Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8989

8989 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو حامد بن بلال قال : نا أحمد بن حفص قال : نا أبي قال : نا إبراهيم بن طهمان عن مالك بن أنس عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تبارك و تعالى يوم القيامة أين المتحابون بجلالي اليوم أظلهم في ظلي يوم لا ظل إلا ظلي تفرد به إبراهيم بن طهمان عن مالك هذا الإسناد و المحفوظ عن مالك عن عبد الله بن عبد الرحمن أبي طواله كما

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابوحامد بن بلال نے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن حفص نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ابراہیم بن طہمان نے ، ان کو مالک بن انس نے ، ان کو سعید بن ابوسعید مقبری نے ،ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰقیامت کے دن فرمائیں گے کہ میرے جلال کے سبب با ہم محبت کرنے والے آج کے دن آئیں ، میں ان کو اپنے سایہ رحمت کے نیچے سایہ دوں گا جبکہ میری رحمت کے سائے کے سوا آج کوئی سایہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے ساتھ ابراہیم بن طہمان کا تفرد ہے مالک سے اس اسناد کے ساتھ اور محفوظ رہے وہ مالک سے عبد اللہ بن عبدالرحمٰن ابوطوالہ سے ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مالک بن أنس ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8989

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8990

8990 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو النضر الفقيه و أحمد بن محمد بن عبدوس ح وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قال : أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس قالا : نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن عبد الله بن عبد الرحمن عن معمر عن أبي سعيد بن يسار عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل يقول يوم القيامة : أين المتحابون بجلالي اليوم أظلهم في ظلي يوم لا ظل إلا ظلي رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن مالك و كذلك رواه فليح بن سليمان عن عبد الله بن عبد الرحمن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونصر فقیہ نے اور احمد بن محمد بن عبدوس نے ( ج ) اور ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحٰق مزکی نے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابوالحسن احمد بن محمد عبدوس نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے عثمان بن سعید نے قعبی سے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے اس نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے اس نے عمر سے اس نے ابوالحباب سعید بن یسار سے اس نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہاں ہیں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے میرے جلال کی وجہ سے میں آج ان کو اپنی رحمت کے سایہ تلے سایہ دوں گا جس دن میری رحمت کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے ،اس نے مالک سے اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے فلیح بن سلیمان نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي سعيد بن يسار ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ← أبو النضر الفقيه و أحمد بن محمد بن عبدوس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8990

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8991

8991 - و روينا عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله و رجلان تحابا في الله اجتمعا على ذلك وتفرقا عليه

اور ہم نے روایت کی ہے ابو ہریر ورضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سات شخصوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کے سائے تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا کہ ان سات میں سے وہ دو آدمی بھی ہوں گے جو محض اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کر تے ہیں ۔ اس محبت پر ملتے ہیں اور اسی محبت پر الگ ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8991

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8992

8992 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس قال : نا عثمان بن سعيد قال : نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أبي حازم بن دينار عن أبي إدريس الخولاني أنه قال : دخلت مسجد دمشق فإذا أنا بفتى براق الثنايا وإذا ناس معه إذا اختلفوا في شيء أسندوه إليه وصدروا عن رأيه فسألت عنه فقيل هذا معاذ بن جبل فلما كان الغد هجرت فوجدته قد سبقني بالتهجير و وجدته يصلي قال : فانتظرته حتى قضى صلاته ثم جئت من قبل وجهه فسلمت عليه وقلت له : و الله إني لأحبك لله فقال : آلله فقلت : آلله فقال : آلله فقلت : آلله قال : فأخذ بحبوة لردائي فجبذني إليه و قال : أبشر فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : وجبت محبتي للمتحابين في والمتجالسين في والمتباذلين في و المشاورين في كذا رواه أبو حازم عن إدريس

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحٰق نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عثمان بن سعید نے ان کوقعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے ، اس نے ابو حازم بن دینار سے اس نے ابوادر یس خولانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا۔ اچانک دیکھا تو چمکیلے دانتوں والا ایک نو جوان موجود ہے۔ اس کے اردگر دالوگ بیٹھے، جب وہ کسی چیز میں اختلاف کرتے میں تو اسکی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی رائے سے مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ حضرت معاذ بن جبل ہیں ۔ جب اگلی صبح ہوئی تو میں جلدی سے مسجد میں گیا مگر وہ مجھ سے پہلے پہنچ چکے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کا انتظار کیا۔ انہوں نے نماز پڑھ لی۔اس کے بعد میں ان کے سامنے آیا اور میں نے ان کو سلام کیا اور میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں اللہ کے واسطے ۔انہوں نے پوچھا کیا اللہ کے واسطے؟ میں نے کہاہاں اللہ کے واسطے۔ پھر انہوں نے وہی سوال کیا اور میں نے وہی جواب دیا۔ کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے میرے اوپر اوڑھنے کی چادر کو کونے سے پکڑ کر کھینچا اپنی طرف اور فرمایا خوش ہو جائیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا محبت کرنا واجب ہو گیا ان لوگوں کے ساتھ جو میرے لئے محبت کر تے ہیں اور میرے لئے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں اور مجلس کرتے ہیں اور جو آ پس میں میرے لئے خرچ کرتے ہیں اور جو آپس میں میرے لئے مشورہ کر تے ہیں ۔اسی طرح روایت کیا ہے اس کو ابوحازم نے ادریس سے ،اس نے معاذ سے ۔

أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8992

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8993

8993 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو قال : نا سعيد بن مسعود نا سعيد بن عامر عن شعبة عن يعلى عن عطاء عن الوليد بن عبد الرحمن عن أبي إدريس قال : جلست في حلقة فيها عشرون من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فإذا فيهم شاب حسن الوجه أدعج العينين غر الثنايا فإذا اختلفوا في شيء انتهوا إلى قوله فلما كان الغد أتيت المسجد فإذا هو قائم يصلي إلى سارية فجلست إلى جنبه فانحرف من صلاته ثم سكت قلت : بالله إني لأحبك من إجلال الله قال : آلله قلت : آلله قال : فإن المتحابين في الله في ظل الله يوم لا ظل إلا ظله يوضع لهم كراس من نور يغبطهم النبيون والشهداء و المرسلون لمكانهم من ربهم قال : فأتيت عبادة بن الصامت فحدثت بما قال معاذ فقال : لا أحدثك إلا بما سمعت على لسان رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم حدث قال : حقت محبتي للمتباذلين في وحقت محبتي للمتصافين في و المتواطين في و رواه أيضا عطاء الخراساني عن أبي إدريس الخولاني هكذا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن احمد محبوبی نے مرو میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی سعید بن مسعود نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو یعلی نے ان کو عطاء نے ولید بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابوادریس سے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے حلقے میں بیٹھا جس میں بیس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے ۔ان میں ایک خوبصورت چہرے والاموٹی آنکھوں والا چمکتے دانتوں والا جوان بھی تھاوہ جب کسی بات میں اختلاف کرتے تھے تو اس کی بات پر رک جاتے تھے ۔ جب اگلی صبح ہوئی تو میں مسجد میں آیا ، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے قبل کھٹرے نماز پڑھ ر ہے ہیں ۔ مسجد میں ایک ستون کے پاس میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ وہ نماز سے فارغ ہو کر خاموش بیٹھ گئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ بے شک میں البتہ آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں اللہ کی عظمت کی وجہ سے ۔انہوں نے کہا کیا اللہ کے لئے؟ میں نے کہا کہ ہاں اللہ کے لئے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ سے محبت کرنے والے اللہ کے سائے تلے ہوں گے ۔ جس دن ان کے سائے کے سوا کسی چیز کا سایہ نہیں ہوگا ۔ ان کے لئے ایک نور کا دفتر رکھا جائے گا ۔ جس کے ساتھ انبیاء اور شہداء اور رسول رشک کر یں گئے ان کے رب کے آگے ان کےمرتبے کی وجہ سے ۔ ابوادر یس کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عبادہ بن صامت کے پاس آیا۔ میں نے ان کو وہ حدیث بیان کی جو حضرت معاذ نے بیان کی تھی ۔ میں نہیں حدیث بیان کروں گا تجھے مگر صرف وہی جس کو میں نے سنا تھا زبان رسول سے ۔ پھر اس نے حدیث بیان کی اور کہا کہ اللہ فرماتے ہیں میری محبت واجب ہوگئی ہے ان لوگوں کے لئے جو میرے بارے میں خرچ کرتے ہیں اور محبت ثابت ہو چکی ہے ان کے لئے جو میرے لئے آپس میں دل صاف رکھتے ہیں اور آپس میں اتفاق کرتے ہیں اور روایت کیا ہے اس کو عطاء خراسانی نے ان کو ابوادریس خولانی نے اسی طرح ۔

أَبِي إِدْرِيسَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءٍ، ← يعلى ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8993

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8994

8994 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل قال : أنا عبد الله بن جعفر قال : نا يعقوب بن سفيان قال : نا الحميدي قال : نا سفيان قال : هذا الذي حفظنا من الزهري عن أبي إدريس الخولاني أنه أخبره قال : أدركت أبا الدرداء و وعيت عنه و عبادة بن الصامت و وعيت عنه و شداد بن أوس و وعيت عنه و فاتني معاذ بن جبل فأخبرني فلان عنه قال سفيان و سماه الزهري : فنسبته أن معاذ بن جبل كان لا يجلس مجلسا إلا قال : الله حكم قسط تبارك اسمه هلك المرتابون و رواه غيره عن أبي إدريس عن يزيد بن عميرة عن معاذ فيحتمل أن يكون الحديث الأول في المتحابين سمعه أيضا من يزيد بن عميرة عن معاذ و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں یہی ہے وہ جس کو ہم نے یاد کیا ہے زہری سے ، اس نے ابوادر یس خولانی سے کہ اس نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو دردا ءکو پالیا تھا اوراس سے حدیث بھی محفوظ کی تھی اور میں نے عبادہ بن صامت کو پالیا تھا اس سے بھی میں نے حدیث یاد کی اور شداد بن اوس کو بھی پالیا تھا اور اس سے بھی حدیث یاد کی ۔ البتہ حضرت معاذ مجھ سے رہ گئے۔ مگر فلاں شخص نے مجھے خبر دی ان سے اور سفیان کہتے ہیں کہ زہری نے اس شخص کا نام ذکر تھا۔ نے بات کو منسوب کیا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس مجلس میں بیٹھتے تھے کہتے تھے کہ اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ہلاک ہو گئے شک کرنے والے اور اس کو دیگر نے روایت کیا ہے ابوادریس سے اس نے یزید بن عمدہ سے اس نے معاذ سے ۔ احتمال ہے کہ پہلی حدیث با ہم محبت کرنے والوں کے بارے میں ہو ۔ اس نے اس کو سنا ہو یزید بن عمیر ہ سے۔

أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← هذا الذي حفظنا من الزهري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8994

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8995

8995 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا مسدد قال : نا حماد بن زيد عن الجريري عن رجل آخر قال : قلت لمعاذ بن جبل إني أحبك في الله أو أحبك الله فقال لي : أنظر ما تقول قالها ثلاث مرات قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل يحب الذين يتحابون في الله و يحب الذين يتقاعدون فيه و يحب الذين يتباذلون فيه و يحب الذين يتزاورون فيه و يحب الذي يتحاورون فيه

ہمیں خبر دی ابولحسن بن علی محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو حماد بن زید نے ان کو جر یری نے اور ایک دوسرے آدمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضرت معاذ بن جبل سے کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اللہ کی رضا میں۔ یایوں کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اللہ کے لئے ۔انہوں نے مجھ سے کہا سوچ لیجئے کہ آپ کیا کہہ ر ہے ہیں ۔انہوں نے تین بار یہی کہا۔ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا،فرماتے تھے بے شک اللہ عز وجل محبت کرتے ہیں ان لوگوں سے با ہم محبت کرتے ہیں اللہ کی رضا کے لئے اور اللہ تعالٰی محبت کر تے ہیں ان سے جواللہ کی رضا کے لئے مل کر بیٹھتے ہیں اور محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو اس کے لئے بخشش کرتے ہیں اور عطا کرتے ہیں اور محبت کر تے ہیں ان سے جو اس کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور محبت کرتا ہے ان سے جواسی کے بارے میں باہم گفتگو کر تے ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← لي أنظر ما تقول قالها ثلاث مرات ← قلت لمعاذ بن جبل إني أحبك في الله أو أحبك الله ← رَجُلٍ آخَرَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8995

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8996

8996 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا عبد الله بن محمد بن أبي مريم قال : نا عمرو بن أبي سلمة قال : نا صدقة بن عبد الله عن الوضين بن عطاء عن محفوظ بن علقمة عن ابن عائذ أن شرحبيل بن السمط قال لعمر بن عبسة : هل أنت محدثي حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس فيه نسيان و لا تكذيب ؟ قال : نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : ( قد حقت محبتي للذين يتحابون من أجلي و قد حقت محبتي للذين يتزاورون من أجلي و قد حقت محبتي للذين يتصافون من أجلي و قد حقت محبتي للذين يتناصرون من أجلي )

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابولحسن علی بن محمد مصری نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابومریم نے ان کو عمرو بن ابوسلمہ نے ان کو صدقہ بن عبد اللہ نے وضین بن عطاء سے اس نے محفوظ بن علقمہ سے اس نے ابن عائذ سے یہ کہ شرجیل بن سمط نے عمر بن عبسہ سے کہا تھا، کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو جس میں نہ بھول کو دخل ہو نہ ہی جھوٹ کو؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے اللہ تعالی ٰفرماتا ہے۔تحقیق میر ی محبت پکی ہو چکی ہے ان لوگوں کے لئے جو باہم محبت کرتے ہیں میرے لئے اور تحقیق ثابت ہو چکی ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے جو میرے لئے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور میری محبت ثابت ہو چکی ہے ان لوگوں کے لئے جو میرے لئے ایک دوسرے سے مخلص ہوتے ہیں اور میری محبت ثابت ہو چکی ہے ان لوگوں کے لئے جو میرے لئے ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں ۔

ابْنُ عَائِذٍ ← مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8996

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8997

8997 - أخبرنا حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني قال : نا عبد الله بن محمد بن منازل قال : نا أسماعيل بن قتيبة قال : نا عبيد الله بن يعيش قال : نا محمد بن فضيل عن أبيه عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله عز و جل : ( إن من عبادي لعبادا يغبطهم الأنبياء و الشهداء ) قيل : من هم يا رسول الله لعلنا نحبهم ؟ قال : هم قوم تحابوا بروح الله على غير أموال و لا أنساب وجوههم نور على منابر من نور لا يخافون إذا خاف الناس ثم تلا هذه الآية : { ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون } كذا قال عن أبي هريرة و هو وهم

ہمیں خبر دی عمرو بن عبد العزیز متین محمد صیدلانی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن منازل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل بن قتیبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبید اللہ بن یعیش نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے محمد بن فضیل نے اپنے والد سے اس نے عمارہ بن قعقاع سے ان کو ابوزرعہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بے شک میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جن پر انبیاء اور شہید بھی رشک کریں گے ۔ پو چھا گیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )وہ کون ہیں تا کہ ہم بھی ان سے محبت کر یں؟ وہ ایسے لوگ ہوں گے یہ اللہ کی رحمت کے ساتھ آپس میں محبت کر یں گے ۔ نہ ان میں کوئی مالی تعلق ہوگا اور نہ ہی کوئی نسبی رشتہ اور تعلق ہوگا ۔ ان کے چہرے روشن ہوں گے، چمکتے ہوں گے ۔ وہ نور کے منبروں پر جلوہ گر ہوں گے ۔ جب سب لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے ان کو کوئی خوف نہیں ہوگا ۔اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : الا ان اولياء الله لاخوف عليهم ولاهم يحزنون (یونس) خبر دار بے شک اللہ سے محبت رکھنے والوں پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔ اسی طرح کہا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ۔ لیکن وہ ہم ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عبيد الله بن يعيش ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُنَازِلٍ، ← حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8997

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8998

8998 - و المحفوظ عن أبي زرعة عن عمر بن الخطاب و أبو زرعة عن عمر مرسلا أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي قال : أخبرني أبو محمد السمذي قال : نا عبد الله بن سيرويه قال : نا أسحاق الحنظلي قال : أنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن عمرو بن جرير عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من عباد الله عبادا ما هم بأنبياء و لا شهداء يغبطهم الأنبياء و الشهداء لمكانهم من الله عز و جل قالوا : يا رسول الله من هم و ما أعمالهم أخبرنا من هم ؟ قال : هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام بينهم و لا أموال يتعاطونها فو الله أن وجوههم لنور و إنهم لعلى نور لا يخافون إذا خاف الناس و لا يحزنون إذا حزن الناس ثم قرأ : { ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون }

اور وہ روایت جو ابوزرعہ سے بواسطہ عمر بن خطاب محفوظ ہے ، ابوزرعہ نے عمر سے مرسلا ًروایت کی ہے ۔ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبد الرحمٰن سلیمی نے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابومحمد سلمی نے ، ان کو عبد اللہ بن سیر و یہ نے ان کو خبر دی ہے اسحٰق حنظلی نے ان کو جر یر نے ان کو عمارہ بن قعقاع نے ابوزرعہ سے اس نے عمر بن جریر سے اس نے عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بندے بھی ہوں گے جو نہ تو انبیاء ہوں گے نہ ہی شہداء ہوں گے لیکن انبیاء اور شہداء اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے مرتبے کو دیکھ کر رشک کریں گے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کون لوگ ہوں گے؟ اور ان کے اعمال کیا ہوں گے؟ ہمیں ان کے بارے میں بتائیے ۔ فرمایا کہ وہ لوگ ہوں گے جو محض اللہ کی رحمت کی وجہ سے آپس میں محبت کر تے ہوں گے ۔ بغیر کسی نسبی رشتہ کے جوان کے درمیان ہوتا اور بغیر کسی مال و دولت کے جو وہ ایک دوسرے کو دیتے ہوں ۔ بس اللہ کی قسم ان کے چہرے چمکتے ہوں گے اور بے شک وہ نور پر بیٹھے ہوں گے وہ اس وقت بے خوف ہوں گے ۔ جب سب لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے اور نہ ہی ان پر کوئی غم ہوگا ۔ جب لوگ غم میں مبتلا ہوں گے ۔اس کے بعد انہوں نے آیت پڑھی: الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولاهم يحزنون .

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عمرو بن جريرٍ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ← عبد الله بن سيروية، ← أبو محمد السمذي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← عُمَرَ مُرْسَلًا ← عمر بن الخطاب و أبو زرعة ← أَبِي زُرْعَةَ ← و المحفوظ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8998

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8999

8999 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح بالكوفة قال : أخبرنا أبو جعفر بن دحيم قال : نا أحمد بن حازم بن أبي غزرة قال : أنا أبو غسان قال : نا قيس قال : نا عمارة بن القعقاع : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال و ما أعمالهم لعلنا نحبهم ؟ فقال : و إنهم لعلى منابر من نور

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفے میں ان کو خبر دی ابو جعفر بن اصم نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو ابوغسان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی قیس سے ان کو عمار ہ بن قعقاع نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے ۔ ان کے اعمال کیا کیا ہیں تا کہ نام بھی ان سے محبت کر یں؟ آپ نے فرمایا کہ بے شک و ہ نور کے منبروں پر ہوں گے ۔

و ما أعمالهم لعلنا نحبهم فقال و إنهم لعلى منابر من نور ← عمارة بن القعقاع فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← قَيْسٍ ← أبو غسان، ← أحمد بن حازم بن أبي غزرة ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8999

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9000

9000 - أخبرنا أبو أحمد بن يوسف قال : نا أبو محمد عبد الرحمن بن يحيى الزهري القاضي بمكة قال : نا أبو يحيى بن أبي ميسرة قال : نا أحمد بن محمد الأزرقي قال : نا عبد العزير بن محمد قال : حدثني سليمان بن عطاء عن أبيه عن أبي أيوب الأنصاري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن المتحابين على كراسي من ياقوت حول العرش

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفے میں ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابومحمد عبدالرحمٰن بن یحییٰ زہری قاضی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابومیسرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے احمد بن محمد از رتی نے ان کو عبد العزیز بن محمد نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے سلیمان بن عطاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوایوب انصاری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک با ہم محبت کرنے والے عرش کے اردگرد یاقوت کی کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے ۔

إن المتحابين على كراسي من ياقوت حول العرش ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِيهِ ← سليمان بن عطاء ← عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَيْسَرَةَ ← أبو محمد عبد الرحمن بن يحيى الزهري القاضي بمكة، ← أبو أحمد بن يوسف

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9000

chevron_left Previous
1…313233…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood