Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8665

8665 - و حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا زيد بن عبد ربه نا بقية عن عيسى بن إبراهيم عن الزهري عن أبي سليمان مولى أبي رافع عن أبي رافع قال : قلت يا رسول الله أللولد علينا حق كحقنا عليهم قال : نعم حق الولد على الوالد أن يعلمه الكتابة و السباحة والرمي وأن يؤديه طيبا ـ عيسى بن إبراهيم هذا يروي ما لا يتابع عليه

ہمیں حدیث بیان کی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن محمد سراج نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کوزید بن عبدربہ نے ان کو بقیہ نے ان کو عیسیٰ بن ابراہیم نے زہری سے اس نے ابوسلیمان مولیٰ ابورافع سے ان کو ابورافع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگوں پر بیٹے کا بھی کوئی حق ہے؟ جیسے ہمارے ان کے اوپر حقوق ہیں ۔فرمایا کہ جی ہاں، بیٹے کا باپ پرحق یہ ہے کہ اس کولکھنا پڑھنا اور تیرا کی ار تیراندازی کی تعلیم دے اور اس کو پاکیز ہ ادب سکھائے عیسیٰ بن ابراہیم ان سے روایت کرتا ہے جن کو متابع نہیں ہوتا ۔

قُلْتُ ← أَبِي رَافِعٍ ← أبي سليمان مولى أبي رافعٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بَقِيَّةُ ← زيد بن عبد ربه ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8665

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8666

8666 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسحاق بن الحسن الحربي نا مسلم بن إبراهيم نا شداد بن سعيد الجرير عن أبي نضرة عن أبي سعيد و ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ولد له ولد فليحسن اسمه و أدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ و لم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو شداد بن سعید حیریری نے ان کو ابونضر و نے ان کو ابوسعید نے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا بیٹا پیدا ہواسے چاہئے کہ وہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کو اچھا ادب سکھائے ۔ جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کرے ۔ جب وہ بالغ ہو جائے اور وہ اس کی شادی نہ کرے پھر وہ گناہ میں مبتلا ہو جائے یقینی بات ہے کہ پھر اس کا گناہ اس کے والد پر ہوگا ۔

أبي سعيد و ابن عباس ← أَبِي نَضْرَةَ ← شداد بن سعيد الجرير ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8666

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8667

8667 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام ثنا عبد الصمد بن النعمان نا عبد الملك بن حسين عن عبد الملك بن عمير بن مصعب بن شيبة عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حق الولد على والده أن يحسن اسمه و يحسن من مرضعه و يحسن أدبه فيه ضعف

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عبدالصمد بن نعمان نے ان کو عبدالملک بن حسین نے ان کو عبد الملک بن عمیر بن مصعب بن شیبہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا بیٹے کاحق باپ پر یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھے طریقے پر دودھ پلائے اور اس کے ادب کو اچھا کرے ۔اس میں ضعف ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عبد الملك بن عمير بن مصعب بن شيبة ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8667

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8668

8668 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا حزم قال : سمعت الحسن و سأله كثير بن زياد عن قوله : { هب لنا من أزواجنا و ذرياتنا قرة أعين } فقال يا أبا سعيد ما هذه القرة الأعين أفي الدنيا أم في الآخرة ؟ قال : لا بل والله في الدنيا قال و ما هي ؟ قال : هي و الله أن يرى الله العبد من زوجته من أخيه من حميمه طاعة الله لا والله ماشيء أحب إلى المرء المسلم من أن يرى والدا أو ولدا أو حميما أو أخا مطيعا لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور نضر وی نے ان کو احمد بن نجد ہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو حزم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے اور ان سے سوال کیا تھا کثیر بن زیاد نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ هب لنا من ازواجنا وذريتنا قرة اعين. اے ہمارے رب ہماری بیویوں میں سے اور ہماری اولادوں میں سے عطا فر ما آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ انہوں نے پوچھا کہ اے ابوسعید یہ آنکھوں کی ٹھنڈک کیا ہے کیا یہ دنیا میں ہوگی یا آخرت میں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ اللہ کی قسم دنیا میں ہوگی۔ انہوں نے پو چھا کہ وہ کیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی تم یہ ( آ نکھوں کی ٹھنڈک ) یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰدیکھے اپنے بندے کو کہ وہ اپنی بیوی کو بھائی کو اپنے دوست کو سب کو دیکھے کہ وہ اللہ کی اطاعت کر رہے ہیں ۔نہیں بلکہ ایک مسلمان آدمی کو کوئی چیز اس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتی کہ وہ دیکھے والد کو نیا بیٹے کو یا دوست کو یا بھائی کواللہ کا اطاعت گذار ۔

و ما هي ← لا بل والله في الدنيا ← يا أبا سعيد ما هذه القرة الأعين أفي الدنيا أم في الآخرة ← قوله هب لنا من أزواجنا و ذرياتنا قرة أعين ← الحسن و سأله كثير بن زياد ← حزم ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8668

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8669

8669 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي نا بشر بن بكر أنا أبو بكر بن أبي مريم الغساني عن المجاشع الأزدي عن عمر بن الخطاب : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مكتوب في التوراة من بلغت له ابنة اثني عشرة سنة فلم يزوجها فركبت إثما فإثم ذلك عليه

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو سلیمان بن عبد الرحمٰن دمشقی نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو ابوبکر بن ابی مریم غسانی نے مجاشع از دی ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ جس شخص کی بیٹی بارہ سال کی ہو جائے اور وہ اس کی شادی نہ کرے پھر وہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہوگا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← المجاشع الأزدي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8669

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8670

8670 - و قرأت بخط الحاكم أبي عبد الله و هو فيما انبأنيه اجازة نا بكر بن محمد بن عبدان الصيرفي بمرو من أصل كتابه نا أحمد بن بشر بن سعد المرثدي نا خالد بن خداش نا حماد بن زيد عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : في التوراة مكتوب من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إثما فإثم ذلك عليه قال الحاكم هذا وجدته في أصل كتابه و هذا إسناد صحيح و المتن شاذ بمرة قال الإمام أحمد إنما يرويه إنما يرويه بالإسناد وهو بهذا الإسناد منكر

میں نے حاکم ابوعبداللہ کی تحریر میں پڑھا۔ وہ ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہمیں خبر دی بطور اجازت دینے کے ان کو خبر دی بکر بن محمد بن عبدان صیر فی نے مقام مرو میں اپنی اصل کتاب سے ان کو خبر دی احمد بن بشر بن سعد مرثدی نے ان کو خالد بن خداش نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عبد العزیز بن صہیب نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہےکہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہو جائے اور وہ اس کی شادی نہ کر دے اور وہ گناہ کی مرتکب ہو جائے اس کا گناہ اس نہ کر نے والے پر ہے۔ حاکم نے کہا یہی بات ہے جو میں نے پائی ہے ان کی اصل تحریر میں ۔ اور یہ اسناد صحیح ہے مگر متن شاذ ہے کئی اعتبار سے ۔امام احمد نے فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ وہ اس کو روایت کرتے ہیں اسناد اول کے ساتھ ۔ لیکن اس مذکور و اسناد کے ساتھ روایت منکر ہے۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8670

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8671

8671 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني أبو بكبر محمد بن داود بن سليمان الزاهد نا إبراهيم بن عبد الواحد العبسي نا وريزة بن الغساني الحمصي نا محمد بن عبيد الله الكريزي نا محمد بن عبد الله بن عمرو بن معاوية عن أبيه قال : قال زيد بن علي لأبنه إن الله عز و جل رضيني لك فحذرني فتنتك و لم يرضك لي فأوصاك بي يا بني خير الآباء من لم تدعه المودة إلى الإفراط و خير الأبناء من لم يدعه التقصير إلى العقوق

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحٰق نے ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن داؤد بن سلیمان زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبد الواحد عیسیٰ نے ان کو ور یز ہ بن غسانی حمصی نے ان کو محمد بن عبید اللہ کریزی نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن معاویہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ کہازید بن علی نے اپنے بیٹے سے بے شک اللہ عز وجل نے مجھے تیرے لئے پسند کیا ہے اب تم مجھے اپنے فتنے سے بچانا۔ اور اس نے تجھے پسند نہیں کیا میرے لئے لہذا اسی لئے اس نے تجھے میرے بارے میں وصیت فرمائی ہے ( قرآن میں )اے بیٹے بہترین باپ وہ ہوتے ہیں کہ جس کو اولاد کی محبت افراط کی طرف نہ لے جائے اور بہترین بیٹے وہ ہوتے ہیں جن کی کوتاہی اس حد تک نہ پڑھ جائے کہ وہ نافرمان قرار پائیں ۔

أَبِيهِ ← محمد بن عبد الله بن عمرو بن معاوية ← محمد بن عبيد الله الكريزي ← وريزة بن الغساني الحمصي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَبْسِيُّ ← أبو بكبر محمد بن داود بن سليمان الزاهد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8671

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8672

8672 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب نا ابن عون عن ابن سيرين قال : كان يقال لا تكرم صديقك فيما يشق عليه قال و كان يقال أكرم ولدك و أحسن أدبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ابن عون نے ابن سیرین سے وہ کہتے ہیں کہ کہا جا تا تھا کہ اپنے دوست کا ایسا اکرام نہ کیجئے جو اس پر شاق گذرے (یعنی و ہ مشقت میں نہ پڑ جائے ۔ ) اور کہا جاتا تھا کہ اپنے بیٹے کوعزت دے اور اس کی اچھی تربیت کر ۔

و كان يقال أكرم ولدك و أحسن أدبه ← كان يقال لا تكرم صديقك فيما يشق عليه ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8672

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8673

8673 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسن البجلي المقري بالكوفة أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي دارم حدثني أحمد بن محمد بن إسحاق الأهوازي الأطروشي نا أبو عبد الله أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي قال : لما رحل بي أبي إلى أبي المغيرة و كان قد سمع منه أخي و أختي قبلي فلما رآني قال : لأبي من هذا ؟ قال : إبني قال و ما تريد به قال : يسمع منك قال : و يفهم ؟ فقال لي أبي و كنا في مسجد : قم فصل ركعتين و ارفع صوتك بالتكبير و الاستفتاح بالقراءة و التسبيح في الركوع و السجود و التشهد ففعلت فقال لي أبو المغيرة : أحسنت فقال أبي : حدثه فقلت حدثني أخي و أختي عن أبي المغيرة عن أم عبد الله بنت خالد بن سعدان عن أبيها قال : من حق الولد على والده أن يحسن أدبه و تعليمه فإذا بلغ اثنتي عشرة سنة فلا حق له عليه و قد وجب حق الوالد على ولده فإن هو أرضاه فليتخذه شريكا و إن لم يتبع رضاه فليتخذه عدوا فقال أبو المغيرة قد أغناك الله عن أبيك و عن أختك و عن أخيك قل حدثني أبو المغيرة اجلس بارك الله عليك فحدثني به يعني هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن محمد بن حسن بجلی مقری نے کوفے میں ان کوابوبکر احمد بن محمد بن ابودارم نے ان کو حدیث بیان کی ہے احمد بن محمد بن اسحاق اموازی اطروشی نے ان کو ابوعبداللہ احمد بن عبدالوہاب بن نجد و حوطی نے وہ کہتے ہیں جب میرے والد مجھے ابوالمغیرہ کے پاس لے کر گئے حالانکہ میرے بہن بھائی ان سے پہلے ہی حدیث سن چکے تھے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا میرے والد سے کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔انہوں نے کہا تم اس سے کیا چاہتے ہو۔ والد نے جواب دیا یہ بھی آپ سے کچھ سنیں گئے ۔انہوں نے فرمایا کہ اور سمجھیں گے؟ میرے والد نے مجھ سے کہا حالانکہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے تھے ۔ اٹھئے اور دو رکعت نماز ادا کیجئے ۔ اور تکبیراونچی آواز کے ساتھ کہئے اور قرأۃ اور رکوع سجود کی تسبیح اور تشہد و غیر ہ زور سے پڑھئے میں نے ایسے ہی کیا۔ لہذا حضرت ابوالمغیر ہ نے مجھ سے کہا کہ تم نے اچھا کیا درست کیا۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ حدیث بیان کیجئے اس کو میں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے بھائی اور میری بہن نے ابوالمغیر ہ سے اس نے ام عبدالله بنت خالد بن سعدان سے اس نے اپنے والد سے انہوں نے کہا بیٹے کے باپ پر حقوق میں سے ہے کہ اس کو اچھا ادب سکھائے اور اچھی تعلیم دے۔ جب وہ بارہ سال کا ہو جائے پھر اس کا والد پر حق نہیں ہے بلکہ والد کا حق اس پر لازم ہو جائے گا اگر وہ اس کو راضی رکھے تو اس کو شریک بنالے اور اگر وہ والد کی رضا کے پیچھے نہ چلے تو پھر وہ اس کو مخالف سمجھے اور ابوالمغیر ہ تحقیق اللہ نے تجھے بے پرواہ کر دیا ہے والد سے اور تیری بہن سے اور تیرے بھائی سے بس یوں کہا کرو مجھے حدیث بیان کی ہے ابوالمغیر ہ نے بیٹھ جائیے اللہ تعالیٰ تمہارے او پر برکت دے انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ۔

أبو عبد الله أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ← أحمد بن محمد بن إسحاق الأهوازي الأطروشي ← أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي دارم ← أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسن البجلي المقري

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8673

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8674

8674 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو محمد بن أحمد الفقيه و أبو بكر محمد بن عبد الله الوراق قالا أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبه نا محمد بن عبد الله الأسدي عن محمد بن عبد العزيز عن عبيد الله بن أبي بكر عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من عال جاريتين حتى يبلغا جاء يوم القيامة أنا و هو هكذا و ضم أصبعيه رواه مسلم عن عمرو الناقد عن محمد بن عبد الله الأسدي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوعمر ومحمد بن احمد فقیہ نے اور ابو بکر محمد بن عبداللہ وراق نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کومحمد بن عبداللہ اسدی نے ان کو محمد بن عبدالعزیز نے ان کو عبید اللہ بن ابی بکر نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دولڑکیوں کی پرورش کرے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائیں قیامت میں وہ جب آئےگا تو میں اور وہ ایسے کٹھے ہوں گے انہوں نے یہ کہتے ہوئے دونوں انگلیاں ملالیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا عمر و ناقد سے اس نے محمد بن عبداللہ اسدی سے ۔

أَنَسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو محمد بن أحمد الفقيه و أبو بكر محمد بن عبد الله الوراق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8674

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8675

8675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت : جاءت امرأة و معها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فأخذتها فشققتها بين ابنتيها و لم تأكل منها شيئا ثم قامت فخرجت هي و ابنتاها فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على بقية ذلك فحدثته حديثها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتلى من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار هكذا في رواية عبد الرزاق عن معمر و رواه عبد الله بن المبارك عن معمر عن الزهري عن عبد الله بن أبي بكر بن حزم عن عروة و هو الصحيح و كذلك رواه شعيب بن أبي حمزة عن الزهري

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت آئی اس کی دو بیٹیاں بھی اس کے ساتھ تھیں ۔اس نے مجھ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو میرے پاس اس نے کھجور کے ایک دانے کے سوا کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی ایک دانہ دے دیا اس نے اسے دے کر آدھا آدھا کر کے دونوں بیٹوں کو دے دیا اور خود نہیں کھا یا اس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی بیٹوں کے ساتھ ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس کے چلے جانے کے بعد میں نے یہ بات ان کو بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ان بیٹوں کے ساتھ آزمایا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے آڑ ثابت ہوں گی ۔ اسی طرح عبدالرزاق کی روایت میں ہے معمر سے اس کو عبد اللہ بن مبارک نے روایت کیا ہے معمر سے اس نے زہری سے اس نے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے اس نے عروہ سے وہ صحیح ہے اور اسی طرح ان کو روایت کیا ہے شعیب بن ابی حمزہ سے اس نے زہری سے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8675

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8676

8676 - حدثنا عبد الله بن يوسف املاء و أبو بكر القاضي قراءة عليه قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم ثنا سهيل بن أبي صالح عن سعيد الأعشى عن أيوب بن بشير عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يكون لأحد ثلاث بنات أو ابنتان أو أختان فيتقي الله فيهن و يحسن إليهن إلا دخل الجنة تابه خالد بن عبد الله و جرير عن سهيل و في حديث خالد فأدبهن و زوجهن و أحسن إليهن فله الجنة

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف نے بطور املاء کے اور ابوبکر قاضی نے بطور قراء ۃ کے ان کے سامنے ۔ ان دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کوعلی بن عاصم نے ان کو سہیل بن ابی صالح نے ان کو سعید اعشی نے ان کو ایوب بن بشیر سے اس کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی بیٹیاں ہوں دو یا تین اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہے اور ان کے ساتھ نیکی کرتا ہے ۔ وہ شخص جنت میں چلا جائے گا ۔خالد بن عبداللہ نے اس کے متابع حدیث لائی ہے اور جریر نے سہل سے اور خالد کی حدیث میں ہے کہ اس شخص نے ان بیٹیوں بہنوں کو ادب سکھایا ہے اور ان کی شادی کی ہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کیا ہے اس کے لئے جنت ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ ← سَعِيدٍ الْأَعْشَی ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عبد الله بن يوسف املاء و أبو بكر القاضي قراءة عليه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8676

chevron_left Previous
1…456…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood