Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7476

7476 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا موسى بن إسماعيل بن إسحاق القاضي نا محمد بن أحمد بن البراء نا عبد المنعم بن إدريس نا عبد الصمد بن معقل عن وهب بن منبه عن ابن عباس قال : قال موسى عليه السلام يا رب أمهلت فرعون أربع مائة سنة و هو يقول أنا ربكم الأعلى و يكذب بآياتك و يجحد رسلك فأوحى الله عز و جل إليه إنه كان حسن الخلق سهل الحجاب فأحببت أن أكافئه

ہمیں خبردی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کومحمد بن احمد بن براء نے انکو عبد المنعم بن ادریس نے ان کو عبد الصمد بن معقل نے ان کو وہب بن منبہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ موسی ٰعلیہ السلام نے کہا اے میرے رب آپ نے فرعون کو چار سو سال مہلت دیئے رکھی حالانکہ وہ یہ کہتار ہا۔ انا ربکم الاعلی ٰ میں ہی تمہارا سب سے بلند اور عمد ہ رب ہوں ۔ اور وہ تیری آیات کی تکذیب کرتا رہا اور تیرے رسولوں کا انکار کرتا رہا۔ اللہ عز وجل نے موسی ٰعلیہ السلام کی طرف وحی کی فرعون کے اخلاق اچھے تھے سہل الحجاب تھا کہ سب ان کو آسانی سے مل سکتے تھے اس لئے میں نے یہ پسند کیا تھا کہ میں اس کو اس بات کا بدلہ دے دوں ۔

موسى يا رب أمهلت فرعون أربع مائة سنة و هو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7476

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7477

7477 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا هارون بن سليمان نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن أبي وائل ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى عن سفيان عن عاصم عن أبي وائل عن أبي الدرداء قال : إن أبغض الناس إلى أن أظلمه لرجل لا يجد أحدا يستعينه علي إلا الله عز و جل و في رواية منصور قال : قال أبو الدرداء إن أبغض الناس إلي أن أعلمه من لا يستغيث علي إلا الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبد الرحمن ٰبن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو ابو وائل نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم نے ان کو ابو وائل نے ان کو ابودرداء نے انہوں نے کہا کہ سب لوگوں سے مبغوض اور نا پسندیدہ میرے نزدیک یہ کہ میں اس کے ساتھ ظلم کروں البتہ وہ آدمی ہے جو نہ پائے کسی کو جس سے وہ مدد مانگ سکے اور ماسوا اللہ کے۔ اور منصور کی ایک روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ ابو درداء نے کہا بے شک سب لوگوں میں مبغوض اور ناپسندیدہ میرے نز دیک یہ کہ میں اس کو جان لوں وہ ہے جو جو نہ استغاثہ کرے اللہ کے علاوہ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن ← و، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7477

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7478

7478 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا حمزة بن محمد بن العباس نا العباس بن محمد نا عبيد الله أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : كاد الجعل أن يعذب في جحره بذنب ابن آدم ثم تلا هذه الآية : { ولو يؤاخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دابة }

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان نے ان کو حمزہ بن عباس نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو عبید اللہ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابواسحاق نے ان کو ابوالا حوض نے ان کو عبداللہ نے یہ کہ قریب ہے سیا ہ بھنورا کیڑا مکوڑا عذاب دیا جائے اپنے بل کے اندرابن آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کے بعد عبداللہ نے سی آیت پڑھی: ولو يؤخذ الله الناس بما كسبوا ماترك على ظهرها من دابة (فاطر – ۴۵) اگر اللہ تعالی ٰلوگوں کو پکڑ لیتا ان کے اعمال کے بسبب تو دھرتی پر کوئی چلنے پھرنے والا نہ چھوڑتا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7478

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7479

7479 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو الفضل بن عبدوس بن الحسين السمسار نا أبو حاتم الرازي نا نعيم بن حماد نا إسماعيل بن حكيم الخزاعي عن عمر بن جابر الحنفي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أنه سمع رجلا يقول إن الظالم لا يضر إلا نفسه فقال أبو هريرة : بلى و الله حتى الجبارين لتموت في وكرها هزلا لظلم الظالم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو ابوالفضل بن عبدوس بن حسین سمسار نے ان کو حاتم رازی نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو اسماعیل بن حکیم خزاعی نے ان کو عمر بن جابر حنفی نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے ایک آدمی سے سناوہ یہ کہتا تھا کہ بے شک ظالم نہیں نقصان دیتا مگر اپنے آپ کو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں اللہ کی قسم حتی کہ فاختائیں بھی اپنے آشیانے میں کمزور ہو کر ظالم سے ظلم کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔

إن الظالم لا يضر إلا نفسه ← رَجُلًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَكِيمٍ الْخُزَاعِيُّ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو الفضل بن عبدوس بن الحسين السمسار ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7479

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7480

7480 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا محمد بن يونس نا عبد الله بن داود نا الأعمش عن مجاهد قال : مر نوح عليه السلام بالأسد فضربه برجله فخمشه الأسد فبات ساهرا فشكا نوح ذلك إلى الله عز و جل فأوحى الله إليه أني لا أحب الظلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عبد اللہ بن داؤد نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام ایک شیر کے پاس سے گذرے اور اس کو اپنے پیر سے ٹھوکر ماری جس کے نتیجے میں شیر نے ان کی ناک کی ہڈی توڑی انہوں نے رات بھر بے آرامی سے جاگ کر گزاری پھر نوح علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں شکایت کی تو اللہ تعالی ٰنے ان کی طرف وحی بھیجی کہ بے شک میں ظلم کو پسند نہیں کرتا۔

مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7480

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7481

7481 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا سعيد بن أسد و أبو عمير و محمد بن عبد العزيز الرملي قالوا نا حمزة عن علي بن أبي حملة قال : سمعت مسلم بن يسار و سمع يدعو رجل على رجل ظلمه : فقال له مسلم كل الظالم إلى ظلمه فإنه أسرع إليه من دعائك عليه إلا أن يتداركه بعمل و قمن أن لا يفعل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے اور ابوعمر اور محمد بن عبدالعزیز رملی تے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی حمزہ نے ان کو علی بن ابوحملہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مسلم بن یسار سے اور اس نے سنا کہ ایک دوسرے کے خلاف بد دعا کر رہا تھا جو اس پر ظلم کرتا تھا۔ مسلم نے اس سے کہا کہ ہر ظالم اپنے ظلم کی طرف رجوع کرتا ہے اگر اس کے خلاف تیری دعا نے اس پر جلدی کر لی ۔ وگرنہ تو پالے گی اس کو کسی عمل میں وہ اسی لائق ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔

يدعو رجل على رجل ظلمه ← مسلم بن يسار و ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمَلَةَ، ← حَمْزَةَ، ← سعيد بن أسد و أبو عمير و محمد بن عبد العزيز الرملي ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7481

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7482

7482 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا أبو نعيم نا الرصافي قال : ذكر رجل من بني مروان عند أبي جعفر و أنا عنده فقال : كف عنهم فو الله لأعمالهم لتسرع فيهم من السيوف المشهرة عليهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو ابونعیم نے ان کو رصافی نے وہ کہتے ہیں کہ ابو جعفر کے سامنے بنومروان کے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا اور میں وہاں پر موجودتھا۔ انہوں نے کہا کہ رک جا ان سے (یعنی ان کا ذکر نہ کر) پر قسم ہے اللہ کی البتہ ان کے اعمال البتہ بڑی تیزی سے ان میں اثر کریں گے ان پر سونتی ہوئی اور ننگی تلواروں سے زیادہ تیزی سے ) ۔

عِنْدَهُ ← رجل من بني مروان عند أبي جعفر و ← الرصافي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7482

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7483

7483 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى بن إبراهيم نا جعفر بن محمويه الفارسي نا محمد بن المثنى نا يزيد بن إسماعيل نا سفيان عن الأعمش عن المنهال عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن ابن عباس قال : أوحى الله عز و جل إلى داود يا داود قل للظلمة لا تذكروني فإن حقا علي أن من ذكرني أذكره و إن ذكري إياهم أن ألعنهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعلی بن عیسی ٰبن ابراہیم نے ان کو جعفر بن محمو یہ فارسی نے ان کومحمد بن مثنٰی نے ان کو یزید بن اسماعیل نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو منہال نے ان کو عبداللہ بن حارث بن نوفل نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی اے داؤد! تم ظالموں سے کہہ دو کہ وہ مجھے یاد نہ کریں کیونکہ مجھ پر حق ہے کہ جو مجھ کو یاد کرے میں بھی اس کو یاد کروں ۔اور ظالموں کو میرا یاد کرنا یہ ہے کہ میں ان کو لعنت کروں گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← الْمِنْهَالُ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يزيد بن إسماعيل ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← جعفر بن محمويه الفارسي ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7483

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7484

7484 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا محمد بن ( ) نا علي بن عاصم عن أبي هارون العبدي سمعت أبا سعيد الخدري يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من عبد يظلم رجلا مظلمة في الدنيا لا يقصه من نفسه إلى اقصه الله منه يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو محمد بن احمد بن دلویہ دقاق نے ان کو محمد بن (کلمتہ غیر مقر وہ ) ان کو علی بن عاصم نے ان کوابو ہارون عبدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسعید خدری سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوبھی بندہ جس کسی پر ظلم کرتا ہے دنیا میں وہ بدلہ نہیں لیتا از خود اس سے مگر اللہ تعالی ٰ قیامت میں اس کو بدلہ دلوائے گا ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بن ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلُّويَهِ الدَّقَّاقُ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7484

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7485

7485 - أخبرنا أبو الحسين علي بن أحمد الحمامي ببغداد أنا إسماعيل بن علي الخطي نا محمد بن نصر الصائغ نا إبراهيم بن حمزة نا عبد العزيز بن محمد بن عبد الله بن عمر عن ابن شهاب قال : كتب عمر بن عبد العزيز إلى بعض عماله أما بعد فاتق الله فيمن وليت أمره و لا تأمن من مكره في تأخير عقوبته فإنما يعجل العقوبة من يخاف الفوت

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن احمد الحمامی نے بغداد میں ان کو اساعیل بن علی خطی نے ان کو محمد بن نصر صائغ نے ان کو ابراہیم بن حمزہ نے ان کو عبدالعزیز بن محمد بن عبد اللہ بن عمر نے ان کو ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بعض عاملوں کو لکھا۔ اما بعد ۔ اللہ سے ڈریں ان لوگوں کے معاملے میں جن کے آپ ذمہ دار بنائے گئے ہیں اور زبردستی کرنے والی ذات ہے ۔ اس کی طرف سے سزا کی تاخیر کی وجہ سے بے خوف نہ ہوں سزا میں جلد بازی وہی کرتا ہے جس کو سزا کے رہ جانے کا ڈر ہو۔ (چونکہ یہ اللہ کے ہاں نہیں ہے )۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عبد العزيز بن محمد بن عبد الله بن عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ ← إسماعيل بن علي الخطي ← أبو الحسين علي بن أحمد الحمامي ببغداد

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7485

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7486

7486 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري نا أبو حاتم الرازي نا أبو النضر الدمشقي نا إسماعيل بن عياش نا عبد الرحمن بن الحارث حدثني محمد بن واسع : أنه كتب إلى رجل من إخوانه من محمد بن واسع إلى فلان بن فلان سلام عليك أما بعد فإن استطعت أن تبيت حين تبيت و أنت نقي الكف من الدم الحرام خميص البطن من الطعام الحرام خفيف الظهر من المال الحرام فافعل فإن فعلت فلا سبيل عليك { إنما السبيل على الذين يظلمون الناس و يبغون في الأرض بغير الحق } و السلام عليك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر اسماعیل بن محمد فقیہ نے مقام رائے میں ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو ابونضر دمشقی نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عبدالرحمن ٰبن حارث نے ان کو محمد بن واسع نے یہ کہ انہوں نے اپنے بھائیوں میں سے ایک آدمی کی طرف خط لکھا کہ محمد بن واسع کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف خط ہے ۔السلام علیکم اما بعد ۔ اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں کہ آپ رات اس طرح گذاریں ( جب رات گذاریں ) کہ آپ کے ہاتھ صاف ہوں حرام خون سے رنگے ہوئے نہ ہوں، حرام کھانے سے آپ کا پیٹ خالی ہو، مال حرام سے آپ کی کمر ہلکی پھلکی ہو، تو ضرور ایسا کیجئے ،اگر آپ ایسانہ کریں تو تیرے خلاف کوئی راستہ نہیں ہے ۔( کوئی سبیل نہیں ہے۔) انما السبيل على الذين يظلمون الناس ويبغون في الأرض بغير الحق .والسلام علیک۔ سوائے اس کے نہیں کہ ( مواخذے اور پکڑ کی ) راہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کر تے ہیں اور زمین پر فساد کر تے ناحق ۔ والسلام علیکم۔

محمد بن واسع أنه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو النَّضْرِ الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7486

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7487

7487 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو منصور محمد بن عبد الله الفقيه الزاهد نا أبو عمرو أحمد بن محمد النحوي بإسناد له : أن يحيى بن خالد البرمكي لما حبس كتب من الحبس إلى الرشيد إن كل يوم يمضي من يومي يمضي من نعمتك مثله و الموعد المحشر و الحكم الديان و قد كتبت إليك بأبيات كتب بها أمير المؤمنين علي بن أبي طالب إلى معاوية بن أبي سفيان : ( أما و الله إن الظلم شؤم و ما زال المسيء هو الظلوم ) ( إلى ديان يوم الدين نمضي و عند الله تجتمع الخصوم ) ( تنام و لم تنم عنك المنايا تنبه للمنية يا نؤوم ) ( لأمر ما تصرمت الليالي لأمر ما تحرمت النجوم )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومنصور محمد بن عبد اللہ فقیہ زہد نے ان کو ابوعمرو احمد بن محمد نحوی نے اپنی سند سے کہ یحییٰ بن خالد برمکی جب قید کر دیا گیا تو اس نے قید سے خلیفہ ہارون رشید کو خط لکھا بے شک میرا ہر دن آپ کے دنوں کی طرح گذر رہا ہے تیرے احسان کے ساتھ تمہارا میرا وعد ہ میدان محشر کا ہے،اور فیصلہ کرنے والا رب ہے جو بہت عناتیں کرنے والا ہے میں آپ کی طرف چند وہ اشعار لکھ رہاہوں جو امیر المؤمنین علی بن ابوطالب نے معاویہ بن ابوسفیان کے پاس لکھے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اشعار : امـــا والله ان الـظـلـم شـوم وامـا زال الـمـسـنـى هـو الـظـلـوم الـى ديــــــان يـوم الـديـن غـضـى وعـنـد الـلـه تـجـتـمـع الـخـصـوم تـنـام ولـم تـنـم عـنـك الـمـنـايـا ه تنبہ لـمـية يـــــانــم تصـرجـت الـلـيـالـي لامـر مـاتـجـرمـت الـنـجـوم خبر داراللہ کی قسم بے شک ظلم نحوست ہے۔ اور دوسروں کے ساتھ برائی کرنے والا ہی ہمیشہ ظالم ہوتا ہے ہم اور تم قیامت کے دن بہت عطا کرنے والے رب کی بارگاہ پیش ہونے کے لئے چل رہے ہیں ۔سارے جھگڑ نے والے اللہ ہی کی بارگاہ میں اکٹھے ہوں گے ۔ تم غافل سو رہے ہو مگر موت تو غافل ہو کر تم سے نہیں سو رہی اے غفلت کے نیند سونے والے موت سے آگاہ رہ۔ آ گاہ ر ہ ایسے امر کے لئے جس کو راتیں گذر گذرکر ختم نہیں کر سکیں گی ایسا امر جس کو ستارے طلوع و غروب ہو کر ٹال نہیں سکیں گے یعنی حساب و کتاب ۔

أبو منصور محمد بن عبد الله الفقيه الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7487

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood