Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8653

8653 - و أخبرنا أبو أسعد أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن تمام بن صالح البهراني بحمص نا محمد بن قدامة نا أبو عبيدة الحداد عن صالح بن رستم قال : انطلقت أنا و والدي إلى أيوب بن موسى فقال أيوب ابنك هذا ؟ قال : نعم قال : فأحسن أدبه حدثني أبي عن جدي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما نحل والد ولده أفضل من أدب حسن قال أبو أحمد صار الحديث لأبي عامر الخزاز والد عامر و لم يكتبه إلا عن محمد بن تمام

اور ہمیں خبر دی ہے ابواسعد نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو محمد بن تمام بن صالح بہرانی نے جمص میں ان کو محمد بن قدامہ نے ان کو ابوعبید حداد نے ان کو صالح بن رستم نے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد ایوب بن موسیٰ کے پاس گئے تو ایوب نے پوچھا تیرابیٹا یہ ہے؟ والد نے بتایا کہ جی ہاں یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی اچھی طرح تربیت کرنا میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی تھی میرے دادا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کوئی والد اپنے بیٹے کو کوئی عطیہ نہیں دیتا جو اچھے ادب سے زیادہ افضل ہو ۔ کہا ابواحمد نے ہوگئی حدیث واسطے ابو عامر خزاز کے والد عامر کے اور نہیں لکھا ہے اس کو اس نے مگر محمد بن تمام سے ۔

محمد بن تمام ← أبو أحمد صار الحديث لأبي عامر الخزاز والد عامر و لم يكتبه إلا ← مَا نَحِلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← فَأَحْسِنْ أَدَبَهُ، ← نَعَمْ ← أيوب ابنك هذا ← و والدي إلى أيوب بن موسى ← انْطَلَقْتُ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← محمد بن تمام بن صالح البهراني ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أبو أسعد ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8653

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8654

8654 - قال أحمد و أغرب من هذا أن أبا محمد عبد الله بن علي بن أحمد النيسابوري المعاذي أخبرنا أبو العباس أحمد بن محمد بن يوسف السقطي نا أبو حفص عمر بن جعفر بن محمد بن عبد الله بن علي بن هبيرة البصري نا رستم بن علي الخزار حدثني أبي قال : كنت أدخل على أيوب بن موسى مع أبي فقال أيوب يا أبا فلان هذا ابنك ؟ قال : نعم قال : حدثني أبي عن جدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نحل والد ولدا احسن من أدب حسن هكذا أخبرنا به في فوائده و رستم هو ابن عامر و أظنه أراد صالح بن رستم و الله أعلم

کہا احمد نے اورس سے زیادہ غریب یہ ہے کہ ابومحمد عبداللہ بن علی بن احمد نیسا پوری معاذی نے ہمیں خبر دی ہے ابوالعباس احمد بن محمد بن یوسف سقطی نے ان کو ابو حفص عمر بن جعفر بن محمد بن عبداللہ بن علی بن زبیر و بصری نے ان کو رستم بن علی خزاز نے ان کو حد بیث بیان کی ہے ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں ایوب بن موسیٰ کے پاس اپنے والد کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ایوب نے پوچھا اے ابو فلاں کیا یہ تیرا بیٹا ہے انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں فرمایا کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی تھی میرے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی والد اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے بہتر اور احسن تحفہ نہیں دیتا۔ اسی طرح ہمیں خبر دی ہے اس کے ساتھ اپنے فوائد میں ۔اور رستم بن عامر کے بارے میں یہ گمان کرتا ہوں کہ ارادہ کیا صالح بن رستم نے واللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8654

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8655

8655 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا جعفر بن محمد بن شاكر نا إسماعيل بن أبان الوراق نا ناصح أبو عبد الله عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لأن يؤدب أحكم ولده خير له من أن يتصدق كل يوم بنصف صاع

ہمیں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو اسماعیل بن ابان وراق نے ان کو ناصح ابو عبداللہ نے سماک بن حرب سے اس نے جابر بن سمرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیٹے کو ادب سکھائے اور اس کو تر بیت کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← ناصح أبو عبد الله ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْوَرَّاقُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8655

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8656

8656 - قال : و نا جعفر نا سعيد بن سليمان نا علي بن هاشم بن البريد عن ناصح عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی جعفر نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کوعلی بن ہاشم بن برید نے ان کو مصالح نے سماک بن حرب سے اس نے جابر بن سمرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← نَاصِحٌ، ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← جَعْفَرٌ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8656

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8657

8657 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا عبد العزيز بن الخطاب عن ناصح : فذكره غير أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يؤدب الرجل ولده خير له من أن يتصدق بنصف صاع كل يوم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کوحسن بن علی بن عفان نے ان کو عبد العزیز بن خطاب نے ان کو ناصح نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے سوائے اس کے کہ وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :البتہ یہ ہے کہ اگر آدمی اپنے بیٹے کو ادب سکھائے تو وہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ روزانہ دوسیر کا صدقہ کرے۔

ناصح فذكره غير أنه ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8657

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8658

8658 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا محمد بن عيسى بن حسان المدائني في سنة اثنتين و سبعين و مائتي نا محمد بن الفضل بن عطية عن أبيه عن عطاء عن ابن عباس أنهم قالوا : يا رسول الله قد علمنا ما حق الوالد على الولد فما حق الولد على الوالد ؟ قال : أن يحسن اسمه ويحسن أدبه و محمد بن الفضل ضعيف بمرة لا تفرح بما ينفرد به

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن شراق نے ان کو ابوعمر و بن سماک نے ان کومحمد بن عیسیٰ بن حسان مدائنی نے ۲۷۲ھ میں ان کو محمد بن فضل بن عطیہ نے اپنے والد سے اس نے عطاء سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ والد کا کیا حق ہے بیٹے پر؟ اور اسی طرح بیٹے کا کیا حق ہے باپ پر ؟ فرمایا کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے یعنی اچھی تربیت کرے۔ محمد بن فضل بن عطیہ ضعیف کئی بار جس روایت کے ساتھ وہ اکیلا ہواس پر تو خوش نہ ہو

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← محمد بن عيسى بن حسان المدائني ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8658

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8659

8659 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن جعفر بن مؤمن بن شبان العطار ببغداد نا أبو بكر بن الجعاني حدثني عبد الله بن بشر نا زيد بن أخرم نا أبي داود قال : سمعت الثوري يقول : ينبغي للرجل أن يكره ولده على طلب الحديث يقول : فإنه مسئول عنه

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبد العزيز بن محمد بن جعفر بن مؤمن بن شبان عطار نے بغداد میں ان کو ابو بکر بن جعانی نے ان کو عبداللہ بن بشر نے ان کو زید بن اخرم نے ان کو ابو داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ثوری سے وہ کہتے ہیں ، آدمی کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو طلب حدیث پر مجبور کرے۔اسے کہے کہ اس سے اس کے بارے میں پرسش ہوگی۔

فإنه مسئول عنه ← ينبغي للرجل أن يكره ولده على طلب الحديث ← الثَّوْرِيُّ ← أَبِي دَاوُدَ، ← زَيْدِ بْنِ أَخْرَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← أبو بكر بن الجعاني

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8659

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8660

8660 - و بهذا الإسناد قال : سمعت الثوري يقول : إن هذا الحديث عز من أراد به الدنيا وحدها و من أراد به الآخرة وجدها

اوراسی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ میں نے سنا ثوری سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک یہ حد یث عزت دیتی ہے اس کو جو اس کے ذریعے صرف دنیا کا ارادہ کرے اور جوشخص اس کے ساتھ آخرت کا بھی ارادہ کرے وہ اس کو پا لے گا ۔

الثَّوْرِيُّ ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8660

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8661

8661 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا سليمان بن أحمد الواسطي نا الوليد بن مسلم نا مروان بن جناح نا يونس بن ميسرة قال : سمعت معاوية بن أبي سفيان يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الخير عادة والشر لجاجة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو سلیمان بن احمد واسطی نے ان کو ولید و بن مسلم نے ان کو مروان بن جناح نے ان کو یونس بن میسرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامعاویہ بن ابی سفیان سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں ۔ خیر عادت ہوتی اور شر چپکنے والی بلاہوتی ہے۔

الخير عادة والشر لجاجة. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8661

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8662

8662 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن إسحاق نا يعلى بن عبيد نا عثمان الحاطبي قال : سمعت ابن عمر يقول لرجل : أدب ابنك فإنك مسئول عن ولدك ماذا أدبته وماذا علمته و إنه مسئول عن برك و طواعيته لك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو عثمان حاطبی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی سے اپنے آپ کو ادب سکھا (یعنی تربیت کر ۔)بے شک تم سے پو چھا جائے گا تیرے بیٹے کے بارے میں کہ تم نے اسکو کیا ادب سکھایا تھا اور تم نے اس کو کیا تعلیم دی تھی اور اس سے تمہارے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اس نے تمہارے ساتھ کس قد رنیکی کی تھی اور کتنی تیری فرمانبرداری کی تھی ۔

برك و طواعيته لك ← ولدك ماذا أدبته وماذا علمته و إنه مسئول ← لرجل أدب ابنك فإنك مسئول ← ابْنِ عُمَرَ ← عُثْمَانَ الْحَاطِبِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8662

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8663

8663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن علي الوراق نا مسلم بن إبراهيم نا حرب بن ميمون نا عوف عن أبي رجاء قال : قال عمر بن الخطاب : رحم الله امرءا اتجر على يتيم بلطمة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کومحمد بن علی وراق نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حرب بن میمون نے ان کوعوف بن ابور جاء نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن خطاب نے فر مایا تھا اللہ تعالی ٰرحم فرمائے اس بندے پر جوکسی یتیم کی تربیت پر طمانچہ مارتا ہے۔

عمر بن الخطاب رحم الله امرءا اتجر على يتيم بلطمة ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8663

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8664

8664 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني أنا أحمد بن عبيد بن إسحاق بن مبارك العطار نا أبي حدثني قيس عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : علموا أبناءكم السباحة و الرمي و المرأة المغزل ـ عبيد العطار منكر الحديث

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے ان کو احمد بن عبید بن اسحاق بن مبارک عطار نے ان کو ان کے والد نے ان کو قیس نے ان کولیث نے مجاہد نے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اولادکو تیرا کی اور تیراندازی سکھاؤ اور عورت کوسوت کا تنا۔عبید العطار منکر الحدیث ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← قَيْسٍ ← أَبِي ← أحمد بن عبيد بن إسحاق بن مبارك العطار ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8664

chevron_left Previous
12345…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood