Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8965

8965 - و روينا عن عمر : أنه كلما قدم دمشق استقبله أبو عبيدة بن الجراح فقبل يده

اور ہم نے روایت کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہ وہ جب بھی شام آتے تھے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کر تے تھے اور ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے تھے۔

عمر أنه كلما قدم دمشق استقبله أبو عبيدة بن الجراح فقبل يده ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8965

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8966

8966 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسة قال : نا أبو داود قال : نا محمد بن عيسى قال : نا مطر بن عبد الرحمن الأعنق قال : حدثتني أم أبان بنت الوازع بن زراع عن جدها زارع و كان في وفد عبد القيس قال : لما قدمنا المدينة فجعلنا نتبادر من راحلنا فنقبل يد رسول الله صلى الله عليه و سلم و رجله و انتظر المنذر الأشج حتى أتى عيبته فلبس ثوبه ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : إن فيك خلتين يحبهما الله الحلم والأناة قال : يا رسول الله إنا لنخلق بهما أم الله جبلني عليهما ؟ قال : بل الله جبلك عليهما قال : الحمد لله الذي جبلني على خلتين يحبهما الله و رسوله

ہمیں خبر دی ہے ابوعلی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو محمد بن عیسیٰ نے ان کو مطر بن عبد الرحمن اعنق نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ام ابان بنت وزاع بن زارع نے اپنے دادا سے اور وہ وفد عبدالقیس میں تھے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جب مدینے میں آئے تو ہم لوگ اپنے سامانوں سے جلدی جلدی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ کر ان کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے اور منذ رائج کا انتظار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ آ گیا۔ اس کے پاس کپڑا بھی نہیں تھا۔اس کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ پسند کرتا ہے ۔ ایک حوصلہ اور دوسری وقار ۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم نے خود وہ عادتیں بنالی ہیں یا اللہ نے مجھے ان پر پیدافرمایا ہے؟ فرمایا بلکہ اللہ نے تجھے اس پر پیدافرمایا ہے ۔اس نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسی خصلتوں پر بنایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔

حدثتني أم أبان بنت الوازع بن زراع ← مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْنَقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8966

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8967

8967 - و روينا عن الشعبي : أن جعفر بن أبي طالب لما قدم من الحبشة ضمه النبي صلى الله عليه و سلم و قبل ما بين عينيه و قد ذكرنا هذه الأحاديث و ما يتصل بها في الرابع من كتاب النكاح من كتاب السنن

اور ہم نے روایت کی شعبی سے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب جب حبشہ سے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو گلے لگا کر بھیج دیا تھا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا تھا۔ تحقیق ہم نے یہ حادیث اور جوان سے ملتی جلتی ہیں وہ کتاب السنن کی کتاب النکاح چوتھے نمبر پر ذکر کر دی ہیں ۔

و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8967

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8968

8968 - و أخبرنا أبو الحسن بن عبدان قال : نا أحمد بن عبيد قال : أنا إسماعيل بن الفضل قال : حدثني خليفة بن خياط قال : نا زياد بن عبد الله البكائي قال : نا مجالد بن سعيد عن الشعبي عن عبد الله بن جعفر قال : لما قدم جعفر من الحبشة استقبله النبي صلى الله عليه و سلم فقبل شفتيه فقال : لا أدري يأيهما كان أشد فرحا بقدوم جعفر أو بفتح خيبر هكذا وجدته وروايته بين عينيه وإن كانت مرسله والله أعلم و قد

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی کہ خلیفہ بن خیاط نے ان کو زیاد بن عبداللہ بکائی نے ان کو مجالد بن سعید نے ان کو شعبی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت جعفر حبشہ سے آئے تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبال کیا اور اس کے پپوٹوں کا بوسہ لیا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ دونوں چیزوں میں سے کس چیز پر میں زیادہ شد ید خوش ہوں۔ جعفر کی آمد پر یا فتح خیبر پر ۔ اسی طرح پایا ہے میں نے اس کو اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دینے والی روایت اگر چہ مرسل ہے تا ہم زیادہ صحیح ہے ۔ واللہ اعلم ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8968

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8969

8969 - أخبرناه أبو سعد الماليني قال : أنا أحمد بن عدي قال : نا عبد الله بن أحمد بن عبد العزيز قال : نا داود بن عمرو قال : نا محمد بن عبد الله بن عبيد بن عمير عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : لما قدم جعفر وأصحابه استقبله النبي صلى الله عليه و سلم فقبله بين عينيه

ہمیں خبر دی اس کی ابوسعد مالینی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابواحمد بن عدی نے ان کوعبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو داؤد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمر نے یحییٰ بن سعید سے اس نے قاسم بن محمد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے وہ کہتی ہیں کہ جب حضرت جعفر اوران کے ساتھی حبشہ سے واپس آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر ان کو ملنے کے لئے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبد الله بن أحمد بن عبد العزيز ← أحمد بن عدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8969

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8970

8970 - قال أبو أحمد و رواه أبو قتادة الحراني عن الثوري عن يحيى بن سعيد و قال : عن عمرة عن عائشة قال الحليمي رحمه الله : و من وجوه المقاربة و الموصلة إطعام الطعام و قد ذكرنا في ذلك أحاديث فيما مضى من الكتاب قلت : و يحتمل أن المراد به إطعام المحاويج و يحتمل أن يكون المراد به الضيافة و يحتمل أن يكون أرادهما جميعا وللضيافة في التحاب والتآلف أثر عظيم و ورد في إكرام الضيف أخبار صحيحة وأورد الحليمي رحمه الله له بابا

کہا ابواحمد نے اور روایت کیا ہے اس کو ابوقتادہ جرانی نے ثوری سے اس نے یحییٰ بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ مروی ہے عمرۃ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ باہمی قرب اور باہمی میل جول اور میل ملاپ کے اسباب میں سے ایک چیز کھانا کھلانا بھی ہے۔ ہم نے اس بارے میں کئی احادیث ذکر کی ہیں کتاب میں جو گذر چکی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ضرورت مندوں کو کھانا کھلا نا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد ضیافت کا کھانا کھلانا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں مراد ہوں ۔ بہر حال باہمی الفت و محبت میں ضیافت کو عظیم اثر ہوتا ہے اور اکرام مہمان کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ ا ن کا با قاعد ہ باب لائے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يحيى بن سعيد و ← الثَّوْرِيُّ ← أبو أحمد و رواه أبو قتادة الحراني

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8970

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8971

8971 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : نا أحمد بن عبيد قال : نا أحمد بن عبيد الله النرسي قال : نا حجاج بن محمد قال : نا ابن جريج قال : قال سليمان بن موسى : نا نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : افشوا السلام و اطعموا الطعام وكونوا إخوانا كما أمركم الله عز و جل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبداللہ نرسی نے ان کو حجاج بن محمد نے ان کو ابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سلیمان بن موسیٰ نے ان کو نافع نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ اور بھائی بھائی بن جاؤ جیسے تم لوگوں کو اللہ نے حکم دیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8971

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8972

8972 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام قال : نا محمد بن يحيى الذهلي قال : نا أبو بكر بن أبي شيبة قال : نا يزيد بن المقدام ابن شريح عن أبيه عن جده هانئ بن شريح : ذكر أنه أول ما وفد إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في قومه و أنه لما حضر خروج القوم إلى بلادهم أعطى كل امرئ منهم أرضا في بلاده حيث أحب إلا أن هانئ قال له : يا رسول الله أخبرني أي شيء يوجب الجنة ؟ قال : عليك بحسن الكلام و بذل الطعام

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کومحمد بن یحییٰ ذھلی نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو یزید بن مقدام ابن شریح نے ان کو ان کی والد نے ان کو ان کے دادا ہانی بن سریح نے ذکر کیا کہ وہ اپنی قوم میں پہلا آدمی تھا جو وفد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ جب ان لوگوں کی واپسی کا پروگرام بنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کو ان میں سے ان کےشہروں میں کچھ ان کی پسند کی زمین عطا کی ہے ۔ مگر ھائی نے ان سے کہا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے یہ بتائیے کہ کوئی چیز جنت کو واجب کرتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن کلام کواور کھانا خرچ کرنے کو لازم پکڑ لے۔

جده هاني بن شريح ← أَبِيهِ ← يزيد بن المقدام ابن شريح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8972

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8973

8973 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : عبد الله أحمد بن سعد البزار الحافظ قال : نا محمد بن إبراهيم البوشنجي قال : نا النفيلي قال : نا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن حمزة بن صهيب عن أبيه قال : قال لي عمر بن الخطاب : أي رجل لولا ثلاث فيك أنت من الروم وانتميت إلى العرب وتكنيت بأبي يحيى وليس لك ولد وفيك سرف من الطعام فقلت : أما تكني بأبي يحيى و ليس لي ولد و فيك سرف من الطعام فقلت : أما تكني بأبي يحيى و ليس لي ولد فإنها كنية كناني بها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأما قولك إني رجل من الروم فإن الروم سبتني من الموصل بعدما عرفت نسبي وأهلي و أنا امرؤ من النمر بن قاسط و أما قولك فيك سرف في الطعام فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : خيركم من أطعم الطعام

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد بز از عمرو نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے حمزہ بن صہیب ہے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ارے میاں تین باتیں تیرے اندر ایسی ہیں جو میری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ کیونکر ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ تم رومی ہو ( صہیب رومی مشہور تھے )جبکہ تم اپنے آپ کو عربی متعارف کراتے ہو اور بتاتے ہو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ تم اپنی کنیت ابو یحییٰ استعمال کر تے ہو جبکہ تمہارا کوئی بیٹا ہی نہیں ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ تم کھانا کھلانے میں وسعت سے کام لیتے ہیں ۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے حضرت کو جواب دیا کہ جہاں تک میری ابو یحییٰ کنیت استعمال کر نے کا تعلق ہے جبکہ میرا کوئی بیٹا بھی نہیں ہے یہ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی تھی اور آپ کا یہ کہنا کہ میں اہل روم سے ہوں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مجھے رومی مقام موصل سے قید کر کے لے گئے تھے جب میں نے اپنا نسب اور گھرانہ بتایا۔ حالانکہ میں قبیلہ نمبر بن قاسط کا جوان ہوں اور رہی تیسری بات کہ میں کھا نا عام کھلاتا ہوں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، وہ فرماتے تھے۔ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو کھانا زیادہ کھلائے۔

أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8973

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8974

8974 - حدثني أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى قال : أنا أحمد بن عثمان النسوي قال : نا هشام بن عمار قال : نا عمرو بن واقد نا يونس بن حلبس عن أبي إدريس عن معاذ بن جبل : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أطعم مؤمنا حتى يشبعه أدخله الله من باب من أبواب الجنة لا يدخله إلا من كان مثله قال : و من وجوه المقاربة و المواصلة المهاداة بين الناس

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبد الرحمٰن سلمی نے ان کوعلی بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن عثمان نسوی نے وہ کہتے ہیں کہ میں خبر دی ہشام بن عمار نے ان کو عمرو بن واقد نے ان کو یونس بن حلیس نے ان کو ابوادریس نے ان کو معاذ بن جبل نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مومن کو پیٹ بھر کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے ایسے دروازے سے داخل کرے گا جس سے اور کوئی داخل نہ ہو سکے گا مگر جو اس جیسا عمل کرے گا۔ فرماتے ہیں کہ اس میں قرب اور تعلق قائم کرنے کے اسباب میں سے لوگوں کے درمیان ہدایا و تحائف کا تبادلہ کر نا بھی شامل ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن عثمان النسوي ← عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8974

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8975

8975 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي قال : أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أيادي قال : نا عثمان ابن سعيد الدارمي قال : نا محمد بن عثمان التنوخي قال : نا سعيد بن بشير عن قتادة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بالهدية صلة بين الناس

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو عشان بن سعید درامی نے ان کو محمد بن عثمان تنوخی نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ دینے کا حکم فرماتے تھے لوگوں کے مابین جوڑ اور تعلق کے لئے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← محمد بن عثمان التنوخي ← عثمان ابن سعيد الدارمي ← أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أيادي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8975

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8976

8976 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس هو الأصم قال : نا العباس هو الدوري قال : نا محمد بن بكير قال : نا همام و أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف قال : أنا بشر بن أحمد الإسفرايني قال : نا أحمد ابن الحسن بن عبد الجيار الصوفي قال : نا سويد بن سعيد قال : نا ضمام يعني ابن إسماعيل عن موسى ابن وردان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تهادوا تحابوا و في رواية ابن بكير عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو محمد بن بکیر نے ان کو ھمام نے اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن محمد بن ابوالمعروف نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے بشر بن احمد اسفرائنی نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبارصوفی نے ان کو سوید بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو مضمام نے یعنی ابن اسماعیل نے موسیٰ بن وردان سے اس نے ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، ایک دوسرے سے محبت کیا کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن بکیر کی روایت میں اس طرح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← موسى ابن وردان ← ضمام يعني ابن إسماعيل ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد ابن الحسن بن عبد الجيار الصوفي ← بشر بن أحمد الأسفرائني ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، ← هَمَّامٌ، و ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8976

chevron_left Previous
1…293031…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood