Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9013

9014 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ قال نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال نا أحمد بن محمد بن عيسى قال : نا موسى بن إسماعيل و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه قال : أنا محمد بن حيان الأنصاري قال : نا أبو الوليد و موسى بن إسماعيل قالا نا همام بن يحيى عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال : حدثني شيبة الحضرمي أنه شهد عروة بن الزبير يحدث عمر بن عبد العزيز عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث احلف عليهم لا يجعل الله من له سهم في الإسلام كمن لا سهم له و سهام الإسلام الصوم و الصلاة و الصدقة و لا يتولى الله عبدا فيوليه غيره يوم القيامة و لا يحب رجل قوما إلا جاء معهم و الرابعة إن حلفت عليها رجوت أن لا آثم ما لا يستر الله على عبد في الدنيا إلا ستر الله عليه في الآخرة فقال عمر بن عبد العزيز إذا سمعتم مثل هذا الحديث يحدث به عن عروة عن عائشة فاحفظوه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰنے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی موسیٰ بن اسماعیل نے ۔اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے محمد بن حیان انصاری نے ان کو ابو الولید اور موسیٰ بن اسماعیل نے دونوں نے کہا ان کو ہمام بن یحییٰ نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے شیبہ حضری نے کہ وہ عروہ بن زبیر کے پاس حاضر ہوئے ۔ وہ حدیث بیان کر رہے تھے عبید بن عبدالعزیز سے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ تین چیز یں ہیں ۔ میں ان پر قسم کھا تا ہوں جس کا اسلام میں ایک معتد بہ حصہ ہے اللہ اس کو اس شخص جیسا نہیں کرے گا جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسلام کے حصے روزہ نماز اور صدقہ ہے ۔ اللہ جس سے دنیا میں دوستی کرے آخرت میں بھی اس سے دوستی رکھے گا ۔ اس کومحروم نہیں کرے گا اور جوشخص مجن لوگوں سے محبت کرے گا قیامت میں بھی ان کے ساتھ آئے گا اور چوتھی چیز ہے اگر میں اس کے قسم کھالوں تو میں امید کرتا ہوں کہ میں گنہگار نہیں ہوں گا اللہ تعالیٰ دنیامیں جس پر پردہ ڈالے گا آخرت میں بھی اس پر پردہ ڈالے گا اس کو رسوا نہیں کرے گا۔عمر بن عبدالعزیز نے کہا جب تم لوگ اس حد بیٹ جیسی حدیث سنو کہ اس کو عر وہ حد بیث بیان کر تے ہیں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پس اس کو محفوظ کرلو۔

عَائِشَةَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← شيبة الحضرمي أنه شهد عروة بن الزبير ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أبو الوليد و موسى بن إسماعيل ← محمد بن حيان الأنصاري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← موسى بن إسماعيل و ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9013

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9014

9015 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : حدثني أبو سعيد المؤذن قال : نا رنجويه بن محمد قال : نا محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول : قال رجل لابن واسع إني أحبك في الله قال : فقال ابن واسع اللهم إني أعوذ بك أن أحب لك و أنت لي ماقت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابوسعید مؤذن نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے رنجو یہ بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ان کومحمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن واسع سے کہامیں تم سے محبت کرتا ہوں اللہ کے لئے کہتے ہیں کہ ابن واسع نے فرمایا: اللهم انی اعوذبک ان احب لك وانت لی ماقت اے اللہ میں تم سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے لئے کسی سے محبت کروں اور حالانکہ تو مجھ سے ناراض ہو ۔

رجل لابن واسع إني أحبك في الله ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← رنجويه بن محمد ← أبو سعيد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9014

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9015

9016 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي من أصل سماعه قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا محمد بن إسحاق الصنعاني قال : نا داود بن نوح أبو سليمان الأشقر قال : نا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن الحارث الدماري عن القاسم عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما أحب عبد عبدا لله عز و جل إلا أكرم به

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن حسن نے اور ابوعبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف موسیٰ نے اپنے اصل سماع سے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کے داؤد بن نوح ابوسلیمان اشقر نے وہ کہتے ہیں کہ بیان کیا اسماعیل بن عیاش نے ان کو یحییٰ بن حارث ذماری نے ان کو قاسم نے ان کو ابوامامہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کوئی بندہ جب کسی بندے کو اللہ واسطے محبوب رکھتا ہے اس کی وجہ سے اس کو عزت ملتی ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← يحيى بن الحارث الدماري ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← داود بن نوح أبو سليمان الأشقر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9015

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9016

9017 - و أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الرحمن السراج قال : أنا أبو محمد القاسم بن غانم بن حمويه الطويل قال : نا أبو عبد الله البوشنجي قال : نا عمرو بن الحصين قال : نا ابن علاثة قال : نا يحيى بن الحارث عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أحب عبد عبدا في الله عز و جل إلا أكرمه الله و إن من إكرام الله إكرام ذي الشيبة المسلم والإمام المقسط و حامل القرآن غير الغالي فيه و لا الجافي و لا المستكثر به

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن محمد بن عبدالرحمن سراج نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابومحمد قاسم بن غانم بن حمویہ طویل نے ان کو ابوعبداللہ بو شنجی نے ان کو عمرو بن حصین نے ان کو ابن علاثہ نے ان کو یحییٰ بن حارث نے ان کو قاسم بن عبد الرحمٰن نے ان کو ابوامامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی بندہ کسی بندے سے اللہ واسطے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا اکرام کرتا ہے اور اللہ کے اکرام میں سے ہے بڑھاپے والے مسلمان کا اکرام بھی اور عادل حکمران کا اکرام اور حامل قرآن جو اس میں غلو نہیں کرتا اور اس میں جفا نہیں کرتا اور اس کے ذریعہ مال نہیں کما تا اس کا اکرام ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن الحارث ← ابن علاثة ← عمرو بن الحصين ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو محمد القاسم بن غانم بن حمويه الطويل، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الرحمن السراج ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9016

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9017

9018 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا إبراهيم بن مرزوق قال : أنا أبو داود قال شعبة عن أبي يلج و هو يحيى بن أبي سليم قال : سمعت عمرو بن ميمون يحدث عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سره أن يجد حلاوة الإيمان فليحب المرء لا يحبه إلا لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابویلج نے ان کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمرو بن میمون سے وہ حدیث بیان کر تے ہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کی چاشنی اور مزہ پائے وہ کسی انسان سے بے لوث اللہ واسطے محبت کرے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أبي يلج و هو يحيى بن أبي سليم ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9017

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9018

9019 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو الحسن بن منصور قال : نا محمد بن منصور قال : نا محمد بن يحيى بن سليمان قال : نا علي بن عاصم بن علي قال : نا شعيب عن يحيى بن أبي سليم عن عمرو : فذكره و قال : طعم الإيمان

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن ابن منصور نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی محمد بن منصور نے ان کو محمد بن یحییٰ بن سلیمان نے ان کو علی بن عاصم بن علی نے ان کو شعیب نے ان کو یحییٰ بن ابی سلیم نے ان کو عمرو نے اس نے اس روایت کو ذکر کیا ہے اور اس لفظ طعم الایمان ذکر کیا ہے۔

طعم الإيمان ← عمرو فذكره و ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ← شُعَيْبٌ، ← علي بن عاصم بن علي ← محمد بن يحيى بن سليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9018

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9019

9020 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا ابن أبي قماش قال : نا عاصم قال : نا شعبة عن أبي بلج قال : ونا عمرو بن عون قال : نا هشيم عن أبي بلج عن ميمون بن مهران عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أراد أن يصيب حقيقة الإيمان فليحب المرء لا يحبه إلا في الله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابی قماش نے ان کو عاصم نے ان کو شعبہ نے ان کو ابویلج نے ان کو میمون بن مہران نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص یہ چا ہے کہ ایمان کی حقیقت کو پالے اس کو چاہئے کہ وہ آدمی سے محبت کر ے محض اللہ واسطے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبِي بَلْجٍ ← هُشَيْمٌ ← ونا عمرو بن عون ← أَبِي بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9019

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9020

9021 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا جعفر بن أحمد بن عاصم الدمشقي قال : نا هشام بن عمار قال : نا صدقة و ابن شعيب قالا نا يحيى بن الحارث عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة الباهلي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحب لله و أبغض لله و أعطى له ومنع له فقد استكمل الإيمان و إن من أقاربكم إلي أحاسنكم أخلاقا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن عبید نے ان کو جعفر بن احمد عاصمہ دمشقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن شعیب نے ان کو یحییٰ بن حارث نے ان کو قاسم بن عبد الرحمٰن نے ان کو ابوامامہ باہلی نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص اللہ واسطے محبت کرے اور اللہ والے بغض رکھے اور اللہ واسطے دے اور اللہ واسطے نہ دے اس نے ایمان کی تکمیل کر لی ۔ بے شک تم میں سے میرے قریب تر و ولوگ ہیں جو تم میں سے سب سے بہتر اخلاق کے حامل ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن الحارث ← صدقة و ابن شعيب ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جعفر بن أحمد بن عاصم الدمشقي، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9020

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9021

9022 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : أنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد القطان قال : نا إسماعيل يعني ابن الفضل البلخي قال : نا المعافي يعني ابن سليمان الحراني قال : نا حكيم بن نافع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن عبدين تحابا في الله عز و جل في المشرق و آخر في المغرب لجمع الله بينهما يوم القيامة يقول هذا الذي كنت تحبه في

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابو سہل احمد بن محمد بن عبداللہ بن زیاد قطان نے ان کو خبر دی اسماعیل نے یعنی ابن الفضل بلخی نے ان کو معانی یعنی ابن سلیمان حرانی نے ان کو حکیم بن نافع نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریر ورضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر دو بندے اللہ کے لئے باہم محبت کر تے ہوں ایک مشرق میں رہتا ہواور دوسرا مغرب میں تو اللہ تعالی ٰقیامت کے دن ان دونوں کو جمع کرے گا فرمائےگایہ ہے وہ جس سے تم محبت کر تے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← حكيم بن نافع ← المعافي يعني ابن سليمان الحراني ← إسماعيل يعني ابن الفضل البلخي ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9021

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9022

9023 - أخبرنا أبو علي الروذباري قال : نا أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الهمداني قال : نا إبراهيم بن الحسين قال : نا أبو توبة الحلبي قال : نا مسلمة بن علي بن خلف الخشني عن عبيد الله عمر عن نافع عن ابن عمر قال : رآني النبي صلى الله عليه و سلم و أنا ألتفت فقال : ما لك تلتفت ؟ قلت أخيت رجلا قال : إذا أحببت رجلا فاسأله عن اسمه و اسم أبيه فإن كان غائبا حفظته و إن كان مريضا فعدته و إن مات شهدته تفرد به مسلمة بن علي عن عبيد الله و ليس بالقوي

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابواحمد قاسم بن ابی صالح ہمدانی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوتو حلبی نے ان کو مسلمہ بن علی بن خالق خشنی نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں محبت و التفات کرتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہوا تم بار بار متوجہ ہوتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں نے ایک آدمی کے ساتھ بھائی چارہ کرلیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی بندے سے محبت کرو تو اس کا نام پوچھو اس کے والد کا نام پوچھو۔ پھر وہ اگر موجود نہ ہو تواس کی حفاظت کرو اور اگر مریض ہوتو اس کی عیادت کرواوراگر اس کا انتقال ہو جائےتو وہاں حاضر ہو جاؤ۔

إذا أحببت رجلا فاسأله ← ما لك تلتفت قلت أخيت رجلا ← أَلْتَفِتُ، ← رآني النبي صلى الله عليه و سلم و ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبيد الله عمر ← مسلمة بن علي بن خلف الخشني ← أبو توبة الحلبي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الهمداني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9022

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9023

9024 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : أنا العباس بن مزيد قال : أخبرني أبي قال : أنا عثمان بن عطاء عن أبيه عن الحسن عن أبي رزين : أنه قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلك على ملاك هذا الأمر الذي تصيب به خير الدنيا و الآخرة عليك بمجالس أهل الذكر و إذا خلوت فحرك لسانك ما استطعت بذكر الله و أحب في الله و أبغض في الله يا أبا رزين هل شعرت أن الرجل إذا خرج من بيته زائرا أخاه شيعه سبعون ألف ملك كلهم يصلون عليه و يقولون ربنا إنه وصل فيك فصله فإن استطعت أن تعمل في جسدك في ذلك فافعل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن فرید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عثمان بن عطاء نے اپنے والد سے اس نے حسن سے اس نے ابورزین سے ان کو، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا میں تجھے اس امر کا خلاصہ اور نچوڑ نہ بتادوں جس کے ساتھ تم دنیا اور آخرت کی خیر پا سکو ۔ لہذا اہل ذکر کی محافل کو لازم پکڑواور جس وقت تم سب سے علیحدہ ہو جاؤ تو اپنی زبان کو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے ذکر کے ساتھ حرکت دو اور اللہ کی محبت میں محبت کرواور اللہ کی نافرمانی میں بغض رکھو۔اے ابورزین کیا تم سمجھتے ہو کہ آدمی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اپنے بھائی کو ملنے کے لئے تو ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرتے ہیں سب کے سب اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب اس نے اپنی جدائی کو تیری رضا کے لئے وصل سے ہم آہنگ کیا ہے۔ پس بے شک تو ہی طاقت رکھتا ہے کہ تو اس کے وجود کو اس چیز میں استعمال کرے تو ضرور ایسے ہی کر ۔

أَبِي رَزِينٍ أَنَّهُ ← الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← أَبِي ← العباس بن مزيد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9023

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9024

9025 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : نا أبو أحمد بن عدي قال : نا عبد الله بن محمد بن سلم قال : نا هاشم بن عمار قال : نا سعيد بن يحيى قال : نا أبو حمزة الثمالي عن أبي إسحاق السبعي عن الحارث عن علي : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من زار أخاه في الله تبارك و تعالى لا لغيره التماس موعود الله وتنجزأ ما عند الله وكل الله به سبعين ألف ملك ينادونه من خلفه حتى يرجع إلى بيته ألا طبت و طابت لك الجنة تفرد به أبو حمزة عن أبي إسحاق

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن سلم نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہاشم بن عمار نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے سعید بن یحییٰ نے ان کو ابو حمز ہ ثمالی نے ان کو ابو اسحٰق سبعی نے ان کو حارث نے ان کوعلی رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص اللہ کی رضا کے لئے اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کر ے غیر اللہ کی رضا کے لئے نہیں ۔ اللہ کے وعدے کی مہلت میں اور اللہ کے پاس جو انعام ہے اس کے حصول کے لئے اللہ تعالی ٰاس کے ساتھ ستر ہزارفرشتے مقرر کر دیتے ہیں جو اس کو پیچھے سے پکارتے ہیں۔ یہاں تک کہ واپس گھر کی طرف لوٹ آئے۔ خبر دار پاکیزہ ہے تو اور مبارک ہو تجھے جنت۔ اس روایت کے ساتھ ابوحمز ہ ابواسحاق سے منفرد ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أبي إسحاق السبعي ← أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ← هَاشِمُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9024

chevron_left Previous
1…333435…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood