شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9037
9038 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : أنا أبو عبد الله بن يعقوب قال : نا محمد بن عبد الوهاب قال : أنا جعفر بن عون قال : أنا إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود قال : الأرواح جنود مجندة تلاقي فتشام كما تشام الخيل فما تعارف منها ائتلف و ما تناكر منها اختلف و لو أن مؤمنا جاء إلى مسجد فيه مائة ليس فيهم إلا مؤمن واحد جاء حتى يجلس مع المؤمن و لو أن منافقا جاء إلى مسجد فيه مائة ليس فيهم إلا منافق واحد جاء حتى يجلس معه أو إليه
ہمیں خبر دی ابوز کر یابن ابواسحاق نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کومحمد بن عبدالوہاب نے ان کو خبر دی جعفر بن عون نے ان کو ابراہیم ہجری نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے انہوں نے کہا کہ روحیں جمع شد و لشکر ہیں وہ باہم ملتے ہیں ۔ نیک فال یا نیک شگون لیتے ہیں جیسے گھوڑوں سے نیک شگون لیا جا تا ہے ۔ان میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں باہم محبت کر تے ہیں اور جو ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوتے وہ اختلافات کر تے ہیں ۔ اگر ایک مؤمن شخص مسجد میں آئے اور اس میں صرف ایک ہی مؤمن ہوا ایک سو میں سے تو بھی وہ اس مؤمن کے پاس بیٹھ جائے گا اور اگر کوئی منافق مسجد میں آ جائے جس میں ایک سو بندے ہوں ان میں سے ایک منافق ہوتو وہ اسی منافق کے پاس بیٹھے گا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9037
