہدایت پا جائے گا ۔ اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے انس سے ۔اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف قادہ سے ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عقبة بن عبد الله الرفاعي ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← محمد بن يونس القرشي ← أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7376

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7377

7377 - كما أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا معاذ بن المثنى نا عبد الله بن مسلمة نا الأشعث بن نزار الجهني عن قتادة عن أبي شيخ الهنائي عن كعب الخير قال : سئل عن الحجر الأسود قال : حجر من أحجار الجنة و سئل و سئل عن السلطان فقال : ظل الله في الأرض فمن ناصحه فقد اهتدى و من غشه فقد ضل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو معاذ بن مثنی نے ان کو عبداللہ بن مسلمہ نے ان کو اشعث بن نزار جہنی نے ان کو قتادہ نے ان کو ابو شیخ ہنائی نے ان کو کعب الخیر نے وہ کہتے ہیں کہ ان سے حجر اسود کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ جنت کے پتھروں میں سے ایک پتھر ہے اور ان سے سلطان کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ زمین پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہے۔ جواس کی خیر خواہی کرے گا ہدایت پا جائے گا ۔ اور جو اس کی خیانت کرے یا دھوکہ کرے گا وہ بھٹک جائے گا ۔

السلطان ← حجر من أحجار الجنة و سئل و سئل ← الحجر الأسود ← سُئِلَ ← كعب الخير ← أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ← قَتَادَةَ ← الأشعث بن نزار الجهني ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← كَمَا

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7377

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7378

7378 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن يعقوب نا عبيد الله بن عبد الرحمن السكري نا أبو يعلى عن الأصمعي نا الفضل بن عبد الملك بن أبي سويه قال : قال الأحنف بن قيس لا ينبغي للعاقل أن ينزل بلدا ليس فيها خمس خصال سلطان قاهر و قاضي عدل و سوق قائمة و نهر جاري و طبيب عالم

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن ٰسلمی نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو عبید اللہ بن عبدالرحمن ٰنے سکری نے ان کو ابویعلی نے ان کو اصمعی نے ان کوفضل بن عبدالملک بن ابوسویہ نے وہ کہتے ہیں کہ احنف بن قیس نے کہا عقل مند کو چاہئے کہ وہ شہر میں نہ جائے جس میں پانچ صفات نہ ہوں۔ سلطان غالب۔اور قاضی عادل مستقل بازار ۔ بہتی نہر اور طبیب عالم ۔

الفضل بن عبد الملك بن أبي سويه ← الْأَصْمَعِيُّ ← أَبُو يَعْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّكَّرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7378

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7379

7379 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس الأصم نا العباس بن الوليد نا الأوزاعي قال : بلغني أن اليوم من إمام عادل مثل عمل المرء ستين عاما يصوم نهاره و يقوم ليله 7379 - مكرر ـ و أخبرناه أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن عبد الحميد الحارثي نا جعفر بن عون عن عفان بن جبير عن رجل عن عكرمة عن ابن عباس رفعه قال : يوم من إمام عادل أفضل من عبادة ستين سنة و إقامة حد في أرض أزكى لها أو أنفع لها من مطر أربعين صباحا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ عادل امام خلیفہ کا ایک دن ایک آدمی کی ساٹھ سال کی عبادت کے برابر ہے جن میں وہ دن میں روزے رکھے اور رات میں کھڑے ہوکر عبادت کرے۔ 379 اور ہمیں اس کی خبر دی ابوسعید بن ابوعمرو نے ان کو ابوالعباس اصم نے احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عفان بن جبیر نے ان کو ایک آدمی نے عکرمہ سے ان کو ابن عباس نے انہوں نے اس کو مرفوع کیا ہے فرمایا کہ امام عادل کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور اللہ کی زمین پر حد الہٰی قائم کرنا اس کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور زیادہ نافع ہے چالیس دن کی باران رحمت سے۔

بلغني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← العباس الأصم ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7379

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood