Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في نصيحة الولاة و وعظهم · حديث 7452

7452 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا حسام بن الصديق نا الحسين بن حفص نا سفيان عن ثور عن راشد بن سعد قال : كان أبو الدرداء يقول : كلمة نفع الله بها معاوية سمعها من رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تتبع عورات الناس يفسد الناس أو كاد أني يفسد الناس قال أحمد : و قد ذكرنا في باب مكارم الأخلاق في عفو الكرام و كظمهم الغيظ أخبارا كثيرة و حكايات جمة تليق عنده الحكاية فليرجع إليها من أرادها و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو حسام بن صدیق نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے انہوں نے ثور سے اس نے راشد بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ ابو دردا رضی اللہ عنہ کہتے تھے ۔ایک کلمہ ہے اللہ اس کے ذریعہ معاویہ کو فائدہ دے گا جس کو رسول اللہ سے سنا گیا تھا۔ جو شخص لوگوں کی کمزور یاں تلاش کرے وہ لوگوں میں فساد ڈال دیتا ہے یا قریب ہے کہ لوگوں کو خراب کر دے۔ امام احمد نے کہا تحقیق ہم نے باب مکارم اخلاق میں ذکر کیا شرفاء کا معاف کرنا ان کا غصہ کو چھپانا اور دبانا ہے اور اس بارے میں کثیر اخبار اور حکایات عظیم جو نقل کرنے کے قابل ہیں ان کے نزدیک جو شخص ان کو چاہئے وہیں سے رجوع کرے ۔

كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ثَوْرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← حُسَامُ بْنُ الصِّدِّيقِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on the advice and preaching of the governors · Hadith 7452

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في كراهية طلب الإمارة لمن كان ضعيفا يخاف أن لا يؤدي فيها الأمانة · حديث 7453

7453 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان نا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد : ـ

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان بغدادی نے بغداد میں ان کو خبر دی عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابوعبد الرحمن ٰبن عبداللہ یزید نے ۔

أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on hating the emirate’s request for one who was weak and feared that he would not pay the trust in it · Hadith 7453

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في كراهية طلب الإمارة لمن كان ضعيفا يخاف أن لا يؤدي فيها الأمانة · حديث 7454

7454 - و أنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن منقذ الخولاني بمصر نا عبد الله بن يزيد المقري نا سعيد بن أبي أيوب عن عبيد الله بن أبي جعفر القرشي عن سالم بن أبي سالم الجيشاني عن أبيه عن أبي ذر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أبا ذر إني أراك ضعيفا و إني أحب لك ما أحب لنفسي لا تأمرن على اثنين و لا تولين مال يتيم و في رواية البغدادي عن أبي ذر أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و إسحاق بن إبراهيم عن عبد الله بن يزيد المقرئ

اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن منقذ خولانی نے مصر میں ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو سعید بن ابوایوب نے ان کو عبید اللہ بن ابو جعفر قرشی نے سالم بن ابو سالم جیشانی سے اس نے اپنے والد سے اس نے حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں تجھے کمزور سمجھتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے کرتا ہوں تم صرف دو بندوں پر بھی امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کا ولی اور سرپرست بھی نہ بننا۔ اور بغدادی کی ایک روایت میں حضرت ابوذ ر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زبیر بن حرب سے اور اسحق بن ابراہیم سے اس نے عبداللہ بن یزید مقری رضی اللہ عنہ سے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← إبراهيمُ بنُ منقذٍ الخولانيُّ بمصرَ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on hating the emirate’s request for one who was weak and feared that he would not pay the trust in it · Hadith 7454

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في كراهية طلب الإمارة لمن كان ضعيفا يخاف أن لا يؤدي فيها الأمانة · حديث 7455

7455 - و روينا عن ابن حجيرة الأكبر عن أبي ذر قال : قلت يا رسول الله استعملني قال : فضرب بيده على منكبي ثم قال : يا أبا ذر إنك ضعيف فيها و روينا سائر ما ورد في هذا الباب في كتاب أدب القاضي من كتاب السنن

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے ابن حجیر ہ الا کبر سے اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کہیں عامل مقرر کر دیجئے۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے کندے پر مارا اور فرمایا: اے ابوذر تم کمزور ہو ۔ اور یہ چیز امانت ہوتی ہے اور بے شک یہ چیز قیامت میں رسوائی ہوگی اور ندامت و شرمندگی ہوگی مگر جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے اور اس کے حق کو ادا کرے جو اس پر ہے ۔اس باب میں جتنی روایات آئی ہیں ہم نے ان کو کتاب ادب القاضی کتاب السنن میں روایت کیا ہے جو شخص دیکھنا چاہے وہ وہاں رجوع کرے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَکْبَرِ ← و روينا

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › A chapter on hating the emirate’s request for one who was weak and feared that he would not pay the trust in it · Hadith 7455

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7456

7456 - أخبرنا أبو علي الروذباري في الفوائد أنا أبو بكر محمد بن بكر بن محمد بن عبد الرزاق بالبصرة نا أبو داود نا أحمد بن يونس نا عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون أنا عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الظلم ظلمات يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے الفوائد میں ان کو ابو بکر محمد بن بکر بن محمد بن عبدالرزاق نے بصرہ میں ان کو ابوداؤد نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عبد العزیز بن ابوسلمہ ماجشون نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔الظلم ظلمات يوم القيامة ’’ ظلم کے قیامت کے دن کئی اندھیرے ہوں گے ۔ ‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكر محمد بن بكر بن محمد بن عبد الرزاق بالبصرة ← أبو علي الروذباري في الفوائد

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7456

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7457

7457 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي ببغداد نا محمد بن عبد الله الشافعي نا عمر بن حفص نا عاصم بن علي نا عبد العزيز الماجشون : فذكره بإسناده رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس و أخرجه مسلم من حديث شبابة عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرقی نے بغداد میں ان کو محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو عمر بن جفص نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو عبدالعزیز ماجشون نے اس نے اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے اسی سند کے ساتھ اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں احمد بن یونس سے ۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث شبابہ سے عبدالعزیز کے واسطے سے ۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أحمد بن يونس و أخرجه مسلم من حديث شبابة ← عبد العزيز الماجشون فذكره بإسناده رواه البخاري في الصحيح ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أبو القاسم الخرقي ببغداد

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7457

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7458

7458 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان و أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو محمد السكري قالوا أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا الحسين بن عرفة نا عمر بن عبد الرحمن أبو حفص الأبار عن محمد بن جحادة عن بكر بن عبد الله المزني عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة و إياكم و الفحش فإن الله لا يحب الفحش و لا التفحش و إياكم و الشح فإنما أهلك من كان قبلك الشح أمرهم بالكذب فكذبوا و أمرهم بالظلم فظلموا و أمرهم بالقطيعة قال : فقام رجل فقال : يا رسول الله أي الإسلام أفضل قال : أن يسلم المسلمون من لسانك و يدك قال : فأي الجهاد أفضل ؟ قال : إن يهراق دمك و يعقر جوادك قال : فأي الهجرة أفضل ؟ قال : تهجر ما كره ربك و هما هجرتان هجرة للبادي و هجرة للحاضر فأما هجرة البادي فإذا دعي أجاب و إذا أمر أطاع و أما هجرة الحاضر فأشدهما بلية و أعظمها أجرا

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے اور ابوعبداللہ حسین بن عمر بن بر ہان نے اور ابوالحسین بن فضل قطان نے اور ابومحمد سکری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ سے ان کو عمر بن عبدالرحمن ٰ ابوحفص ابار نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم اپنے آپ کو ظلم سے بے شک ظلم کے قیامت کے دن کئی کئی اندھیرے ہوں گے (یا ایک ظلم کئی کئی ظلم ہوں گے ) اور بچاؤ تم اپنے آپ کو برائی سے بے شک اللہ تعالی ٰپسند نہیں کرتا برائی اور نہ ہی بےحیائی کو بیہودہ گوئی کو ۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو بخل و حرص سے یقینی بات ہے کہ پہلے لوگوں کو حرص و بخل نے ہلاک کیا تھا۔ ہجرت حرص نے ان کو جھوٹ بولنے کا حکم دیا تو انہوں نے جھوٹ بولا اس نے ان کو ظلم کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے ظلم کیا اور اس نے ان کو قطع رحمی کرنے کا حکم دیا (راوی) کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یارسول اللہ کونسا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ مسلمان تیری زبان سے اور تیرے ہاتھ سے سلامت رہیں ۔ اس نے پوچھا کہ کونسی جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تیرا خون بہا دیا جائے اور تیرے عمد ہ گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں ۔ اس نے پوچھا کہ ہجرت کون سی افضل ہے؟ انہوں نے کہا کہ جس چیز کو تیرا رب پسند کرے۔اس کو چھوڑ دے اور وہ دوطرح کی ہجرتیں ہوتی ہیں ایک ہجرت دیہاتی کی۔ایک شہری کی دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ جب بلایا جائے تو آ جائے ۔ اور جب حکم دیا جائے تو اطاعت کرے اور ( حاضر شہری ) کی ہجرت دونوں میں سے زیادہ سخت ہے آزمائش کے اعتبار سے اور دونوں میں بڑی ہے اجرو ثواب کے اعتبار سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← الحسين بن عرفة ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7458

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7459

7459 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا مالك بن يحيى نا علي بن عاصم عن عطاء بن السائب ح و أخبرنا أبو أحمد الحسين بن علوسا الأسد أبادي بها نا أبو محمد عبد الله بن إبراهيم بن ماسي البزار نا القاضي أبو محمد يوسف بن يعقوب الأزدي نا عمر بن مرزوق أنا زايدة عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : أيها الناس اتقوا الظلم فإنه ظلمات يوم القيامة لفظ حديث زائدة و في رواية علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم و الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة قال : و حدثني محمد بن محارب بن دثار قال : فقيل له من أظلم الناس ؟ قال : من ظلم لغيرة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین مصری نے ان کو مالک بن یحییٰ نے ان کوعلی بن عاصم نے انہوں نے عطاء بن سائب سے ”ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابواحمد حسین بن علوسا اسد آبادی نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن ابراہیم بن ماسی بزار نے ان کو قاضی ابومحمد یوسف بن یعقوب ازدی نے ان کو عمر بن مرزوق نے ان کو زائدہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو محارب بن دثار نے ان کو ابن عمر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا:يايها الناس اتقوا الظلم فانه ظلمات يوم القيامة! اے لو گو !ظلم کرنے سے بچو بے شک وہ قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے ۔ یہ زائدہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔ اور علی کی روایت میں سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اياكم والظلم فان الظلم ظلمات يوم القيمة بچو تم ظلم کرنے سے بے شک ایک ظلم قیامت کے دن کئی اندھیرے ہوں گے ۔ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن محارب بن دثار نے ۔ ان سے کہا گیا ۔ من الظلم الناس کہ لوگوں میں سب سے بڑا ظالم کون ہے؟ کہا کہ من ظلم لغیرہ جو دوسرے پرظلم کرے۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَائِدَۃَ، ← عُمَرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← القاضي أبو محمد يوسف بن يعقوب الأزدي ← أبو محمد عبد الله بن إبراهيم بن ماسي البزار ← أبو أحمد الحسين بن علوسا الأسد أبادي بها ← و، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← مالك بن يحيى ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7459

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7460

7460 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو محمد عبد الله بن محمد الرازي أنا محمد بن يحيى نا عاصم بن علي نا أبو شهاب نا الأعمش عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للمالك من المملوك و ويل للمملوك من المالك و يل للغني من الفقير ويل للفقير من الغني ويل للشديد من الضعيف ويل للضعيف من القوي

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد رازی نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو ابو شہاب نے ان کو اعمش نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاکت ہے آقا کے لئے غلام سے ۔ اور ہلاکت ہے غلام کے لئے آقا سے اور ہلاکت ہے دولت مند کے لئے محتاج سے اور ہلاکت ہے محتاج کے لئے دولت مند سے اور ہلاکت ہے طاقتور کے لئے کمزور سے اور ہلاکت ہے کمزور کے لئے طاقتور سے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو محمد عبد الله بن محمد الرازي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7460

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7461

7461 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي نا هاشم بن القصار نا أبو صالح كاتب الليث حدثني الليث حدثني محمد بن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول على المنبر : أحرم عليكم مال الضعيفين اليتيم و المرأة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بن عبد اللہ بغدادی نے ان کو ہاشم بن قصار نے ان کو ابو صالح نے کاتب لیث نے ان کولیث نے ان کو محمد بن عجلان نے انہوں نے سعید بن ابوسعید مقبری سے ان کو ابوہریرہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ منبر پر فرما رہے تھے ۔ احرم عليكم مال الضعيفين اليتم والمرة میں تم لوگوں پر دو کمزوروں کے مال کو حرام کرتا ہوں ایک ان میں سے یتیم ہے دوسری عورت ہے ۔

على المنبر أحرم عليكم مال الضعيفين اليتيم و المرأة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، كَاتِبُ اللَّيْثِ، ← هاشم بن القصار ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7461

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7462

7462 - أخبرنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي أنا أبو عبد الله محمد بن موسى بن كعب نا محمد بن سليمان الباغندي نا أبو عاصم عن الحجاج الصواف عن يحيى بن أبي كثير عن أبي جعفر محمد بن علي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث دعوات مستجابة دعوة الوالد على ولده و دعوة المظلوم و دعوة المسافر

ہمیں خبر دی ابونصر محمد بن علی بن محمد فقیہ شیرازی نے ان کو عبداللہ محمد بن موسی ٰرضی اللہ عنہ بن کعب نے ان کو محمد بن سلیمان باغندی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو حجاج صواف نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثلاث دعوات مستجابات دعوة الوالد على ولده ودعوة المظلوم ودعوت المسافر تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں والد کی دعا اپنے بیٹے کے خلاف اور مظلوم کی دعا مظالم کے خلاف اور مسافر کی دعا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← أَبُو عَاصِمٍ ← محمد بن سليمان الباغندي، ← أبو عبد الله محمد بن موسى بن كعب ← أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7462

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7463

7463 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن نجيد السلمي نا أبو مسلم نا أبو عاصم : فذكره بإسناده غير أنه قال : ثلاث دعوات مستجابات دعوة الصائم و دعوة المسافر ودعوة المظلوم

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مجید سلمی نے ان کو ابو مسلم نے ان کو ابو عاصم نے اس نے اس کو ذکر کیا اپنی سند کے ساتھ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے تین دعائیں قبول ہوئی ہیں ۔روزہ دار کی دعا۔ مسافر کی دعا۔ اور مظلوم کی دعا۔

ثلاث دعوات مستجابات دعوة الصائم و دعوة المسافر ودعوة المظلوم ← أبو عاصم فذكره بإسناده غير أنه ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أبو عمرو بن نجيد السلمي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7463

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood