Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8701

8701 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تكرهوا البنات فإنهن المؤنسات المجملات هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابی اسحٰق نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عبداللہ بن سعید بن ابی ہند نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی بیٹیوں کو ناپسند نہ کیا کرو بے شک وہ محبت کرنے والیاں صاحب جمال ہوتی ہے۔ یہ روایت اسی طرح مرسل آئی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8701

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8702

8702 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا مسلم بن إبراهيم نا عبد الله بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكرهوا البنات فإنهن المجهزات المؤنسات قال و يعلم أهله ما عسى لا تعلمه من أحكام العشرة و إن رآها مقصرة في العبادة حملها منها على ما تخرج به من حد التقصير و بصرها منها ما تجهله أو أذن لها في إتيان من يبصرها ذلك قال الله تعالى : { يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا }

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عہدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے کو نافع بن ثابت نے ان کو عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹیوں کو نا پسند نہ کیا کرو بے شک وہ گھریلو امور میں ہر چیز کو تیار کرنے والیاں اور محبت کرنے والیاں ہوتی ہیں ۔ (ابن زبیر ) فرماتے ہیں لڑکی کے گھر والے جانتے ہیں وہ زندگی گذارنے کے اصول واحکام جووہ نہیں جانتی اگر وہ اس کو عبادت میں کوتاہی کرتا دیکھیں تو اس کو اس کیفیت پر ابھار یں جس سے وہ کوتاہی کی حد سے نکل جائےجس سے وہ ان امور پرعمل پیرا نظر آنے لگے جن سے وہ نا واقف تھی یا اس کو اجازت دے ان چیزوں کے بارے میں جن کا عمل اس سے دیکھا جا سکے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ياايها الذين آمنوا قوا انفسكم وأهليكم ناراً . اے ایمان والو تم اپنے آپ کو بچاؤ اور اپنے اہل خانہ کو بچاؤ جہنم سے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8702

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8703

8703 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو نا أبو الموجه نا عبدان أنا عبد الله بن موسى بن عقبة عن نافع عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا إن كلكم راع و كلكم مسئول عن رعيته فالأمير راع على الناس و هو مسؤل عن رعيته و الرجل راع على أهل بيته و هو مسؤل عن رعيته و امرأة الرجل راعية على بيت بعلها وولده و هي مسئوله عنهم و عبد الرجل راع على مال سيده و هو مسئول عنه ألا كلكم راع و كلكم مسئول عن رعيته رواه البخاري في الصحيح عن عبدان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس قاسم بن قاسم سیاری نے مقام مرد ہیں ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن موسی ٰبن عقبہ نے ان کو نافع نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا خبر دارتم میں سے ہر شو ہر آدمی نگران ہے او ر ہر آدمی سے اس کی اپنی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا ۔ امیر وحکم دان نگران ہے لوگوں پر اور اس سے اس کے رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے اہل خانے کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کی بابت پوچھا جائے گا اور آدمی کی بیوی ان سے اور اپنے شوہر کے بچوں کی نگران ہے ۔ شوہر کے گھر کی محافظ ہے اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا اور آدمی کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا خبر دارتم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کی بابت سوال ہوگا ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبدان سے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن موسى بن عقبة ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8703

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8704

8704 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق أنا عبد الرزاق عن منصور عن ريعي عن علي بن أبي طالب في قوله عز و جل : ـ { قوا أنفسكم و أهليكم نارا } قال علموا أنفسكم و أهليكم الخير

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوز کر یا عنبری نے ان کومحمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحٰق نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو منصور نے ان کو ربعی نے ان کو علی بن ابو طالب نے اللہ کے اس قول کے بارے میں قوا انفسکم و اهلیکم ناراً، فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کوخیرو بھلائی کی تعلیم دو۔

علموا أنفسكم و أهليكم الخير ← علي بن أبي طالب في قوله عز و جل ← ريعي ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8704

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8705

8705 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا عباد بن موسى الختلي عن طلحة بن يحيى الرزاق عن يونس بن يزيد عن ابن شهاب الزهري عن أنس قال : يؤمر الصبي بالصلاة إذا عرف يمينه من شماله هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابی قماش نے ان کو عباد بن موسیٰ ختلی نے ان کو طلحہ بن یحییٰ رزقی نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب زہری نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں بچے کو نماز کا حکم دیا جائے اس وقت سے جب وہ اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کو پہچاننے لگے ۔اسی طرح یہ روایت آئی ہے موقوف طریقے پر ۔

يؤمر الصبي بالصلاة إذا عرف يمينه من شماله هكذا جاء موقوفا ← أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← طلحة بن يحيى الرزاق ← عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِيُّ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8705

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8706

8706 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد نا الحسن بن علي بن شبيب قال : سمعت أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : شكا إبراهيم عليه السلام إلى ربه ما يلقى من رداءة خلق سارة فأوحى الله أليه يا إبراهيم البسها على ما كان فيها ما لم تجد عليها حرمة في دينها

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن مکرم قاضی نے بغداد میں ان کو حسن بن علی بن شبیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں شکایت کی بی بی سارہ کے ردی اخلاق کی اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے ابراہیم پردہ پوشی کرنا اس حالت و عادت پر جو اس میں ہے جب تک تو اس کے دین کے معاملے میں کسی حرام کام کو نہ پائے ۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8706

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8707

8707 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد الحسنوي نا أبو عيسى الترمذي نا الحسين بن حديث أنا الفضل بن موسى عن ابن المبارك عن يحيى بن الضريس عن الخليل بن زرارة عن مطرف عن الشعبي قال : من زوج كريمته من فاسق فقد قطع رحمها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوحامد حسنی نے ان کو ابوعیسی ترمذی نے ان کو حسین بن حریث نے ان کوفضل بن موسیٰ نے ان کو ابن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ضریس نے ان کوخلیل بن زرارہ نے ان کو مطرف نے ان کو شعبی نے انہوں نے فرمایا جوشخص اپنی نیک شریف بیٹی فاسق فاجر کے ساتھ بیاہ دے اس نے اس کے ساتھ قطع رحمی کی۔

«مَنْ زَوَّجَ كَرِيمَتَهُ مِنْ فَاسِقٍ فَقَدْ قَطَعَ رَحِمَهَا» ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← الخليل بن زرارة ← يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الحسين بن حديث ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أبو حامد الحسنوي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8707

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8708

8708 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل نا أبو عبد الله الصفار نا أحمد بن محمد البرقي نا أبو سلمة موسى بن إسماعيل نا أبو هلال عن صالح البراد قال : قال أبو الأسود الدئلي لبنيه أحسنت إليكم كبارا وصغارا و قبل أن تكونوا قالوا : أحسنت إلينا كبارا وصغارا كيف أحسنت إلينا قبل أن نكون ؟ قال : لم أضعكم موضعا تستحيون منه

ہمیں خبر دی محمد بن موسی ٰبن فضل نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد برقی نے ان کو ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابو ہلال نے ان کو صالح براد نے وہ کہتے ہیں کہ ابوالاسوددئلی نے کہا اپنے بیٹوں سے میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے جب چھوٹے تھے تم یا اب جب کہ تم بڑے ہو اور اس وقت بھی جب تم نہیں تھے ۔انہوں نے پوچھا کہ آپ نے ہمارے بچپن میں اور بڑا ہونے پر تو ہمارے ساتھ نیک سلوک کیا مگر یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ آپ نے اس وقت ہمارے ساتھ کیسے نیک سلوک کیا جب ہم نہیں تھے؟ فرمایا کہ میں نے تمہیں ایسی جگہ نہیں رکھا تھا کہ جس جا تمہیں شرم محسوس ہوتی۔

لم أضعكم موضعا تستحيون منه ← أحسنت إلينا كبارا وصغارا كيف أحسنت إلينا قبل أن نكون ← أبو الأسود الدئلي لبنيه أحسنت إليكم كبارا وصغارا و قبل أن تكونوا ← صالح البراد ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8708

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8709

8709 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عباس بن محمد الدوري نا محاضر بن المودع نا الأعمش عن أبي إسحاق عن وهب بن جابر قال : كنت عند عبد الله بن عمرو في بيت المقدس لليلتين مضتا من شعبان قال : أظنه قال لوكيل له خلفت لأهلك رزقهم ؟ فقال لا فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محاضر بن مودع نے ان کو اعمش نے ان کو ابواسحاق نے ان کو وھب بن جابر نے وہ کہتے ہیں کہ میں بیت المقدس میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس تھا جب شعبان کی دو راتیں گذر چکی تھیں۔ کہتے ہیں کہ میں ان کو گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے وکیل سے کہا (جوان کے کام کاج کا ذمہ دار تھا )اپنے اپنے گھر والوں کے لئے پیچھے ان کا رزق چھوڑا ہے اس نے کہا کہ نہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھافرمارہے تھے ۔ کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اس کو ضائع کر دے جو اس کو رزق دے۔

وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← محاضر بن المودع ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8709

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8710

8710 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماتي الكوفي نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا علي بن حكيم نا شريك عن الأعمش عن مغراء العبدي عن ابن عمر قال : مر بهم رجل فعجبوا من خلقه فقالوا لو كان هذا في سبيل الله عز و جل فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن كان يسعى على أبوين شيخين كبيرين فهو في سبيل الله وإن كان يسعى على ولده صبية فهو في سبيل الله وإن كان يسعى على نفسه ليعفها فهو في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوالحسین بن ماتی کوفی نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرز ہ نے ان کو علی بن حکیم نے ان کو شریک نے اعمش سے مغرا ءعبدی سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے ایک آدمی گذرا جس کے اخلاق کہ انہوں نے بہت پسند کیا اور بولے کاش کہ یہ شخص اللہ کی راہ میں ہوتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں آئے انہوں نے آپ کو خبر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اگر وہ شخص اپنے بوڑھے والدین کی خدمت میں مصروف رہتا ہے تو وہ شخص اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے چھوٹے بچے کی پرورش میں مصروف رہے تو بھی وہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے نفس کی ضرورت پوری کرنے میں مصروف ہے تا کہ وہ خود ہاتھ پھیلانے سے بچائے تو بھی وہ اللہ کی راہ میں ہے۔

مَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ فَعَجِبُوا مِنْ خَلْقِهِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مَاتِي الْكُوفِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8710

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8711

8711 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا العباس بن الفضل الأسقاطي نا أحمد بن يونس نا رباح بن عمرو عن أيوب عن محمد عن أبي هريرة قال : بينما نحن مجتمعون مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ طلع شاب من ثنية فلما رأيناه بأبصارنا قلنا لو كان هذا الشاب جعل شبابه و نشاطه و قوته في سبيل الله عز و جل فسمع النبي صلى الله عليه و سلم مقالتنا فقال : و ما في سبيل الله إلا من قتل من سعى على والديه ففي سبيل الله ومن سعى على عياله ففي سبيل الله ومن سعى على نفسه يفها ففي سبيل الله قال : و أراه قال على والديه : يغنيهما و على عياله يغنيهم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس بن فضل اسفاطی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو رباح بن عمرو نے ان کو ایوب نے ان کو محمد بن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ اچا نک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمع تھے اچا نک، ایک جوان کھائی سے نمودار ہوا جب ہم نے اس کو دیکھا اپنی آنکھوں سے تو ہم نے کہا کاش کہ یہ جوان اپنے شباب و جوانی کو اپنی نشاط و خوشی کو اوراپنی قوت کواللہ کی راہ میں خرچ کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری گفتگوسنی تو فرمایا کہ اللہ کی راہ میں صرف وہی نہیں ہوتا جو اللہ کی راہ میں مارا جائے ۔ جو شخص والدین کے لئے کوشش کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے اور جوشخص اپنے اہل وعیال کے لئے سعی و جہد کرے وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے اور جوشخص اپنے نفس کے لئے سعی و صبر کرے وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← رباح بن عمرو ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← العباس بن الفضل الإسقاطي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8711

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8712

8712 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد حدثني ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن مسلم بن يسار رفعه : أن رجلا كان يخدمه في سفر فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل في أهلك من كاهل فقال : لا ما هم إلا صبية صغار قال : ففيهم فجاهد قال أبو عبيد قوله من كاهل يعني من أسن به و هو من الكهل

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کوعلی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے ان کو حدیث بیان کی ابن علیہ نے ان کو خالد ابن قلابہ سے ان کو مسلم بن یسار نے ان کو مرفوع کیا ہے کہ ایک آدمی تھا جو سفر میں ان کی خدمت کیا کرتا تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوفرمایا کہ کیا تیرے گھر میں کوئی بڑی عمر کافر دبھی ہے انہوں نے کہا کہ نہیں کوئی نہیں بس چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔انہوں نے فرمایا کہ بس ان میں جہادکر ۔ ابوعبید نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ من کاھل اس سے مراد ہے کہ کون سب سے زیادہ عمر کا ہے دراصل کاھل ۔کھل سے ماخوذ ہے۔

مسلم بن يسار رفعه ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8712

chevron_left Previous
1…789…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood