شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9001
9001 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور الرمادي قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن ابن أبي حسين عن شهر بن حوشب عن أبي مالك الأشعري قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ قال : إن لله عبادا ليسوا بأنبياء و لا شهداء يغبطهم الأنبياء و الشهداء بقربهم من الله يوم القيامة و قام في ناحية القوم أعرابي فجئنا على ركبتيه و رمى بيديه فقال : حدثنا يا رسول الله عنهم من هم ؟ قال : فرأيت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم البشر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هم عباد من عباد الله من بلدان شتى و قبائل شتى من شعوب القبائل لم يكن بينهم أرحام يتواصلون بها و لا دنيا يتباذلون بها يتحابون بروح الله يجعل الله وجوههم نورا و يجعل لهم منابر من لؤلؤ يفزع الناس و لا يفزعون و يخاف الناس و لا يخافون
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ، ان کو احمد بن منصور ر مادی نے ان کو عبد الرزاق نے ، ان کو معمر نے ، ان کو ابن ابوحسین نے شہر بن حوشب سے، اس نے ابو مالک اشعری سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا۔ بے شک اللہ کے کچھ ایسے بند ہے ہوں گے نہ ہی وہ انبیاء ہوں گے اور نہ ہی وہ شہید ہوں گے ۔ انبیا ء اور شہداء قیامت کے دن ان کے اللہ سے قرب کے سبب ان پر رشک کر یں گے ۔ لوگوں کے کونے سے ایک دیہاتی کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس نے چھوڑ دیئے اور اس نے کہا ہم لوگوں کو بتائیے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کون ہوں گے؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھا کہ وہ خوش ہور ہے ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ اللہ کے بندوں میں سے ہوں گے ۔ مختلف شہروں اور مختلف قبائل سے اور قبیلوں کی مختلف شاخوں سے ۔ ان کے مابین کوئی رشتے ناتے نہیں ہوں گے جن کو وہ ملارہے ہوں گے اور نہ ہی کوئی دولت ہوگی جس کو وہ ایک دوسرے پر خرچ کر یں گے بلکہ وہ محض اللہ کی رحمت سے ایک دوسرے سے محبت کر یں گے ۔ اللہ ان کے چہروں کو روشن بنادے گا اور ان کے لئے موتیوں کا منبر بنائےگا۔ لوگ گھبرائیں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گےمحض اورلوگ ڈریں گے اور وہ نہیں ڈریں گے۔
كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9001
