Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9049

9050 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا عمرو بن عاصم نا سليمان بن المغيرة عن غيلان بن جرير قال : قال مطرف : ما تحاب اثنان في الله كان أشدهما حبا لصاحبه أفضلهما قال : فذكرت ذلك للحسن فقال : صدق مطرف قال : و قال غيلان قال مطرف : أنا لمذعور أشد حبا و هو أفضل مني فكيف هذا ؟ قال : فلما أمر بالرهط أن يخرجوا إلى الشام أمر بمذعور فيهم قال : فلقيني فأخذ بلجام دابتي فجعلت كلما أردت أن انصرف حبسني قلت : إن المكان بعيد فجعل يحبسني فقلت أنشدك الله إلا تركتني فيم تحبسني فلما ناشدته قال كلمة يخفيها مني جهده اللهم فيك قال : فلما أصبحت قيل لي هل شعرت أنه خرج بأخيك قال : فعرفت أنه أشد حبا لي منه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمر بن عاصم نے ان کو سفیان بن مغیرہ نے ان کوغیلان بن جریر نے ان کو مطرف نے کہ دوآدمی جو اللہ کی راہ میں محبت کر تے ہیں تو دونوں میں سے جو زیادہ شدید محبت کرتا ہے وہ دونوں میں سے افضل ہوتا ہے ۔ غیلان کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کو حسن کے لئے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مطرف نے سچ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غیلان کہتے ہیں کہ مطرف نے کہا میں البتہ حیران و پریشان ہوں زیادہ شد ید باعتبار محبت کے اور وہ مجھ سے افضل ہے بس کیسے ہوسکتی ہے یا تا ہم کہتے ہیں کہ جب انہوں نے گروہ کوشام کی طرف جانے کا حکم دیا تو مذعور سمیت جوان میں تھا ۔ کہا کہ وہ مجھے ملا اور میری جانور کی لگام پکڑ لی ۔ جب بھی وہ ہٹنے کا ارادہ کر تا وہ مجھے روک لیتا۔ میں نے کہا کہ گھر بہت دور ہے ۔اس نے مجھے روکنا شروع کیا تو میں نے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہوں گا کہ مجھے آپ نہ روکیں ۔ جب اس نے قسم دی تو اس نے ایک کلمہ کہا جس کو اس نے انتہائی کوشش کر کے مجھ سے چھپایا۔ اللھم فیک یعنی اللہ گواہ ہے میں تم سے اللہ واسطے محبت کرتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو مجھ سے کہا گیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نکل گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے جان لیا کہ وہ زیادہ شد ید محبت والا ہے میرے لئے اس سے ۔

غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9049

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9050

9051 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي قال : أنا أبو نصر أحمد بن محمد بن قريش المروزي الخبازي قال : نا أبو الموجه محمد بن عمرو الفزاري قال : نا عبدان قال : أنا معاذ بن خالد بن شقيق قال : نا صالح المري عن ثابت عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله سبحانه يقول : إني لأهم بأهل الأرض عذابا فإذا نظرت إلى عمار بيوتي و المتحابين في و المستغفرين بالأسحار صرفت عنهم

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابونصر احمد بن محمد بن قریش مروزی نے خبازی نے ان کو ابوالموجہ محمد بن عمر وفزاری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی معاذ بن خالد بن شقیق نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو صالح مری نے ان کو ثابت نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک میں نے اہل زمین کو غذادینے کا پکا خیال کر رکھا ہے پھر جس وقت اپنے گھروں یعنی مساجد کو آباد کرنے والوں کو اور میری راہ میں باہم محبت کرنے والوں کو اور سحر کے وقت استغفار کرنے والے کو دیکھتا ہوں تو عذاب ان سے ہٹالیتا ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← معاذ بن خالد بن شقيق ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ← أبو نصر أحمد بن محمد بن قريش المروزي الخبازي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9050

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9051

9052 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن : عن رجل من قريش رفع الحديث قال : يقول الله تبارك و تعالى إن أحب عبادي إلي الذين يتحابون في و الذين يعمرون مساجدي و الذين يستغفرون بالأسحار أولئك الذين إذا أردت بخلقي عذابا ذكرتهم فصرفت عذابي عن خلقي

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے قریش کے ایک آدمی سے جس نے حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالی ٰفرماتے ہیں بے شک میرے نزدیک میرے بندوں میں محبوب ترین بندے وہ ہیں جومیری راہ میں ایک دوسرے سے محبت کر تے ہیں اور وہ لوگ جو میری مساجد کو آباد کر تے ہیں اور وہ لوگ جو سحری کے وقت استغفار کرتے ہیں وہی لوگ ہیں کہ میں جس وقت اپنی مخلوق کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں اور مجھے وہی لوگ یادآ تے ہیں تو میں انہی کی وجہ سے ان لوگوں سے عذاب کو ہٹادیتا ہوں۔

الله تبارك و تعالى ← رجل من قريش رفع الحديث ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9051

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9052

9053 - و بإسناده قال : أنا معمر عن رجل من قريش قال : قيل من أهلك الذين هم أهلك يا رب ؟ قال : هم المتحابون في الذين إذا ذكرت ذكروا بي و إذا ذكروا ذكرت بهم هم الذين ينيبون إلى طعاتي كما تنيب النسور إلى وكرها هم الذين إذا استحلت محارمي غضبوا كما يغضب النمر إذا حرب

اور اپنی اسناد کے ساتھ اس نے کہا ہے کہ معمر کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے قریش میں سے ایک آدمی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا تھا کہ تیرے اہل کون ہیں جو تیرے اہل ہیں یا رب؟ فرمایا کہ وہ میری راہ میں باہم محبت کر نے والے لوگ ہیں کہ جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو وہ مجھے یادکرتے ہیں اور وہ جب مجھے یادکرتے ہیں تو میں بھی ان کو یاد کر تا ہوں۔ وہی لوگ ہیں جو میری رضاعت کی طرف رجوع کرتے ہیں جیسے چیلیں اپنے آشیانے کی طرف لوٹتی ہیں ۔ وہی لوگ ہیں کہ جب میری حرام کردہ چیزوں کی حرمت پامال کی جاتی ہے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں ۔ غضبناک ہو جاتے ہیں جیسے شیر غضبناک ہو جا تا ہے جب اس کو تنگ کیا جائے۔

قيل من أهلك الذين هم أهلك يا رب ← رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ← مَعْمَرٌ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9052

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9053

9054 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : نا يحيى بن جعفر قال : أنا زيد بن حباب قال : أنا أشعث بن براز قال : أنا علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس و ما يستغني رجل عن مشورة و إن أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة و إن أهل المنكر في الدنيا هم أهل المنكر في الآخرة هذا هو المحفوظ مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورذاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو اشعث بن بزار نے ان کو علی بن زید نے ان کو سعید بن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے بعد عقل کی اصل اور سردار لوگوں کے ساتھ محبت کرنا ہے اور کوئی آدمی مشورے سے مستغنی نہیں ہے۔ بے شک دنیا میں اہل معروف آخرت میں بھی اہل معروف ہیں اور دنیا میں اہل فکر ہی درحقیقت آخرت میں اہل منکر ہوں گے ۔ یہ محفوظ روایت مرسل ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أشعث بن براز ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9053

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9054

9055 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني قال : نا إبراهيم بن الهيثم البلدي قال : حدثني سعيد بن عبد الله عن أبي عبد الرحمن الفراء قال : نا يوسف بن محمد العصفري قال : نا سفيان عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس في هذا الإسناد ضعف

اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحاق نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن اسحٰق خراسانی نے ان کو ابراہیم بن ھیثم بلدی نے ان کو حدیث بیان کی سعید بن عبداللہ نے ابوعبدالرحمٰن فراء سے ان کو یوسف بن محمد مصفری نے ان کو سفیان نے ان کوعلی بن زید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے بعد عقل کی اصل سردار چیز لوگوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔اس اسناد میں ضعف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← يوسف بن محمد العصفري ← أبي عبد الرحمن الفراء ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9054

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9055

9056 - أخبننا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس هو الأصم قال : نا محمد بن إسحاق قال : نا علي بن عبد الحميد المعنى قال : نا عمران بن خالد الخزاعي ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا أنا أبو عمرو بن مطر قال : نا أحمد بن الحسين بن نصر الحذاء قال : نا محمد بن محمد بن عبد الملك نا عمران عن ثابت عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤاخي بين الرجلين فتطول الليلة عليهما حتى يلقى أحدهما صاحبه فيلقاه بود و لطف فيقول كيف كنت بعدي ؟ قال : و أما العامة فلم تكن تأتي على الرجل ثلاث لا يعلم علم أخيه المسلم و في رواية أبي عبد الله قال : لما آخى النبي صلى الله عليه و سلم بين الناس كانت تطول الليل على أحدهم حتى يصبح فيلتقيان بود و لطف فأما العامة فلم يكن تمضي على أحدكم ثالثة لا يعلم علم أخيه المسلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کومحمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبدالمجید مغنی نے ان کو عمران بن خالد خزاعی نے ( ح ) اور ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ابونصر قتادہ نے ، ان کو ابو عمرو بن مطر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن حسین بن نصر حزاء نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن عبدالملک نے ان کو عمران نے ان کو ثابت نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کراتے تھے ۔ پس ان پر رات جب لمبی ہو جاتی حتی کہ دونوں میں سے ایک دوسرے سے ملتا دوستی کے ساتھ اور مہربانی کے ساتھ اور پوچھتا کہ تم میرے بعد کیسے رہے؟ کہتے ہیں کہ عام لوگوں کی یہ حالت تھی کہ تین راتیں نہیں گذرتی تھیں کہ اس کو اپنے مسلمان بھائی کے حال کا علم نہ ہو اور ابوعبداللہ کی ایک روایت میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرواتے ۔ رات طویل ہو جاتی تھی ان میں سے ایک پڑحتیٰ کہ صبح ہو جاتی اور وہ باہم ملتے تھے محبت اور شفقت کے ساتھ اور عام لوگ ایسے تھے کہ ان پر تین راتیں گذر جاتیں اور وہ اپنے مسلمان بھائی کے حال کو نہیں جانتا ہوتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عِمْرَانُ، ← محمد بن محمد بن عبد الملك ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة ← و، ← عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أخبننا أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9055

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9056

9057 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قال : نا إبراهيم بن الحارث البغدادي قال : نا يحيى بن أبي بكير قال : نا حماد بن سلمة قال : أنا ثابت البناني عن الدارمي قال : كان الرجلان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم إذا التقيا و أرادا أن يتفرقا قرأ أحدهم سورة { و العصر * إن الإنسان لفي خسر } ثم سلم أحدهما على الآخر أو على صاحبه ثم تفرقا و رواه غيره عن حماد عن ثابت عن عتبة بن الغافر قال : كان الرجلان فذكره

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بن ابی بکر نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو داری نے وہ کہتے ہیں اصحاب رسول میں سے دو آدمی جب باہم ملتے تھے اور ایک دوسرے سے جدا ہونا چاہتے تو دو میں سے ایک سورۃ و العصر ان الانسان لفی خسر پڑھتا۔ اس کے بعد ایک دوسرے پر سلام کرتا یا کہتا تھا کہ اپنے ساتھ سلام کرتا اس کے بعد جدا ہوتے تھے۔ اور اس کو اس کے ماسواء نے روایت کیا ہے حماد سے اس نے ثابت سے اس نے عتبہ بن غافر سے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایسے ہوتے ہیں۔ پھر اس نے بھی مذکورہ بات نقل کی ہے۔

الدَّارِمِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9056

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9057

9058 - أخبرنا أبو محمد السكري قال : أنا إسماعيل الصفار نا عباس الترفي نا أبو عبد الرحمن المقري قال : نا حيوة أنا أبو محمد شرحبيل بن شريك المغافري أنه سمع أبا عبد الرحمن الحلبي يقول : حدثني الصنابحي أنه سمع أبا بكر الصديق رضي الله عنه يقول : إن دعوة الأخ للأخ في الله مستجابة

ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عباس ترقی نے ان کو ابوعبدالرحمٰن مقری نے ان کو حیوۃ نے ان کو ابومحمد شرحبیل بن شر یک مغافری نے اس نے سنا ابوعبدالرحمٰن حلبی سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی صنابحی نے اس سے سنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے تھے بے شک بھائی کی د عا بھائی کے لئے قبول ہوتی ہے۔

إن دعوة الأخ للأخ في الله مستجابة ← أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← الصُٔنَابِحئَ، أَنہُ ← أبا عبد الرحمن الحلبي ← أبو محمد شرحبيل بن شريك المغافري أنه ← حَيْوَةُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عباس الترفي ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9057

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9058

9059 - أخبرنا أبو بكر فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عاصم بن عبيد الله قال : سمعت سالم بن عبد الله بن عمر يحدث عن أبيه : أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه استأذن النبي صلى الله عليه و سلم في عمرة فأذن له و قال يا أخي اشركنا في دعائك و لا تنسانا من دعائك كذا وجدته في كتابي مقيدا يا أخي

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عاصم بن عبیداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سالم بن عبداللہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اپنے والد سے کہ عمر بن خطاب نے حضور صلی اللہ مایہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا اور اپنی دعا میں ہمیں نہ بھولنا۔ میں نے اس کو اپنی کتاب میں اسی طرح مقید پایا ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو بكر فورك

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9058

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9059

9060 - حدثنا أبو منصور الظفر بن محمد العلوي املاء و أبو الحسين بن الفضل القطان قرأه قالا أنا علي بن عبد الرحمن بن ماتي بالكوفة قال : نا ابن أبي غرزة أنا قبيصة نا سفيان عن شعبة عن أبي إياس عن أبي الدرداء قال : إني لأدعو لثلاثين من إخواني و أنا ساجد اسميهم بأسمائهم و أسماء آبائهم

ہمیں حدیث بیان کی ابومنصور ظفر بن محمد علوی نے بطور املا کے اور ابوالحسین بن فضل قطان نے بطور قرأت کے ۔ دونوں نے کہا کہ انکو خبر دی علی بن عبدالرحمٰن بن ماتی نے کوفے میں ان کو ابن ابی غرزہ نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوایاس نے ابودرداء سے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے تیس مسلمان بھائیوں کے لئے مسجد میں دعا کرتا ہوں با قاعدہ ان کے اور ان کے باپوں کے نام لے لے کر ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِيَاسٍ ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← ابْنُ أَبِي غَرْزَةَ، ← علي بن عبد الرحمن بن ماتي،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9059

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9060

9061 - أخبرناى أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني أنا يعلى بن عبيد نا عبد الملك بن أبي سليمان عن أبي الزبير عن صفوان بن عبد الله بن صفوان و كان تحته الدرداء قال : أتيت الشام فأتيت أبا الدرداء فلم ألقه و لقيت أم الدرداء فقالت : تريد الحج العام ؟ قال : قلت نعم قالت : فادع لنا بخير فإن النبي صلى الله عليه و سلم يقول : دعاء المسلم يستجاب لأخيه بظهر الغيب عند رأسه ملك موكل ما دعا لآخيه بخير إلا قال آمين و لك بمثل قال : فخرجت إلى السوق فليقت أبا الدرداء فقال لي مثل ذلك أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو عبدالملک بن ابی سلیمان نے ان کو ابوالز بیر نے ان کو صفوان بن عبد اللہ بن صفوان نے اور ان کے تحت در داء نے وہ کہتے ہیں کہ میں شام میں آیا اور میں حضرت ابودرداء کے پاس پہنچا اور میں ان سے پہلے نہیں مل چکا تھا لہذا میں ام درداء سے ملا۔ انہوں نے فرمایا کیا اب اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا جی ہاں تو انہوں نے بر ملا ہمارے لئے جنت کی دعا کرنا شروع کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کی دعا غائبانہ اس کے بھائی کے حق میں قبول ہوتی ہے ۔اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جا تا ہے دعا کرنے والا جو بھی خیر کی دعا کرتا ہے فرشتہ آمین کہتا ہے ۔ میں بازار کی طرف نکل گیا وہاں پر میری ملاقات حضرت ابودرداء سے ہوگئی ۔ انہوں نے بھی مجھے ایساہی کہا ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے۔

صفوان بن عبد الله بن صفوان و كان تحته الدرداء ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أخبرناى أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9060

chevron_left Previous
1…36373839
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood