Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7344

7344 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا حجاج بن محمد ح قال : و أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن إسحاق نا هارون بن عبد الله نا حجاج بن محمد قال : قال : ابن جريج : ـ { يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم } في عبد الله بن حذافة بن قيس بن عدي السهمي بعثه رسول الله صلى الله عليه و سلم في سرية أخبرنيه يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رواه مسلم عن هارون بن عبد الله رواه البخاري عن صدقة بن الفضل عن حجاج

7344-ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے آخرین میں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو حجاج بن محمد نے ’’ ح ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن اسحاق نے ان کو ہارون بن عبداللہ نے ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن جریج نے کہ یہ آیت ۔ ياايها الذين أمنوا أطيعو الله واطيعوا الرسول و اولی الامر منكم۔ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک سریہ میں (جہادی لشکر میں ) بھیجا تھا۔ مجھے اس کی خبر دی ہے یعلی بن مسلم نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ہارون بن عبد اللہ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صدقہ بن فضل سے اس نے حجاج سے ۔

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7344

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7345

7345 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه و أنا أبو طاهر الفقيه قال : نا أبو بكر القطان قالا : نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق نا معمر عن همام بن منبه هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاعني فقد أطاع الله و من يعصني فقد عصى الله و من يطع الأمير فقد أطاعني و من يعص الأمير فقد عصاني رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو عبید اللہ بن ابراہیم بن بالو یہ نے ان کو ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابوبکر قطان نے ۔ دونوں نے کہا ہمیں خبر دی احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہمیں ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من اطاعني فقد اطاع الله ومن يعصى فقد عصى الله ومن يطع الامير فقد اطاعتي و من بعض الامير فقد عصانی۔ جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو شخص امیر کی بات مانے گا اس نے میری بات مانی اور جو شخص امیر کی نافرمانی کرے گا اس نے میری نافرمانی کی۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے ۔

و، ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← همام بن منبه هذا ما ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه و ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7345

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7346

7346 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا يحيى بن سعيد عن شعبة حدثني أبو التياح عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اسمعوا و أطيعوا و إن استعمل عليكم حبشي كأن رأسه زبيبة رواه البخاري عن مسدد و بندار عن يحيى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد حنبل نے ان کوان کے والد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوالتیاح نے ان کو انس رضی اللہ عنہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسمعوا واطيعوا وان استعمل عليكم حبشي كان رأسه زبيبة۔ تم لوگ سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہارے اوپر کوئی سیا ہ حبشی مقرر کیا جائے گویا اس کا سر انگور ہے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسدد سے اور بندار نے یحییٰ سے ۔

أَنَسٍ، ← أَبُو التَّيَّاحِ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7346

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7347

7347 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري نا محمد بن إسماعيل نا شبابة نا شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : أوصاني النبي صلى الله عليه و سلم بثلاث أن أسمع و أطيع و لو لعبد مجدع الأطراف و إذا صنعت مرقة أن أكثر ماءها ثم أنظرا إلى أهل بيت قريب من جيراني فأصبهم من بمعروف أخرجه مسلم من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو بن بختری نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو شبابہ نے ان کو شعبہ نے عمران جونی سے ان کو عبد اللہ بن صامت نے انہوں نے ابوذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی یہ کہ میں سنوں اور اطاعت کروں اگرچہ ایسے غلام کی اطاعت کرنی پڑے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں ۔اور جب میں سالن کا شور بناؤں تو اس کا پانی زیادہ کر دوں پھر میں اپنے پڑوس میں اپنے قریب تر گھرانے کو دیکھوں پھر اس میں سے میں ان کو دستور کے مطابق سالن پہنچا دوں ۔اس کو مسلم نے حدیث شعبہ سے نقل کیا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7347

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7348

7348 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن إسماعيل السلمي نا أبو صالح نا معاوية بن صالح عن أبي يحيى سليم بن عامر أنه سمع أبا أمامة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في حجة الوداع و هو على الجدعاء و قد جعل رجليه في غرزي الركاب يتطاول ليسمع الناس فقال : ألا تسمعون يطول في صوته قال : فقال قائل : من طوائف الناس فما عهد إلينا ؟ قال : أعبدوا ربكم و صلوا خمسكم و صوموا شهركم و أدوا زكاة أموالكم و أطيعوا ذا أمركم تدخلون جنة ربكم قال أبو يحيى : قلت : فقلت : يا أبا أمامة مثل من أنت يومئذ ؟ قال : أنا يومئذ ابن ثلاثين سنة أزاحم البعير حتى أزحزحه قدما إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الإمام أحمد : و الأصل في هذا الباب أن طاعة الله تعالى لما كانت واجبة كانت طاعة من تملكهم شيئا من أمور عبادة واجبة و هم الرسل صلوات الله عليهم فإذا وجبت طاعة الرسول لهذا المعنى وجبت طاعة من يملكه الرسول شيئا مما ملكه الله تعالى فبأي اسم دعي فقيل له خليفة أو أمير أو قاضي أو مصدق أو من كان و أي واحد من هؤلاء وجبت طاعته كان عامله أو من يملكه شيئا مما يملكه لقيام كل واحد من هؤلاء فيما صار إليه من الأمة منزلة الذي فوقه إلى أن ينتهي الأمر إلى من له الخلق و الأمر و ليس فوقه أحد و هو الله رب العالمين و هذه في حياة الرسول صلى الله عليه و سلم فأما إذا توفاه الله إلى كرامة غير نص على إمامة أحد من بعده وجب على أهل النظر من أمته أن يتحروا إماما يقوم فيهم مقامه و يمضي فهم أحكامه لأن منزلتهم جيمعا إذا مات عن غير خليفة له فيهم كمنزلة من ناب عنه في حياته فلما كانت سنته في أهل البلاد القاصية أيام حياته أن يؤمر عليهم أميرا أو ينفذ إليهم قاضيا فإن لم يفعل أمروا عليهم أميرا دل ذلك على أن حق الجماعة بعد وفاته لا عن أحد استخلفه عليهم على أن يكون لهم فيما بينهم من يقوم مقامه و ينفذ أحكامه و بسط الكلام فيه أول السطر و استدل غيره من أصحابنا في وجوب نصب الإمام شرعا بإجماع الصحابة بعد وفاة الرسول صلى الله عليه و سلم على نصب الإمام

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر الرزاز نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو ابو یحیٰی سلیم بن عامر نے کہ انہوں نے سنا ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ حجۃ الوداع میں فرما رہے تھے جب کہ حضور اپنی جدعاء اونٹنی پر سوار تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر مبارک چمڑے کی رکاب میں یعنی رکا کی پٹیوں میں رکھ لئے تھے اور یوں پیر سے رکھ کر حضور اونچے ہو جاتے تھے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اپنی آواز سنواسکیں اسی دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار! کیا تم لوگ سن نہیں رہے آپ نے خوب زور دار آواز میں یہ جملہ کہا۔ ابو مامہ کہتے ؟ ہیں کہ کسی کہنے والے نے لوگوں کے گروہوں میں جواب میں کہا حضور آپ ہم سے کیا عہدو پیمان کرنا چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے رب کی عبادت کرتے رہنا۔ اور اپنی پانچ نمازیں پابندی سے پڑھتے رہنا اپنے روزوں کے مہینے کے روزے رکھتے رہنا۔ اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرتے رہنا اپنے حکمران کی اطاعت کرتے رہنا ۔ تم لوگ اپنے رب کی جنت میں داخل کر دیئے جاؤ گے۔ ابو یحییٰ نے کہا کہ میں نے کہا تھا ابوامامہ تم نے جب یہ حدیث سنی تھی تو کس کے برابر تھے ( کتنے بڑے تھے ) ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تیس سال کا تھا میں اونٹ کو آگے دبا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لے آتا تھا۔ ( تا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری سن سکوں ۔ )

أَبِي يَحْيَى سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7348

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7349

7349 - و قد ذكرنا الأخبار في ذلك في كتاب الفضائل وروينا عن ابن عمر قال : قيل لعمر رضي الله عنه ألا تستخلف ؟ قال : إن أترك فقد ترك من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه و سلم و إن استخلف فقد استخلف من هو خير مني أبو بكر

تحقیق ہم نے اس بارے میں کتاب الفضائل میں کئی احادیث ذکر کی ہیں اور ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر سے حدیث روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ مقر ر نہیں کریں گے؟ (یعنی اپنا نائب بنائیں گے ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر میں ایسا نہ کر جاؤں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے اس لئے اس ہستی نے مقرر نہیں کیا تھا جو ہستی مجھ سے بہتر تھی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اگر میں کسی کو خلیفہ و نائب مقرر کر جاؤں تو یہ بھی اچھی بات ہے کیونکہ اس ہستی نے اپنا نائب وخلیفہ مقر رکیا تھا جو مجھ سے بہتر تھی یعنی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۔

قيل لعمر ألا تستخلف ← ابْنِ عُمَرَ ← و قد ذكرنا الأخبار في ذلك في كتاب الفضائل وروينا

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7349

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في طاعة أولي الأمر · حديث 7350

7350 - و روينا عن شقيق بن سلمة قال : قيل لعلي رضي الله عنه استخلف علينا فقال : ما استخلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فأستخلف و لكن إن يرد الله بالناس خيرا جمعهم على خيرهم كما جمعهم بعد نبيهم على خيرهم و في هذا دلالة على عدم النص من النبي صلى الله عليه و سلم على الإمام بعده مع عدم ظهوره و انتشاره و لو كان موجودا لانتشر و ظهر كالقبلة و إهداء الصلاة و غيرهما مما تعم به البلوى و يجب على الأعيان و حين لم يكن نص استدلوا بأمر النبي صلى الله عليه و سلم أبا بكر بالصلاة بالمسلمين في مرضه على إمامته مع ما عرفوا من آلته و كفايته و استجماعه شرائط الإمامة

اور ہم نے روایت کی ہے شقیق بن سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی کہ آپ رضی اللہ عنہ ہمارے او پر اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کر دیجئے ۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا لہذا میں بھی مقرر نہیں کروں گا۔لیکن اگر اللہ تعالی ٰ لوگوں کے ساتھ خیر کا ارادہ کرے گا تو ان کو انہیں میں سے بہتر آدمی پر متفق کر دے گا جیسے اس نے ان کو اپنے نبی کے بعد انہیں میں سے بہتر شخص پر متفق کر دیا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے بعد کسی کو امام وخلیفہ بنانے کا واضح اور صاف حکم کسی متعین شخص کے بارے میں نہیں تھا ساتھ ساتھ اس کا عدم ظہور عدم شہرت ( بھی اس بات کی دلیل ہے ) اگر موجود ہوتا تو مشہور بھی ہوتا اور ظاہر ہوتا قبلے کی مثل اور نماز کی ہدایات کی مثل اور ان کے علاوہ دیگر احکامات کی مثل جن کی ضرورت عام ہے ۔لہذا واجب ہے اس کا تقرر اہل بصیرت پر ۔ جب کسی کے بارے میں واضح نص اور حکم موجود ہیں تھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بات سے استدلال کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی بیماری کے ایام میں مسلمانوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی امامت کرنے کا حکم دیا تھا۔ لہذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اندرا مامت وخلافت کی شرائط بھی موجود ہیں ۔ اور وہ اس بارے میں ہر اعتبار سے درست ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی بڑی جماعت میں سے اس ذمہ داری کے لئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کا انتخاب کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے منع کرنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرار کر کے انہیں کو اپنے مصلے پر اپنا قائم مقام بنایا جس سے ثابت ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ امامت صغری ٰ کی طرح امامت کبری ٰ کا بھی سب زیادہ مستحق ہے۔

قِيلَ لِعَلِيٍّ اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا. ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← و روينا

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › And it is a door to obeying the commanders · Hadith 7350

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في أوصاف الأئمة · حديث 7351

7351 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا يحيى بن محمد بن يحيى أنا أحمد بن يونس نا عاصم بن محمد عن أبيه قال : قال عبد الله بن عمر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي في الناس اثنان روياه عن أحمد بن يونس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالله حمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عاصم بن محمد نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ یہ (امامت وخلافت کا ) معاملہ ہمیشہ قریش میں رہے گا جب تک ان لوگوں میں دو افراد باقی ہیں ۔ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت کیا ہے احمد بن یونس سے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter in the descriptions of the imams · Hadith 7351

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في أوصاف الأئمة · حديث 7352

7352 - حدثنا أبو الحسن العيون أنا أبو القاسم بن بالويه المزكي ح وأخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان قالا : نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الناس تبع لقريش في هذا الشأن ـ أراه يعني الإمارة ـ مسلمهم تبع لمسلمهم و كافرهم تبع لكافرهم لفظ حديثهما سواء غير أن العلوي لم يذكر قوله أراه يعني الإمارة رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق و قال الحليمي : و الثانية أن يكون عالما بأحكام الدين يصلي بالناس فلا يؤتى من عوارض صلاته من جهل بما يحتاج إليه في إتمام صلاته و يأخذ الصدقات فلا يولي لها من جهل بأوقاتها و أقدارها و مصارفها و الأموال التي تجب فيها أو لا يجب ويقضي بينهم فلا يولي فيما ينظر فيه بن الخصمين و يفصل به بينهما من جهل بما يحتاج إليه و يجاهد بالمسلمين في سبيل الله فلا يولي في استعداده و خروجه و ملاقاته و ما يغنمه الله تعالى و أتاه من أموال المشركين أو يفيئه عليهم أو يعلقه بخيله من رقابهم من فتور و لا جبن و لا خور و لا جهل بما يلزمه أن يعمل فيه و يسير به فيهم و ينظر في حدود الله إذا رفعت إليه فلا يولي فيها من جهل بما بدرا منه أو يقيم و يتولى الصغار و المجانين و الغائبين و حقوقهم فلا يولي فيها من جهل بما فيه النظر و الغبطة لهم و الثالثة : أن يكون عدلا قيما في دينه و تعاطيه و معاملاته و بسط الكلام في الحجة فيه قال و إن لم يكن لمن جمع شرائط الإمامة عهد من إمام قبله و احتيج إلى نصب المسلمين له فأشبه ما يقال : في هذا الباب عندي و أولاه بالحق أنه إذا اجتمع أربعون عدلا من المسلمين أحدهم عالم يصلح للقضاء بين الناس فعقدوا له الإمامة يعد إمعان النظر و المبالغة في الاجتهاد تثبت له الإمامة و وجبت له عليهم الطاعة و جعل أصل ذلك اجتماع الصحابة بعد الرسول صلى الله عليه و سلم على أبي بكر و اشتقاقهم له الإمامة المطلقة العامة من إمامة الصلاة و الصلاة التي تجوز إلا بالاجتماع عليها هي صلاة الجماعة و قد قام الدليل على أن صلاة الجمعة لا تنعقد إلا بأربعين رجلا أحدهم إمام يتولى بهم الصلاة و الآخرون يتبعونه كذا كذلك أوجبنا أن يكون من ينعقد بهم الإمامة أربعون رجلا أحدهم عالم يصلح مثله للقضاء فيكون هو الذي يتولى الاجتهاد و النظر و يبدي رأيه للآخرين فيتابعوه و بسط الكلام في ذلك و ذهب شيخنا أبو الحسن الأشعري رحمه الله إلى أنه الواحد من أهل الحل و العقد إذا عقد الإمامة لغيره انعقدت و على الباقين المتابعة قال : أصحابنا و هذا لأن الإجماع غير معتبر لتعذره و تأخر انعقاد الإمامة عن وقت الحاجة عند شرطه و لأن الصحابة لم يعتبروا فيها الإجماع عند الاختيار و المبايعة و إنما اعتبروا وجود العقد ثم أوجبوا المبايعة بعد ذلك و إذا لم يعتبر الإجماع فلا ينفصل عدد من عدد فاعتبر أقل الأعداد و هو واحد و الله أعلم قال أحمد : و قد ذكرنا في كتاب أهل البغي و غيره من كتاب السنن ما يستشهد به فيما مضى ذكره في هذا الباب من الأخبار و الآثار و لا يجوز نصب إمامين في عصر واحد لأن ذلك يؤدي إلى التفرق

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین علوی نے ان کو ابوالقاسم بن بالویہ مزکی نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے دونوں نے کہا کہ ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے انہوں نے کہا کہ یہ وہ روایت ہے جس کی ہمیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس حالت میں (یعنی امامت وخلافت کے معاملے میں ) قریش کے پیچھے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ امارت کے معاملے میں ان کا مسلمان ان کے مسلمان کے تابع ہے اور ان کا کافر ان کے کافر کے تابع ہے۔ بخاری ومسلم دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں ۔ ہاں فرق یہ ہے کہ علوی نے یہ لفظ اور جملہ ذکر نہیں کیا۔ آراہ یعنی الامارۃ ۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے ۔امامت وخلافت کی دوسری شرط : شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دوسری شرط یہ ہے کہ خلیفہ وامام دینی احکامات کا عالم ہولوگوں کو نماز پڑھا سکے۔ اپنی نماز میں غلطیاں نہ کرے اس کے مسائل واحکام سے ناواقفیت کی وجہ سے یعنی نماز کے احکام سے پوری طرح واقف ہوتا کہ صحیح طریقے سے اس کو مکمل کر سکے۔ نیز زکوۃ وصدقات لوگوں سے وصول کرے ان کے احکام کو جانتا ہو تا کہ ان کے مقامات کو جانے اور ان کی مقداروں کو بھی جانتا ہو۔ اور ان کے مصارف بھی جانتا ہو ، اور وہ مال جوان میں واجب ہیں اور وہ جو واجب نہیں ہیں ،سب جانتا ہو تاکہ ان سے ناواقفیت کی بنا پر ان سے روگردانی نہ کرے۔اور نہ ہی ان میں نا جائز رعایت کرے۔ اور وہ امام خلیفہ لوگوں کے مابین فیصلے بھی کرے ۔اور وہ دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان کسی کی طرف داری نہ کرے، فیصلے کے احکامات سے ناواقفیت کی بنا پر اور وہ مسلمانوں کو ساتھ لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرے، اس کی استعدادو تیاری میں کمی کوتاہی نہ کرے نہ ہی جہاد کے لئے نکلنے میں کوتاہی کرے، اور نہ ہی دشمن سے ٹکرانے میں کوتاہی کرے، اور نہ کوتاہی کرے ان چیزوں میں اور ان امور میں جواللہ تعالی ٰ اس کو مال غنیمت عطا کرے، اور مشرکین مالوں میں سے جو اس کو دے، یا بغیر طاقت استعمال کرنے کے یوں ہی بطور نئے کے ان کو مال مل جائے ۔ نہ سواروں کے حق میں کوتاہی کرے نہ پیادوں کے ، نہ بزدلی دکھائے نہ ضعف وسستی دکھائے اور اپنے فرائض میں عمل کرنے سے جہالت نہ برتے بلکہ مجاہدین میں ان امور کو انجام دے۔ اور اللہ کی حدوں پر نظر رکھے جب ایسے کیس اس کے پاس لائے جائیں تو ان کے بارے کسی جہالت و بے علمی کا شکار نہ ہو اور ان میں ناجائز طرف داری کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ حدوداللہ کو صحیح قائم کرے ۔ اور معصوم بچوں کی اور دیوانوں پاگلوں کی سرپرستی کرے اور جولوگ غائب ہو جائیں وغیرہ سب کے حقوق کا خیال کرے، ان کے حقوق و معاملات سے بے علم ہونے کی وجہ سے کوتاہی نہ کرے ان پر نظر وشفقت کرنے سے ۔ امامت وخلافت کی تیسری شرط : تیسری شرط یہ ہے کہ خلیفہ وامام عادل ہو۔ اپنے دین میں سیدھا اور درست چلنے والا ہو ۔ اور ایک دوسرے کو دینے لینے میں اور اپنے معاملات میں صحیح چلنے والا ہو ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بارے میں حجت پیش کرنے میں بسط تفصیل سے کام لیا ہے کہ اگر ایسا آدمی نہ ہو جس میں امامت وخلافت کی شرائط جمع ہوں تو سابق امام وخلیفہ کا ولی عہد ہو کر اس سے ہدایات اخذ کرے ۔اور وہ مسلمانوں کو امام مقرر کرنے کی ضرورت ہو لہٰذا میرے نزدیک سب سے زیادہ مناسب بات وہ ہے جو اس باب میں کہی جاتی ہے ،اور وہی حق کے سب سے زیادہ قریب تر بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں میں سے چالیس عادل مسلمان اکٹھے ہو جائیں جن میں ایک آدمی عالم ہو لوگوں کے مابین فیصلے کرنے کا اہل ہوتو لوگ گہری فکر ونظر اور سوچ بچار کرنے کے بعد اس کے لئے امامت وخلافت کی بیعت کر لیں اور اس کا عقد وگرہ باندھ دیں۔اجتہاد میں مبالغہ کرنا (خلیفہ کے تقرر وتعین میں پوری سوچ فکر میں انتہائی کوشش کرنا ) اس کے لئے امامت وخلافت کو پکا کر دے گا اور لوگوں پر اس کی اطاعت لازم ہو جائے گی ۔ اس مذکورہ مسئلے کی اصل اور اس کی دلیل ، وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اتفاق کرنے کو اور ان پر سب کے اجماع کرنے کو پھر اجماعی طور پر ان کو خلیفہ مان لینے کو بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام نے ان کے لئے امامت مطلقہ اور امامت عامہ کو امامت صلوۃ سے اخذ کیا تھا اور وہ صلوۃ جو جمع ہونے اور اکٹھے ہونے کے بغیر جائز نہیں ہوتی وہ جماعت کی نماز ہے اور تحقیق اس بات پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ صلوۃ جمعہ نہیں منعقد ہوتی مگر کم سے کم چالیس آدمیوں کے ساتھ جن میں سے ایک امام ہو جوان کی نماز کی ذمہ داری اٹھائے امامت کرائے اور باقی لوگ اس کی اتباع کر یں۔بعینہ اسی طرح ہم نے روایت کیا ہے ( انعقاد جمعہ کی طرح ) امامت کبری ٰکے لئے یعنی خلافت کے انعقاد کے لئے بھی چالیس آدمی ہونے چاہیں جن کے ساتھ خلافت منعقد ہوگی ایک ان میں سے ایسا عالم ہو جو قضا اور فیصلے کا اہل ہو، اور وہ ایسا ہو جواجتہاد کی اورفکر ونظر کی سرپرستی کرے گا اور ذمہ داری اٹھائے گا۔ وہ باقی لوگوں کے لئے اپنی رائے کا اظہار کرے گا اور وہ لوگ اس کی اتباع کریں گے۔ شیخ نے اس بارے میں تفصیل سے کلام کیا ہے۔ انعقاد خلافت کے بارے میں ابوالحسن اشعری کا قول: ہمارے شیخ ابوالحسن اشعری کا خیال اور مسلک یہ ہے کہ اہل حل و عقد میں سے (یعنی اہل نسبت و کشاد سے ) کوئی ایک آدمی بھی جب امامت و خلافت کو کسی دوسرے آدمی کے لئے جب عقد باند ھے اور اس کو مقرر کر دے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر لے تو وہ شخص خلفیہ بن جائے گا اس کی خلافت منعقد ہو جائے گی لہٰذا باقی لوگوں پر اس کی متابعت لازم ہوگی۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ یہ بات اس لئے ہے کہ سب کا متفق ہونا اجماع کرنا غیر معتبر ہے کیونکہ وہ مشکل ہے اور اس میں انعقادامامت میں تاخیر کرنا اور اس سے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے ۔ باوجود یکہ اس کی شرط بھی موجود ہوتی ہے اور ضرورت وحاجت بھی موجود ہوتی ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس میں اجماع کا اعتبار نہیں کیا تھا اختیار و انتخاب کے وقت اور بیعت کے وقت اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے وجود عقد کا اعتبار کیا تھا پھر اس کے بعد انہوں نے بیعت کو واجب کر لیا تھا۔ اور جب اجتماع معتبر نہ رہا تو پھر تعداد میں سے کوئی تعداد بھی معتبر نہ رہی لہذا سب سے کم تر عدد کا اعتبار کیا گیا اور وہ ایک ہے ۔ واللہ اعلم ۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا تحقیق ہم نے کتاب السنن کی کتاب اہل بغی میں وہ اخبار اور آتار ذکر کر دیئے ہیں جن کے ساتھ ان امور پر استشہاد کیا جاتا ہے جن کا ذکر اس باب میں ہو چکا ہے اور ایک وقت میں دو امام و دو خلیفے مقرر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ چیز (امت کی ) تفریق و تقسیم تک پہنچاتی ہے۔ (جس سے ملی وحدت ختم ہو جائے گی۔)

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم بن بالويه المزكي ← أبو الحسن العيون

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter in the descriptions of the imams · Hadith 7352

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في أوصاف الأئمة · حديث 7353

7353 - و روينا عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما

اور ہم نے روایت کی ہے ابوسعید خدری سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اذا بويع لخليفتين فاقتلوا الاخر منهما جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو دوسرے کوقتل کر دو ۔

النبي صلى الله عليه و سلم إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← و روينا

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter in the descriptions of the imams · Hadith 7353

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في أوصاف الأئمة · حديث 7354

7354 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن عبد الله بن موسى نا محمد بن غالب نا عمرو بن عون نا خالد بن عبد الله عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن وهب بن بقية عن خالد

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عمر و بن عون نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو جریری نے ان کو ابونضرہ نے ان کو ابوسعید نے پھر اس مذکورہ حدیث کو انہوں نے ذکر کیا ہے ۔اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں، وھب بن بقیہ سے، اس نے خالد سے ۔

خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أبي سعيد فذكره رواه مسلم في الصحيح ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← محمد بن عبد الله بن موسى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter in the descriptions of the imams · Hadith 7354

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في أوصاف الأئمة · حديث 7355

7355 - أخبرنا ابن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا عبد الوهاب نا الوليد بن مسلم ح و أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل نا سليمان نا الوليد بن مسلم نا عبد الله بن العلا سمع بلال بن سعد عن أبيه قال : قيل يا رسول الله ما للخليفة من بعدك ؟ قال : مثل الذي لي ما عدل في الحكم و أقسط في القسط و رحم ذا الرحم

ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ولید بن مسلم نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوبکر فارسی نے ان کو ابو اسحاق اصفہانی نے ان کو ابواحمد بن فارس نے ان کومحمد بن اسماعیل نے ان کو سلیمان نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو عبداللہ بن العلی نے اس نے سنا بلال بن سعد سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا یا رسول اللہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہوگا ؟ یا خلیفہ کی کیا ذمہ داری ہوگی؟ فرمایا کہ جو میرا نائب ہوگا وہ محکم و فیصلہ میں عدالت کرے گا ۔ انصاف میں انصاف کرے گا ۔ اور ذی رحم پر رحم کرے گا۔

قِيلَ ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← عبد الله بن العلا ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ ← و، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابن عبدان

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter in the descriptions of the imams · Hadith 7355

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood