Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8689

8689 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو صالح حدثني حرملة بن عمران التجيبي عن أبي عشانة المعافري عن عقبة بن عامر الجهني : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كانت له ثلاث بنات فصبر عليهن فاطعمهن و سقاهن و كساهن من جدته كن له حجابا من النار

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کوحرملہ بن عمران تجیبی نے ان کو ابوعشانہ معافری نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں جس کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان پر صبر کرے ان کو کھلائے پلائے اور پہنائے جو اس کو میسر ہو وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ ثابت ہوں گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8689

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8690

8690 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو محمد الحسن بن الحسين بن منصور السمسار نا حامد بن محمود المقري نا إسحاق بن سليمان الرازي نا فطر بن خليفة عن مسلم بن صبيح قال : سمعت النعمان بن بشير يقول : انطلق بي أبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ليشهده على عطية أعطانيها قال : فقال له هل لك ولد غيره قال : نعم فقال بيده هكذا أي سو بينهم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو مطر بن خلیفہ نے ان کومسلم بن صبیح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنانعمان بن بشیر سے وہ کہتے ہیں مجھے میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئے تا کہ دو ان کو گواہ کر یں اس عطیہ پر جو انہوں نے مجھے عطا کیا تھا کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے میں انہوں نے کہا کہ جی ہاں میں انہوں نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا کہ سب برابر ہیں ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← فِطْرِ بن خليفة ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حامد بن محمود المقري ← أبو محمد الحسن بن الحسين بن منصور السمسار ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8690

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8691

8691 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا إسماعيل الصفار نا سعدان بن نصر نا سليمان بن حرب و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسحاق بن الحسن الحربي نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن حاجب بن المفضل بن المهلب بن أبي صفرة عن أبيه قال : سمعت النعمان بن بشير يخطب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعدلوا بين أولادكم و في رواية سعدان أبنائكم

ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسحاق بن حسن حربی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کوحماد بن زید نے ان کو حاجب بن مفضل بن مہلب بن ابوصفرہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں نے سنانعمان بن بشر سے وہ خطبہ دےر ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کے مابین انصاف کیا کرواپنی اولادوں کے درمیان انصاف کیا کرو ۔ اور سعیدان کی روایت میں ہے اپنے بیٹوں کے درمیان ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ← أَبِيهِ ← حاجب بن المفضل بن المهلب بن أبي صفرة ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← سليمان بن حرب و ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8691

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8692

8692 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو البختري نا محمد بن سليمان الواسطي نا موسى بن إسماعيل الحبلي نا هاشم بن صبيح عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ولد مولود ذكر في أهل بيت إلا أصبح فيهم عز لم يكن هكذا في كتابي و لم أكتبه علمي إلا من حديث هاشم بن صبيح هكذا أخرجته لشهرته فيما بين الناس و هو فيما بين أهل العلم بالحديث منكر و الله أعلم هكذا في كتابي و قد

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو بختری نے ان کو محمد بن سلیمان واسطی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل حبلی نے ان کو ہاشم بن صبیح نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں پیدا ہوتا کوئی بچہ کسی گھر میں مگر ان میں عزت پیدا ہو جاتی ہے جو کہ پہلے نہیں تھی ۔اسی طرح ہے میری کتاب میں ۔ اور میں نے اپنا علم نہیں لکھا مگر ہاشم بن صبیح کی حدیث سے اسی طرح میں نے اس کو نقل کیا ہے اس کی شہرت کی وجہ سے جو کہ لوگوں کے درمیان ہے۔ اور وہ اہل علم کے درمیان حدیث کے بارے میں منکر ہے واللہ اعلم یہی میری کتاب میں ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هَاشِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، ← موسى بن إسماعيل الحبلي ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْواسِطِيُّ، ← أبو جعفر محمد بن عمرو البختري ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8692

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8693

8693 - اخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن أبي قماش نا موسى بن إسماعيل نا هاشم بن صبيح عن أبي أنس المكي عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ولد في أهل بيت غلام إلا و أصبح فيهم عز لم يكن

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابو قماس نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ہاشم بن صبیح نے ان کو ابوانس مکی نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ۔ جس گھر میں کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے ان میں ایک عزت ہو جاتی ہے جو کہ پہلے ان میں نہیں تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبِي أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، ← هَاشِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8693

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8694

8694 - هكذا أخبرنا في مسند ابن عباس و زاد في إسناده عن أبي أنس المكي و أخبرناه في مسند ابن عمر و قال ابن عمر غير أنه قال في إسناده نا أبو عمران الحبلي و هو موسى ابن إسماعيل فالحديث عن ابن عمر كما رواه محمد بن سليمان الواسطي غير أن في رواية محمد بن عيسى بن أبي قماش عن أبي أنس المكي زيادة لا أدري من هو من بين عباد الله : ـ

اسی طرح ہمیں خبر دی مسند ابن عباس میں ۔ اور اس زیادہ کیا اپنی اسناد میں ابوانس مکی سے اور ہم نے ان کو خبر دی ہے مسند ابن عمر رضی اللہ عنہ میں ۔اور کہا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا اپنی اسناد میں ان کو خبر دی عمران حبلی نے اور وہ موسیٰ بن اسماعیل ہیں پس حدیث ثابت ہے ابن عمر سے جیسے اس کو روایت کیا ہے محمد بن سلیمان واسطی نے سوائے اس کے کہ محمد بن عیسیٰ بن ابو قماش کی روایت میں ہے ابوانس مکی سے ایسا اضافہ جس کو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اللہ کے بندوں کے درمیان ۔

ابن عمر غير ← في مسند ابن عمر و ← أبي أنس المكي و ← في مسند ابن عباس و زاد في إسناده ← هَکَذَا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8694

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8695

8695 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز قالا أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير نساء ركبن الإبل نساء قريش أحناه على ولده في صغره و أرعاه على زوج في ذات يده رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اور ابو یعلیٰ حمزہ بن عبدالعزیز نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو بکر بن قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں یہ وہ ہے جو ہمیں حدیث بیان کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں وہ قریش کی عورتیں ہیں۔اپنے بچے پر سب سے زیادہ شفیق ہوتی ہیں اس کی صغرسنی میں اور شوہر کے قبضے میں جو کچھ ہے اس کی ملکیت کی سب سے زیادہ محافظ ہیں ۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے محمد رافع سے انہوں نے عبدالرزاق سے ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أبو طاهر الفقيه و أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8695

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8696

8696 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا حاجب بن أحمد بن سفيان الطوسي نا عبد الرحيم بن منيب نا عبد الله بن عثمان عن أبي حمزة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن أبي أمامة الباهلي قال : جاءت امرأة إلى رسول الله و معها ابن لها و أخت تقوده فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فما سألته شيئا إلا أعطاه إياها فلما انطلقت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حاملات والدات رحيمات لولا ما يأتين إلى أزواجهن دخلت مصلياتهن الجنة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو حاجب بن احمد بن سفیان طوی نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو ابو حمزہ نے ان کو منصور نے سالم بن ابوالجعد سے اس نے ابو امامہ باہلی سے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا اور بہن تھی وہ عورت اس کو چلا کر لا رہی تھی اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا جوبھی چیز اس نے مانگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز اس کو عطا فر مادی جب وہ چلی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت ساری عورتیں اپنے بچوں کو اٹھائے پھرنے والیاں ان پر شفقت کرنے والیاں ایسی ہیں کہ اگر وہ کیفیت نہ ہوتی جو اپنے شوہروں سے وہ کر بیٹھتی ہیں تو ان میں سے جو نماز ادا کرنے والی ہیں وہ جنت میں داخل ہو جاتیں۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8696

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8697

8697 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد نا أبو الحسن محمد بن النصر الزبيدي نا بكر بن بكار نا شعبة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن أبي أمامة : أن مسكينة جاءت معها صبيان لها فأعطيت ثلاث تمرات فأعطت كل واحدة منهن تمرة تمرة فبكى الصبيان فأخذت التمرة فشقتها نصفين فأعطت كل واحدة منهن نصف تمرة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حاملات والدات رحيمات بأولادهن لولا ما يعصين أزواجهن دخلن الجنة لم يسمعه سالم من أبي أمامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ اصفہانی زاہد نے ان کو ابوالحسن محمد بن نصر ز بیدی نے ان کو مکر بن بکار نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے ان کو سالم بن ابی الجعد نے ان کو ابوامامہ نے کہ ایک مسکین عورت تھی وہ آئی تو اس کے ساتھ اس کے بچے بھی آئےاس کو تین کھجور کے دانے دیئے گئے اس نے ایک دانہ سب کو دے دیا لہذا بچے رونے لگے اس نے ایک دانہ کھجور کالیا اور چیر کر دو حصے کئے اور ہر ایک کو ایک حصہ دے دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا بہت سی اپنے بچوں کو اٹھائے پھر نے والی عورتیں جواپنی اولا دو پر شفیق ہوتی ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتیں ۔ اس کو سالم نے ابوامامہ سے نہیں سنا۔

سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← أبو الحسن محمد بن النصر الزبيدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8697

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8698

8698 - رواه غندر عن شعبة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد قال فذكر لي عن أبي أمامة : فذكره مرسلا

اس کو روایت کیا ہی غندر نے شعبہ سے اس نے منصور سے اس نے سالم بن ابی الجعد سے وہ کہتے ہیں میرے لئے ذکر کیا گیا ہے ابوامامہ سے اس نے اسے بطور مرسل روایت کے ذکر کیا ہے۔

أبي أمامة فذكره مرسلا ← فذكر لي ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← رواه غندر

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8698

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8699

8699 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي تا سعدان بن نصر المحرمي نا أبو معاوية الضرير نا أبو مالك الأشجعي عن ابن حدير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ولدت له أنثى فلم يئدها و لم ينهنها و لم يؤثر ولده عليها ـ يعني الذكور ـ أدخله الله بها الجنة رواه أبو داود عن عثمان و أبو بكر ابني أبي شيبة عن أبي معاوية رواه جعفر بن عون عن أبي مالك عن زياد بن حدير

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابومعاویہ نصر نے ان کوابو مالک اشجعی نے ان کو ابن جریر نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی بیٹی پیدا ہو وہ اس کو زند ہ در گور نہ کرے اور اس کی توہین و تذلیل نہ کرے اور بیٹوں کو اس پر ترجیح نہ دے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے بدلے میں جنت میں داخل کرے گا ۔ اس کو روایت کیا ہے ابوداؤد نے عثمان اور ابو بکر ابن شیبہ کے دونوں بیٹیوں نے اس نے ابومعاویہ سے اور اس کو روایت کیا ہے جعفر بن عون نے ابو مالک سے اس نے زیاد بن جد یدسے

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ حُدَيْرٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← أبو سعيد بن الأعرابي تا سعدان بن نصر المحرمي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8699

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8700

8700 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا القاسم بن مهدي نا يعقوب بن كاسب نا عبد الله بن معاذ عن معمر عن الزهري عن أنس : أن رجلا كان جالسا مع النبي صلى الله عليه و سلم فجاء بني له فأخذه فقبله و أجلسه في حجره ثم جاءت بنية له فأخذها و أجلسها إلى جنبه فقال النبي صلى الله عليه و سلم فما عدلت بينهما

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو قاسم بن مہدی نے ان کو یعقوب بن کا سب نے ان کو عبداللہ بن معاذ نے ان کو معمر نے زہری سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس کا بیٹا اس کے پاس آیا تو اس نے اس کو پکڑ کر بوسہ دیا اور اپنی گود میں بیٹھادیا اس کے بعد اس کی بیٹی آئی اس نے اس کو پکڑ کر اپنے پہلو میں بیٹھاد یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے دونوں کے درمیان انصاف نہیں کیا۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ، ← القاسم بن مهدي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8700

chevron_left Previous
1…678…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood