Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8641

8641 - و قد رواه أبو قتادة عبد الله بن واقد عن حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن إبراهيم أول من أضاف الضيف و أول من قص الشارب و أول من رأى الشيب و أول من اختتن بقدومه ابن عشرين و مائة سنة أخبرناه : الماليني أنا ابن عدي نا أبو عروبة نا محمد بن يحيى بن كثير نا محمد بن عبد الله بن واقد فذكره

اورتحقیق ۔ اس کو روایت کیا ہے ابوقتادہ عبداللہ بن واقد نے حماد بن سلمہ سے اس نے ان کو یحییٰ بن سعید سے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ یہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے مہمان کی ضیافت کی تھی اور پہلے شخص تھے جنہوں نےلبیں کتریں اور پہلے شخص تھے جنہوں نے سفید بال دیکھے تھے اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ناخن تراشے تھے اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بسولی کے ساتھ ختنہ کیا تھا جب کہ وہ ایک سو بیس سال کے تھے اور ہمیں اس کی خبر دی ہے مالینی نے ان کو ابن عدی نے ان کو عروبہ نے ان کومحمد بن یحیی ٰبن کثیر نے ان کو محمد بن عبداللہ بن واقد نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يحيى بن سعيد بن المسيب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← و قد رواه أبو قتادة عبد الله بن واقد

Hadith 8641

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8642

8642 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن سعيد عن ابن المسيب قال : إبراهيم عليه السلام أول من اختتن و أول من قرى الضيف و أول من رأى الشيب قال فلما رأى الشيب قال : أي رب ما هذا ؟ قال : هذا وقار وحلم قال أي رب فزدني وقارا و اختتن و هو ابن عشرين ومائة سنة و اختتن بالقدوم ومات و هو ابن مائتي سنة قال عبد الرزاق و اختتن بالقدوم قال عبد الرزاق اسم قرية هكذا أخبرني معمر لا يشك فيه قلت : كذا قال عبد الرزاق عن معمر و قيل أراد به الآلة فقد روى في بعض الأحاديث أنه عجل قبل أن يعلم الآله و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابن مسیب نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے کہ پہلا شخص تھا جس نے ختنہ کیا اور جس نے مہمان کی ضیافت کی اور جس نے بڑھاپا دیکھا جب سفید بال دیکھے تو عرض کی اے رب یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ یہ وقار ہے اور برد باری ہے انہوں نے عرض کی اے میرے رب میری عزت وقار کو اور زیادہ فرما۔اور انہوں نے ختنہ کیا جب کہ وہ ایک سوبیس برس کے تھے انہوں نے بسولی کے ساتھ ختنہ کیا ( یا مقام قدوم میں کیا )اور جب فوت ہوئے تو اس وقت وہ دوسو برس کے تھے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ انہوں نے بسولی کے ساتھ ختنہ کیا (یق مقام قدوم میں کیا) عبدالرزاق نے کہا کہ یہ بستی کا نام ہے۔اسی طرح مجھے خبر دی ہے معمر نے اس میں شک نہیں ہے ۔ میں کہتا ہوں اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے معمر سے اور کہا گیا ہے کہ قدوم سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ انہوں نے ختنہ کیا تھا۔ تحقیق بعض احادیث میں مروی ہے کہ انہوں نے جلدی کی تھی اس سے قبل کےوہ ختنہ کرنے کے آلے کو جانتے ۔ واللہ اعلم ۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8642

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8643

8643 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق الدبري نا عبد الرزاق عن ابن أبي يحيى عن داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس قال : لا تقبل شهادة رجل لم يختتن و به عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن رجل عن ابن عباس عن عكرمة عن ابن عباس أنه كره ذبيحة الأدغل و قال لا تقبل صلاته و لا تجوز شهادته قال معمر : سألت حماد بن سلمة عن ذبيحته ؟ فقال : لا بأس بها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق دبری نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو ابن ابی یحییٰ نے داؤد بن حصین سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فر ما یا اس آدمی کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جوختنہ نہ کروائے۔ اور یہی حدیث مروی ہے عبدالرزاق سے اس نے معمر سے اس نے قتادہ سے اس نے ایک آدمی سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے مکروہ قرار دیا ہے بغیر ختنے والے کے ذبح کئے ہوئےجانور کواور فرمایا کہ اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی شہادت قبول ہوگی معمر نے کہا کہ میں نے حماد بن سلمہ سے اس کے بچے کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔

ذبيحته فقال لا بأس بها ← معمر سألت حماد بن سلمة ← لا تقبل صلاته و لا تجوز شهادته ← ابن عباس أنه كره ذبيحة الأدغل و ← عِكْرِمَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← رَجُلٌ: ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← لا تقبل شهادة رجل لم يختتن و به ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← ابْنُ أَبِي يَحْيَى، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8643

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8644

8644 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا الأصم نا أسيد بن عاصم نا الحسين يعني ابن حفص عن سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي قال : كانت آجر لسارة فأعطت إبراهيم فاستبق إسماعيل و إسحاق فسبقه إسماعيل فجلس في حجر إبراهيم قالت سارة أظنه والله لأغيرن منها ثلاثة أشراف فخشي إبراهيم أن تجدعها أو تخرم أذنيها فقال لها : هل لك أن تفعلي شيئا و تبري حينك تثقبين أذنيها أو تخفضيها فكان أول الخفاض هذا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی اصم نے ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین نے یعنی بن حفص نے سفیان سے اس نے ابواسحٰق سے اس نے حارثہ بن مضرب سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ ہاجرہ (ام اسماعیل ) سارہ (زوجہ ابراہیم ) کی باندی تھی اس نے ابراہیم علیہ السلام کو عطیہ اور ہبہ کر دی تھی ۔ ایک دن ( دونوں کے بیٹوں ) اسماعیل اور اسحٰق نے دوڑ نے کا مقابلہ کیا اسماعیل اسحاق سے جیت گئے اور اسحاق سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کی گود میں جابیٹھے۔سارہ نے کہا میں گمان کرتی ہوں اللہ کی قسم میں اس کے تین عزت کے نشان بدل دوں گی ۔ بس ابراہیم علیہ السلام ڈر گئے کہ کہیں وہ اس کے کان نہ کاٹ دے یا ناک نہ کاٹ دے ۔ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا۔ کیا تم ایسا کوئی کام کروگی اور ہلاکت میں پڑو گی اس کے کان میں سراغ کروگی یا اس کو نیچا دکھاؤ گی تو پہلا ذلیل وخوار کرنا ہوگا ۔ ( یا پہلی ذلت وخواری ہوگی ۔ )

عَلِيٍّ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الحسين يعني: ابن [حفص ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 8644

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8645

8645 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد عدي نا محمد بن خريم القزاز نا هشام بن خالد نا مروان بن معاوية عن محمد بن حسان عن عبد الملك بن عمير عن أم عطية الأنصارية : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر جارية أن تختن فإذا ختنت فلا تنهكي فإن ذلك أحظى للمرأة وأحب إلى البعل

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد عدی نے ان کو محمد بن خریم قزاز نے ان کو ہشام بن خالد نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو محمد بن حسان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ام عطیہ انصاریہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کو حکم دیا تھا کہ وہ ختنہ کروائے جب ختنہ کروگی تو تم کمزور نہیں ہوگی یہ عمل عورت کے لئے زیادہ لذت کا باعث ہوگا اور شہ ہر کوزیادہ محبوب اور پسندیدہ ہوگا۔

أُمِّ عَطِیَّۃَ الأَنصَارِیَّۃِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ← محمد بن خريم القزاز ← أبو أحمد عدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 8645

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8646

8646 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر بن أبي دارم نا أحمد بن موسى نا علي بن عبد الحميد الشيباني ثنا مندل عن ابن جريج عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن ابن عمر قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم على نسوة من الأنصار فقال يا نساء الأنصار اختضبن عمسا و اختفضن و لا تنهكن فإنه أحظى لإناثكن عند أزواجهن وإياكن وكفر المتعمين مندل بن علي ضعيف قال الإمام أحمد رحمه الله و أما التعليم والتأديب فوقتهن أن يبلغ المولود من السن والعقل مبلغا يحتملها و ذلك يتفرع فمنها : أن ينشئه على أخلاق صلحاء المسلمين و يصونه على مخالطة المفسدين و منها أن يعلمه القرآن و لسان الأدب ويسمعه السنن أو قايل السلف و يعلمه من أحكام الدين ما لا غنى به عنه و منها أن يرشده من المكاسب إلى ما يحمد ويرجى أن يرد عليه كفايته فإذا بلغ أحدهم حد العقل عرف البارئ جل جلاله إليه بالدلائل التي توصله إلى معرفته من غير أن يسمعه من مقالات الملحدين شيئا و يذكرهم له في الجملة أحيانا و يحذره إياهم و ينفره عنهم و يبغضهم إليه ما استطاع و يبدأ من الدلائل بالأقرب الأجلى ثم ما يليه وكذلك يفعل بالدلائل الدالة على نبوة نبينا صلى الله عليه و سلم يهديه فيها إلى الأقرب الأوضح ثم الذي يليه و بسط الحليمي الكلام في كل فصل من فصول هذا الباب من أراد الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابو بکر بن ابو دارم نے ان کو احمد بن موسیٰ نے ان کوعلی بن عبد الحمید الشیبائی نے ان کو مندل نے ان کو ابن جریج نے ان کو اسماعیل بن امیہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی کچھ عورتوں کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے انصار کی عورتو ! خضاب لگایا کرو( سفیدی کو چھپانے کے لئے ۔ اور خوشحال رہو۔ دبلی اور کمزور نہ بنویہ بات بے شک زیادہ محفوظ کرنے والی ہے تمہاری عورتوں کے لئے ان کے شوہروں کے نز د ایک اور بچاؤ تم اپنے آپ کو محسنوں کی ناشکری کرنے سے مندل بن علی ضعیف ہے۔ امام احمد حنبل فرماتے ہیں: امام احمد رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ بچے کی تعلیم وتربیت اس وقت ہو جب وہ عمر کے اور عقل کے اعتبار سے ایسی حد کو پہنچ جائے کہ تعلیم وتربیت کا متحمل ہو سکے ۔ پھر اس کے کئی شعبے ہو سکتے ہیں ۔ کچھ ان میں سے یہ ہیں کہ والدین مسلمان صلحاء کے اخلاق پر اس کی پرورش اور تربیت کر یں اور مفسرین اور برے لوگوں کی صحبت سے اوران کے میل جول سے اس کی حفاظت کر یں ۔ اور دوسرا شعبہ تعلیم وتربیت کے حوالے سے یہ ہے کہ اس کو قر آن مجید کی تعلیم دیں ۔ اور زبان کے ادب کی تعلیم دیں ۔اور سنتوں کی تعلیم دیں اور اس سے بیان کریں ۔اور سلف صالحین کے مطابق بنائیں اور اس کو دو دینی احکام سکھلائیں جوضرور ہیں جن کے سیکھے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ اور تعلیم وتربیت کا ایک شعبہ یہ ہے کہ اس کوکسی اچھے کسب ومحنت کی راہنمائی کریں جواچھا اور قابل تعریف ہو جس سے یہ توقع کی جاسکے کہ اس کے اچھے ثمرات خود واپس سر پرست کو بھی حاصل ہوں گے ۔ جب بچوں میں سے کوئی عقل فہم کی ایک خاص حد تک پہنچ جائے تو اس کے سامنے ذات باری تعالیٰ کی پہچان کروائے ایسے دلائل کے ساتھ جو اس کو اللہ تعالیٰ معرفت تک پہنچادیں اور ملحدین اور بے دینوں کے اقوال میں سے اس کو کچھ بھی نہ بتائے سنائے ۔ ہاں کبھی کبھی ان میں سے کوئی بات ذکر کر کے اس سے اس کو ڈرا دیا کرے اورملحدین سے اس کو نفرت دلائے اور حسب استطاعت اس کی طرف ان کو مبغوض اور ناپسند ید ہ بنائے ۔اور دلائل دینے میں ایسے دلائل سے شروع کرے جو عقل کے قریب تر ہوں اور روشن دلائل ہوں اس کے بعد حجت اس کو قریب قریب ہوں اور یہی طریقہ کرے ان دلائل کو بیان کرنے کے لئے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں ۔ آپ کی سیرت طیبہ میں سے ایسے دلائل جو عقل کے قریب تر ہوں اور خوب واضح ہوں۔ اس کے بعد وہ دلائل جوذ راان کے قریب قریب ہوں ۔ چنانچہ شیخ حلیمی رحمۃاللہ علیہ نے اس باب کے فصول میں سے ہر فصل میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے ۔ جوشخص ان پر واقف ہونا چاہے گا انشاءاللہ ان کی طرف رجوع کر لے گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مِنْدَلٌ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الشَّيْبَانِيُّ، ← أحمد بن موسى ← أبو بكر بن أبي دارم ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 8646

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8647

8647 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور حدثنا خالد بن عبد الله عن يونس عن الحسن : في قوله : { يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا } قال : يأمرهم بطاعة الله و يعلمهم الخير

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور ہ نضر وی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو حدیث بیان کی خالد بن عبداللہ نے یونس سے اس نے حسن سے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ یاایھا الذین امنوا قوا انفسكم و اهليكم نارا ۔اے اہل ایمان بچاؤ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے ۔ فرماتے ہیں کہ (اس سے مراد ہے کہ وہ )ان کواللہ کی اطاعت کا حکم دے اور ان کو خیر و بھلائی کی تعلیم دے۔

يأمرهم بطاعة الله و يعلمهم الخير ← الحسن في قوله يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا ← يُونُسَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 8647

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8648

8648 - و بإسناده نا سعيد بن منصور عن إسماعيل بن زكريا عن سفيان الثوري عن منصور عمن حدثه عن علي رضي الله عنه قال : علموهم وأدبوهم

اور اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو منصور نے ان سے جس نے ان کو حدیث بیان کی ہے علی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اولادوں کو علم سکھاؤ اور ان کو ادب سکھاؤ۔

علموهم وأدبوهم ← عَلِيٍّ، ← منصور عمن ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← و بإسناده

Hadith 8648

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8649

8649 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ قالا أنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه نا أبو عبد الله محمد بن محمويه بن مسلم ثنا أبي ثنا النضر بن محمد البيسكي عن سفيان الثوري عن منصور عن إبراهيم بن مهاجر عن عكرمة عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : افتحوا على صبيانكم أول كلمة بلا إله إلا الله و لقنوهم عند الموت لا إله إلا الله فإن من كان أول كلامه لا إله إلا الله و آخر كلامه لا إله إلا الله ثم عاش ألف سنة ما سئل عن ذنب واحد متن غريب لم يكتبه إلا بهذا الإسناد

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے اور ابو عبداللہ حافظ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالنضر محمد بن محمد یوسف فقیہ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن محمودیہ بن مسلم نے ان کو حدیث بیان کی نضر بن محمد بیسکی نے سفیان ثوری سے اس نے منصور سے اس نے ابراہیم بن مہاجر سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: اپنے بچوں کو پہلا کلمہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ ابتدا کراؤ اور ان کو بڑے ہونے پرموت کے وقت بھی لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو بے شک جس انسان کی پہلی کلام بھی لا الہ الا اللہ ہو اور آخری کلام بھی لا الہ الا اللہ ہو پھر وہ خواہ ہزار سال زندہ ر ہے اس سے کسی ایک گناہ کے بارے میں بھی نہیں پوچھا جائے گا۔ اس کا متن غریب ہے نہیں لکھاراوی نے اس کو مگر صرف اسی اسناد کے ساتھ ۔

Hadith 8649

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8650

8650 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هانئ نا سهل بن مهران الدقاق نا عبد الله بن بكر السهمي نا سوار بن داود أبو حمزة نا عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مروا الصبيان بالصلاة لسبع سنين و اضربوهم عليها في عشر و فرقوا بينهم في المضاجع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کومحمد بن صالح بن ہانی نے ان کو سہل بن مہران دقاق نے ان کو عبد اللہ بن بکر سھمی نے ان کو سوار بن داؤ دابوحمزہ نے ان کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے دادا سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات سات کی عمر کے اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور دس سال میں نہ پڑھنے پر ان کو سزا دو اور دس والوں کے بستر سونے کے لئے علیحد ہ کر دو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سوار بن داود أبو حمزة، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← سهل بن مهران الدقاق، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8650

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8651

8651 - أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة نا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم نا أبو الحسن محمد بن سنان القزاز نا عامر بن صالح بن رستم نا أيوب بن موسى بن عمرو بن سعيد بن العاص ح و أخبرنا أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة ثنا أحمد بن إبراهيم بن محمد الضحاك نا علي بن عبد العزيز نا مسلم و القواريري قالا نا عامر بن أبي عامر نا أيوب بن موسى القرشي عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما نحل والد ولدا نحلا أفضل من أدب حسن رواه بشر بن يوسف عن عامر بن أبي عامر سمع أيوب بن موسى بن عمرو بن سعيد بن العاص فصح بذلك سماع عامر من أيوب رواه البخاري في التاريخ عن بشر قال : و لم يصح سماع جده عن النبي صلى الله عليه و سلم

مجھے خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے بطورا جابت کے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب اصم نے ان کو ابو الحسن محمد بن سنان قزاز نے ان کو عامر بن صالح بن رستم نے ان کو ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن عمرو بن سعید بن عاص نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد حسن بن احمد بن ابراہیم بن فراس نے مکہ میں ان کو احمد بن ابراہیم بن مخلد نے ضحاک نے ان کوعلی بن عبد العزیز نے ان کو مسلم نے اور قواریری نے دونوں نے کہا ان کو عامر بن ابی عامر نے ان کو ایوب بن موسیٰ قرشی نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: نہیں تحفہ دیتا کوئی والد اپنے بیٹے کوکوئی تحفہ جوافضل ہوا چھے ادب سے ۔ روایت کیا ہے اس کو بشر بن یوسف نے عامر بن ابو عامر سے اس نے سنا ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص نے اور اس بارے میں عامر کا سماع ایوب سے صحیح ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے تاریخ میں بشر سے اس نے کہا کہ ان کے دادا کا سماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحیح ثابت نہیں ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أيوب بن موسى القرشي ← عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ؛ ← مسلم و القواريري ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أحمد بن إبراهيم بن محمد الضحاك ← أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس ← و، ← أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمٍ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8651

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8652

8652 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز نا خلف بن هشام و عبيد الله بن عمر و نصر بن علي قالوا نا عامر بن أبي عامر الخزاز عن أيوب بن موسى عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نحل والد ولده نحلا أفضل من أدب حسن

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدن نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے ان کو خلف بن ہشام نے اور عبید اللہ بن عمرو نے اور نصر بن علی نے لوگوں نے کہا کہ عامر بن ابی عامر خز از نے ایوب بن موسیٰ سے اس نے اپنے والد سے اس نے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی والد اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← عامر بن أبي عامرٍ الخزاز، ← خلف بن هشام و عبيد الله بن عمر و نصر بن علي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 8652

chevron_left Previous
1234…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood