Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9025

9026 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم قال : نا يحيى بن أبي طالب قال : أنا عبد الوهاب هو ابن عطاء قال : أنا أبو سنان عن عثمان بن أبي سودة قال : سمعت أبا هريرة غير مرة و لا مرتين يقول : من عاد مريضا أو زار أخا له في الله عز و جل ناداه مناد من السماء طلبت و طاب ممشاك و تبوأت من الجنة منزلا هذا موقوف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو عبدالوہاب ابن عطاء نے ان کو ابوسنان نے عثمان بن ابی سودہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی بار فرماتے تھے کہ جوشخص مریض کی عیادت کرے یا اپنے مسلمان بھائی سے اللہ کی رضا لئے ملاقات کرے۔ اس کو آسمان سے پکارنے والا پکار کر کہتا ہے خوش نصیب ہے تو اور مبارک ہے تیرا چل کر جانا تم نے جنت میں جگہ پکڑ لی ہے ۔ یہ روایت موقوف ہے۔

أبا هريرة غير مرة و لا مرتين ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، ← أَبُو سِنَانٍ ← عبد الوهاب هو ابن عطاء ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9025

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9026

9027 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا تمتام نا عفان نا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن عثمان بن أبي سودة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا عاد الرجل أخاه أو زاره في الله قال الله طبت و طاب ممشاك و تبوأت منزلا في الجنة و كذلك رواه يوسف بن يعقوب السدوسي عن أبي سنان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابوسنان نے ان عثمان بن ابی سودہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے اللہ کی رضا کے لئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خوش نصیب ہے تو اور مبارک ہے تیرے قدم تم نے جنت میں جگہ حاصل کر لی ہے۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے یوسف بن یعقوب سدوسی نے ابوسنان سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9026

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9027

9028 - أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ قال : أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ قراءة عليه قال : أنا الفضل بن محمد بن عبد الله بن الحارث بن سليمان الأنطاكي قال : نا عيسى بن سليمان الحجازي قال : نا خلف بن خليفة عن أبان المكتب عن أبي هاشم الرماني عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا أخبركم برجالكم من أهل الجنة : النبي في الجنة و الصديق في الجنة و الشهيد في الجنة و المولود في الجنة و الرجل يزور أخاه في ناحية من نواحي المصر لا يزوره إلا لله في الجنة قال أبو علي رواه غيره عن خلف بن خليفة و لم يذكر أبان المكتب إن كان حفظه فهو غريب جدا

ہمیں خبر دی حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالحسین بن علی حافظ نے بطور اس کہ حدیث کو پڑھنا ان کے اوپر تھاوہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے فضل بن محمد بن عبد اللہ بن حارث بن سلیمان النطا کی نے ان کو عیسیٰ بن سلیمان حجازی نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کوریان المکتب نے ان کو ابو ہاشم رمانی نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں خبر دوں تم میں سے ان لوگوں کو جنتی ہیں ۔ نبی جنت میں ہوگا ۔ صدیق جنت میں ہوگا ۔ شہید جنت میں ہوگا ۔ چھوٹا بچہ جنت میں ہوگا اور وہ آدمی جو اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کر نے کے لئے شہر کے کسی کنارے پر جا تا ہے اور محض اللہ کی رضا کے لئے اس کو ملتا ہے ۔ وہ جنت میں ہوگا ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ دیگر نے اس کونقل کیا ہے خلف بن خلیفہ سے اور انہوں نے ابان المکتب کا ذکر نہیں کیا۔ اگر اس نے بھی اس کو حفظ کیا ہے تو پھر یہ انتہائی غریب روایت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، ← أبان المكتب ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عيسى بن سليمان الحجازي ← الفضل بن محمد بن عبد الله [بن] الحارث بن سليمان الأنطاكي، ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ قراءة عليه ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9027

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9028

9029 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور الرمادي قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن قتادة عن سلمان قال : التاجر الصدوق مع السبعة في ظل عرش الله يوم القيامة و السبعة : أمام عادل و رجل دعته امرأة ذات حسن و ميسم إلى نفسها فقال : إني أخاف الله رب العالمين و رجل ذكر الله عنده ففاضت عيناه و رجل قلبه معلق بالمساجد من حبه إياها و رجل تصدق بصدقة فكان يمينه تخفى من شماله و رجل لقي أخاه فقال إني أحبك في الله و قال الآخر و أنا أحبك في الله حتى تصادرا على ذلك و رجل نشأ في الخير من هو غلام

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور ر مادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے ان کو سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ سچ بولنے والا تاجر سات شخصوں کے ساتھ ہوگا قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے اور وہ سات یہ ہیں ۔ امام عادل اور وہ شخص جس کو ایسی عورت برائی کی دعوت دیتی ہے جو خوبصورت ہے صاحب حسن و جمال ہے مگر وہ شخص کہتا ہے کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور اس کی آنکھیں بہنے لگتی ہیں اور وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لٹکا ہوا ہے مسجد کی محبت کی وجہ سے اور وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے اس کو چھپالے اور وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے اس کو چھپا لے اور وہ آدمی جو اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں اللہ کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں اور دوسرا بھی یہی کہتا ہے کہ میں بھی تم سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں دونوں اس بات میں ایک دوسرے کی موافقت کرتے ہیں اور وہ آدمی جو جنت میں پرورش پاتا ہے بچپن سے لے کر جوانی تک ۔

سَلْمَانَ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9028

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9029

9030 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : أنا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن إسحاق عن أبي الأحوص عن ابن مسعود قال : إن من الإيمان أن يحب الرجل أخاه لا يحبه إلإ لله و فيه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو خبر دی احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوالاحوں نے ان کو ابن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک ایمان میں سے ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے محبت کرے اور اس سے محبت اللہ واسطے کرے اور اللہ کی راہ میں کرے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إِسْحَاقُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9029

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9030

9031 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب قال : نا محمد بن عبد الوهاب قال : أنا يعلى بن عبيد قال : حدثني و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب املاء قال : نا عبد الله بن هلال بن الفرات قال : نا أحمد بن أبي الحواري قال : نا حفص بن غياث عن فضيل بن غزوان الضبي قال : لقيني أبو إسحاق الشبيعي فقال لي : إني و الله لأحبك و لولا الحياء لقبلتك فقال أبو إسحاق نا أبو الأحوص عن عبد الله أن هذه الآية نزلت في المتحابين في الله { لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما ألفت بين قلوبهم و لكن الله ألف بينهم إنه عزيز حكيم } لفظ حديث حفص تابعهما محمد بن فضيل عن أبيه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلی بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے فضیل بن غزوان نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن ہلال بن فرات نے ان کو احمد بن الخواری نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو فضیل بن غزوان نے وہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق شعبی مجھے ملے تھے انہوں نے کہا بے شک میں اللہ کی قسم آپ سے محبت کرتا ہوں اور اگر شرم و حیا نہ ہوتی تو میں آپ کو بوسہ دے دیتا۔ابواسحاق نے کہا ہمیں خبر دی ابوالاحوص نے ان کو عبداللہ نے کہ یہ آیت اللہ کے راستے میں محبت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما ألفت بين قلوبهم و لكن الله ألف بينهم إنه عزيز حكيم اگر آپ و ہ سب کچھ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین پر ہے تو بھی آپ ان کے دلوں میں محبت نہیں پیدا کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں محبت پیدا کی ۔ بے شک وہ غالب حکمت والا ہے ۔یہ الفاظ حفص کی حدیث کے ہیں۔ محمد بن فضیل نے اپنے والد سے ان دونوں کا متابع بیان کیا ہے۔

فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ هِلَالِ بْنِ الْفُرَاتِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9030

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9031

9032 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران قالا أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا سعدان بن نصر قال : نا سفيان عن إبراهيم بن ميسرة عن طاووس قال : سمعت ابن عباس يقول : إن الرحم يقطع و إن النعم تكفر و لم نر مثل تقارب القلوب

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے اور ابوالحسین بن بشران نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو ابراہیم بن میسرہ نے ان کو طاؤس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک رشتے کٹ جاتے ہیں اور بے شک احسانات کی ناشکریاں کی جاتی ہیں اور جبکہ ہم نے دو دلوں کے باہم قرب کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9031

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9032

9033 - و رويناه عن ابن طاووس عن أبيه و زاد ثم قرأ ابن عباس : ـ { لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما ألفت بين قلوبهم و لكن الله ألف بينهم إنه عزيز حكيم }

اور ہم نے روایت کی ہے ابن طاؤس سے اس نے اپنے والد سے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:لو انفقت مافی الارض جميعاً ما الفت بين قلوبهم ولكن الله الف بينهم کہ اگر اس ساری زمین پر جو کچھ ہے خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہیں کر سکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کی ۔

ابْنِ طَاوُوسٍ ← و رويناه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9032

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9033

9034 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا علي بن بشر الصوفي القزويني في منزلنا قال : نا أبو عبد الله محمد بن الحسن القنديلي الاسترابادي قال : نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن النعمان الصفار قال : نا ميمون بن الحكم قال : نا بكر بن الشرود عن محمد بن مسلم الطائفي عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس عن ابن عباس قال : قرابة الرحم تقطع و منة النعم تكفر و لم نر مثل تقارب القلوب يقول الله عز و جل : { لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما ألفت بين قلوبهم } و ذلك موجود في الشعر : ( إن أتت ذوي القربى عليك لرحمة فغشك و استغنى فليس بذي رحم ) ( و لكن ذا القربى الذي إن دعوته أجاب و من يرمى العدو الذي ترمي ) ومن ذلك أيضا قول القائل : ( و لقد صبحت الناس ثم سبرتهم و بلوت ما وصلوا من الأسباب ) ( فإذا القرابة لا تقرب قاطعا و إذا المودة أقرب الأنساب ) هكذا وجدته موصولا بقول ابن عباس و لا أدري قوله و ذلك موجود في الشعر من قوله أو من قول من مر من هؤلاء الرواة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن بشیر صوفی قزوینی نے ہمارے گھر میں وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو عبد اللہ محمد بن حسین قند یلی استر آبادی نے ان کو ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن نعمان صفار نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو میمون بن حکم نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو بکر بن شرور نے ان کواحمد بن سلم طائفی نے ان کو ابراہیم بن میسرہ نے طاؤس سے اس نے ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں کہ رشتے داری ٹوٹ جاتی ہے اور انعام واحسانات کی ناشکری کی جاتی ہے لیکن دلوں کے باہمی قرب کی مثل ہم نے کوئی شے نہیں دیکھی ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں: لو انفقت مافی الارض جميعاً ما الفت بين قلوبهم اور مضمون شعر میں بھی موجود ہے۔ جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ جب تیرے پاس قرابت دار تیرے پاس تیری شفقت کے طالب ہو کر آئیں اور آس لگائیں مگر تیری ذات سے لا پرواہ ہوں تو یہ حقیقت میں رشتہ دار نہیں ہے ۔لیکن اصلی قرابت دار وہ ہے کہ تم جب اس کو پکارو تو وہ تمہاری پکار پر بھاگ کر آئے اور جو تیرے ساتھ مل کر دشمن کو تیر مارے جس کو آپ تیر مار یں ۔ اور اسی قبیل کا ایک قول ہے جو کسی نے کہا ہے ۔ جس کا مفہوم بھی اسی طرح ہے۔ تحقیق آپ لوگوں کے ساتھ مصاحبت رکھتے ہیں ۔ پھر آپ ان سے عار کر تے ہیں ۔ پھر آپ ان کی دوستی کے معیار کوآزماتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرابت داری اور رشتہ داری قابل یقین و قابل بھروسہ نہیں رہتی جبکہ محبت نسبی رشتوں سے قریب تر ثابت ہوتی ہے۔ میں نے اس قول کو اس طرح موصول پایا ہے ابن عباس کے قول کے ساتھ ۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ قول انہیں کا ہے ۔ بہر حال یہ موجود ہے شعر میں ۔ان کا قول ہے یا مذکورہ راویوں میں سے کسی کا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← بَكْرُ بْنُ الشَّرُودِ ← مَيْمُونُ بْنُ الْحَكَمِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن النعمان الصفار ← أبو عبد الله محمد بن الحسن القنديلي الاسترابادي ← علي بن بشر الصوفي القزويني في منزلنا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9033

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9034

9035 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا علي بن محمد الحبيبي قال : حدثني أبو عبد الله محمد بن الحسين الكوكبي قال : حدثني إلياس بن سلمة المؤدب قال : كتب أبو رفاعة أحمد بن محمد بن النضر إلى جعفر بن يحيى البرمكي : أما بعد فإن الكرم أعطف من الرحم و هو أقر عند الكريم وسيلة القرابة القريبة ألا ترى إن الكريم كيف يجدي عليك و إن كان بعيدا و اللئيم ما ينفعك و إن كان قريبا فالكرم سبب من الكرام موصول يرتعون إليه و يتعاطفون عليه و هو أقوى الأسباب و أقرب الأنساب و إنما عظمت القرابة لعطفها فأقرب الناس إليك أعطفهم عليك و لذلك أقول : ( و لقد صحبت الناس ثم سبرتهم و بلوت ما وصلوا من الأسباب ) ( فإذا القرابة لا تقرب قاطعا و إذا المودة أقرب الأنساب )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد حبیبی نے ان کو حدیث بیان کی ابو عبد اللہ محمد بن حسین کو کہی نے ان کو الیاس بن سلمہ ادیب نے وہ کہتے ہیں کہ ابور فاعد احمد بن محمد بن نضر نے جعفر بن یحییٰ برمکی کولکھا ۔ اما بعد! بے شک شرافت و مہربانی خونی رشتوں سے زیادہ عز یزہوتی ہی اور وہ شر یک انسان کے نزدیک قریبی رشتہ داری سے زیادہ قریبی وسیلہ اور قریبی ذریعہ ہوتی ہے ۔ کیا آپ دیکھتے ہیں کہ ایک شریف دوست تیرے اوپر کیسے جان دیتا ہے اگر چہ وہ رشتے کے اعتبار سے بعید بھی ہواور کمینہ خصلت انسان آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا تا اگر چہ وہ قریب تر ہور شتے میں ۔ پس شرافت و مہر بانی شرفاء کی طرف سے ایک تعلق ہے کہ ایک رسی ہے جو جڑی ہوئی ہے ان سے ۔ وہ جس کی طرف خوش ہور جوع کرتے ہیں اور با ہم مہربانی کرتے ہیں اور وہ قوی ترین ذریعہ ہے اور نسبوں سے زیادہ قریب ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ قرابت عظیم بنتی ہے اپنی شفقت و مہربانی کی وجہ سے اور تیری طرف نسبت لوگوں سے قریب تر وہ ہے جو تجھ پر سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ہواور اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں کے ساتھ دوستانہ کرتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ ان پر اعتمادنہیں کرتے بلکہ ان کو فرماتے ہیں کہ وہ تعلق اور دوستی کے کس معیار پر ہیں جس وقت قرابت یقینی طور پر قرابت ثابت نہیں ہوتی جبکہ دوستی نسبی رشتوں سے زیادہ قریب ثابت ہوتی ہے ۔

إلياس بن سلمة المؤدب ← أبو عبد الله محمد بن الحسين الكوكبي ← علي بن محمد الحبيبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9034

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9035

9036 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنشدني عبد الله بن أحمد الشيباني قال : أنشدنا أبو علي الحسين بن حمدون و كان أديبا بليغا : ـ ( إني بلوت الناس ثم سبرتهم و عرفت ما فعلوا من الأسباب ) ( فإذا القرابة لا تقرب قاطعا و إذا المودة أقرب الأنساب )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے شعر سنائے عبداللہ بن احمد شیبانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے ابوعلی حسین بن حمدون نے جو کہ ادیب تھے بلیغ تھے ۔ بے شک میں لوگوں کو آزما تا ہوں پھر میں ان کو جانچتا ہوں اور جان لیا کہ انہوں نے کیا کیا تعلقات نبھائے ہیں جس وقت رشتہ داری یقینی طور پر قریب نہیں ہوتی ۔ جبکہ دوستی سب سے زیادہ قریبی تعلق ثابت ہوتی ہے۔

أنشدني عبد الله بن أحمد الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9035

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9036

9037 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عبد الله بن جعفر الفارسي قال : نا يعقوب بن سفيان و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي القاضي قالا نا إبراهيم بن الحسين قال : نا سعيد بن أبي مريم قال : نا يحيى بن أيوب قال : حدثني يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأرواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف و ما تناكر منها اختلف أخرج البخاري في الصحيح فقال : و قال يحيى بن أيوب و أخرجه مسلم من حديث أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبد بن جعفر فارسی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن حسن اسدی قاضی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابراہیم بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو سعید بن ابومریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سعید نے ان کو عمرہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاز وجہ رسول نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روحیں جمع شد و شکر ہیں ان میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور جو ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوتی و محبت نہیں کرتے ۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں اور کہا یحییٰ بن ایوب نے اور نقل کیا اس کو مسلم نے ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← يعقوب بن سفيان و ← عبد الله بن جعفر الفارسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9036

chevron_left Previous
1…343536…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood