Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9001

9001 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور الرمادي قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن ابن أبي حسين عن شهر بن حوشب عن أبي مالك الأشعري قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ قال : إن لله عبادا ليسوا بأنبياء و لا شهداء يغبطهم الأنبياء و الشهداء بقربهم من الله يوم القيامة و قام في ناحية القوم أعرابي فجئنا على ركبتيه و رمى بيديه فقال : حدثنا يا رسول الله عنهم من هم ؟ قال : فرأيت في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم البشر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هم عباد من عباد الله من بلدان شتى و قبائل شتى من شعوب القبائل لم يكن بينهم أرحام يتواصلون بها و لا دنيا يتباذلون بها يتحابون بروح الله يجعل الله وجوههم نورا و يجعل لهم منابر من لؤلؤ يفزع الناس و لا يفزعون و يخاف الناس و لا يخافون

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ، ان کو احمد بن منصور ر مادی نے ان کو عبد الرزاق نے ، ان کو معمر نے ، ان کو ابن ابوحسین نے شہر بن حوشب سے، اس نے ابو مالک اشعری سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا۔ بے شک اللہ کے کچھ ایسے بند ہے ہوں گے نہ ہی وہ انبیاء ہوں گے اور نہ ہی وہ شہید ہوں گے ۔ انبیا ء اور شہداء قیامت کے دن ان کے اللہ سے قرب کے سبب ان پر رشک کر یں گے ۔ لوگوں کے کونے سے ایک دیہاتی کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس نے چھوڑ دیئے اور اس نے کہا ہم لوگوں کو بتائیے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کون ہوں گے؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھا کہ وہ خوش ہور ہے ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ اللہ کے بندوں میں سے ہوں گے ۔ مختلف شہروں اور مختلف قبائل سے اور قبیلوں کی مختلف شاخوں سے ۔ ان کے مابین کوئی رشتے ناتے نہیں ہوں گے جن کو وہ ملارہے ہوں گے اور نہ ہی کوئی دولت ہوگی جس کو وہ ایک دوسرے پر خرچ کر یں گے بلکہ وہ محض اللہ کی رحمت سے ایک دوسرے سے محبت کر یں گے ۔ اللہ ان کے چہروں کو روشن بنادے گا اور ان کے لئے موتیوں کا منبر بنائےگا۔ لوگ گھبرائیں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گےمحض اورلوگ ڈریں گے اور وہ نہیں ڈریں گے۔

كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9001

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9002

9002 - أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا محمد بن علي الوراق قال : نا عبد الله بن مسلمة قال : نا حماد بن أبي حميد عن موسى بن وردان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ح و أخبرنا أبو الحسن المقري قال أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر قال : نا حميد بن الأسود قال : نا محمد بن أبي حميد قال : حدثني موسى بن وردان قال : سمعت من أبي هريرة قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة لعمدا من ياقوت عليها غرف من زبرجد لها أبواب مفتحة تضيء كما يضيء الكوكب الدري قالوا يا رسول الله من يسكنها ؟ قال المتحابون في الله و المتجالسون في الله و المتلاقون في الله و في رواية الروذباري فقلنا يا رسول الله و الباقي سواء

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو عبد اللہ بن مسلم نے ان کو حماد بن ابوحمید نے ان کو موسیٰ بن وردان نے ان کو ابو ہریر ورضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ح ) ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو حمید بن اسود نے ان کو محمدبن ابی حمید نے ان کو موسیٰ بن وردان نے انہوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ انہوں نے فرمایا :بے شک جنت کے اندر کچھ یاقوت کے ستون ہیں اور ان کے اوپر زبر جد کے بنے ہوئے کمرے ہیں جن کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔وہ ایسے روشن ہیں جیسے روشن ستارہ روشنی کرتا ہے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے اندر کون رہے گا ؟ فرمایا کہ اللہ کے لئے محبت کرنے والے ۔اللہ تعالیٰ کے لئے مجلسیں قائم کرنے والے اور اللہ کے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے اور روذ باری روایت میں ہے ہم نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور باقی برابر ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9002

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9003

9003 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا عمرو بن مرزوق قال : أنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان من كان الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه و أن يحب الرجل العبد لا يحبه إلا لله أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ،ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں جس کے اندر ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پالیتا ہے۔ جس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول ماسوائے زیادہ محبوب ہو اور کفر کی طرف لوٹ جانے سے اس کو آگ میں جل جانا زیادہ محبوب ہو اس کے بعد کہ اللہ نے جب اس کو اس سے بچالیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ بندہ کسی بندے سے محبت کرے محض اللہ کی رضا کے لئے۔ بخاری ومسلم نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے حدیث شعبہ سے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9003

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9004

9004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر بن إسحاق إملاء قال : أنا صالح بن محمد الرازي قال : نا عبد الأعلى بن حماد قال : نا حماد بن سلمة عن ثابت بن أبي رافع عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن رجلا زار أخا له في قرية فأرصد الله على مدرجته ملكا فلما أتى عليه قال : أين تريد ؟ قال : أريد أخا لي من هذه القرية فقال له هل عليك من نعمة تربها قال : لا غير أني أحببته في الله قال : فإني رسول الله إليك بأن الله عز و جل قد أحبك كما أحببته فيه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے بطور املاء کے ۔ ان کوخبر دی صالح بن محمد رازی نے ان کو عبدالاعلیٰ بن حماد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بن ابی رافع نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے کہ ایک آدمی نے اپنے اس بھائی سے ملاقات کی جو ایک بستی میں رہتا تھا۔ اللہ تعالی ٰنے اس کے لئے ایک فرشید مقرر کر د یا وہ جب بھائی کی طرف آ یا تو فرشتہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس بستی میں میرا بھائی رہتا ہے ۔ میں اس کو ملنا چاہتا ہوں ۔ اس نے پو چھا کیا اس کا تمہارے او پر کوئی احسان ہے جس کا تم بدلہ اتارتے ہو ۔ اس نے کہانہیں کوئی احسان نہیں ۔ صرف اتنی بات ہے کہ میں اس کے ساتھ اللہ واسطے محبت کرتا ہوں۔ اس فرشتے نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا نمائند ہ ہوں تیری طرف کہ اللہ تعالی ٰتم سے ایسے محبت کرتا ہے جیسے تم اپنے بھائی سے محبت کر تے ہواللہ کے لئے۔

لا، غير أني أحْبَبْتُه في الله، ← له هل عليك من نعمة تربها ← أريد أخا لي من هذه القرية ← أين تريد ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثابت بن أبي رافع ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9004

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9005

9005 - و أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد المحمدأباذي قال : نا أبو طاهر المحمد أباذي قال : نا عثمان بن سعيد الدرامي قال : نا سليمان بن حرب قال : نا حماد بن زيد عن ثابت : فذكره بإسناده و معناه غير أنه قال : عن نبي الله و لم يذكر قوله فلما أتى عليه قال : من نعمة قال لا إني أحبه في الله رواه مسلم في الصحيح عن عبد الأعلى بن حماد

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالخیر جامع بن احمد محمد آبادی نے وہ کہتے ہیں ابو طاہر حمد آبادی نے کہا ان کو خبر دی ہے عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ثابت نے ان کو اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے اس مذکور کے مفہوم کے ساتھ ۔ علاوہ از یں اس نے یہ کہا ہے عن نبی اللہ اور یہ قول بھی اس نے ذکر نہیں کیا کہ جب وہ شخص بھائی کی طرف آیا تو فرشتے نے کہا کہ احسان ہے ۔ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اللہ کے واسطے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عبدالاعلی ٰبن حماد سے ۔

عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← لا إني أحبه في الله رواه مسلم في الصحيح ← من نعمة ← نبي الله و لم يذكر قوله فلما أتى عليه ← ثابت فذكره بإسناده و معناه غير أنه ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أبو الخير جامع بن أحمد المحمداباذي ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9005

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9006

9006 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا هاشم بن القاسم نا المبارك بن فضالة نا ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : إني أحب فلانا في الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فأخبرته ؟ قال : لا قال : فأخبره قال : فلقيه بعد فقال و الله إني لأحبك في الله قال : فأحبك الذي له أحببتني تابعه عبد الله بن الزبير الباهلي و عمارة بن زاذان عن ثابت عن أنس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں فلاں آدمی سے اللہ واسطے محبت کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کو بتا دیا ہے؟ اس نے کہا نہیں ۔ فرمایا کہ تم اس کو بتا دو ۔ کہتے ہیں کہ بعد میں اس سے ملا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں صرف اللہ واسطے محبت کرتا ہوں ۔ اس نے کہا پھر تم سے وہ ذات بھی محبت کرتی ہے جس کے لئے آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔اس کا متابع بیان کیا ہے عبداللہ بن زبیر باھلی نے اور عمارہ بن زازان نے ثابت سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← هاشم بن القاسم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9006

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9007

9007 - و اختلف فيه عن حماد بن سلمة فقيل عنه عن ثابت عن حبيب بن سبيعة عن رجل حدثه : عن النبي صلى الله عليه و سلم و قيلة : عنه عن ثابت عن حبيب بن سبيعة عن الحارث عن رجل حدثه سمع النبي صلى الله عليه و سلم و قيل : غير ذلك و روى من وجه آخر عن أنس

اس میں اختلاف کیا گیا ہے حماد بن سلمہ سے کہا گیا ہے کہ مروی ہے اسی سے اور ثابت سے اس نے حبیب بن سبیعہ سے ایک آدمی سے اس نے اس کو حدیث بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے اس سے اس نے ثابت سے اس نے حبیب بن سبیعہ سے اس نے حارث سے اس نے ایک آدمی سے جس نے اس کو حدیث بیان کی ہے اس نے سنی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور علاوہ اس کے یہ بھی کہا گیا کہ ایک اور طریق سے مروی ہے حضرت انس سے ۔

أَنَسٍ، ← رَجُلٌ: ← الْحَارِثِ ← حبيب بن سبيعة ← ثَابِتٍ، ← رَجُلٌ: ← حبيب بن سبيعة ← ثَابِتٍ، ← حماد بن سلمة فقيل عنه ← و اختلف فيه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9007

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9008

9009 - أخبرنا محمد عبد الله الحافظ قال : نا أبو النصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى قال : نا صالح بن محمد البغدادي الحافظ قال : نا الأزرق بن علي أبو الجهم الحنفي قال : نا حسان بن إبراهيم الكرماني عن زهير بن محمد عن عبد الله بن عمر و موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر قال : بينما أنا جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فسلم عليه ثم ولى عنه فقلت يا رسول الله و الله إني لأحب هذا لله فقال فهل أعلمت أخاك قلت : لا قال : فأعلم ذلك أخاك فاتبعته فادركته فقلت و الله إني لأحبك لله فقال هو و أنا و الله أحبك لله قلت : لولا أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لي أن أعلمك لم أفعل

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالزھر احمد بن سہل فقیہ نے بخارا میں وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی صالح بن محمد بغدادی حافظ نے ان کو از رق بن علی ابوجہم حنفی نے ان کو حسان بن ابراہیم کرمانی نے ان کو ز ہر بن محمد نے عبداللہ بن عمر وموسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ مایہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچا نک ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ اس کے بعد وہ ان سے مڑ کر چلا گیا۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی قسم میں اس بندے سے اللہ واسطے محبت کرتا ہوں ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیاتم نے اپنے اس بھائی کو اس بات سے آگاہ کر دیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں اپنے بھائی کو آگاہ کر دے۔ چنانچہ میں اس کے پیچھے پیچھے گیا۔ میں نے اس کو پالیا اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں اللہ واسطے تجھ سے محبت کرتا ہوں ۔اس نے کہا میں بھی اللہ ہی کی قسم تجھے اللہ کے لئے پسند کرتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نہ فر مایا ہوتا کہ میں تجھے بتادوں تو میں یہ کام نہ کرتا۔

بَيْنَمَا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمر و موسى بن عقبة ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← حسان بن إبراهيم الكرماني ← الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ الْحَنَفِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ الْحَافِظُ ← أبو النصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى ← مُحَمَّدُ عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9008

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9009

9010 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن شعيب الفقيه قال نا يحيى بن محمد بن يحيى قال : عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي عن أبي عوانة عن منصور عن عبد الله بن مرة عن عبد الله بن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا احب أحدكم أخاه فليعلمه فإنه يجد له مثل الذي عنده قال أبو زكريا سألني أبو زرعة عن هذا الحديث فحدثته به

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن شعیب فقیہ نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن عبدالوہاب تھی نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو منصور نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کومحبوب اور پیارا بنا لے تو اس کو چاہئے کہ اس کو بتادے بے شک اس کے دل میں بھی ویسی ہی محبت ہو گی جیسے اس کے دل میں ہے۔ کہا ابوز کر یانے مجھ سے پوچھا ابوز عہ نے اس حدیث کے بارے میں ، میں نے اس کو یہ حدیث بیان کی ۔

هذا الحديث فحدثته به ← أبو زكريا سألني أبو زرعة ← إذا احب أحدكم أخاه فليعلمه فإنه يجد له مثل الذي عنده ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أبو حامد أحمد بن محمد بن شعيب الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9009

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9010

9011 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال نا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الأشعث بن عبد الله عن أنس بن مالك قال : مر رجل بالنبي صلى الله عليه و سلم و عنده ناس فقال رجل ممن عنده إني لأحب هذا لله فقال صلى الله عليه و سلم أعلمته ؟ قال : لا قال : قم إليه فاعلمه فقام إليه فأعلمه فقال أحبك الذي أحببتني له ثم رجع فسأله النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بما قال فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أنت مع من أحببت و لك ما احتسبت

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں کہ اس کو خبر دی احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اشعث بن عبداللہ نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے ۔ ایک آدمی نے کہا ان میں سے جو اس کے پاس بیٹھے تھے بے شک میں فلاں کو اللہ واسطے محبوب رکھتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے اس کو اس بات سے آگاہ کر دیا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ فرمایا کہ جاؤ تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ اور اس کو بتاؤ۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس گیا اور جا کر اس کو بتادیا۔ اس شخص نے کہا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے جس کے لئے تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ اس کے بعد وہ شخص واپس لوٹ آیا محفل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی جو اس شخص نے کہی تھی ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا تو اس کے ساتھ ہو جس سے تم نے محبت کی اور تجھے و ہ اجر ملے گا جو تم نے ثواب کی نیت کی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9010

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9011

9012 - و بإسناده قال أنا معمر عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن ابن مسعود قال : ثلاث أحلاف عليهن ـ و الرابع أحسب عبد الرزاق قال : لو حلفت عليها لبررت ـ لا يجعل الله من له سهم في الإسلام كمن لا سهم له و لا تولى الله عبدا في الدنيا فولاه غيره في يوم القيامة و لا يحب رجل قوما إلا جاء معهم و الرابعة لو حلفت عليها لبررت لا يستر الله على عبد في الدنيا إلا ستر عليه في الآخرة

اوراسی اسناد کے ساتھ کہا کہ ہمیں خیر دی معمر نے ابواسحاق ابوعبیدہ سے اس نے ابن مسعود سے انہوں نے فرمایا کہ تین قسمیں ہیں ان پر اور چوتھی بھی شمار کی ہے عبدالرزاق نے ۔فرمایا کہ اگر میں ان پر قسم کھالوں تو میں قسم پوری کرلوں گا ۔ جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہے اس کو اس جیسا نہیں کر یں گے جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا ہی دیتا ہی دیتا ہے جس بندے سے دوستی کرتا ہے آخرت میں بھی اس سے دوستی کرے گا اور جو آ دمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے قیامت میں ان کے ساتھ ہوگا اور جو آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے قیامت میں ان کے ساتھ ہوگا اور چوتھی ایسی بات کہ جس پر اگر میں قسم کھالوں تو میری قسم پوری ہو جائے گی جس بندے پر اللہ تعالیٰ دنیا میں عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے آخرت میں بھی اس پر پردہ ڈالے گا۔

ثلاث أحلاف عليهن و الرابع أحسب عبد الرزاق ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9011

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9012

9013 - و هذا الذي قال ابن مسعود قد روى عن علي رضي الله عنه من قوله : و روى من وجه آخر عن النبي صلى الله عليه و سلم

یہ وہ ہے جوفرمایا ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تحقیق روایت کی گئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے قول کی اور روایت کی گئی ہے دوسرے طریق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← علي من قوله و روى من وجه آخر ← ابن مسعود قد روى ← و هذا الذي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9012

chevron_left Previous
1…323334…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood